اردو ادب و ثقافتمنظر نامہ

انسانوں کی بستی

لفظ احساس جس میں انسان کی تمام خوبیا ں موجود ہوتی ہیں جب احساس انسان کے وجود سے نکل جائے تو پھرسفاکی اور بربریت کا راج ہوتا ہے اور آجکل یہی سب کچھ ہمارے معاشرے میں عام ہو چکا ہے ۔لفظوں اور زبان کی اہمیت جو کبھی ظالم اور سفاک آدمی کے دل کو بھی رحم کرنے پر مجبور کر دیتی تھی آج وہی زبان اور وہی اچھے الفاظ روز ہی کسی نہ کسی کی تحریروں میں نظر آتے ہیں مگر آج انہی لفظوں کی اہمیت اپنی حیثیت کھو چکی ہے اختلافات کی ایک عجیب سی فضا چاروں طرف نظر آ رہی ہے ،سیاستدانوں کی تو بات ہی چھوڈیے آج دانشور طبقہ اورعلم کی روشنی سے منور لوگ بھی ایک دوسرے سے متفق نظر نہیں آتے ۔
شاید آ ج ہماری باتیں اور ہماری نصیحتیں اس وجہ سے اپنا اثر کھو بیٹھی ہیں کہ شاید ہم اپنے وجود میں موجود تضاد کو مٹانا بھول بیٹھے ہیں
انسان ہمیشہ اپنے خیالات اور کردار سے پہچانا جاتا ہے اچھے خیالات اور خوبصورت گفتگو زندگی کا وہ اثاثہ ہو تا ہے جس کی بنا پر ہر ایک کے دل میں گھر کیا جا سکتا ہے ہم جو بھی لکھتے ہیں جو بھی سوچتے ہیں اُس کا اثر دوسروں پر ضرور ہوتا ہے بعض اوقات وہ اثر خوبصورت تبدیلی یا رہنمائی کرتا ہے بعض اوقا ت ہم اُس اثر کو منفی بنا کر رد کر دیتے ہیں زندگی کی گاڈی پیار سے چلتی ہے اور بے لوث مُخلصی اس میں تیل کا کام کرتی ہے جو اسے زندگی کے مشکل نشیب و فراز میں بھی رُکنے نہیں دیتی اگر تحریر خوبصورت ہو اور اُس میں پیار امن کا پیغام ہو تو وہ ضرور اثر کرتی ہے
آج ہمیں خوشی اور سکون چاہئے مگر نہ جانے کیوں خوشی اور سکون دونوں ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور ہم اُن کے پیچھے بھاگ رہے ہیں شاید وہ اس وجہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں ہم آپس میں ایک دوسرے سے پیار کرنا چھوڈ گئے ہیں دوسروں کے دُکھ کو اپنا دُکھ سمجھنا چھوڈ گئے ہیں ۔آج ہماری انسانوں کی بستی مختلف نظریات میں بٹ چکی ہے اور ہمارے لیڈر حضرات انقلاب کی باتیں کرتے ہیں پہلے قوم کو کسی ایک بات پر متفق تو کر لیں جناب پھر انقلاب کی بات کیجئے گا ،
زندگی بہت مختصر ہے اور اس مختصر زندگی میں درگذر کی کیفیت ہماری کامیاب زندگی کی حقیقی معاون ہے،اگر معاشرے میں تبدیلی اور انقلاب لانا ہے تو آج پہلے ہمیں ہمارے معاشرے میں پھیلی بے حسی کو دور کرنا ہو گا جو ہماری سوچوں اور رویوں میں سرایت کر چکی ہے ،خدارا آج لفظی مداریوں کے کھیل سے نکل کر عمل کے حقیقی انداز کو اپنانا ہو گا ۔ تنقید برائے تنقید پر ہم سب پیش پیش ہیں مگر تنقید برائے تعمیر کے اصلاحی پہلوﺅں کو ہم فراموش کر چکے ہیں
کیا ہم اس مُلک کی تقدیر کو بدل سکتے ہیں ،ہاں ضرور بدل سکتے ہیں جب اس کا آغا ز ہم پہلے اپنے آپ سے کریں گئے کیا کبھی ایک سیکنڈ کے لےے بھی ہمارے دل میں ہمارے وطن کے لےے محبت جاگی ہے کیا محبت صرف آزادی کے دن کے لےے ہی مخصوس کر دی گئی ہے ۔ہم میں یہی گمراہ سوچوں نے اپنے پنجے گھاڑ لےے ہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ ہونے دو اس ملک کا کچھ نہیں ہونے والا۔آج ہم نے اگر اپنی گلی کو ہی صاف ستھرا رکھا ہے تو یہ بھی ہمارے وطن کی محبت کا عملی ثبوت ہے مگر ہم صرف دوسروں کو بدلنا چاہتے ہیں خود کو کبھی بدلنے کا نہیں سوچتے مگر اپنی غلطیوں سے بے خبر رہنا ہی تو سب سے بڑی غلطی ہے
