معاشرہمنظر نامہ

جنوبی کوریائی باشندے زیادہ کام کرتے ہیں

جنوبی کوریا کے لوگ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ کام کرتے ہیں۔ وہاں کے لوگ معمول کے مطابق دس گھنٹے کام کرتے ہیں جبکہ اس کے بعد اضافی کام ایک الگ حقیقت ہے۔

جنوبی کوریا کے عوام دل میں شدید خواہش رکھتے ہیں کہ وہ جلد ہی اپنا دفتری کام نمٹا کر گھروں کو چلے جائیں تاہم ان کے خیال میں اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کی ترقی رک سکتی ہے اور کچھ کے خیال میں وہ نوکری سے بھی فارغ کر دیے جا سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارےAFP سے گفتگو کرتے ہوئے لی نے بتایا،’ میں ایک ہفتے میں کم ازکم چار دن اوور ٹائم کرتا ہوں۔‘ اس کی کمپنی بھی دیگر کئی اداروں کی طرح اضافی کام کرنے والوں کو کوئی بونس یا رقم نہیں دیتی ہے۔ تاہم لی کے دفتر میں چھٹی کے بعد بھی کام کرنے والے قریب ایک گھنٹے یا کبھی کبھار اس سے بھی زیادہ دیر تک کام میں مصروف رہتے ہیں۔

جنوبی کوریائی باشندوں کو خطرہ ہے کہ اگر وہ اپنے مالک سے قبل دفتر سے چلے جائیں گے تو ان کی ترقی رک سکتی ہے جنوبی کوریائی باشندوں کو خطرہ ہے کہ اگر وہ اپنے مالک سے قبل دفتر سے چلے جائیں گے تو ان کی ترقی رک سکتی ہے

جنوبی کوریا میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہاں جنگ کے بعد پیدا ہونے والی غربت کے خاتمے کے لیے اخلاقی طور پر لازم ہے کے کہ اضافی کام کیا جائے، لیکن دوسری طرف کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ بوس کے جانے سے قبل وہ اس لیے دفتر نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ خوف زدہ ہوتے ہیں۔

اقتصادی تعاون کے ترقیاتی ادارے OECD کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی کوریا میں کام کرنے کے اوقات دیگر رکن ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ اس ادارے کی طرف سے سن 2009ء میں جاری کیے گئے ڈیٹا کے مطابق وہاں ایک ہفتے میں 46.6 گھنٹے کام کرنا معمول کی بات ہے۔

دوسری طرف جنوبی کوریا کے وزیر برائے محنت کا کہنا ہے کہ کام کے اوقات کم کرنے سے نہ صرف لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو گا بلکہ کام کی کوالٹی بھی اچھی ہو جائے گی۔ کئی ماہرین کے خیال میں جنوبی کوریا میں شرح پیدائش کے کم تناسب کی وجہ لوگوں کا زیادہ تر وقت دفاتر میں گزارنا بتایا جاتا ہے۔

جنوری سن 2010ء میں ہیلتھ منسٹری نےاعلان کیا تھا کہ وہ مہینے میں ایک مرتبہ اپنے تمام تر دفاتر شام ساڑھے سات بجے بند کریں گے تاکہ وہاں کام کرنے والے اپنے اپنے گھروں میں جا کر بچے پیدا کریں۔

کئی ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا میں زیادہ دیر تک دفاتر میں کام کرنے کا کلچر جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ ان کے مطابق جب موجودہ نوجوان طبقہ اہم عہدوں پر فائز ہو جائے گا تو کام کرنے کے اوقات بدل جائیں گے کیونکہ اس وقت ملک کی معیشت میں بھی بہت زیادہ بہتری آ چکی ہو گی۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو دی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button