Ultimate magazine theme for WordPress.

عید الفطر

44

eid_mubarak

عید کے موقع پر نفرتوں کو بھول کر نہ صرف اپنوں بلکہ غیروں کو بھی گلے سے لگا لینا لیں،
نفرتوں پر پیار کی آبیاری کریں ، عید کا دن پھر ہی یاد گار بن سکتا ہے
اگر ہم ایسے نقش چھوڑ جائیں کہ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں بکھیر دیں۔

تحریر: محمد الطاف گوہر
[email protected]
عید الفطر؛ یا عید, عالم اسلام کا ایک مذہبی تہوار ہے جو کہ ماہ رمضان المبارک کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے اور ہر سال بڑی دھوم دھا م سے یکم شوال کو منایا جاتا ہے جبکہ شوال اسلامی کیلنڈر کا دسواں مہینہ ہے۔عید عربی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی ؛ خوشی؛ جشن ؛ فرحت اور چہل پہل کے ہیں جبکہ فطر کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں؛ یعنی ”روزہ توڑنا یا ختم کرنا”۔کیونکہ عید الفطر کے دن روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے اور اس روز اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو روزہ اور عبادتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں، لہذا اس تہوار کو ”عید الفطر” قرار دیا گیا ہے۔
عالم اسلام ہر سال دو عیدیں مناتے ہیں ؛عید الفطر اور عید الضحٰی۔عیدالفطر کا یہ تہوار جو کہ پورے ایک دن پر محیط ہے اسے ”چھوٹی عید” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جبکہ اسکی یہ نسبت عید اضحی کی وجہ سے ہے کیونکہ عید اضحیٰ تین روز پر مشتمل ہے اور اسے ” بڑی عید” بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں سورت البقر (518آیت) میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ؛ ہر مسلمان پر ماہ رمضان کے تمام روزے رکھنا فرض ہیں جبکہ اسی ماہ میں قرآن مجید کے اتارے جانے کا بھی تذکرہ موجود ہے؛ لہذا اس مبارک مہینے میں قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے۔
عمومی طور پر عید کی رسموں میں مسلمانوں کا آپس میں ”عید مبارک” کہنا ؛ گرم جوشی سے ایک دوسرے سے نہ صرف ملنا بلکہ آپس میں مرد حضرات کا مردوں سے بغل گیر ہونا ؛ رشتہ داروں اور دوستوں کی آو بھگت کرنا شامل ہیں۔علاوہ ازیں بڑ ے بوڑھے بچے اور جوان نت نئے کپڑے زیب تن کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں ،ایک دوسرے کی دعوت کرتے ہیں ،مختلف قسم کے کھانے پکائے جاتے ہیں اور جگہ جگہ میلے ٹھیلے منعقد ہوتے ہیں ؛ جن میں اکثر مقامی زبان اور علاقائی ثقافت کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔
خصوصی طور پر مسلمان صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے بیدار ہوتے ہیں اور نماز فجر ادا کرتے ہیں پھر دن چڑھے ایک مختصر سا ناشتہ یا پھر کھجوریں کھانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں جو کہ ایک طرح سے اس دن روزہ کے نہ ہونے کی علامت ہے۔مسلمانوں کی ایسے مواقع پر اچھے یا نئے لباس زیب تن کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جبکہ نئے اور عمدہ لباس پہن کر مسلمان اجتماعی طور پر عید کی نماز ادا کرنے کے لیے مساجد؛ عید گاہوں اور کھلے میدانوں میں جاتے ہیں۔نماز عید میں آتے اور جاتے ہوئے آہستہ تکبیریں کہنا اور راستہ تبدیل کرنا سنت نبوی ہے۔ عید کے روز غسل کرنا، خوشبو استعمال کرنا، اور اچھا لباس پہننا بھی سنت نبوی ہے جبکہ عید الفطر کے روز روزہ رکھنا حرام ہے۔
