اسلامصحت و تندرستیمنظر نامہ

روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ

روزہ :انسانی جسم کا عمدہ محافظ

تحریر: ڈاکٹر عاصم فاروق انصاری:یونانی کنسلٹنٹ
Email:[email protected]
زندگی اللہ رب العزت کے تحت گذاری جائے تو زندگی ہے ورنہ اس کا مفہوم ہی ختم ہو جاتا ہے اس طرح حیوانات ،پرندے اور درندے پیدا ہونے کے بعد اپنی طبعی زندگی گذار کر ختم ہو جاتے ہیں مگر انسانوں کے لئے یہ زندگی ایک ضابطہ کے تحت گزارنے کا حکم ہے انسان کے لئے اٹھنے بیٹھنے سے لے کر کھانے پینے حتیٰ کہ سونے تک کا ایک نظام مقرر ہے جب اس نظام میں حد سے زیادہ تجاوز بر تا جائے تو انسانی جسم لاتعداد عوارضات کا شکار ہو جاتا ہے ۔چونکہ انسان کی جسمانی رہنمائی کے لئے اقرار توحید و رسالت کے بعد اس کی نفس کی تربیت کے پیش نظر پانچ بار نماز پابندی سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ سرکش انسان یہ نہ بھول سکے کہ کچھ پابند یاں اور کچھ فرائض بھی اس کے ذمے ہیں اس کے ساتھ ہی اہم ذمہ داری رمضان المبارک کے با برکت روزوں کی ادائیگی ہے اور روزہ زکوٰۃ کو دین اسلام میں نفس کی اصلاح اور جسم کے لئے خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔
رمضان المبارک سب سے اہم اور متبرک مہینہ ہے اس ماہ مبارک میں ہر طرف برکتوں کا نزول ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے رحمت خداوندی ہر پل کائنات پر سایہ فگن رہتی ہے ۔ایسے میں وہ خوش قسمت لوگ جو شب کی پچھلے پہر کی تنہائیوں میں اپنے خالق کے حضور سجدہ بائے نیاز پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے قرب کو کچھ اس قدر محسوس کرتے ہیں کہ ”نحن اقرب الیہ من حبل الورید “(ذات خدا وندی انسانی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے )کا فرمان بالکل صادق دکھائی دیتا ہے۔ ذات خداوندی جب پہلے آسمان پر اتر کر یہ دعوت دے رہی ہو کہ ”ہے کوئی سائل کہ میں اس کی دعا کو شرف قبولیت سے نواز دوں ”تو ان ہی لوگوں کی خوش بختی پر رشک ہوتا ہے۔جو ان سنہری لمحات کو اپنے وجود کا ایک حصہ بنا لیتے ہیں۔ جب یہ لمحات وجود انسانی کا ایک حصہ بن جاتے ہیں تو اس کا نا تواں جسم جہاں تمام آلائشوں سے پاک ہو جاتا ہے وہیں وہ ایسی قوت کے خزانے کا مالک بن جاتا ہے جس کے سامنے ماسواء اللہ دنیا کی ہر چیز ہیچ ہو جاتی ہے یہ طاقت روحانی بھی ہوتی ہے جسمانی اور نفسیاتی بھی۔جسمانی اعتبار کے لحاظ سے روزہ انسانی صحت کے محافظ کا کردار ادا کرتا ہے وہ انسان کے جملہ نظاموں کی خرابی کی اصلاح کرکے ان کے افعال کو درست کرتا ہے جس کی بدولت اس میں ایک ایسی نئی قوت جنم لیتی ہے جو امراض کا دفاع کرکے انسانی جسم کو پروان چڑھاتی ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے روزہ انسانی اخلاق ،کردار ،گفتار اور حسن سلوک پر بہت عمدہ اثر ڈالتا ہے اس سے انسانوں میں باہمی بھائی چارگی اور محبت کی فضاء قائم ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان روزہ فقط اللہ کی رضا کے