مائنڈ سائنس

زندگی خوشگوار کیسے بنائیں

زندگی کیسے خوشگوار بنائیں
زندگی سے لطف کیسے اٹھائیں

تحریر:محمد الطاف گوہر
[email protected]
زندگی کبھی بھی خوشگوار نہیں ہوسکتی اگرآپ اس کو گزارنے کا غلط طریقہ کار اپنائے ہوئے ہوں یا پھر خود رو ی کی روش پہ گامزن ہوں، اور نتیجہ میں اپنا اعتماد کھودیں ،یا پھر اپنے آپ سے خوش نہ ہوں۔اگر یہ سب کچھ آپ اپنی زندگی میں محسوس کرتے ہیں تو فوراً اسکو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔آپ کیا کرنا پسند کرتے ہیں؟ نہ صرف اپنا مطمعِ نظر بلندرکھیں اورزندگی کے اعلیٰ مقاصد کو ملحوظ خاطر رکھیں بلکہ انکے حصول کیلئے راہِ عمل بھی مرتب کریں۔اپنے آپ پہ اعتماد کریں اور یہ یقین رکھیں کہ مجھ میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے کہ میں وہ سب کچھ کر سکتا ہوں جسکا میں ارادہ کر لوں اورپھر امید رکھیں کہ ہر کام اسی طرح سے ہوگا جیسے آپ چاہتے ہیں۔
یہ ایک انتہائی حیران کن بات ہے کہ زندگی پھولوں کی سیج نہیں مگرجب ہم اس سے شناسائی حاصل کرتے ہیں تو ہمیں ایک انجانی خوشی کا احساس ہوتا ہے جبکہ ہر شے ہم تک انتہائی خوش کن اور بابرکت طریقے سے پہنچتی ہے ۔آئیں زندگی گزارنے کے کچھ ایسے شاندار طریقہ کاردریافت کریںجنکے باعث ہم ہمیشہ خوش و خرم اور کامیاب رہ سکتے ہیں ۔البتہ کچھ حقائق کسی بھی ریاضی کے فارمولے کی طرح نتائج پیدا کرتے ہیں جنکے باعث ایک فرد نئی توانائیوں کے ساتھ زندگی کی پرلطف راہوںپہ گامزن ہوجاتاہے، جبکہ ہمیںکچھ معیارایسے بھی مقرر کرنے ہیں کہ جہاں ہمیں دوسروں کی قدروں کا احساس رہے اور ہم انکے ساتھ خوشگور اطوار اپنائیں ، آئیے ان چندایک ایسے سنہری اصولوں سے آگاہی حاصل کریں جو زندگی کی تاریک راہوں پہ کسی بھی طرح سے درخشاں قمقموں سے کم نہیں۔
فراخ دلی کا مظاہرہ کریں:۔
جی ہاں! انتہائی قلیل سی فیاضی کے ردعمل میںلاتعداد خوشیاں آپکی دہلیز پہ آپکا استقبال کر رہی ہونگی۔فراخ دلی کا رویہ اپنانے سے نہ صرف آپکی شخصیت کا وقار بلند ہوگا بلکہ دوسروں کے دلوں میں آپکی قدر و قیمت بڑھ جائے جائیگی کہ جس کا کوئی مول نہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ آپ کتنے دولت مند ہیں اگر آپ دوسروں کے دلوں میں جگہ نہیں بنا سکتے تو یاد رکھیں کہ آپکی دولت کسی کام کی نہیں۔ ایک مثبت عمل ہی کسی مثبت نتیجہ کا حامل ہو سکتا ہے ورنہ کسی بھی منفی رویہ سے کسی اچھائی کی امید نہ رکھیں، لہٰذا ایک خوشگوار اور پر لطف زندگی کی راہوں کی پہلی سیڑھی آپکی فراخدلی اورفیاضی ہے۔
اپنے پسندیدہ کاموں کی لسٹ بنائیں اورانہیں کرگزریں:۔

how-nejoy-life
زندگی خوشگوار کیسے بنائیں

