پراسرارعلوممائنڈ سائنسنوجوان

قوتِ خیال اور لذتِ آشنائی

قوتِ خیال اور لذتِ آشنائی

ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ذہن انسانی جس کی حثیت انسانی سلطنت میں بادشاہ سلا مت کی ہے، اسکی مرغوب غذا ہی علم ہے جسکی بدولت وہ پھلتا پھولتا ہے اور سلطنت کے معاملات کو چلاتا ہے۔اگر حضرت انسان اپنے ذہن کو علم سے محروم رکھے گی تو یہ کسطرح ممکن ہے کہ وہ معاملات زندگی پر اپنی گرفت کر سکے ؟

درحقیقت ذہن انسانی ساکن توانائی (Static Energy) کی ایک لطیف ترین قسم ہے اور اسکی بظاہر سرگرمی (Activity) ”خیال“ ہے جو کہ اِسکا متحرک رُخ پیش کرتا ہے۔ ذہن ایک ساکن توانائی ہے اور خیال ایک متحرک توانائی (Dynamic Energy) جو کہ ایک ہی شے (ذہن) کے دو مختلف روپ (Phase) ہیں اور یہ خیال ہی ہے جو آپ کے سامنے ہاتھ باندھ کے “الہ دین کے جن” کی طرح حکم بجا لانے کیلئے کھڑا ہے