لئے رکھتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کی ادائیگی کے سلسلے میں اس کے دئیے ہوئے احکامات کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں رہتا اور انسان ان احکامات پر ہر ممکن عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔زبان درازی ،گالی گلوچ،دوسروں پر زیادتی اور بد اخلاقی سے روزہ دار پرہیز کرتا ہے چونکہ دین اسلام کا مقصد انسان کو ایک اعلیٰ زندگی پر گامزن کرنا ہے اس لئے روزہ اس کا تربیتی کورس بن جاتا ہے ۔غرض یہ کہ روزہ ایک ایسا امتیازی عمل ہے جو اللہ کے خوف کے حصول کا ذریعہ ہے اس سے انسان میں عاجزی و انکساری ،تونگری ،سخاوت ،شجاعت ،ہمدردی اور خود اعتمادی کی صفات پیدا ہوتی ہیں ۔
روزہ اور خود اعتمادی :۔اسلام نے انسانی فکر و عمل کی پاکیزگی اور تندرستی کیلئے جو عبادات و شعائر مقرر کئے ہیں ان میں روزے کو بڑی اہمیت ہے ۔اسلام جو دین فطرت ہے فطرت انسانی کی کمزوری سے بخوبی آگا ہ ہے اس نے روزے کو فرض قرار دے کر عادتوں کے مقابلے میں ہماری خود اعتمادی کو مضبوط بنانا چاہا روزے کی پہلی ضرب ہماری عادتوں پر پڑتی ہے وہ ہمارے سونے جاگنے کے اوقات تبدیل کرتا ہے کھانے پینے پر اور دوسری ضروریات پر پابندی عائد کرتا ہے یہ نہیں ہے کہ کوئی چیز ہماری دست رس سے باہر کردی جاتی ہے اور ہم مجبور اً اس کے بغیر گذار ا کرتے ہیں بلکہ اس کے برعکس کھانے پینے کا سارا سامان اور دوسری طبعی ضروریات ہمارے سامنے ہوتی ہیں لیکن ہم ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ہم کوئی عادت پوری نہیں کرتے اور نہ ہی کسی عادت کا حکم مانتے ہیں اور پورا ایک مہینہ اس طرح گزارتے ہیں گویا ان عادتوں کے کبھی محکوم تھے ہی نہیں ۔
اسطرح ہر گیارہ مہینے کے بعد ایک مہینہ ہم اپنی عادتوں کو یکسر بدل دیتے ہیں ہم نیند کی زنجیروں کو توڑتے ہیں پیاس کے شدید مطالبے کو رد کرتے ہیں بھوک کی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہیں نفسانی خواہشات کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتے ہیں پھر اگر ہمیں روزے کے حقیقی مقصد یعنی تقوی،کا پاس ہو تو ہم ہر قسم کے فواحش و منکرات سے بھی پرہیز کرتے ہیں جس سے ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم زندہ قوت ارادی کے مالک ہیں عادتوں کے ہم غلام نہیں بلکہ عادتیں ہماری غلام ہیں۔مضر عادتوں کو چھوڑ کر ہم مفید اور نئی عادتیں اختیار کر سکتے ہیں اپنے اخلاق و کردار کے لئے بہتر سانچے تلاش کرکے ان میں ڈھل سکتے ہیں عادتوں کی اس تبدیلی سے ہم میں اعتماد نفس کا جو ہر پیدا ہوتا ہے اگر ہم اس جوہر کو زندہ محفوظ رکھیں تو آئندہ زندگی کے دوسرے کئی مسائل پر ہم فتح حاصل کر سکتے ہیں ۔
روزہ کے تربیتی کورس کی مدت ایک مہینہ مقرر کی گئی ہے جس کے لئے ثابت قدمی اور استقلال کی ضرورت ہے جو شخص شروع سے آخر تک روزے کے تمام قواعد و شرائط کی پابندی کرے گا اس میں خود بخود یہ احساس پیدا ہوگا کہ وہ صبر آزما حالات سے مقابلے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور جب کبھی کوئی کٹھن مرحلہ پیش آئے تو مستقل مزاجی اور پامردی کا ثبوت دے سکتا ہے ۔
ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ رمضان المبارک میں ہمیں جو قوت ارادی ،خود اعتمادی اور مستقل مزاجی کی دولت میسر آئی ہے وہ کسی صورت ضائع نہ ہونے پائے مگر افسوس یہ ہے کہ اکثر حالتوں میں اخلاقی اوصاف کا یہ نہایت مفید موقع ضائع کر دیا جاتا ہے اس صورت حال کی ذمہ داری روزے پر تو ہر حال میں عائد نہیں ہو سکتی بلکہ در حقیقت وہ نقطہ نگا ہ ہی اس حالت کا ذمہ دار ہے جو روزے کے متعلق عوام میں پایا جاتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہنے سے روزے کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اس کے برعکس قرآن حکیم نے واضح طور پر بتا دیا کہ روزہ وہ ہے جس سے انسان میں تقویٰ (پرہیز گاری )پیدا ہو دوسرے لفظوں میں روزہ ایک ”ذریعہ ہے اور پرہیز گاری اس کا مقصد مگر ہم نے ذریعہ کو مقصد سمجھ لیا اور مقصد کی طرف کوئی توجہ نہیں دی نتیجہ ظاہر ہے ہم تیس دن بھوکے پیا سے بھی رہتے ہیں نماز قرآن مجید کی تلاوت بھی پابندی سے کرتے ہیں اور جب یہ مبارک مہینہ گزر جاتا ہے تو ہمارے ظاہر و باطن میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی اور پھر شوال میں ہم بالکل ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے شعبان میں تھے ۔
آج ضرورت ہے کہ ہم روزے کے متعلق اپنا نظریہ بدلیں اگر ہم اپنے طرز فکر کی اصلاح کرلیں اور ہمارا اعتقاد ہو کہ رمضان پر ہیز گاری کی مشق کا مہینہ ہے اور اس مشق کے جو نتائج حاصل ہوں وہ ہمیں برقرار رکھنا ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں حقیقی فوائد حاصل ہوں گے اور ہماری خود اعتمادی میں چار چاند لگ جائیں گے ساتھ ہی ہمارے ذہن اور اعمال میں پاکیزگی بھی پیدا ہوگی ۔
روزہ کے بارے میں اب تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ روزہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اس سے نظام ہضم کو آرام ملتا ہے مگر جیسے جیسے سائنس اور علم طب نے ترقی کی اس حقیقت کا بتدریج علم حاصل ہوا کہ روزہ تو ایک طبعی معجزہ ہے۔ قرآن حکیم میں سورة بقرہ کی آیات ۱۸۳سے ۱۸۷ تک دین کے اہم رکن روزہ کا حکم دیا گیا ہے اور تمام تفصیلات بتائی گئی ہیں۔آیت نمبر ۱۸۴ آخری حصہ میں بتایا گیا ہے کہ روزہ ایک اچھی چیز ہے جس سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اس امر کا بھی اعلان کیا گیا کہ ہم اس سے حاصل کردہ رحمتوں کو سمجھ سکتے ہیں اگر ہم سچ کو پہچان سکیں تو قارئین آئیے ہم سائنس کے نظریہ سے دیکھتے ہیں کہ روزہ کس طرح ہماری صحت مند میں مدد دیتا ہے اور صحت کا محافظ ہے۔