علم اس وقت تک امکانی قوت رہتا جب تک کہ اس یہ عمل پذیر نہ ہو ا جائے جبکہ قوت کی اصل تعریف عمل ہے ۔ایک نئی اور مکمل چارج بیٹری اس وقت تک کسی کام کی نہیں جب تک کہ اس سے کسی سرکٹ کو نہ جوڑا جائے اورتوانائی حاصل نہ کی جائے ، بلکہ یہ ایک ایسا ہی عمل ہے کہ جیسے گاڑی سٹارٹ کردی جائے اور اس کو گیئر میں نہ ڈالا جائے اور چاہے جتنی مرضی ریس دی جائے گاڑی اپنی جگہ سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھے گی ، لہٰذا عمل ممکنات کی سلطنت کا بے تاج بادشاہ ہے جہاں امکانات کے اسرار کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی کی راہیں متعین کرچکے ہیں یا پھر کچھ بننے کے خواہاں ہیں تو فوراً ہی کچھ کر گزریں کیونکہ صرف سوچنے سے آپ کبھی بھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتے۔ اور یہ سوچنے میں وقت ضائع نہ کریں کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں بلکہ آپ جو کچھ بننا چاہتے ہیں اس کے حصول کیلئے راہ عمل اختیار کریں جو آپ کو ایک کامیاب اور خوشگوار زندگی سے ہمکنار کر دے گا۔
کوشش جاری رکھیں:۔
بہت سی باتوں میں سے ایک انتہائی اہم بات جو ہر حال میں اور معاملات زندگی کے نشیب و فراز میں کمر ہمت باندھے رکھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی بھی طور ناامیدی کا مظاہرہ نہ کرنا بلکہ ہر حال میں امید کادامن تھامے رکھنا اور کوشش جاری رکھنا۔ ناکامی زندگی کاایک نارمل پہلو ہے اور قدرتی طور پہ وقوع پذیر ہوتا ہے مگراس کے ساتھ ناامیدی کا پیدا ہونا افراد کے اختیار میں ہے جو کسی بھی طور مذید کسی کوشش سے باز رکھتاہے جوکہ افراد کی زندگی میں زہر قاتل کی حیثیت رکھتاہے۔ کوشش جاری رکھنا ایک ایسا ہی عمل ہے جیسے کسی بھی مقصد کو پالینے کیلئے پر امید رہنا جوکہ ہمیشہ عمدہ نتائج پیدا کرتا ہے جس کے باعث افراد ایک خوشگوار زندگی کی نہج پہ گامزن رہتے ہیں۔
ناپسندیدگی سے بچیں:۔
فوری ایسے کاموں کی لسٹ بنائیں جو کہ آپکی زندگی کو خوشگواری سے دوررکھتے ہیں، اور ایسے کاموں سے بچیں جن کے نتائج آپکو رنجیدہ کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ہی عمل ہے جیسے ایک بچہ اپنی تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتا تو نتیجہ میں وہ اسکول سے نکال دیا جاتا ہے ۔ اگر آپ ایک کام کرنے سے تکان اوریکسانیت کا شکار ہوچکے ہیں یا پھر اپنی جاب میں عدم دلچسپی محسوس کرتے ہیں تو یقیناآپکو ایک نئے کام کی تلاش کرنی چاہے جہاں آپ اپنے لئے اچھے روزگارکے ساتھ ساتھ پسندیدہ مصرف بھی پا سکیں ، اگر یہ ممکن نہیں تو اپنے موجودہ کام میں کوئی مثبت پہلو تلاش کریں جوکہ آپ کی دلچسپی قائم رکھنے کا باعث بنارہے۔ کوئی فرد بھی گھرکے کچن کا پنکھا صاف کرنے میں یا پھر گھر سے باہر گندگی پھنکنے میں خوشی محسوس نہیں کرتا اور اسے بارِگراں تصور کرتا ہے ، اگر یہی خیال کرلے کہ ان عوامل کے باعث کتنے اچھے نتائج پیداہونگے اور صفائی اور نکھار آئے گا تو کبھی بھی ان عوامل کو سر انجام دینے میںعدم دلچسپی کا مظاہر نہیں کرے گا اور اسے بارِعزیز سمجھتے ہوئے بخوشی سرانجام دے گا۔
