URDUSKY || NETWORK

قندیل بلوچ قتل کیس

59

ملتان کی ماڈل کورٹ نے قندیل بلوچ قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے بھائی وسیم کو عمر قید کی سزا اورمفتی قوی کو بری کر دیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کو شک کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز قندیل بلوچ قتل کیس میں وکلاءاور پراسیکیوشن نے دلائل مکمل کرلیے تھے ، ماڈل کورٹ میں قندیل بلوچ قتل کیس کو 3 اگست کو منتقل کیا گیا تھا جہاں روزانہ کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت ہوئی۔کیس کے مدعی قندیل کے والد اسلم ماہڑہ نے اپنے 3 بیٹوں وسیم ، عارف اور اسلم شاہین سمیت مفتی عبدالقوی ، حق نواز ، عبدالباسط اور ظفر کو اس کیس میں نامزد کیا تھا۔

مرکزی ملزم وسیم نے قتل کے اگلے روز پولیس کو ازخود گرفتاری دے کر اور اقبال جرم بھی کیا تھا تاہم بعد میں وہ اپنے اعترافی بیان سے منحرف ہو گیا تھا۔قندیل بلوچ کے والدین نے بھی اپنے تینوں بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست عدالت میں جمع کروائی جو عدالت نے مسترد کر دی تھی۔ اس کیس کا مزکری ملزم وسیم جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے جبکہ باقی ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔

اس سے قبل قندیل بلوچ کی والدہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی بیٹی کا قتل مفتی عبدالقوی کے ایماءپر ان کے بیٹوں نے کیا تھا۔واضح رہے کہ قندیل بلوچ کو 15 جولائی 2016ءکی شب ملتان کے علاقے مظفر آباد میں قتل کیا گیا تھا،مقدمے کی 3سال 2 ماہ اور11 دن سماعت ہوئی،مقدمے میں 6 ملزمان کا بیان ریکارڈ کیاگیا۔