عید کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزہ کے برابر بلند ہو نے سے ”ضحو ہ کبریٰ” تک ہے۔ ضحو ہ کبریٰ کا صبح صادق سے غروب آفتاب تک کے کل وقت کا نصف پورا ہونے پر آغاز ہوتا ہے۔ ہر نماز کے ادا کرنے سے پہلے اذان کا دیا جانا اور اقامت کہنا ضروری ہے مگر عید کی نماز کو اذان اور اقامت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جبکہ اس نماز کی صرف دو رکعات ہوتی ہیں؛ پہلی رکعت میں ثناء کے بعد اور دوسری رکعت میں قرآت سورت کے بعد ہاتھ اٹھا کر تین تین زائد تکبیریں مسنون ہیں۔عیدالفطر کی نماز کے موقع پر خطبہ عید کے علاوہ بنی نوع انسانیت کی بھلائی اور عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں جس میں اللہ تعالیٰ سے کوتاہیوں اور گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے ؛ اللہ تعالیٰ سے اسکی مدد اور رحمت مانگی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں خطبہ عید میں عیدالفطر سے متعلق مذہبی ذمہ داریوں کی تلقین کی جاتی ہے جیسے ؛ فطرانہ ؛ کی ادائیگی وغیرہ۔ اسکے بعد دعا کے اختتام پر ہر فرد اپنے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے افراد کو عید مبارک کہتا ہوا بغل گیر ہو جاتا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد لوگ اپنے رشتہ داروں ؛ دوستوں اور جان پہچان کے تمام لوگوں کی طرف ملاقات کی غرض سے جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ زیارت القبور کی خاطر قبرستان کی طرف جاتے ہیں۔
شوال یعنی عید کا چاند نظر آتے ہی رمضان المبارک کا مہینہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے جبکہ ہر ایک مسلمان کی زبان سے بے اختیار اللہ کی عظمت کی اور شان کے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں ؛ یعنی آہستہ آواز سے تکبیریں کہی جاتی ہے: یعنی؛ اللہ اکبر اللہ اکبر، لاالہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد ؛ تکبیر کہنے کا یہ سلسلہ نماز عید ادا کرنے تک چلتا ہے۔ عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے ہر صاحب استطاعت مسلمان مرد و عورت پر صدقہ فطر یا فطرانہ ادا کرنا فرض جو کہ ماہ رمضان سے متعلق ہے۔ مندرجہ ذیل چند باتیں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں: جنکا بیان احادیث مبارکہ میں واضح طور پر موجود ہے:
صدقہ فطر فرض ہے۔ صدقہ فطر نمازِ عید سے قبل ادا کرنا چاہیے ورنہ عام صدقہ شمار ہو گا۔
صدقہ فطر ہر مسلمان مرد، عورت، آزاد، غلام، چھوٹے، بڑے سب پر فرض ہے۔
صدقہ کی مقدار ایک صاع ہے جو پونے تین سیر یا ڈھائی کلو گرام کے برابر ہے۔
گیہوں، چاول، جو، کھجور، منقہ یا پنیر میں سے جو چیز زیر استعمال ہو، وہی دینی چاہیے۔
صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت آخری روزہ افطار کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے‘ لیکن نماز عید سے پہلے تک ادا کیا جا سکتا ہے۔جبکہ اسکی مقدار مندرجہ بالا اجناس کی نسبت سے ہے البتہ ان کے علاوہ اس کے برابر قیمت کیش کی شکل میں بھی ادا کی جا سکتی ہے جسکا تعین مقامی طور کیا جاتا ہے اور زیادہ تر مساجد میں ادا کردیا جاتا ہے یا پھر مقامی ضرورت مندوں ؛ غربا اور مساکین میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
اسلامی روایات میں عید الفطر ماہ رمضان المبارک کے اختتام کی ایک علامت ہے جبکہ مسلم برادری میں روزہ بنیادی اقدار کا حامل ہے۔علما کے نزدیک بنیادی طور پر روزہ کا امتیاز یہ ہے کہ اسے انسان کی نفسی محکومی پر روحانیت کی مہر ثبت کرنا تصور کیا جاتا ہے۔اقوام عالم میں مسلم امہ عید کا تہوار بڑے شاندار انداز میں مناتے ہیں۔ہجرت مدینہ سے پہلے یثرب کے لوگ دو عیدیں مناتے تھے، جن میں وہ لہو و لعب میں مشغول ہوتے اور بے راہ روی کے مرتکب ہوتے۔ خالص اسلامی فکر اور دینی مزاج کے مطابق اسلامی تمدن ، معاشرت اور اِجتماعی زندگی کا آغاز ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوا ، چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں عیدین کا مبارک سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس کا تذکرہ سنن ابی داود کی حدیث میں ملتا ہے ،