مشغلہ تلاش کریں:۔
آپ چاہے ٹکٹ جمع کرنے کے شوقین ہو یا سکے ، یا پھر فوٹوگرافی پسند کرتے ہوں یا کیلیگرافی ، مگر ساری زندگی اس عمل کو نبھانے میں صرف نہیں ہوگی بلکہ فرصت کے لمحات میں یہ عادات آپکے پل خوشگوار بننانے میں معاون ہونگی۔انہی کے باعث آپ اپنے کاموں کی تلخی کونہ صرف دور کرسکتے ہیں بلکہ کسی بھی یکسانیت سے بھی بچ سکتے ہیں۔ مشاغل نہ صرف اضافی اوقات کا ایک اچھا مصرف ہوتے ہیں بلکہ ان کے باعث افراد اچھی صحت اور علم کے روشن دریچوںسے بھی ہمکناررہتے ہیں جیساکہ باغبانی ، مطالعہ ، اور انٹرنیٹ کا استعمال جیسے مشاغل اس امرکا ایک منہ بولتا ثبوت ہیں۔
گانا آپ کے پَل خوشگواربناتا ہے:۔
کہتے ہیں موسیقی روح کی غذاہے ، جبکہ صبح سویرے پرندوں کی چہچہاہٹ ، آبشار کا پانی اور پانی کا بلندی سے تسلسل کے ساتھ گرنا ، گلشن میں پپیہا کی آواز اور سڑک پر چلتے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز قدرتی طور پہ موسیقی کا سماں پیدا کرتی ہے۔ دریا کنارے موجوں کے دوش بہتا پانی جو سماں پیدا کرتا ہے اس کے صوتی اثرات افراد پہ انتہائی خوشگوار اثر ڈالتے ہیں۔اب موجوں کی لے کا ہمدم تو نہیں بنا جاسکتا البتہ چند لمحات گنگنایا تو جا سکتا ہے ۔ موسیقی کے انسانی ذہن پہ جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کے باعث وہ کسی ایک اضطرابی کیفیت سے نکل کرکسی خوش کن کیفیت میں داخل ہوسکتا ہے۔میوزک تھراپی آج کی جدید سائنس کی مرہون منت ہے جبکہ ہمارے ہاںلوک ورثہ اور عارفانہ کلام روح کو جلا بخشتے ہیں۔
سوالات پوچھیں:۔
جاننے کا عمل بھی اپنے تجسس کے باعث زندگی میں دلچسپی کو قائم ودائم رکھتاہے۔ ہر وہ بات جو سمجھنے میں دشوار ہو اسکو سوالات کی شکل میں دوسروں سے جانیں۔ پوچھنا کوئی بری بات نہیں کیونکہ اکثراوقات دوسروں کے تجربات آپ کے لئے مشعل راہ بن جاتے ہیں ۔ اور اگر آپ کسی رائے پر پہنچ چکے ہوں اور غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہوں اور جب آپ کسی دوسرے سے رائے لیں تو ہو سکتا ہے آپ یقینی کیفیت میں آجائیں اور اپنے اوپر اعتماد بڑھالیں (کیونکہ ممکن ہے ددسرا فرد بھی وہی رائے رکھتا ہوجو آپ پہلے سے قائم کرچکے ہیں)، یہ معاملہ بھی زندگی کے پل خوشگوار بنانے میں پیش پیش ہے ۔
خوشی محسوس کریں:۔
