احادیث مبارکہ ﷺاسلامعبادات

دعا

دعا

ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حالت میں اللہ تعالٰی سے رجوع کریں؛ دکھ سکھ میں ؛ خوشی اور غم میں ؛ صحت اور بیماری میں پریشانی اور خوش حالی میں

تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر

اللہ کے سامنے بندہ جس عاجزی و تعظیم کی آخری حد کو چھو جاتا ہے اسکا نام بندگی ہے یا عبادت ہے جو کہ تمام جن و انس کا مقصد حیات بھی ہے؛جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ”دعا عبادات کا مغز ہے” ۔ یہ بندہ اور رب کے درمیان تعلق پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار کا جواب دونگا “(المومن،آیت 60)
دعا صرف اللہ تعالٰی سے مانگنی چاہئے کیونکہ حاجت روائی اور کارسازی کے سارے اختیارات اللہ تعالٰی کے پاس ہیں اور ساری مخلوق اسکی محتاج ہے جبکہ اس کے سوا کوئی نہیں جو بندوں کی پکار سنے اور انکی دعا قبول کرے۔دعا نہ مانگنا تکبر کی علامات ہے کیونکہ یہ واضح ارشاد باری تعالٰی ہے کہ جو لوگ دعا نہ مانگ کر تکبر کرتے ہیں وہ جہنم میں داخل ہونگے جبکہ انسان کو اپنی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کیلئے اللہ تعالٰی کیطرف متوجہ ہونا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
” تم میں سے کوئی یوں دعا نہ کرے کہ یا اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ’ یا اللہ! تو چاہتا ہے تو مجھ پر رحم فرما ’ بلکہ اللہ تعالٰی سے پورے وثوق سے سوال و دعا کرے’ کیونکہ کوئی اللہ تعالٰی کو مجبور کرنے والا اور اس پر دباو ڈالنے والا نہیں” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
” چاہئے کہ وہ (مانگنے والا)خوب رغبت اور توجہ کے ساتھ دعائیں کرے کیونکہ کوئی چیز عطا کرنا اللہ تعالٰی لے لیے کچھ مشکل نہیں” (صحیح مسلم)
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ دعا میں استثنا کی ممانعت ہے یعنی یوں نہیں کہنا چاہیئے کہ ” یا اللہ! تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے”
دعا انتہائی عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ مانگنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ” اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے سچے دل سے دعا کی جائے۔ اللہ ایسی دعا قبول نہیں کرتا جو غافل اور بے پروہ کے دل سے نکلی ہو”
جب کوئی ضرورت مند اللہ تعالٰی سے اس نیت سے دعا مانگتا ہے کہ میری مصیبت کو ختم کرنے والا اور میری حاجتوں کو پورا کرنے والا صرف اللہ ہے جو رحیم و کریم ہے ؛ وہ اس پوری کائنات کا خالق و مالک ہے اور تمام جہانوں کے خزانے اس کے قبضے میں ہیں اور وہ جسے عطا کرنا چاہیے ’عطا کرتا ہے؛ اور جس سے چھیننا چاہے اس سے چھین سکتا ہے ؛ تو اس کی مراد ضرور پوری ہوتی ہے اور اگر نہیں بھی پوری ہوتی تو اس میں بھی کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے دعا میں ہم وہ کچھ مانگ رہے ہوں جو ہمارے لیے مفید نہیں بلکہ مضر ہوں؛ البتہ دعا مانگنے کا اجر اس شخص کو آخرت میں ضرور ملتا ہے کیونکہ اللہ اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ؛ کیونکہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ
”اور گمراہ لوگ ہی اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں ” (سورت الحجر )
دعا مانگتے وقت اپنے نیک اعمال کا واسطہ دینا ایک اچھا عمل ہے جبکہ دعا میں اللہ کو اسکے اچھے اچھے ناموں سے بھی پکارو:
ارشاد باری تعالٰی ہے کہ
” اور اللہ کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں تو اس کو اس کے ناموں سے پکارو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار)کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو ؛ وہ جو کچھ کر رہے ہیں ؛ عنقریب اس کی سزا پائیں گے” (الاعراف 180:)
”کہہ دو کہ تم (اللہ کو)اللہ (کے نام سے)پکارو یا رحمٰن (کے نام سے )جس نام سے پکارو ؛ اس کے سب نام اچھے ہیں” (الاسراء: 110)
ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حالت میں اللہ تعالٰی سے رجوع کریں؛ دکھ سکھ میں ؛ خوشی اور غم میں ؛ صحت اور بیماری میں پریشانی اور خوش حالی میں ؛ ہم صرف اللہ تعالٰی ہی کی طرف رجوع کریں۔ اپنے حالات میں سے ہم جس حالت میں بھی اللہ تعالٰی کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اپنے حالات اور اپنی دلی کیفیات کے اعتبار سے اس کے ” اسماءالحسنٰی ” میں سے کوئی اسم پاک بے اختیار ہماری زبان پر آ جاتا ہے۔ جو ہماری حالت و کیفیت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی رزق کی تنگی میں مبتلا ہے تو اس کی زبان پر بار بار اللہ کا اسم پاک ” رزاق” ہی آئے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بغیر کوئی نہیں جو رزق کی تنگی کو دور کرکے اسے رزق عطا فرمانے لگے۔ اس لیے کی” اللہ ہی تو رزق دینے والا زور آور مضبوط ہے” (الذاریات 85:)
پیارے نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور درود و سلام سے زبان کو تر رکھیں کہ اللہ تعالٰی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے طفیل اپنا کرم فرمائے اور امان میں رکھے۔
اور اپنے پیر و مرشد ؛ یعنی اپنے والدین کی خدمت کریں اور انکے لیے دعا ضرور مانگیں، ان سے بڑا کوئی خیر خواہ نہیں ؛ اپنے پچپن کی وہ خوبصورت یادیں جو صرف والدین کی مہربانیوں اور شفقت کے باعث تھیں صرف ایک بار انکا تصور ضرور کریں۔ آپ سب سے التماس ہے کہ اپنے رب سے وہ سب کچھ مانگ لیں جسکا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں مگر اس یقین کے ساتھ اس سے بڑا دینے والا کوئی نہیں اور ہر مانگنے والے کو عطا کرتا ہے ؛ اور اپنی دعاؤں میں مجھے ضرور یاد رکھیں کہ رب العزت ہماری کوتاہیوں کو معاف فر مادے ! اپنے ربّ کے سامنے عجزو انکساری کر یں اور اسکے ساتھ ساتھ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں ، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں، اور اللہ سے دعا ما نگیں کہ ہمارے گناہوں کو بخش دے ، ہمیں صالحین میں شامل کرے اور د نیا میں خاتمہ ایمان پہ ہو اور آخرت میں بخشش عطا فرما دے ۔ امین!!
بقول میاں محمد بخش صاحب؛ !

جے ویکھاں اپنے عملاں ولے تے کجھ نیوں میرے پلے
تے جے ویکھاں تیری رحمت ولے تے بلے بلے بلے

خیر اندیش!
محمد الطاف گوہر؛ لاہور

Bookmark and Share

Related Articles

5 Comments

Leave a Reply

Back to top button