روزہ اور خون کے روغنی مادے :۔ہم سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک کے دوران ہماری غذائی عادتیں بدل جاتی ہیں روزوں کے جسم پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر خون کے روغنی مادوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں خصوصاً دل کے لئے مفید چکنائی ۔ایچ۔ڈی ۔ایل ۔کی سطح میں تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے دل اور شریانوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اسی طرح دو مزید چکنائیوں ۔ایل۔ڈی۔ایل ۔اور ٹرائی گلیسر ائیڈ کی سطحیں بھی معمولی پر آ جاتی ہیں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رمضان المبارک ہمیں غذائی بے احتیاطوں پر قابو پانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور اس میں روزوں کی وجہ سے چکنائیوں کے استحالہ (میٹا بولزم )کی شرح بھی بہت بہتر ہو جاتی ہے۔
دوران خون پر روزہ کے مفید اثرات :دن میں روزہ کے دوران جسم میں خون کی مقدار کی کمی ہو جاتی ہے جس سے دل کو انتہائی آرام ملتا ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزے کے دوران بڑھا ہوا خون کا دباؤ ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے ۔شریانوں کی کمزوری اور فرسودگی کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک وجہ خون میں باقی ماندہ مادے (Remnanuls) کا پوری طرح تحلیل نہ ہو سکنا ہے جبکہ دوسری طرف روزہ بطور خاص افطار کے وقت کے نزدیک خون میں موجود غذائیت کے تمام ذرے تحلیل ہو چکے ہوتے ہیں اس طرح خون کی شریانوں کی دیواروں پر چربی یا دیگر اجزاء جم نہیں پاتے جس کے نتیجے میں شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بیماری شریانوں کی دیواروں کی سختی (Arteriosclerosis) سے بچنے کی بہترین تدبیر روزہ ہی ہے ۔اس کے علاوہ انسانی جسم کے اہم اعضاء کی بحالی بھی روزے کی برکت سے بحال ہو جاتی ہے ۔
روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے اس کے نتیجے میں کمزور لوگ روزہ رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کر سکتے ہیں اس طرح روزے سے متعلق بہت سی اقسام کی حیاتیاتی برکات کے ذریعے ایک دبلا پتلا شخص اپنا وزن بڑھا سکتا ہے اور موٹے لوگ روزے کی عمومی برکات کے ذریعے اپنا وزن کم کر سکتے ہیں ۔
نظام اعصاب پر روزہ کے مفید اثرات :۔روزہ کے دوران اکثر لوگوں کو غصے اور چڑ چڑے پن کا مظاہرہ کرتے دیکھا گیا ہے جس کا سبب لوگ روزے کو گردانتے ہیں مگر اس بات کو یہاں پر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان باتوں کا روزہ اور اعصاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس قسم کی صورت حال انسانوں کے اندر انانیت (egotistic) یا طبیعت کی سختی کی وجہ سے ہوتی ہے دوران روزہ ہمارے جسم کا اعصابی نظام بہت پر سکو ن اور آرام کی حالت میں ہوتا ہے نیز عبادات کی بجا آواری سے حاصل شدہ تسکین ہماری تمام کدورتوں اور غصے کو دور کر دیتی ہیں اس سلسلے میں زیادہ خشوع وخضوع اور اللہ کی مرضی کے سامنے سرنگوں ہونے کی وجہ سے تو ہماری پریشانیاں بھی تحلیل ہو کر ختم ہو جاتی ہیں اس طرح دور حاضر کے شدید اور پیچیدہ مسائل جو اعصابی دباؤ کی صورت میں ہوتے ہیں تقریباً ناپید ہو جاتے ہیں۔روزہ کے دوران چونکہ ہماری جنسی خواہشات علیحدہ ہوجاتی ہیں چنانچہ اس وجہ سے بھی ہمارے اعصابی نظام پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔
روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے جو مضبوط ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اس سے دماغ میں دوران خون کا بے مثال توازن قائم ہو جاتا ہے جو کہ صحت مند اعصابی نظام کی نشاندہی کرتا ہے اس کے علاوہ انسانی تحت الشعور جو رمضان کے دوران عبادات کی مہربانیوں کی بدولت صاف شفاف اور تسکین پذیر ہو جاتا ہے اعصابی نظام سے ہر قسم کے تناو اور الجھن کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے ۔
خلیات (Cells) رمضان المبارک کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں :۔روزہ کا سب سے اہم اثر جسمانی خلیوں کے درمیان اور اندرونی سیال مادوں کے درمیان توازن کو قائم رکھنا ہوتا ہے چونکہ روزہ کے دوران مختلف سیال مقدار میں کم ہوجاتے ہیں جس سے خلیوں کے عمل میں بڑی حد تک سکون پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح Epithelial Cells جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزہ کے ذریعے بڑی حد تک آرام اور سکون ملتا ہے جس کی وجہ سے ان کی صحت مندی میں اضافہ ہوتا ہے ۔علم حیاتیات کے نقطہ نظر سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لعاب بنانے والے غدود ،گردن کے غدود تیموسیہ اور لبلبہ کے غدود شدید بے چینی سے ماہ رمضان کا انتظار کرتے ہیں تاکہ روزہ کی برکت سے انہیں کچھ سستا نے کا موقع مل جائے اور آئندہ مزید کام کرنے کے لئے اپنی توانائیوں کو اکٹھا کر سکیں۔
نظام ہضم پر روزہ کے اثرات :نظام ہضم ہمارے جسم کا سب سے اہم نظام ہے اس کے اہم اعضاء لعابی غدود ،زبان ،گلا ،غذائی نالی ،معدہ ،بڑی آنت ،چھوٹی آنت ،مری ،جگر اور لبلبہ وغیرہ خود بخود ایک نظام سے عمل پذیر ہوتے ہیں جیسے ہی ہم کچھ کھاتے ہیں یہ خود کار نظام حرکت میں آجاتا ہے اور اس کا ہر عضو اپنا مخصوص کام شروع کر دیتا ہے اور ظاہر ہے یہ سارا نظام چوبیس گھنٹے مصروف عمل رہتا ہے تو اعصابی دباؤ اور غلط قسم کی خوراک کی وجہ سے یہ گھس جاتا ہے تب روزہ اسکے لئے تریاق ثابت ہوتا ہے اور ایک ماہ تک اس سارے نظام پر آرام طاری کر دیتا ہے مگر روزہ کا سب سے حیرت ناک اثر جگر پر یہ ہوتا ہے کہ اسے روزانہ چھ گھنٹوں تک آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے توانائی بخش کھانے کے اسٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہو جاتا ہے اور اپنی توانائی خون میں گلوبولین (جو جسم کو محفوظ رکھنے والے مناعتی نظام کو طاقت دیتا ہے )کی پیداوار پر صرف کر سکتا ہے ۔
روزہ نظام ہضم کے سب سے حساس حصے گلے اور غذائی نالی کو تقویت دیتا ہے اس کے اثر معدہ سے نکلنے والی رطوبتیں بہتر طور پر متوازن ہو جاتی ہیں جس سے تیزابیت (Acidity)جمع نہیں ہوتی اس کی پیداوار رک جاتی ہے ۔معدہ کے ریاحی دردوں میں کافی افاقہ ہوتا ہے قبض کی شکایت رفع ہو جاتی ہے اور پھر شام کو روزہ کھولنے کے بعد معدہ زیادہ کامیابی سے ہضم کا کام انجام دیتا ہے ۔