جب آپ کسی کام کو پائیہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں تو اسکی کامیابی کے عوض خوشی محسوس کریں جو آپکی زندگی کے پل خوشگوار بنادے گا۔کھیل جس میں آپ جیت چکے، محبت جو آپ پا چکے ، کھانا جو آپ اچھا بنا چکیں، تحریر جو آپ لکھ چکے ، تصویر جو آپ بنا چکے ، گانا جو آپ ترتیب دے چکے ، کیونکہ کام اپنی مشقت کے باعث صرف اذیت بن جاتا ہے اگر اسکے پائیہ تکمیل کو پہنچنے پہ خوشی کا عنصر شامل نہ ہو۔ یہی خوشی افراد کے موڈ کو ایک خوشگوار احساس سے روشناس کراتی ہے اور معاملات زندگی میںدلچسپی کے پہلو کو برقرار رکھتی ہے۔
صحت مندی :۔
اچھا کھانا، ورزش و کھیل معاملات ِ زندگی پہ بہت گہرے اثرات رکھتے ہیں۔ اگر آپ صحت مندنہیں تو یقین جانیں دنیاکی ہر خوشی آپ سے دور بھاگے گی یا پھر آپ خوشی کے احساس سے عاری ہونگے۔تندرستی ایک نعمت ہے اور اچھی عادات ہی افراد کو ان راہوں پہ گامزن رکھتی ہیں ورنہ بری عادات کاحاصل فقط بیماری ہے۔ زندگی کے خوشگوار پل آپکے لیئے اسی وقت میسر ہوسکتے ہیں جب آپ صحت مند ہیں اور اس کے لئے اچھی عادات ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔
تبدیلی کیلئے تیار رہیں:۔
کبھی دن کبھی رات ، گرمی اور سردی، کبھی دھوپ کبھی چھاﺅں،بہار اور پت جھڑ یہ سب قدرت کی طرف سے انسانیت کیلئے سبق اور عظیم تحفہ ہے کہ تبدیلی کا عمل قدرت کے قوانین کے عین مطابق ہے۔کام کی نوعیت ، معاملات روزگار ، یکسانیت کے پہلو، دوستوں کے اکتا دینے والے روئیے اور ملک کا بے مقصد اور بے فیض سربراہ، کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچنے کیلئے سراسر ایک تبدیل کی طرف اشارہ ہے۔ہر روز سورج وہی ہوتا ہے مگر ایک نیا دن نئی امنگوں اور جذبوں کے ساتھ ا ٓپکا استقبال کرتا ہے اور آگاہی دیتا ہے کہ اپنے آپ کوکسی بھی مثبت تبدیلی کیلئے تیار رکھیں ۔
کیا حاصل کرچکے ہیں؟ کامیابیوں کی لسٹ بنالیں:۔
معاملہ روزگار کا ہو یا تعلیم و تربیت کا، مشاغل کو ہو یا ذمہ داریوں کا، کھیل کود کا ہو یا تفریح کا افراد جو کچھ حاصل کر چکے انکا شمار رکھنا دراصل ایک اچھی عادت ہے کہ جس کے باعث شکر گزاری اور آگے بڑھنے کا حوصلہ رھتا ہے جو کہ زندگی کے مختلف مراحل میں خوشگواری کاباعث بنتا ہے۔قسمت کا دھنی تو ہر کوئی نہیں ہوتا البتہ افراد کسی نہ کسی طور کچھ کامیابیاں ضرور حاصل کرتے ہیں جن کو یاد رکھنا اور اعادہ کرنا ہمیشہ زندگی کے خوشگوار لمحوں سے لطف اندوز ہونے کا باعث بنتاہے۔
یقین رکھیں:۔
ہرحال میں معاملات کا مثبت پہلو دیکھنا نہ صرف یقینی کیفیت برقرار رکھتا ہے بلکہ امید کا دامن بھی نہیں چھوٹتا اور کامیابی بھی نصیب ہوجاتی ہے۔’ناممکن‘ کا لفظ اپنی ڈائری سے نکال دیں کیونکہ اگر کسی معاملہ میں آپ کوشش کرتے ہیں اور کامیابی نصیب نہیں ہوتی توا سکا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ کیلئے یہ کام ناممکن ہے بلکہ آپ کا طریقہ کار بھی تو غلط ہو سکتا ہے البتہ اس سارے عمل کے دوران ایک نئے تجربہ سے ضرور دوچار ہوئے ہونگے۔اور ان تجربات کو سیڑھی بناتے ہوئے یقین رکھیں کہ آپ کامیابی کی دہلیز پہ پہنچ چکے۔