زندگی گزارناکتنا مشکل ہوتا جا رہا ہے روز ہی ہماری بستی میں انسانوں کا بے حمی سے قتل کیا جا رہا ہے روز ہی معصوم بے گناہ لوگ درندگی کی بھینٹ چڑھتے جا رہے ہیں مگر اب یہ چیزیں صرف خبر کی شکل اختیار کر چکی ہیں ایک دو دن ذہن میں واقع رہتا ہے پھر بھو ل کر اپنی زندگی کی مصروفیات میں اُلجھ جاتے ہیں آج ہم انسانوں کی بستی میں بسنے والے وہ انسان ہیں جہاں انسانیت سسکیا ں لئے جا رہی ہیں مگر ہم اپنی خواہشات کے بے لگام baber-nayab-logoگھوڑے کی تکمیل میں ہمہ وقت سرگردا ں ہیں ۔جھوٹ کے بغیر ہمارے کاروبار ممکن نہیں دھوکہ دہی کے بغیر ہم کامیاب نہیں بن سکتے رشتوں کی مالا کچے دھاگے کی طرح بن گئی ہیں جسے کسی بھی وقت توڑا جا سکتا ہے دوستی ،محبت ،اخوت ،سخاوت ،قربانی اور سب اخلاقیات صرف کتابوں کی زینت بن چکی ہیں جسے صرف پڑھا اور پڑھایا جا سکتا ہے مگر اُس پر عمل کرنا مشکلات کے طوفانوں سے ٹکرانے کے مترادف لگتا ہے ۔زندگی اتنی سستی ہو چکی ہے کہ جسے چھینتے وقت ضمیر کا ہلکا سا بھی درد اپنے وجود میں محسوس نہیں ہوتاکیوں ہم احساس سے عاری ہو چکے ہیں اُس کی وجہ یہی ہے آج ہم اپنے دین کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکے اور دین سے دور ہو چکے ہیں ،میں سوچتا ہوں کہ کیا اُن بے رحم لوگوں کے سینے میں دل نہیں ہوتا جو اپنی بہنوں کو ونی اور پنچایت کے نام پر قربان کرتے ہیں جو اپنے معصوم بچوں کو بے رحمی اور سفاکی سے قتل کرتے ہیںوہ درندے جو مذہب کے نام پر دھماکے کر کے پھول جیسے بچوں کو یتیم اور ہماری بہنوں کو بیوہ کرتے ہیں اور ماﺅں سے اُن کے لال چھینتے ہیں کیا ایک لمہے کے لےے بھی اُن کے ہاتھ نہیں کانپتے ،کیا دل میں رحم کا ایک ہلکا سا بھی احساس پیدا نہیں ہوتا اُن کو ،کیا اُن کی آنکھیں ندامت اور شرمساری سے نہیں پھٹتیں ۔عورت کو بُوجھ اور بے بس جان کر کیوں اُس پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں کیا ان حقائق پر صرف میڈیا ہی روشنی ڈالے کیا ہمارا فرض نہیں بنتا ان حقائق کر منظر عام لانے میں آخر کیوں عورت اپنی مشرقیت کو بھول کر جدیدیت کا لبادھا اُوڑھ کر اتنی دور نکل چکی ہے کہ اُسے اپنا مذہب پسماندہ نظر آتا ہے آخر کیوں ؟ ہم کیوں روشن خیالی کے نام پر اپنی حیا اور شرم کو پامال کر رہے ہیں آخر کیوں ؟
ہزاروں سوالات ہیں جن کے جوابات بھی ہم جانتے ہیں مگر پھر بھی اُن جوابات کو سننے کی ہم زحمت نہیں کرتے ،زندگی فانی ہے اور یہ ہمیشہ نہیں رہے گئی مگر آج ہم اچھی فصل کا بیج بو کر جائیں گئے تو وہی فصل ہماری نسلوں کے لےے مفید ثابت ہو گئی آج ہمیں یہی سب کو درس دینا ہو گا کہ احساس کرنا سیکھوں ،زندگی گزرانے کے لےے دوسروں کے لےے قربانی دینے کا طریقہ سیکھوں ،جھوٹ ذلت آمیز شکست کا باعث بنتا ہے اور سچ ہمیشہ تاریکیوں کی دلدل میں بھی روشنی کا پیغام لے کر آتا ہے ۔ آج غموں اور دوریوں کے موسم میں اپنایت اور اُنسیت کے دیپ جلا کر ہمیں اپنے اختلافات بھلا کر لازوال رشتوں کی بنیاد رکھنا ہو گئی ،ہمیں مادیت پرستی کے اندھیروں سے نکل کر سچائی اور احساس انسانیت کی روشنی کی طرف بڑھنا ہو گا ،valentines_day_62
میری آنکھیں پُر اُمید ہیں کہ انشائﷲوہ دن دور نہیں جب یہی بستی انسانو ں کی بستی بنے گئی اور یہاں امن کا پرچم لہرائے گا اور ہم پھر سے سر اُٹھا کر جیئں گئے کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ غلطی کرنے والا تو آدمی ہوتا ہے مگر پچھتانے والا انسان ہوتا ہے

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button