آنتوں پر روزہ کے بہت مفید اثرات ظاہر ہوتے ہیں یہ آنتوں کو توانائی بخشتا ہے انتڑیوں کے جال کو نئی توانائی اور تازگی عطا کرتا ہے آنتوں کے ہاضم رسوں کی خرابی کو دور کرتا ہے اس طرح ہم روزہ رکھ کر ان تمام بیماریوں کے حملے سے محفوظ ہو جاتے ہیں جو ہضم کرنے والی نالیوں پر ہوتے ہیں ۔
روزہ کے بے شمار فوائد:یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ روزہ خرابی معدہ کے مریضوں کیلئے یا بھاری جسم والوں کے لئے بہت مفید ہے طب یونانی کے علاوہ مغرب کے بلند پایہ ڈاکٹر بھی روزہ کی طبی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں ۔غذا کے ہضم ہونے میں بدن کی جو قوت صرف ہوتی ہے روزہ رکھنے کی صورت میں یہی قوت بدن سے فاسد اور ردی مادوں کو خارج کرتی ہے جس سے جسم پاک وصاف ہو جاتا ہے پرانے امراض مثلاً دائمی نزلہ ،ذیابیطسی ،ہائی بلڈ پریشر اور معدہ کی خرابی میں روزہ بہت ہی مفید اثرات مرتب کرتا ہے اس سے بدن کی قوت مدافعت کو اس قدر طاقت ملتی ہے (قوت مدافعت جسم انسانی کو امراض وآلام سے محفوظ رکھتی ہے )کہ سال بھر تک بدن صحت مند رہتا ہے اس کے علاوہ ایسے لوگ جو غیر شادی شدہ ہیں روزہ رکھنے سے ان کے اندر ایک ڈسپلن صبر اور ضبط نفس پیدا ہو جاتا ہے ۔
کیا کھائیں کیا نہ کھائیں ؟:۔روزہ رکھنے سے نہ صرف روحانی ،پاکیزگی اور تزکیہ نفس ہوتا ہے بلکہ انسان مختلف امراض سے بھی نجات حاصل کرتا ہے روزہ میں جسم انسانی توانائی سے بھر جاتا ہے مگر یہ تمام فوائد صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتے ہیں جب ہم غذا کے بارے میں افراط و تفریط کا شکار نہ ہوں اور کھانے پینے میں اعتدال کی راہ اختیار کریں آج بھی اکثر لوگو ں کو یہ غلط فہمی ہے کہ روزہ رکھنے سے کمزوری آتی ہے یہ سراسر غلط ہے کیونکہ رمضان میں پروٹین اور کاربوہائڈریٹ اجزاء سے پر غذا عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ استعمال کی جاتی ہے پھر تمام روز سحری میں بھی غذا استعمال کی جاتی ہے اس طرح روزہ رکھنے سے کسی بھی قسم کی کمزوری لاحق نہیں ہوتی بلکہ اس کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ اس صورت میں جسم سے فاسد مواد خارج ہو جاتے ہیں ۔
روزہ دار کمزوری کے خیال سے خوب کھاتے ہیں افطاری کے وقت پکوڑے ،سموسے ،مٹھائی ،کھجور اور پھل وغیرہ شوق سے کھاتے ہیں پھر کھانے میں گھی سے پر مختلف اقسام کے کھانے بڑے مزے سے کھائے جاتے ہیں سحری میں پر اٹھے انڈے ،گوشت وغیرہ سے کام و دہن کی تواضع کی جاتی ہے جس سے کھٹے ڈکار آتے ہیں طبیعت میں بوجھل پن ہوتا ہے اور معدہ خراب ہو جاتا ہے اس لئے رمضان المبارک میں ہلکی غذا استعمال کرنا سب سے عمدہ خیال کیا جاتا ہے خاص طور سے ایسی غذا جس میں گھی وغیرہ کی مقدار برائے نام ہو۔افطار کے وقت کھجور اور کوئی نمکین چیز استعمال کریں نمک پارے یا نمک استعمال کریں کیونکہ انسان تمام دن فاقہ سے ہوتا ہے اس لئے جسم میں نمک کی کمی ہو جاتی ہے اور جسم نمکین چیز کا طالب ہوتا ہے تاکہ اس کی کمی کو پورا کر سکے ۔