تحریر:محمدالطاف گوہر

قدرت ہمیں معاملاتِ زندگی میں سے گزرنے پر مجبور کرتی ہے گرچہ ہم جتنا مرضی جمود میں رہنے کی کوشش کریں۔ ہر مثبت اور صحیح سوچ رکھنے والا شخص نہ صرف معاملاتِ زندگی میں پرجوش اور متحرک (Dynamic)ہے بلکہ اپنی ترقی، کامرانی اور ذہنی پیش رفت کو بھی قدرتی انداز میں رکھنا پسند کرتا ہے جبکہ پیش رفت صرف اور صرف تصورات، خیالات، عوامل اور حالاتِ زندگی کی بہتری کے مرہون منت ہے جو کہ نتیجتاً ظاہر ہوتے ہیں۔ لہٰذا تخیل (خیالThought) کے تخلیقی مراحل کا مطالعہ اور ان کا زندگی کے اعلیٰ مقاصد کا استعمال ہمارے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ خیالات (دقیق تا ارفع Alpha and the Omega) کا ابجد (Alphabet)بنانے کے لیے الہامی اور فلسفیانہ ذرائع ہمارے لیے عظیم سچائی (حقیقت) تک رسائی کا موجب بنتے ہیں جبکہ انسانیت اِس اکیسویں صدی میں بڑے زور و شور سے ”حقیقت کی تلاش“ میں ہر وہ راستہ افشاں کرنے پر تُلی ہوئی ہے جو کہ کسی بھی طرح سے اس تک پہنچنے کا موجب بنے۔ خیال کے بارے میں علم وہ طریقہ کار واضح کرتا ہے جس کے باعث انسانی زندگی کے ارتقائی اور تسلسل کے عمل میں بلندی اور تیزی آتی ہے۔
ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
جب انسانی سوچ کسی بند گلی میں جا کررک جاتی ہے اور کوئی راستہ نہےں ملتا تو انجام خاتمہ! علم ہی انسان کو اشرف المخلوقات بناتا ہے یہ انسانی شرف ومعراج صرف علم کی وجہ سے ہے۔ علم کی روشنی جہاں آجائے وہاں تاریکی ختم ہو جاتی ہے ذہن انسانی جس کی حثیت انسانی سلطنت میں بادشاہ سلا مت کی ہے، اسکی مرغوب غذا ہی علم ہے جسکی بدولت وہ پھلتا پھولتا ہے اور سلطنت کے معاملات کو چلاتا ہے۔اگر حضرت انسان اپنے ذہن کو علم سے محروم رکھے گی تو یہ کسطرح ممکن ہے کہ وہ معاملات زندگی پر اپنی گرفت کر سکے ؟ علم کی بہت سی شاخیں ہیں جو انسان کی زندگی میں عروج و ترقی کا باعث بنتی ہیں،اگر اچھا کاروبار کرنا ایک فن ہے تو اچھا لکھنا اور اچھا بولنا بھی ایک فن ہے اسی طرح اگر تعلیم و تر بیت میں شاندار کامیابی بھی ایک فن ہے تو اچھا کھیلنا بھی ایک فن ہے ۔اب اگر ہم زندگی کے سارے علم و فنون کو حاصل کر لیں جو کامیابی و کامرانی کی طرف لے جاتے ہیں مگر زندہ رہنے کا فن نہ سیکھیں تو یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟
تخیل ہمارے لیے بہتے پانی کی مانند ہے اگر حدوں میں رہے تو لازوال طاقت ہے اور اگر حدوں کو توڑ دے تو طوفان جبکہ یہ طوفان ناقابل تسخیر معلوم ہوتا ہے لیکن اگر آپ اس کا راستہ تبدیل کرنے کا طریقہ جانتے ہیں تو آپ اس کا رُخ موڑ سکتے ہیں اور اس کو کارخانوں میں لے جا کر وہاں اس کی قوت کو حرکت، حرارت اور بجلی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ آپ تخیل (خیال) کو گھر بیٹھا دیوانہ بھی کہہ سکتے ہیں یا پھر بے سدھ گھوڑے سے بھی وابستہ کر سکتے ہیں جس کی نہ لگام اور ہی باگیں، ایسی صورت میں سوار اس کے رحم و کرم پہ ہے کہ جہاں وہ چاہے اس کو کسی کھائی میں گِرا کر اس کی زندگی کا خاتمہ کر دے لیکن اگر سوار گھوڑے کو لگام دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ اب یہ گھوڑا (تخیل) اپنی مرضی سے کہیں نہیں جاتا بلکہ سوار جہاں چاہے گھوڑے کو وہاں لے جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مائنڈ سائنس (Mind Science)اکیسویں صدی کی اختراع ہے جبکہ تخیل (Thought)کو اب ایک بالیدہ شعور سے پالا پڑا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ہر خیال آپ سے پوچھ کے آپ کے پردہ اسکرین پر ظاہر ہو گا اور یہی انسانی ذہن کا کمال ہے کہ وہ اپنے تخیل پے حکمرانی کرے ۔ حقیقت شناس زاویہ (Face to Face) ہمیں میدان میں آنے کی دعوت دیتا ہے اِس زاویہ کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر تمام دوسرے غلط زاویوں کی نفی کرنا ہو گی۔ اپنے اندر کے کھیت میں ہل چلانا ہو گا اور اپنے ذہن کی زمین (Hard Disk)کو تیارکرنا ہو گا کیونکہ جب بھی کوئی عمارت تعمیر کی جاتی ہے تو پہلے اِسکی بنیادیں کھودی جاتیں ہیں اور ہر نئی فصل اُگانے کیلئے ہل چلانا پڑتا ہے اور اگر سچ پوچھیں تو حقیقت کے چشمے سے سیراب ہونے کیلئے ”لا“ (No) یعنی نفی اور ہر شے سے انکار (Reset) کرنا تو ازل سے سلامتی کے مذاہب کی اساس رہی ہے کیونکہ تمام خود رو جنگلات چاہے کتنے ہی بھلے معلوم کیوں نہ ہوں مگر اصل حسن تو اِن باغات میں ہے جو اِنسان نے زمین پہ محنت کر کے اُگائے ہیں جیسے پانی اپنی حدوں سے باہر نکل جائے تو سیلاب بن جاتا ہے اِسی طرح ہمارے اندر کی لامحدود طاقت اِنسان کو درندہ بھی بنا سکتی ہے اور یہ معصوم صورت درندہ زندگیوں کیلئے فنا بن جاتا ہے۔ اِنسان کے اندر (ذہن) کی طاقت صرف اور صرف ”خیال“ (Thought)میں پنہاں ہے اور یہ اِس پانی کی طرح ہے جو لطیف (ہلکا) ہو جائے تو عرش (آسمانوں) کا رُخ کرتا ہے اور اگر بے قابو ہو جائے تو تباہی و بربادی (خون خرابہ) کا باعث بنتا ہے اور اگر کسی جگہ رُک جائے تو بے چینی (Tension) اور ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ کائنات کی تسخیر کی کنجی (Key) بھی اِسی خیال کی طاقت کے مرہون منت ہے۔ درحقیقت ذہن انسانی ساکن توانائی (Static Energy) کی ایک لطیف ترین قسم ہے اور اسکی بظاہر سرگرمی (Activity) ”خیال“ ہے جو کہ اِسکا متحرک رُخ پیش کرتا ہے۔ ذہن ایک ساکن توانائی ہے اور خیال ایک متحرک توانائی (Dynamic Energy) جو کہ ایک ہی شے (ذہن) کے دو مختلف روپ (Phase) ہیں اور یہ خیال ہی ہے جو آپ کے سامنے ہاتھ باندھ کے جن کی طرح حکم بجا لانے کیلئے کھڑا ہے جبکہ انسانی ذہن کے پردہ سکرین پہ جو اداکار اپنا کردار ادا کر رہے ہیں وہ صرف ہمارے خیالات (تخیل) ہیں اور انکو اپنی مرضی کے مطابق کردار ادا کرنے کا پابند کرنے میں ہی آپ کی لازوال طاقت پنہاں ہے مگر یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ آپ اپنے بارے میں مکمل معلومات نہ رکھتے ہوں۔
اگر ایک طرف مراقبہ کے عمل سے تخیل منظم (Organized)شفاف (Refined) ہوتا ہے اور تقویت (Amplify)پکڑتا ہے تو دوسری طرف (اس عمل سے پیشتر )ذہن کو اس تمام آلودگی اور بے سرو سامانی کے ماحول سے پاک کرنا بھی ضروری ہے تا کہ زمینِ ذہن پہ اُگی ہوئی تمام جڑی بوٹیاں (بے لگام خیالات) سورج کی روشنی میں خود بخود فنا ہو جائیں۔ جیسے آپ نیا کمپیوٹر تیار کر رہے ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ایک ہارڈ ڈسک (Hard Disk) کو تیار (Format)کرتے ہیں تا کہ وہ کسی بھی نئے پروگرام کو ذخیرہ (Save) کرنے کے قابل ہو جائے اور پھر سب سے پہلے Operating System )قاعدہ و قانون)کا پروگرام انسٹال کرتے ہیں تا کہ اِس میں Application پروگراموں کو چلانے کی قابلیت ہو جائے۔ تحلیل نفسی (Psychotherapy)بھی اِسی عمل کا تسلسل ہے یا پھر محاسبہ ذات بھی یہی طریقہ کار وضع کرتا ہے جبکہ توبہ (Repent) بھی ایک ایسا ہی عمل ہے جو نہ صرف گناہوں کی دھلائی کا کام کرتا ہے بلکہ انسانی ذہن کی غلاظتوں کا بھی قلع قمع کرتا ہے اور کبھی کبھی Confession (اقرار گناہ)اور آزاد گوئی (Free Speaking)کے ثمرات بھی کسی طرح بھی اِس معاملہ میں پیچھے نہیں۔
جاری۔۔۔

Related Articles

2 Comments

Leave a Reply

Back to top button