پیار کی بہارنوجوان

رشتے چاہتوں کے

رشتے چاہتوں کے

خوشیاں تو چھوٹی چھوٹی تتلیاں ہوتی ہیں جو محبتوں کے گلوں پر آسرا کرتی ہیں اگر نفرتوں کے کانٹوں سے گزر ہو تو کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہیں

افراد کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا سکون اور راحت کا دارومدار باہمی چاہت پر منحصر ہے او ر یہ صرف ایک ہی طور ممکن ہوسکتی ہے کہ دوسروں کو اہمیت دی جائے ، مساوات، ایثار اور قربانی کے جذبے کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔اس نیٹ ورکنگ اور شئیرنگ کے دور میں ہم دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک افراد سے روابط پیدا کرتے ہیں مگر کئی بار اپنے اردگرد بسنے والوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں جو جیتے جاگتے ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں

عمر ، رنگ و نسل سے بالا تر ہر رشتہ ایک انمول موتی ہے جو رویوں کے مالا میں پرو کر الفت کے کھونٹی پر لٹکا یا جاتا ہے اور کبھی کبھی لمحہ تنہائی میں گذشتہ ایام کو جپا جاتا ہے تو احساس کا آنگن یادوں کی مہک سے لبریز ہو جاتا ہے