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ دو دن بہ طور تہوار منایا کرتے تھے جن میں وہ کھیل تماشے کیا کرتے تھے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے دریافت کیا فرمایا : یہ دو دن جو تم مناتے ہو ، ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے ؟ ( یعنی اب تہواروں کی اصلیت اور تاریخی پس منظر کیا ہے ؟)انہوں نے عرض کیا کہ ہم عہد جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے) یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے۔یہ سن کر رسول مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں تمہارے لیے ان سے بہتر دو دن مقرر فرما دیے ہیں ، یوم (عید ) الاضحٰی اور یوم (عید) الفطر۔ غالباً وہ تہوار جو اہل مدینہ اسلام سے پہلے عہد جاہلیت میں عید کے طور پر منایا کرتے تھے وہ نوروز اور مہرجان کے ایام تھے ، مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ تہوار منانے سے منع فرما دیا اور فرمایا اللہ تعالٰی نے ان کے بدلے میں اپنے خصوصی انعام و اکرام کے طور پر عید الفطر اور عید الاضحٰی کے مبارک ایام مسلمانوں کو عطا فرمائے ہیں۔
رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم کے ارشاد کے مطابق ؛جب مسلمانوں کی عید یعنی عید الفطر کا دن آتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے، اے میرے فرشتو! اس مزدور کی کیا جزاءہے جو اپنا کام مکمل کر دے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اسکی جزاءیہ ہے کہ اس کو پورا اجر و ثواب عطا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے فرشتو! میرے بندوں اور باندیوں نے اپنا فرض ادا کیا پھر وہ (نماز عید کی صورت میں) دعا کیلئے چلاتے ہوئے نکل آئے ہیں، مجھے میری عزت و جلال، میرے کرم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم! میں اِن کی دعاؤں کو ضرو ر قبول کروں گا۔ پھر فرماتا ہے: بندو! تم گھروں کو لوٹ جاوءمیں نے تمہیں بخش دیا اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بد ل دیا۔
نبی پاک صلی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: پھر وہ بندے (عید کی نماز سے) لوٹتے ہیں حالانکہ انکے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں”
قرآن مجید میں سورہ ءالمائدہ کی آیت 114 میں حضرت عیسی علیہ السلام کی ایک دعا کے حوالے سے عید کا ذکر موجود ہے :ارشاد باری تعالیٰ ہے :
عیسی ابن مریم نے عرض کیا کہ اے اللہ ! ہمارے پروردگار ! ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار دے (اور اس طرح اس کے اترنے کا دن ) ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے (بہ طور) عید (یادگار) قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔ (5:114)
اس سے اگلی آیت میں ارشاد ہے :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں*یہ (خوان) تم پر اتار تو دیتا ہوں ، مگر اس کے بعد جو کفر کرے تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو سارے جہانوں میں اور کسی کہ نہ دیا ہو۔
کسی قوم کی خوشی اور مسرت کے دن کا قرآن نے عید کے عنوان سے ذکر کیا ہے اور جو دن کسی قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی کسی خصوصی نعمت کے نزول کا دن ہو وہ اس دن کو اپنا یوم عید کہہ سکتی ہے۔
