منظر نامہ

سبق

اسی ہفتے بدھ کی رات تقریباً 2بجے گلی نمبر53جو کہ اسلام آبادI-10/2کے ایریا میں ہے۔وہاں ایک کار چور نے کار چوری کی ناکام کوشش کی۔علاقے والوں نے فوراً 15کو چور کے بارے میں جسمانی کپڑوں،رنگت اور حلیے کی اطلاع ،معلومات دینے کے ساتھ ساتھ بتایا کہ کار چور اپنے ناکام عزائم کے بعد وہاں سے فرار ہو گیا ہے۔اس کے بعد یہی اطلاع جب وہاں قریبی پکٹ پر موصول ہوئی تو پکٹ پر موجود پولیس اہلکاروں نے ایک مشکوک فر د کو روکنا چاہا۔کار چور ایک ٹرک کے عقب میں لٹک کروہاں سے جا نکلا۔ اس کے بعد مکمل شاہ نے اس کار چور اپنے موٹر سائیکل پر پیچھا شروع کر دیا۔یہ کار چور بھاگتا بھاگتاخیابان سر سید کی تنگ گلیوں میں جا گھسا۔مکمل شاہ اس کے پیچھے پیچھے رہا۔اسی تعاقب میں اچانک کار چور نے مکمل شاہ کو اپنے قریب پا کر اپنے آپکو بچانے کے لئے تیز دھار خنجر سے مکمل شاہ کو زخمی کر دیا۔مکمل شاہ نے زخمی حالت میں اپنے پستول سے کار چور پر فائرنگ کر دی۔اس کی فائرنگ سے کار چور موقع پر ہلاک ہو گیا۔
مکمل شاہ شدید زخمی تھا لیکن اس نے اپنے موبائل سے اپنے دوسرے ساتھیوں کو اپنے زخمی ہونے کی اطلاع دی اور یہ بھی بتایا کہ کا ر چور زخمی ہے۔اس کے بعد اس کا باقی ساتھیوں سے رابطہ کٹ گیا۔ مکمل شاہ کے باقی ساتھی اسے ڈھونڈتے جیسے ہی اس گلی میں پہنچے انہوں نے مکمل شاہ کو فوراً تشویشناک حالت میں پمز ہاسپٹل کی طرف روانہ کر دیا لیکن مکمل شاہ اپنے خون بہہ جانے کی وجہ سے جانبر نہ ہو سکا۔ بہادر شہید مکمل شاہ جس کا تعلق ضلع چارسدہ سے بتایا جا تا ہے ،اپنی وفات کے بعد سوگواران میں ایک بیوہ، چار سالہ بیٹا سلمان شاہ اور دو سالہ بیٹی زینب کو چھوڑ کے اس جہان فانی سے کہیں دور رخصت ہو چکا ہے۔
قارئین یہ واقعہ محض ایک پولیس کانسٹیبل کی بہادری کا نہیں بلکہ یہ واقعہ پاکستانی پولیس کی تاریخ میں ایک سنہری الفاظ میں لکھا جانیوالا واقعہ ہے۔اسی واقعہ کو دیکھ کر ہماری تمام پاکستانی پولیس کو اسی طرح اپنے فرض کی ادائیگی میں ہمہ تن ہو جائے توپھر مجرموں کو کبھی بھی جرم کرنے کی جرات نہیں ہو گی۔ اگر ہمارے سارے ادارے مکمل شاہ کی طرح ایماندار ہو جائیں تو یقین کریں ہمارا معاشرہ پوری دنیا میں سب سے کامیاب اور طاقت ور معاشرہ ہے۔سوچنے اور دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ ہم سے کوئی بھی احساسِ ذمہ داری اگر دکھائے تو Pakistan-police یقین کریں ہر آدمی کو انصاف اس کی دہلیز پر پہنچنا شروع ہو جائے۔ہمارے معاشرے میں اب بہت سے افراد پڑھے لکھے ہیں ہیں،ان پڑھ افراد کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔تعلیم کے اس دور میں ہماری افراد کو محض انصاف کی تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ذمہ دار افراد اگر اپنے فرائض پوری ایمانتداری سے ادا کریں تو عوام کو نہ تو کسی سیاستدان سے گلہ رہے گا اور نہ ہی انتظامیہ سے۔
قارئین یقین کریںہمارے معاشرے میں پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک مکمل شاہ شہید کی طرح نہ جانے کتنے ذمہ داران نے اس ملک و عوام کے لئے اپنی جانیں نچھاور کردیں لیکن چند نام نہاد بے ایمان پولیس اہلکاران اور افسران کی وجہ سے پورا محکمہ پولیس ایسے بدنام ہوا ہے کہ لوگوں کا اس محکمے پر اعتبار ختم ہو گیا ہے۔مثلاًکئی لوگوں سے پیسے لیکر انہیں بھرتی کرنا، عوام سے رشوت لینا، لوگوں پر جعلی مقدمے بنانا اور کئی مجبور افراد کو بلیک میل کرنا شامل ہے۔
قانون سے کوئی بھی تو بالاتر نہیں۔پھر ہمارے ہاں کئی بااثر اور طاقت ور افراد اس گرفت سے کیوں بچ نکلتے ہیں۔عافیہ صدیقی کو پاکستانی ہونے پر کڑی سزا اور ریمنڈ ڈیوس کے امریکن ہونے پر امریکہ سمیت امریکن عوام کے دل کیوں دھڑک اٹھے؟ہماری سرحدوں پر ان کے اور نیٹو کے طیارے جب چاہیں بمباری کریں اور دندناتے پھریں ؟علاوہ ازیں ان کے شہری ہمارے شہریوں کو جب چاہیں پستول سے فائر کیوں کریں؟
ہماری عوام اگر اپنے جذبات پر قابو رکھے بغیر دل و دماغ سے سوچ کر ایماندار لوگوں کو سلیکٹ کرے تو یقین کریں ہمارا ہر فرد،ہمارا ہر سیاستدان ہمارا ہر بیورو کریٹ اورpakistan-police ہمارا ہر پولیس والا مکمل شاہ بن جائے گا۔ مکمل شاہ ایمانداری اور فرض شناسی کا ایک بہت بڑا سبق ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ اس سبق سے کون کون فائدہ اٹھاتا ہے۔جب عوام کیساتھ ناانصافی ہو۔جب غربت کا دوردورہ ہو اور جب بے روزگاری ہو تو کئی قوموں پر وہ وقت بھی آتا ہے جب مصر کی طرح پولیس والے وردی اتار کر عوام میں شامل ہو جائیں ۔ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے پھر ایسے ہی حالات میںتاریخی انقلاب آتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button