تحریر:محمدالطاف گوہر

مذاہب عالم ہوں یا انسانیت کی نہج ، ہر حال میں میاں بیوی کے رشتے کی قدروں اور اصولوں کی پاسداری کا تعین کیا جاتا ہے اور اگر ان کو عملی زندگی میں شامل رکھا جائے تو یہ رشتے کبھی بھی کسی کڑواہٹ کی بھینٹ نہیں چڑھتے۔ نہ صرف گھر کا سکون بلکہ روزمرہ کے معمولات بھی کسی بھی فرد کی گھریلو زندگی پر تکیہ کئیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک مرد جب اپنے گھر سے صبح توانائی کے سو پیکٹ لیکر نکلتا ہے تورات واپس آنے تک تقریباً سب خرچ کر چکا ہوتا ہے اور اگر اسکو گھر پر خوش آمدید کہنے والا نہ ہو، اسکی تکان اور راحت کا خیال رکھنے والا نہ ہو تو اگلے روز توانائی کی نئی امنگوں کا فقدان اسکے روزمرہ کو متاثر کرتا ہے کیونکہ اسے اگلے روز خالی ہاتھ جانا پڑتا ہے ،جبکہ یہ سلسلہ اگر قائم رہے تو معاملات ِ روزگار تو ایک طرف ،ذہنی اور جسمانی صحت کے فقدان کا باعث بنتا ہے۔
اسلم لودھی صاحب کی تحریر ” وفاؤں کا حصار” نظروں سے گزری جسے ایک مثالی، گھریلو زندگی کا حسین باب کہہ لیں تو بجا ہو گا۔اس تحریر میں نہ صرف جناب کی زوجہ محترمہ کا انکے لئیے پیار ، خلوص اور ذمہ داری پہلو دیکھنے کو ملا بلکہ جناب کی مروت اور چاہت کا ایک حسین امتزاج دیکھنے کو نظر آیا ، جبکہ انکی بصیرت اور غیرجانبداری کا پہلو بھی پیش پیش رہا۔ ایک مثالی بیوی کے ہوتے ہوئے گھر جنت کی نظیر ہوتا ہے اور ایسے شہکار جناب کی زندگی کے ہر موڑ پر انتظار فرما رہے ہوتے ہیں۔
بلا شبہ یہ تحریر اسلم لودھی صاحب کی گھریلو زندگی کے مثالی پن اور قابل تقلید پہلو کو سموئے ہوئے میاں بیوی کے خوبصورت بندھن کا ایک حسین شہکار پیش کر رہی ہے، اللہ انکا زورِ قلم اور زیادہ کرے ۔نوائے وقت کے کالم نویس جناب اسلم لودھی صاحب کی زیر طبع کتاب ” وفاؤں کا حصار” کیلئے مجھ سے جناب نے آرا مانگی تو مجھے احساس ہوا کہ جناب کتنا اہم کام انجام دے رہے ہیں۔
رشتہ کوئی بھی ہو،چاہتوں اورکڑواہٹوں کا اگر موازنہ کیا جائے تو پلہ ہمیشہ چاہتوں کا بھاری رہتا ہے،کیونکہ نفرت یا کڑواہٹ بھی محبت کا ہی دوسرا نام ہے۔ رشتے عموماً ردِعمل کی ڈوری سے بندھے ہوتے ہیں جوکہ ہمارا دوسروں کیلئے رویہ پیدا کرتا ہے اور آگے چل کر یہی ایک ربط ثابت ہوتا ہے جو رشتوں کو نفرت یا محبت کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ رشتوں کی نزاکت کا احساس اس وقت جنم لیتا ہے جب کبھی وہ ہم سے دور ہوجاتے ہیں یا پھر روٹھ جاتے ہیں۔
اکثر دوسرے ہم سے چاہت کا اظہار کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں مگر ہماری لاپرواہی کی بھینٹ چڑھ کر نفرت میں بدل جاتے ہیں،اس مرحلے پر جذبے انگڑائی لیتے ہیں اور رشتوں کا تعین ہوتا ہے۔ البتہ کبھی کبھی عادت اپنا رنگ دکھاتی ہے اور انسان انجانے میں اپنے دوستوں یا دشمنوں کو بڑھا رہا ہوتا ہے۔دوسروں کو اہمیت دینا ، انکی ضرورتوں کا خیال رکھنا ، انکے لئے وقت نکالنا ، موقع مناسبت سے تحفے تحائف دینا،تکلیف کے وقت مدد کرنا اور بے لوث روابط رکھنا ایسی عادات ہیں کہ انکو اپنانے والا انجانے میں دوسروں کے دل میں بھی جگہ بنا لیتا ہے جبکہ اسکے برعکس عادات کا شکار فرد ہمیشہ رشتوں کی کڑواہٹ کے بھینٹ چڑھا رہتا ہے مگر نا سمجھ کا نا سمجھ رہتا ہے۔
خوشیاں تو چھوٹی چھوٹی تتلیاں ہوتی ہیں جو محبتوں کے گلوں پر آسرا کرتی ہیں اگر نفرتوں کے کانٹوں سے گزر ہو تو کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہیں۔ جبکہ محبتوں اور چاہتوں کے آنگن سدا خوشیوں سے بھرے رہتے ہیں اور انکو جتنا بانٹا جائے بڑھتی جاتی ہیں ۔ زندگی کبھی خوشیوں کے سائے میں اور کبھی نفرتوں کی شاموں میں سفر جاری رکھتی ہے۔کئی بار تو ایسے بھی ہوا ہے کہ رشتوں کی قدروں کو پامال کیا جائے تو خوشیاں روٹھ جاتی ہیں اور انسان انکو منانے کی تگ و دو میں زندگی کے ماہ و سال گنوا دیتا ہے۔رشتوں کا تقدس انکی قدروں کی پاسداری ہے اور ہر رشتہ اپنی منفرد نوعیت کے باعث ایک جداگانہ اہمیت کا حامل ہے۔ہر انفرادی رشتہ اپنی ایک علیحدہ پہچان رکھتا ہے اور یہ کسی بھی طرح ممکن نہیں کہ ہر رشتے کو ایک جیسے رویے اور سلوک سے دوچار کیا جائے بلکہ ہر نوعیت ایک جداگانہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور خصوصی توجہ کی طلبگار ہوتی ہے۔
افراد کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا سکون اور راحت کا دارومدار باہمی چاہت پر منحصر ہے او ر یہ صرف ایک ہی طور ممکن ہوسکتی ہے کہ دوسروں کو اہمیت دی جائے ، مساوات، ایثار اور قربانی کے جذبے کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔اس نیٹ ورکنگ اور شئیرنگ کے دور میں ہم دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک افراد سے روابط پیدا کرتے ہیں مگر کئی بار اپنے اردگرد بسنے والوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں جو جیتے جاگتے ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔بہت سے رشتے اس ماورائی دینا ، انٹرنیٹ کے بھینٹ بھی چڑھ رہے ہیں ۔ اس مصنوعی دنیا نے نہ صرف افراد کی جیتی جاگتی دنیا کی جگہ لے لی ہے بلکہ بہت سے قریبی روابط کو بھی دیمک کیطرح چاٹ رہی ہے۔اس مہمل زندگی میں جب عہدوپیمان کا سلسلہ چل رہا ہوتا ہے تو اسی اثناء کسی قربت کا جگر بھی چھلنی ہو رہا ہوتا ہے۔ تصویریں ، آواز اور انٹر ایکٹیو ذرائع کیا اس ایک لمس کا مقابلہ کر سکتے ہیں جو کبھی بادِ صبا بنتا ہے اور کبھی بادِ نسیم؟
جسطرح بہتا پانی شفاف اور تازہ رہتا ہے اسی طرح رشتے بھی روانگی مانگتے ہیں ،اور تسلسل کا پانی انہیں شاداب رکھتا ہے ۔ عمر ، رنگ و نسل سے بالا تر ہر رشتہ ایک انمول موتی ہے جو رویوں کے مالا میں پرو کر الفت کے کھونٹی پر لٹکا یا جاتا ہے اور کبھی کبھی لمحہ تنہائی میں گذشتہ ایام کو جپا جاتا ہے تو احساس کا آنگن یادوں کی مہک سے لبریز ہو جاتا ہے۔
خیر اندیش
محمد الطاف گوہر

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Back to top button