کچھ نیا سیکھیں:۔
افراد ساری زندگی سیکھنے اور سکھانے کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں جوکہ ایک بھرپور زندگی کی علامت ہے ، اور یہ ایسا ہی عمل ہے جیسے بہتا پانی ہمیشہ تروتازہ رہتا ہے جبکہ تلاب صرف بوسیدگی کی علامت ہے۔ کوئی کتاب پڑھنا، کمپیوٹر پہ نت نئی ویب سائٹ ملاحظہ کرنا، اخبارات اور میگزین کا مطالعہ کرنا اور نئے لوگوں سے ملنا نہ صرف یکسانیت (بوریئت) سے بچائے رکھتا ہے بلکہ اس طرح سے سیکھنے کا عمل بھی جاری رھتا ہے جس کے باعث معاملات زندگی میں کوشش بھی کم کرنی پڑتی ہے اور آسانیاں بھی زیادہ پیدا ہوجاتی ہیں جبکہ معاملات ِزندگی میں دلچسپی کا عنصر بھی قائم رہتاہے۔
ہر عمل بازگشت پیدا کرتا ہے:۔
یہ کوئی سائنسی فارمولا نہیں بلکہ ایک قدرتی سچائی ہے، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے کہ جیسے آپ ایک گیند دیوار کی طرف اچھالتے ہیں تو نتیجہ میں وہی گیند آپکی طرف اسی طاقت کے ساتھ واپس آتا ہے مگر ذرا سا مختلف زاویہ سے ۔ جب ہم کسی فرد کااستقبال مسکراتے چہرے سے کرتے ہیں تو چاہے سامنے والے کا مزاج کتنا بھی تلخ کیوں نہ ہونتیجہ میں مدمقابل بھی خندہ پیشانی سے پیش آئے گا۔رشتوں میں کڑواہٹ دراصل ہمارے لئے ردعمل کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا اپنے رویہ کی درستگی پر توجہ دیں ناکہ دوسرے کو ملامت کریں ۔اچھے رویے ہمیشہ زندگی کی کٹھن راہوں پہ خوشگوارسایہ داردرختوں کی مانند ہیں جبکہ ہم دانستگی یا نادانستگی میں دوست بڑھاتے جاتے ہیں یا پھر یہ نعمت کھورہے ہوتے ہیں ، جسکا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم اپنی باز گشت کو سمجھ پا رہے ہیں یا نہیں؟
ہرشے اندھاکنواں نہیں:۔
بعض اوقات ہم کچھ معاملات میں دوسروں سے متوقع نتائج حاصل نہیں کر سکتے چاہے کتنی ہی کوشش کیوں نہ کی جائے،ہماری ہر کاوش اکارت جاتی ہے، جبکہ یہاں ایک ’اندھا کنواں‘ دکھائی دیتا ہے جو سب کچھ نگل تو رہا ہے مگر ردعمل سے عاری ۔ قطعی طور پریشان نہ ہو بلکہ سمجھ لیں کہ یہ آپ کے لئے مناسب پردئہ نقاشی نہیں کہ جہاں آپ کوئی خوبصورت سی تصویر بنا سکیں ، یہاں اپنا مزید وقت ضائع نہ کریں اور اس سے کنارہ کشی کریں اورقدم آگے بڑھادیں۔
دوسروں کے ذہن کھولنے کی نایاب چابی:۔