آج پوری دنیا میں مسلمان بڑی دھوم دھام سے عید الفطر کا تہوار مناتے ہیں جہاں خوشی منانے کے ساتھ ساتھ اسلامی اخلاقی اقدار کی پاسداری بھی کی جاتی ہے۔ جبکہ اقوام عالم امت مسلمہ کے اس تہوار کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔پاکستان میں جو کہ ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے ؛ عید بڑے شاندار طریقے سے منائی جاتی ہے۔ سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ بچہ ہو یا بڑا ؛ عید کی تیاری میں جوش و خروش کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ خواتین اور بچوں کی تیاری تو قابل دید ہے۔ عید کی تیاری میں نت نئے لباس و دیگر لوازمات کی شاپنگ دیکھنے کو آتی ہے جو کہ ایک زندہ قوم کی روح رواں کے طور پر سامنے آتی ہے۔
چاند رات کو تو ایک جشن کا سماں بند جاتا ہے ؛ بازاروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ خواتین عید کی شاپنگ میں مصروف نظر آتی ہیں اور اس روز کی شاپنگ میں مہندی ؛ چوڑیاں اور عید کارڈ وغیرہ کی خریداری نمایاں نظر آتی ہے۔ جبکہ مختلف مقامات پر خصوصی عید بازاروں کا اہتمام بھی ہو تا ہے۔ جن میں خاصی تعداد میں نوجوان دوکاندار نظر آتے ہیں۔ عید کے پیغامات کا سلسلہ تو چاند نظر آنے کے بعد سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ موبائل ایس ایم ایس کی گھنٹیوں کا سلسلہ باندھ لیتے ہیں جبکہ جدت کے عنصر کے باعث انٹرنیٹ ای میل کی وساطت سے خوبصورت عید کارڈ کے پیغامات دوست و احباب کو ارسال کئے جاتے ہیں۔
پاکستان میں عید کے روز ہر گھر میں صبح کے وقت سویاں پکائی جاتی ہے اور اس کا ناشتہ کیا جاتا ہے۔ سویاں پاکستان کے علاوہ بھارت اور چلی میں بھی عید کے روز پکانے کا رواج ہے۔ہمارے ہاں عید منانے کی تیاریاں عموما پہلے ہفتے سے ہی شروع ہو جاتی ہیں اور لوگ نئے کپڑوں کی خریداری اور سلائی میں مشغول ہو جاتے ہیں ، نئے جوتے خریدے جاتے ہیں،بازاروں میں رش بڑھ جاتا ہے دکاندار اشیاءکی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں اور ایک دوسرے سے مہنگی خریداری کی جاتی ہے۔ اب تو عید ایک نمود و نمائش کا موقع بن چکا ہے۔مختلف کھانے پکائے جاتے ہیں اور اپنے سے چھوٹوں کو عید دی جاتی ہے اور بڑوں سے وصول کی جاتی ہے۔یہ عیدی تحفوں کے علاوہ نقد رقم پر مشتمل ہوتی ہے۔اس روز ہر شہر ، دیہات اور گاوں میں سرکس اور میلے لگتے ہیں۔ البتہ ایک بات نوجوانوں کی بہت خطرناک ہے ؛ آج نوجوان سڑکوں پر گھڑ سواری تو نہیں کرسکتے البتہ موٹر سائیکل یا بائیسکل سے اپنی تشنگی پورا کرتے ہیں۔ نوجوان موٹر سائیکل کو تیز چلانے کے دوران اچانک اگلا پہیہ ہوا میں اٹھا دیتے ہیں اور سارا وزن پچھلے پہیے پر ڈال دیتے ہیں اور اس طرح موٹر سائیکل ایک پہیہ پر چلتی ہے۔اس عمل کو ون ویلنگ کہا جاتا ہے۔ ایک طرف اگر دور سے دیکھنے والے یہ منظر بڑا دلربا محسوس ہوتا ہے تو دوسری طرف موٹر سائیکل چلانے والے کو ایک انجانی لذت کا احساس ہوتا ہے جو اسے بار بار اس موت و زندگی کا کھیل کھیلنے پر مجبور کرتا ہے۔ ون ویلنگ کرنے والے کو اس کا انجام معلوم نہیں کہ کھیل ہی کھیل میں کیا نقصان ہوسکتا ہے۔ نوجوان ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے شوق میں اکثر اپنے ہنستے بستے خاندان کو غمناک المیہ سے دوچار کر جاتے ہیں۔ موٹر سائیکل کا توازن اگر برقرار نہ رہے تو اس کی انتہائی قیمتی جان پلک جھپک میں موت کا شکار ہوجاتی ہے۔حکومت کی طرف سے اس موت و زندگی کے کھیل کو روکنے کی کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کی گئی لہذا جب کبھی کوئی تہوار، عید و میلہ کا موقع ہوتا ہے من چلے کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اپنا ون ویلنگ کا شوق ضرور پورا کرتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس عمل سے نوجوانوں کو روکا جائے انسانی جان سے زیادہ قیمتی چیز اس دنیا میں کوئی نہیں .
