مذہب و نظریاتمنظر نامہ

خصوصیاتِ مصطفیٰﷺ

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایم اے سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال
عَنْ اَ بِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ ا للّٰہُ عَنْہُ اَنْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْکَلِمِ وََنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ فَبَیْنَا اَنَا نَائِم’‘ اُوْتِیْتُ بِمَفَاتِیْحِ خَزَآئِنِ الْاَرْضِ فَوُضِعَتْ فِیْ یَدِیْ۔ ترجمہ:۔’’ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں جامع باتوں کے ساتھ بھیجا گیا اور ہیبت سے میری مدد کی گئی جبکہ میں سو رہا تھا ، تو میرے پاس زمین کے خزانوں کی چابیاں لائی گئیں ،تو میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں ۔‘‘(بخاری ومسلم)masjid-nabvi
تشریح:۔ اس حدیث میں سید دوعالم ﷺ کی تین خصوصیات کا ذکر فرمایا گیاہے ۔ بعض روایات میں چار کا ذکر ہے ۔ بعض میں چھ کا ذکر ہے ۔ ان کے علاوہ دیگر روایات میں مذکور ہ صفات کے علاوہ خصوصیات کا بھی ذکر ہے ۔شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ نے جلد نمبر4میں ان روایات کا ذکر فرماکر ارشاد فرمایا:’’جب تو غور کرے (ان روایات)پر تو 12خصوصیات پائے گا اور ممکن ہے کہ گہری نگاہ کرنے سے ان سے بھی زائد پائی جائیں۔‘‘
جن بارہ(12)خصوصیات کی طرف علامہ عینی نے اشارہ فرمایا ہے ۔۔وہ یہ ہیں:۔ (i)ہماری صفوں کا صفوفِ ملائکہ کی طرح ہونا(ii)تمام زمین کا مسجد ہونا،(iii)مٹی کا طہور ہونا (جامع باتوں کا ملنا)(iv)ایک ماہ کی مسافت سے آپ ﷺ کی ہیبت (v)زمین کے خزانوں کی چابیاں ملنا۔(vi)سورۃ بقرہ کی آخری آیات (vii)خاتم النبیین ہونا(viii)کوثر کا عطا ہونا(ix)احمد کا نام (x) غنائم کا حلال ہونا(xi)شفاعت کبریٰ(xii)آپ ﷺ کی امت کا خیر الامم ہونا۔بلکہ حضرت ابو سعید نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ نے شرف المصطفیٰ (ﷺ )میں آپ ﷺ کی ساٹھ خصوصیات کا ذکر فرمایا ہے ۔
بلکہ آپ ﷺ کی ہزارہا خصوصیات ہیں،جو حضور ﷺکو ملیں کسی اور کو نہ ملیں (مرأۃ)لہٰذا عدد والی روایت ان احادیث کے خلاف نہیں ،جن میں اور خصوصیات کا بھی ذکر ہے ۔اب ان خصوصیات پر روشنی ڈالی جاتی ہے ۔جن کا اس حدیث میں ذکر ہے :
(1)    جامع باتوں میں قرآن پاک بھی ہے جس میں عبارتِ قلیلہ کے باوجود معانی کثیرہ جزیلہ ہیں ۔ایک ایک کلمہ اور آیت میں بہت اسرار ورموز ہیں ۔
خود قرآن کریم میں ہے کہ اس میں ہر شے کا واضح بیان ہے ۔اسی لئے مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جمیع العلوم فی القرآن ولکم تقاصر عنہ افھام الرجال ۔’’تمام علوم قرآن میں ہیں ۔لیکن لوگوں کے فہم ان تک رسائی سے قاصر ہیں۔ ‘‘اس کے انوار و مضامین کی روشنی دیکھنی ہو تو تفسیر کبیر ،روح المعانی اور روح البیان وغیرہ کو دیکھیں اور احادیث مبارکہ اور آپ کے ارشادات بھی جو امع الکلم سے ہوتے ہیں ۔عام طور پر ایک ایک جملہ کثیر معانی پر مشتمل ہوتا ہے ۔دیکھو حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ : اعمال کا اعتبار نیتوں سے ہے،دین کی حقیقت خیر خواہی ہے ، مومن کامل وہ ہے جو بیکار اور غیر مفید باتیں چھوڑ دے،چھوٹے چھوٹے جملے ہیں ،مگر ساری شریعت و طریقت ان میں بھری ہوئی ہے ۔بعض محدثین کرام نے ایسی مختصر حدیثیں کتابی شکلوں میںبھی جمع فرمائی ہیں ۔ (مرأۃ جلد نمبر 8صفحہ 10)