مجھے یہ انتہائی اہم اور دلچسپ رازافشاءکرتے ہوئے بہت مسرت ہو رہی ہے کہ ہرفرد کے ذہن کو کونسی چابی سے کھولا جائے؟ ان تجربات سے میں متعدد بار گزرا ہوں ، اور اسی کے باعث نہ صرف آپکی کامیابی کا زاویہ 45 ڈگری درجہ پہ آجاتا ہے بلکہ آپ دوسروں کی نظر میں بہت اہمیت بھی اختیا ر کر لیتے ہیں ، یہ ایک ایسا احساس ہے کہ جس کے پانے سے زندگی خوشی کی راہ پر تیز رفتار ہو جاتی ہے، ایک انتہائی سادہ سی کوشش ، ’ کم بولیں مگر زیادہ سنیں‘، جی ہاں! ذرا غور کریں کہ قدرت نے ہمیں دو کان دئیے ہیں مگر ایک منہ عطا کیا ہے، تو پھر ذرا کمر ہمت باندھ لیں اور اپنی بے قابو ہوتی ہوئی زبان کوتھام لیں، آپ ہی شمعِ محفل ہیں کہ جب آپ دوسروںکی گہرائی ماپ لیتے ہیںکہ یہی دوسروں کے ذہن کھولنے کی چابی ہے۔ یہ سب کچھ اسی طرح سے ممکن ہے کہ جب آپ دوسروں کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے موضوعِ گفتگو کا انتخاب کرتے ہیں ، تو دوسروں کا جوش خروش نقطہ عروج پر پہنچ جاتا ہے جبکہ آپکی اہمیت اور قدر بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا دوران گفتگو یہ خیال رکھیں کہ مد مقابل کس بات کو پسند کرتا ہے ،نہ کہ آپ کس بات کو پسند کرتے ہیں اور نتیجہ میں حاصل کریں شاندار خوشگوار لمحات جو جینے کا احساس بڑھادیں ۔
قدرت کا قانون رد:۔
دنیا بھر میں آج کل ہر سیمینار میں قدرت کے قانون جذب اور کشش کو موضوع بنایا جارہا ہے ، کتابوں پہ کتابیں لکھی جارہی ہیں مگراس کے ساتھ ساتھ اس لازم کے ملزوم کو شامل ِدفتر نہیں کیا جاتا، جبکہ یہ اٹل حقیقت ہے کہ ہم دانستگی یا نادانستگی میں اپنے رشتوں کو توڑ تے اور جوڑتے ہوئے اپنے پیاروں کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں جو کہ نہ تو ہمارے قریب ہوتے ہیں او ر نہ ہی بہت دور ، اور اس عمل کے باعث ہم اپنے اور اپنے پیاروں کے درمیاں ایک ممکنہ دیوار بنا دیتے ہیں جوکہ آگے چل کر ’کڑواہٹ‘ کی شکل میں نمودار ہوتی ہے جو کہ صرف اور صرف نفرت ، زک اور رد کا باعث بنتی ہے،جبکہ آپ کے پیاروں کا متنفر رویہ آپ کی توجہ چاہتا ہے کہ اس کڑواہٹ کو ختم کرنے کیلئے دوسروں کو وقت دیں ، اہمیت دیں ۔ یہ ایک ایسا ہی عمل ہے کہ انٹرنیٹ پر نارتھ پول کا فرد ساﺅتھ پول میں پیار کی پینگیں تو بڑھا رہا ہے مگر اپنے قرب وجوار میں پنپتے پیار کو نظر انداز کر رہا ہے اور اگر اس کو اس پامال کی گئی الفت سے کڑواہٹ محسوس ہو تو گلہ اپنے آپ سے ہونا چاہیے ۔ دوسروں کو مناسب اہمیت اور مناسب وقت دینا رشتوں میں خوشگوار ماحول پیدا کرتا ہے اور اسی کے باعث زندگی سے صحیح معنوں میں لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔
جنگل میں رہنے کی کوشش نہ کریں :۔