کھجور سے روزہ افطار کرنا سنت ہے کیونکہ یہ دن بھر کی کمزوری کو دور کر دیتی ہے ایک چھٹانک کھجور میں ۱۶۰ غذائی حرارے قوت ہوتی ہے ایک چھٹانک انگور میں ۲۶ اور ایک چھٹانک انار میں ۳۲ حرارے غذائی قوت ہوتی ہے افطار کے وقت چائے اور دودھ بھی استعمال کر سکتے ہیں ۔آلو ،بینگن ،ماش کی ڈال چنے وغیرہ کھانے سے پرہیز کریں ۔پلاو یا کھچڑی کھائیں رات کا کھانا کھانے کے بعد تراویح پڑھیں تاکہ کھانا ہضم ہو جائے صبح سحری میں ہلکا پھلکا کھانا کھائیں خاص طور پر سبزی اور بکری کے گوشت کا شوربہ اور پیالی بھر چائے نہایت مفید ہے ۔
روزہ کے سائنسی انکشافات :اسلام نے روزہ کو مومن کے لئے شفاء قرار دیا اور جب سائنس نے اس پر تحقیق کی تو سائنسی ترقی چونک اٹھی اور اقرار کیا کہ اسلام ایک کامل مذہب ہے ۔فرانس میں آج بھی یہودی ایک پروجیکٹ کے تحت کام کر رہے ہیں جس کا کام یہ تحقیق کرنا ہے کہ اسلام کے اندر کیا کیا اچھائیاں ہیں تو ہم بن کہے اسلام قبول کرلیں گے چنانچہ اس پر عمل کرتے ہوئے یہودی باقاعدہ مہینہ بھر روزہ رکھتے ہیں مسواک کرتے ہیں وضو کرتے ہیں نماز اور تلاوت کی پابندی کرتے ہیں باقاعدہ اعتکاف میں بیٹھتے ہیں سحری و افطاری کرتے ہیں اور عید کی نماز بھی پڑھتے ہیں ۔
گاندھی جی فاقہ کے لئے مشہور تھے اور روزہ کے قائل تھے وہ کہا کرتے تھے کہ انسان کھا کھا کر اپنے جسم کو سست کر لیتا ہے اگر تم جسم کو گرم اور متحرک رکھنا چاہتے ہو تو جسم کو کم از کم خوراک دو اور روزے رکھو سارا دن جاپ الا پو اور پھر شام کو بکری کے دودھ سے روزہ کھو لو۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشہور پروفیسر مورپالڈ اپنا قصہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو میں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظیم فارمولہ دیا ہے اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو اور کچھ نہ دیتا صرف روزے کا فارمولہ ہی دے دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر ان کے پاس اور کوئی نعمت نہ ہوتی میں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہیے پھر میں نے روزے مسلمانوں کے طرز پر رکھنا شروع کئے میں عرصہ دراز سے ورم معدہ (Stomach Inflammation) میں مبتلا تھا کچھ دنوں بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس میں کمی واقعی ہو گئی ہے میں نے روزوں کی مشق جاری رکھی کچھ عرصہ بعد ہی میں نے اپنے جسم کو نارمل پایا حتیٰ کے میں نے ایک ماہ بعد اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی ۔“
پوپ ایلف گال ہالینڈ کا سب سے بڑا پادری گزرا ہے روزے کے متعلق اپنے تجربات کچھ اس طرح بیان کرتا ہے کہ ”میں اپنے روحانی پیروکاروں کو ہر ماہ تین روزے رکھنے کی تلقین کرتا ہوں میں نے اس طریقہ کار کے ذریعے جسمانی اور وزنی ہم آہنگی محسوس کی میرے مریض مسلسل مجھ پر زور دیتے ہیں کہ میں انہیں کچھ اور طریقہ بتاؤں لیکن میں نے یہ اصول وضع کر لیا ہے کہ ان میں وہ مریض جو لا علاج ہیں ان کو تین روز کے نہیں بلکہ ایک مہینہ تک روزے رکھوائے جائیں ۔میں نے شوگر،دل کے امراض اور معدہ میں مبتلا مریضوں کو مستقل ایک مہینہ تک روزہ رکھوائے ۔شوگر کے مریضوں کی حالت بہتر ہوئی ا ن کی شوگر کنٹرول ہو گئی ،دل کے مریضوں کی بے چینی اور سانس کا پھولنا کم ہوگیا سب سے زیادہ افاقہ معدہ کے مریضوں کو ہوا ۔“
