سائنس و ٹیکنالوجیمنظر نامہ

چین نے ہیکنگ الزامات کی تردید کر دی

hacking

چین کے وزیر دفاع نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ بیجنگ حکومت بیرونی ممالک انٹرنیٹ حملوں میں ملوث ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور برطانیہ نے انٹرنیٹ سکیورٹی مزید سخت بنانے کے لیے بین الاقوامی مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔

 

اتوار کو چینی وزیر دفاع لیانگ گوانگ لی کا سنگاپور میں ایک سکیورٹی فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اس بات کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے کہ اصل میں انٹرنیٹ حملے کرنے والا کون ہے۔ تاہم ہمیں انٹرنیٹ کی سکیورٹی کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں‘‘۔

ان کا مزید کہنا تھا، ’’اصل میں ہمیں بھی وسیع اور بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کا سامنا ہے۔ چینی حکومت بھی سائبر سیکورٹی کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور ہر قسم کے سائبر جرائم کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہے۔‘‘

قبل ازیں بیجنگ حکومت پر کئی دیگر ممالک سائبر حملوں کا الزام عائد کر چکے ہیں، جن میں کینیڈا اور امریکہ بھی شامل ہیں۔

چند روز قبل سائبر حملے کے ایک واقعے میں انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل کے سینکڑوں کی تعداد میں ای میل اکاؤنٹس کو مبینہ طور پر چین سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے ہیک کرنے کی کوشش کی تھی۔ بدھ کو گوگل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ جن اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی تھی ان میں امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے ای میل اکاؤنٹس بھی شامل تھے۔ امریکہ اور برطانیہ نے انٹرنیٹ سکیورٹی مزید سخت بنانے کے لیے بین الاقوامی مذاکرات پر اتفاق کیا ہے

دنیا کے سب سے بڑے انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل کے مطابق چین کے شاندونگ صوبے میں واقع علاقے جینان سے یہ سرگرمی شروع ہوئی، جس میں ای میل اکاؤنٹس کے پاس ورڈز کو چرانے کی کوشش کی گئی، تاہم  اس سرگرمی کا بروقت سراغ لگا کر اس کو ناکام بنا دیا گیا۔

گزشتہ جمعہ کو امریکی حکام نے چینی حکومت کو باضابطہ طور پر اپنی اس تشویش سے آگاہ کیا تھا۔ امریکی و برطانوی وزرائے دفاع نے فوری طور پر اس مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے، ’’میرے خیال میں انٹرنیٹ سکیورٹی کے حوالے سے مختلف ممالک کے درمیان کھل کر بات چیت ہونی چاہیے۔ ہمیں نئے قوانین متعارف کروانے چاہیں۔‘‘

برطانوی وزیر  Liam Fox کا کہنا تھا کہ رواں برس کے اواخر میں برطانیہ میں  سائبر کرائمز کے حوالے سے ایک بین الاقوامی کانفرس کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس کانفرنس کو ’’پوشیدہ دشمن کی جنگ‘‘ کا نام دیا جائے گا۔

DW

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button