اس سال تاریخ کے بد ترین سیلاب نے وطن عزیز کے ایک وسیع و عریض حصہ کو شدید متاثر کیا ہے، لاکھوں کی تعداد میں لگ متاثر ہوئے ہیں، بھوک ، افلاس، بیماری اور آنے والے کل میں قحط کے طبل نے لاچار کرکے رکھ دیا ہے۔امید ہے کہ سب لوگ اپنی عید کی خوشیوں میں ان لوگوں کی امداد کرکے اپنے ساتھ شامل کریں گے ۔ تمام قارئین کو میری طرف سے عید مبارک ؛ اور امید ہے کہ سب لوگ رسمی رکھ رکھاو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے سے کم رتبہ اور غریب لوگوں کو بھی گلے سے لگائیں گے کیونکہ سچی خوشی تو وہی ہے جو آپ کو ردعمل کے طور پر ملے اور جب کسی دکھی ؛ غریب ؛ کمزور کو سینے سے لگایا جاتا ہے تو یقین مانیں یہ حالت آپکی مسرتوں میں اضافہ کا باعث بنے گی۔ عید کے دن خصوصی طور پر پیاروں کو یاد کیا جاتا ہے اور اس تیز رفتار زندگی میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں کہ ان لوگوں کو جو عزیز تو ہوتے ہیں مگر مصروفیت کے باعث وقتی طور پر بھول چکے ہوتے ہیں ،ان سے روابط استوار کیے جاتے ہیں۔ عید کے موقع پر نفرتوں کو بھول کر نہ صرف اپنوں بلکہ غیروں کو بھی گلے سے لگا لینا چاہئے اور نفرتوں پر پیار کی آبیاری کی جانی چاہیے ۔ عید کا دن پھر ہی یاد گار بن سکتا ہے اگر ہم ایسے نقش چھوڑ جائیں کہ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں بکھیر دیں۔
عید پر سعید کے موقع پر اپنی خوشیوں میں انکو ضرور شامل کریں جنکا کوئی پوچھنے والا نہیں، کیونکہ اسلامی معاشرہ مساوات اور روداری کا درس دیتا ہے جبکہ سب ارکان اپنی جداگانہ اہمیت رکھتے ہیں کسی کو اس خوشی کے موقع پر کسی کمی کا احساس نہ رہے ، جو نعمت اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہے دوسروں کو اس میں شامل کریں۔ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں اور یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی تو زندگی کی راہوں میں تازگی اور مسرتوں کے چراغ ہیں اگر انکی روشنی دوسروں کی راہوں میں بکھیر دی جائے تب بھی ان میں کمی نہیں ہو گی۔اسکے ساتھ ساتھ والدین کو خصوصی وقت دینا چاہیے کیونکہ زندگی کے انتہائی تیز رفتار شب و روز میں اکثر بزرگوں کو دینے کیلئے ہر چیز ہم خرید کر تو دے دیتے ہیں اور اشیا صرف کا انبار بھی لگا دیتے ہیں مگر ایک چیز جسکی شدید کمی ہے اور وہ وقت ہے جو ہم لوگ اپنے والدین اور بزرگوں نہیں دے پاتے ، کبھی انکی آنکھوں میں چھپی ہوئی یاسیت اور تکان کو پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ عید کا دن جہاں پیار محبت اور خوشیاں بانٹنے کا دن ہے وہاں نفرتوں ، ملامتوں اور ناراضگی کے مٹانے کا بھی دن ہے ، آئیے! اپنے اقربا اور احباب کی کھوئی ہوئی مسکان انکو لوٹا دیں جو کبھی کی رشتوں کی کڑواہٹ کے بھینٹ چڑ چکی ہے ، نہ معلوم اگلی عید کے موقع پر اسکے چکانے کا موقع ملے نہ ملے۔ رب العزت سے دعا ہے کہ سب کی دلی مرادیں پوری کرے اور ہم سب کو دائمی خوشی سے نوازے اور سب کو بار بار لاثانی مسرتوں سے لبریز عید کے مواقع دیکھنے نصیب کرے !!! آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.