فارما کولوجی کے ماہر ڈاکٹر لوتھر جیم نے روزے دار شخص کے معدے کی رطوبت لی اور پھر اس کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا اس میں انہوں نے محسوس کیا کہ وہ غذائی متعفن اجزاء(food particles septic)جس سے معدہ تیزی سے امراض قبول کرتا ہے بالکل ختم ہو جاتے ہیں ڈاکٹر لوتر کا کہنا ہے کہ روزہ جسم اور خاص طور معدے کے امراض میں صحت کی ضمانت ہے ۔
مشہور ماہر نفسیات سگمنڈفنرائیڈ فاقہ اور روزے کا قائل تھا اس کا کہنا ہے کہ روزہ سے دماغی اور نفسیاتی امراض کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے روزہ دار آدمی کا جسم مسلسل بیرونی دباؤ کو قبول کرنے کی صلاحیت پا لیتا ہے روزہ دار کو جسمانی کھِنچاؤ اور ذہنی تناو سے سامنا نہیں پڑتا۔
جرمنی ،امریکہ ،انگلینڈ کے ماہر ڈاکٹروں نے رمضان المبارک میں تمام مسلم ممالک کا دورہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رمضان المبارک میں چونکہ مسلمان نماز زیادہ پڑھتے ہیں جس سے پہلے وہ وضو کرتے ہیں اس سے ناک ،کان ،گلے کے امراض بہت کم ہو جاتے ہیں کھانا کم کھاتے ہیں جس سے معدہ وجگر کے امراض کم ہو جاتے ہیں چونکہ مسلمان دن بھر بھوکا رہتا ہے اس لئے وہ اعصاب اور دل کے امراض میں بھی کم مبتلا ہوتا ہے ۔
مغربی ماہرین سائنس ،ماہرین طب اور ماہرین نفسیات نے مل کر اسلامی زندگی پر تحقیق اور ریسرچ کا نیا باب کھولا ہے کیونکہ مغرب موجودہ طرز زندگی سے تنگ ہے اور اس وقت سب سے زیادہ خودکشی ،عصمت دری ،ہم جنس پرستی ،اغواء،قتل ،انتقامی کاروائیاں ،بم دھماکے ،اجتماعی قتل ،ناجائز اولاد ،طلاقیں وغیرہ جیسے مہلک خطرناک اور دنیا کو تباہی کے گڑھے میں ڈالنے و الے حادثات کی طرف یورپ اور مغربی معاشرہ گامزن ہے اب وہ اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں وہ بخوبی سمجھنے لگے ہیں کہ ان تمام سے نجات کا واحد راستہ صرف اور صرف اسلام ہی ہے ۔مستشرقین اس وقت اسلامی تعلیمات کو کھنگال کر ان میں اپنے لئے اصلاحی راستے اور ترقی کی راہیں تلاش کر رہے ہیں آج یورپ پھر پھرا کر واپس اسلام کی طرف لوٹ رہا ہے اور ہم ہیں کہ یورپ کی تقلید میں اندھے دوڑے چلے جار ہے ہیں ۔روزہ کے بارے میں یورپی ماہرین آج بھی تحقیق کر رہے ہیں حتیٰ کی وہ اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ روزہ جہاں جسمانی زندگی کو نئی روح اور توانائی بخشتا ہے وہاں اس سے بے شمار معاشی پریشانیاں بھی دور ہوتی ہیں کیونکہ جب امراض کم ہوں گے تو ہسپتال بھی کم ہوں گے اور ہسپتال کا کم ہونا ہی معاشرہ کے پر سکو ن ہونے کی علامت ہے۔
بشکریہ UT

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button