(2)    آپ ﷺ کی ہیبت ودبدبہ اور آپ کے رعب سے مراد اس حدیث میں تو مطلق ہے ،۔لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کتاب  التیمم‘‘ میں حدیث کی تخریج فرمائی ہے جس میں مذکور ہے ایک ماہ کی مسافت سے آپ کا رُعب اور دبدبہ دشمن پر طاری ہوجاتا ۔ صاحب فتح الباری نے لکھا ہے کہ ماہ کے فرمانے میں یہ حکمت ہے کہ اس وقت دشمنوں کے بلاد اور شہر مدینہ سے ایک ماہ کی مسافت پر تھے ، اگر دور سے دشمن آتا تو ابھی ایک ماہ کی مسافت پر ہوتا ،تو اس کے دل میں قدرتی طور پر آپ کا رُعب طاری ہوجاتا ،اگر وہ لڑائی کریں بھی ، تو آپ سے مرعوب ہو کر ۔یہ آپ کی خصوصیات ہیں ۔ یہ معجزہ کسی اور نبی کو نہیں ملا۔علامہ عینی نے حضرت سائب بن کی روایت میں بیان فرمایاکہ آپ نے فرمایا: نصرت بالرعب شھراً امامی وشھرا خلفی۔’’میری رُعب سے مدد کی گئی ایک ماہ سامنے کی مسافت سے اور ایک ماہ پیچھے کی مسافت سے۔ طبرانی کی روایت میں ہے :شھراً اور  شھرین ایک ماہ یا دو ماہ کی مسافت ۔جب آپ کا رُعب کفار کے دلوں میں اتنی دور سے ڈال دیا جاتا ہے ،تو آپ کے قریب والا کتنا مرعوب ہوگا ۔ایسا بھی ہوا ہے کہ حضور انور ﷺ اکیلے سو رہے ہیں ،ایک کافر تلوار لے کر آکھڑا ہوا مگر قتل نہ کر سکا ،تھر تھرا کر گر گیا۔(مرأۃ)
’’ابو جہل کے بارے میں روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے ،آپ کو قتل کرنے کے ارادہ سے قریب ہوا ۔ تو اُلٹے پائوں بھاگا۔کسی نے پوچھا تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا آپ کے اور میرے درمیان آگ کی خندق تھی اور آپ ﷺ کے پاس آپ کے محافظ کھڑے تھے ۔اگر مزید آگے جاتا ،تو مجھے ڈر تھا کہ کہیں آگ میں نہ ڈال دیا جائوں۔‘‘
اب بھی حضور ﷺ کے روضۂ اطہر پر پہلی حاضری کے وقت زائر کے دل میں حضور اکرم ﷺ کی بہت ہیبت ہوتی ہے ۔وہ اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر شرمسار ونادم ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ منہ اور یہ عظیم بارگاہ ،لرزتا ،کانپتاحاضر ہوتا ہے ۔بعد میں آپ کی کرم نوازی سے آپ کے ساتھ اُنس و محبت پیدا ہوجاتی ہے ۔
( 3)    آپ کو زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں عطا فرمادی گئیں۔یہ ظاہر ہے کہ جن کو چابی دے دی جائے ۔اس کو مالک ومتصرف کر دیا جاتا ہے ۔بعض شارحین نے اس سے مراد فتوحات لی ہیں اور بعض نے زمین کے اندر طرح طرح کی جو کانیں ہیں مراد لی ہیں جیسے کہ راویٔ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :وقد ذھب رسو ل اللّٰہ ﷺ وانتم تنتثلونھا ’’آپ ﷺ تشریف لے گئے ہیں اور تم ان خزانوں کو نکال رہے ہو۔‘‘سونا ، چاندی،تانبا،تیل،پٹرول وغیرہ لیکن شارحین کا یہ بیان بطورِ تمثیل ہے۔ورنہ حدیث کے الفاظ مطلق ہیں ،اس لئے اس کو اپنے اطلاق پر ہی رکھا جائے گااور زمین کے تمام خزانے مراد ہوں گے ۔خیال رہے کہ تمام زمینی اور دریائی پیداوار یں زمینی خزانے ہیں ۔اس کی چابیاں آپ کو دئیے جانے کے معنی یہ ہیں کہ آپ کو ان سب کا مالک بنادیا اور مالک بھی اختیار والا کہ آپ ﷺ لوگوںکو اپنے اختیار سے تقسیم فرمادیں ،جیسا کہ خود آپ کا ارشاد مبارک ہے ۔انما انا قاسم واللّٰہ یعطی۔’’ یعنی اللہ تعالیٰ عطا فرماتا اور ہم بانٹتے ہیں ۔‘‘
اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے ۔انا اعطینک الکوثر۔  ’’ہم نے تو آپ کو کوثر (یعنی بہت کچھ )عطا فرمایا۔‘‘ دنیا کی ساری نعمتوں کو رب تعالیٰ قلیل فرماتا ہے ۔مگر جو حضور اکرم ﷺ کو دیا گیا۔وہ کثیر ہی نہیں بلکہ کوثر ہے ،یعنی زیادہ ہی نہیں بلکہ بہت ہی زیادہ ہے ،دنیا تو میرے آقا (ﷺ) کی ملکیت کا ایک کروڑواں حصہ ہے ۔اسی لئے تاجدار بریلی اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔؎ؔ        خالق کل نے آپ کو مالک کل بنا دیا        دونوں جہاں ہیں آپ کے قبضہ و اختیار میں
سرکار ابد قرار احمد مختار ﷺ بحکم پروردگار کو نین کے مالک و مختار ہیں ۔زمین و زمان کے مالک ،کون و مکان اور آسمان کے مالک ، اپنے رب کی عطا سے جہاں کے احکام کے مالک ،انعام کے مالک ، جس کو چاہیں ۔اپنے رب کی عطا سے عطا فرمائیں ،جس کے لئے جو چاہیں حلال فرمادیں اور جو چاہیں حرام فرمادیں ۔غرضیکہ دونوں جہان کے شہنشاہ اور کونین کے مالک و مولیٰ ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے اختیار ات سے حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دوکے قائم مقام کر دیا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حیات میں دوسرا نکاح منع فرمادیا۔
مسند امام احمد بن حنبل میں ہے :ایک نو مسلم کا دونمازوں کے پڑھنے کی شرط پر ایمان قبول فرمالیا۔اپنے اختیار میں سے اس کو تین نمازیں معاف فرمادیں ۔
جب آپ نے حکم فرمایا کہ حرم مکہ سے کانٹے نہ توڑے جائیں ۔نہ یہاں کے شکار کو بھگا یا جائے ۔تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اذخر کے توڑنے کی اجازت دے دی جائے کیونکہ اس کی شدید ضرورت ہوتی ہے ۔تو آپ ﷺ نے اپنے اختیار سے اذخر کی اجازت فرمادی ۔(بخاری)
اسی طرح حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ میں تمہارے ہاتھ میں بادشاہ کسریٰ کے سونے کے کنگن دیکھتا ہوں ۔ جب خلافت فاروقی میں ملک فارس فتح ہوا۔تو آپ کی سابقہ خصوصی اجازت سے سونے کے کنگن حضرت سراقہ کے ہاتھ میں پہنا دئیے گئے ۔حالانکہ مرد کے لئے سونا حرام ہے ۔
آپ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو آپ کے آزاد کردہ غلام تھے اور آپ کے پاس رہتے تھے ۔اس کے نکاح کا پیغام حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو دیا ۔سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بہت معزز خاتون تھیں ۔انہوں نے اور ان کے بھائی عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ عام رسم و رواج کے مطابق اس پیغام سے معذرت کی ، کیونکہ وہ قریشی تھیں اور حضرت زید رضی اللہ عنہ قریشی نہ تھے اور نکاح میں عموماً کفو کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس وقت سورۃ احزاب کی آیت :وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ ۔