سائنس و ٹیکنالوجیمنظر نامہ

چیتوں کا غیر قانونی شکار کرنے والا شخص بنگلہ دیش میں گرفتار

tiger-info

بنگلہ دیش میں سُندربن کے جنگل سے وائلڈ لائف کے رینجرز اہلکاروں نےبغیر اجازت جانوروں کا شکار کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کرتے ہوئے بڑی تعداد میں چیتوں کے اعضاء برآمد کر لیے ہیں۔

وائلڈ لائف کے رینجرز اہلکاروں  نے ایک خفیہ سٹنگ آپریشن کے دوران گرفتار کیے جانے والے 45 سالہ شخص جمیل فاخر کے پاس سے تین چیتوں کی کھالیں اور زمین میں بڑی تعداد میں چھپائی گئی چیتوں کی ہڈیاں برآمد کی ہیں ۔ یہ آپریشن بنگلہ دیش میں سُندربن کے مشہور جنگل میں کیا گیا جہاں دنیا بھر میں کہیں بھی موجود بنگالی چیتوں کی سب سے زیادہ تعداد پائی جاتی ہے۔

بنگالی تائیگر کی نسل  کونایابی کے خطرے کے باعث شکار کرنے کی اجازت نہیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے جنگلات کے چیف آفیسر میہیر کمار کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم نے اقرار کیا ہے کہ وہ مردہ خنزیروں کے زہریلے جسم کو بنگالی چیتوں کو ہلاک کرنے کے لیے بطور چارا استعمال کرتا ہے۔ کمار کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ  آیا اس جرم  میں کسی بین القوامی سنڈیکیٹ کا ہاتھ ہے یا نہیں۔

کمار کے مطابق سُندربن کے جنگلات سے اب تک اکّا دکّا شکار کے واقعات ہی سامنے آیا کرتے تھے اور مشکل سے ہی جانوروں کے شکار کا کوئی منظم واقعہ سامنے آیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ اس وقت فاخر کے مذید ساتھیوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل بنگلہ دیش میں محکمہ جنگلات کے حکام ایک طویل عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ ان چیتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ غیر قانونی طور پر جانوروں کا شکار کرنے والوں کے بجائے وہ دیہاتی ہیں جو اپنے کھیتوں میں گھس آنے والے چیتوں کو ہلاک کر دیتے ہیں ۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو دی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button