Ultimate magazine theme for WordPress.

جارج بش کی کتاب پوائنٹ ڈیسیشن کے انکشافات

42

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنی کتاب میں متعدد انکشافات کیے ہیں پاکستان کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ وہ قائل ہوچکے تھے کہ پاکستان عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی نہیں کرے گا اس لیے انہوں نے ڈرونز حملوں کی اجازت دی جبکہ اعتراف کیا کہ پاکستان سے عسکریت پسندوں کو حاصل کرنے کے لیے بھاری قیمت ادا کی۔Bushs-book-Decision-Points

فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بش نے اپنی نئی یادداشتوں کی کتاب پوائنٹ ڈیسیشن میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اور اس کے سابق فوجی رہنما پرویز مشرف کے ساتھ تعلقات پیچیدہ تھے جنہوں نے گیارہ ستمبر کے امریکہ پر حملوں کے بعد امریکہ کی حمایت کا وعدہ کیا تھا بش نے اس بات کا بھی اعتراف کیا پاکستان سے عسکریت پسندوں کو لینے کے لیے پاکستان کو بھاری قیمت دی امریکی و اتحادی فورسز نے کئی سالوں تک افغان سرحد کے پار بھرپور و کامیاب کارروائیاں کیں بش کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ انہیں واضح ہوگیا مشرف کبھی بھی وعدے پورے نہیں کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی میں کچھ لوگوں کے طالبان حکام کے ساتھ قریبی تعلقات تھے جبکہ دیگر چاہتے تھے کہ امریکہ افغانستان سے انخلاء کی صورت میں امریکہ انشورنس پالیسی میں بش لکھتے ہیں کہ وہ اپنی صدارت کے آخر میں کافی پریشانی کا شکار تھے۔ انہوں نے افغانستان سے واپس آنے والے سپیشل فورسز اہلکاروں کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے کہا کہ ایک اہلکار نے مجھ سے درخواست کی کہ فوجیوں کو پاکستان کے اندر کارروائی کی اجازت دی جائے۔

سابق صدر بش کا کہنا تھا کہ وہ اپنے فیصلے بارے تفصیلات نہیں بتا سکتے تاہم کہا ہے کہ ڈرون طیارے ویڈیو نگرانی اور لیزر گائیڈڈ بم پھینکنے کی صلاحیت رکھتے تھے بش کے مطابق انہوں نے انٹیلی جنس کو انتہا پسندوں پر دباؤ بڑھانے کیلئے اختیار دیا تھا ان ک ے کئی اقدامات کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی جاسکیں بش کے مطابق ان کے وزیر خارجہ کولن پاؤل نے تیرہ ستمبر 2001ء کو پرویز مشرف کو فون کیا اور کہا کہ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس کی طرف اور ان کے ساتھ ناقابل مذاکرات مطالبات رکھے جن میں طالبان سے تعلقات ختم کرنے اور طالبان کو محفوظ ٹھکانے نہ دینے کے مطالبات شامل تھے۔ بش کے مطابق پاکستان نے تعاون کی راہ میں ہمیشہ اس کے دیرینہ حریف بھارت کے ساتھ کشیدگی کا معاملہ حائل ہوتا رہا ہے انہوں نے جتنی بار بھی مشرف کے ساتھ بات کی تھی مشرف بھارت پر الزام عائد کرتے تھے کہ وہ غلط کام کررہا ہے۔

ایران کے حوالے سے سابق صدر بش نے حیران کن انکشاف کیا ہے انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کے علاوہ شام پر حملے کا منصوبہ بھی بنا لیا تھا اور انہوں نے پنٹاگون کو ہدایات جاری کردی تھیں کہ سٹڈی کی جائے کہ حملے کیلئے کیا ضرورت پڑے گی بش کے مطابق انکے بعض مشیروں کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو تبا کرنے سے وہاں ایران حزب اختلاف کو مدد ملے گی جبکہ بعض نے خبردار کیا کہ اس سے ایرانی قوم میں امریکہ مخالف جذبات مزید بڑھکیں گے اور ایران کی جانب سے تیل سپلائی روکنے خطے میں بحران ختم کیاجاسکتا ہے جبکہ ایران کو افغانستان ، عراق اور لبنان کے عسکریت پسندوں کی ہمدردیاں حاصل ہوجائینگی۔

بش لکھتے ہیں کہ ان کے پاس دیگر آپشنز ہیں ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنا تھا جس کی صدر اوبامہ حمایت کرتے ہیں لیکن بش نے اس آپشن کو مسترد کردیا تھا اس کے علاوہ دوسرا آپشن سخت پابندیاں عائد کرنا تھا جس کا انہوں نے انتخاب کیا جبکہ فوجی آپشن بھی آخری حربے کے طور پر ہمیشہ سے مذاکرات کی میز پر رہا ہے بش کے مطابق ایک بات یقینی ہے کہ امریکہ کو ایران کو کبھی بھی ایٹم بم بنانے نہیں دیا جانا چاہیے کہ وہ دنیا کو خطرے میں ڈال دے ۔

بشکریہ اے آر وائے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.