(الاٰیۃ) نازل ہوئی جس کا مفہوم یہ ہے کہ’’ کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کو کچھ اختیار نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی امر کا فیصلہ فرما دے ‘‘ وہ سمجھ گئے اور فوراً حاضر ہو کر آپ کا پیغام قبول کیا اور نکاح ہو گیا ۔ معلوم ہوا کہ حضور ﷺ مسلمانوں کی جان و مال اور اولاد کے مالک ہیں ایسے مالک ہیں کہ ان کے حکم کے مقابلہ میں کسی کو اپنی جان و مال  اور اولاد کا کچھ اختیار نہیں ۔دیکھو نکاح میں بالغہ لڑکی کی اجازت اور ان کے ماں باپ کی رضا مندی ضروری ہوتی ہے ۔یہ کیسا نکاح ہے کہ اس میں کسی کی ناراضگی کا اعتبار نہ کیا گیا۔وجہ یہی ہے کہ سارے مسلمان مرد حضور ﷺ کے غلام ہیں اور مسلمان عورتیں لونڈیاں،آپ ﷺسب کے مالک ومولیٰ ۔ آقاو مولیٰ کو اختیار ہوتا ہے کہ جہاں چاہے لونڈی کا نکاح کر دے۔
مشکوٰۃ باب السجود میں ہے : ایک دفعہ حضور ﷺ نے حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے خوش ہو کر فرمایا :’’سل‘‘ کچھ مانگ لو! انہوں نے عرض کیا: اسئلک مرافقتک فی الجنۃ۔یعنی’’ میں آپ سے مانگتا ہوں کہ جنت میں آپ کا ساتھ ہو۔‘‘ارشاد فرمایا : اوغیر ذالک ۔’’کچھ اور مانگنا ہے ۔‘‘عرض کیا : بس یہی ۔اس حدیث سے تین طرح سے حضور اکرم ﷺ کی بادشاہت اور سلطنت ثابت ہوتی ہے ۔اولاً حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’مانگ لو‘‘یہ نہ فرمایا کہ فلاں چیز مانگو اور یہ وہی کہہ سکتا ہے جس کے قبضۂ و اختیار میں سب کچھ ہو۔دوسرے حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے بھی خوب سوچ سمجھ کر وہ چیز مانگی جو بے مثل ہے۔یعنی جنت اور جنت کا صدر اعلیٰ علیین یعنی سرکار مدینہ ﷺکی رفاقت اور آپ کے لفظ یہ ہیں اسئلک : ’’میں آپ سے مانگتا ہوں ‘‘یہ نہ کہا کہ میں خدا سے مانگتا ہوں اور حضور ﷺ نے بھی یہ نہ فرمایا کہ تم مشرک ہو گئے اور ظاہر بات ہے کہ چیزتو مالک سے ہی مانگی جاتی ہے ۔ثابت ہوا کہ آپ ہر چیز کے مالک ہیں ۔ تیسرے اس طرح کہ حضور ﷺ جنت کے علاوہ وہ کچھ اور دینے کے بھی مالک ہیں ۔
ضروری نوٹ: حضور ﷺ کے مالک دوجہاں ہونے کا نہ تو یہ مطلب ہے کہ رب تعالیٰ کسی چیز کا مالک نہ رہا اور نہ یہ مطلب ہے کہ حضور ﷺ رب تعالیٰ کی مثل مالک ہیں جس سے لازم آجائے کہ عالم کے دو مستقل مالک ہیں ۔بلکہ رب تعالیٰ کی ملکیت حقیقی ،ذاتی قدیم ، ازلی،ابدی ہے اور آپ ﷺ کی ملکیت عطائی اور حادث ہے جیسے دنیوی بادشاہ اپنی سلطنت کے مالک ،ہم لوگ اپنے گھر بار کے مالک۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ رب تعالیٰ ان چیزوں کا مالک نہ رہا ۔بلکہ وہ حقیقی مالک ہم مجازی ،اس کی ملکیت ذاتی ہماری عطائی ،اسی طرح آپ کا دونوں جہانوں کا مالک ہونا عطائی اور خداوند قدوس جل و علا کی ملکیت ذاتی ہے ۔
؎    مالک کونین ہیں گوپاس کچھ رکھتے نہیں             دوجہاں کی نعمتیں ہیں انکے خالی ہاتھ میں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح معنوں میں خصائص مصطفیﷺ ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button