جی ہاں! جنگل میں رہنے کی کوشش نہ کریں بلکہ دوسروں میں گھل مل کر رہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان ایک معاشرتی بندھن میں بندھا ہوا ہے اورافراد کے درمیاں رہنے کیلئے پیدا ہوا ہے نہ کہ اکیلا ہی زندگی گزار دے ۔حتیٰ کہ پتھر کے دور میں بھی افراد قبلے اور کنبوں کی شکل میں رہتے تھے ۔ اکیلا پن اور تنہا رہنا کسی بھی بیمار ذہن کے عکاسی کرتا ہے جہاں پہ ضرورت اس بات کی ہے کہ زندگی کی مشاغل میں دوسرے افراد کے دوش بدوش بھرپور حصہ لیا جائے جو کہ نتیجہ میں ایک خوشگوار زندگی کا عکس پیدا کرتا ہے ۔ہمارے سماجی روابط ، شہراور قصبے دوسرے افراد کے ساتھ گھل مل کررہنے اور ’شیئر‘ کرنے کے باعث اپنی خصوصیت رکھتے ہیں اور زندگی میں جینے کا لطف دوبالا کرتے ہیں ورنہ انہی مواقع پہ تنہائی ایک جنگل کا ساسماں پیدا کرتی ہے۔جبکہ یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیامیں سماجی روابط اور شئیر کرنے والی ویب سائٹ اہمیت کے ا عتبار سے نمایاں خصوصیت رکھتی ہیں۔
سڑک پر چلتا ہوا ایک شخص:۔
کتنی حیرت کی بات ہے کہ کہیں دور سڑک پر چلتا ہوکوئی اجنبی شخص اچانک میرے پا س آجائے اور کہے ’گوہر بھائی ‘ لائیں اپنے کام مجھے دیں ، اور پھر ہر کام میں مدد کرنا شروع کردے ، گپ شپ لگانی شروع کردے ،اور پھر کھانے میں بھی شامل ہوجائے، اور چائے کا بھی منتظر ہو؟ جی ہاں ! یہ بات ممکن نہیں کہ ایک ا جنبی شخص اس طرح سے بے تکلفی سے قربت اختیار کر لے بلکہ وہ افراد جو آپکی زندگی میں مددگار بھی ہوتے ہیں ، جو دکھ سکھ بھی بانٹتے ہیںاور معاملات میں مداخلت بھی کرتے ہیں ، وہ ہیں آپکے دوست ورشتہ دار۔ہمیں ہرحال میں اپنے دوست و احباب کی عزت کرنی ہے، جو کہ ہمیشہ ہماری خوشیوں اور ضرورتوں کا حصہ بنے رہتے ہیں ، ہمیں خوش رکھتے ہیں اور ہماری مدد کو تیار رہتے ہیں ۔
مرکوز توجہ :۔
اکثراوقات یا کبھی کبھار ہم دانستہ و نادانستہ یا پھر عادتاً دوسروں سے محو گفتگوہوتے ہوئے اپنی توجہ اس محفل میں موجود موضوع پر مرکوز نہیں رکھتے ، جو کہ نتیجہ میں دوسروں کی نظر میں ہماری اہمیت کم کردیتی ہے جبکہ یہی عادت یا حرکت کسی بھی طور دوسروں کی ہماری ذات میں دلچسپی ختم کردیتی ہے جوکہ نتیجہ مین ناخوشگوار لمحات کا باعث بنتی ہے لہٰذا ایک مرکوز توجہ ہماری شخصیت کونہ صرف چار چاند لگا دیتی ہے بلکہ اس کے باعث دوسروں کے درمیاں ایک باہمی خوشگوار ماحول سے لطف اندوز بھی ہوا جا سکتا ہے ۔
مندرجہ بالا ان تمام یا چند ایک عوامل کو اپنانے کے باوجود بھی اگرزندگی میں جمود قائم رہے تو یقینا آپکو ذہنی تصاویر بدلنے کی ضرورت ہے جو کہ صرف کسی رہنمائی کی طلبگار ہے ، جبکہ کسی بھی طرح کی یکسانیت ، بے چینی ، تشویش اور خوف سے بچنے کیلئے مراقبہءخوشگوارزندگی کریں اور اپنی شخصیت کو نکھار لیں کہ زندگی کے خوشگور پل آپ کا انتظار کر رہے ہیں ، لپک کر تھام لیجئے کہیں یہ جام چھلک نہ جائے ۔۔۔

(U-Life Meditation)-مراقبہءخوشگوارزندگی

[email protected]

(U-Life Meditation)

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button