اسلاممنظر نامہ

اُسوہ رسولﷺ اور ملی یکجہتی

علامہ پیرمحمد تبسم بشیر اویسی (ایم اے) سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال
اللہ تعالیٰ کے احکامات ابتدائے آفرینش سے حکمت پر مبنی ہےں ۔جوں جوں نسل انسانی بلوغت کی منزلوں کو طے کرتی رہی ،ذہن انسانی ارتقاءکے مرحلے طے کرتا رہا ۔اسی مناسبت سے اللہ رب العزت بھی احکام نازل فرماتا رہا ۔اسی لئے پہلے انبیاءکرام کاظہور بھی مختلف اقوام میں ہوتا رہا ۔مختلف زمانوں میں ہوتا رہا ۔ ان کا دائرہ عمل اقوام کے لحاظ سے بھی محدود تھا اور زمانے کے اعتبار سے بھی ۔
مگر جب انسانیت نے ارتقاءکی آخری منزل میں قدم رکھا ۔ذہن انسانی عروج کو پہنچ چکا ،تو سلسلہ رشد و ہدایت کی آخری کڑی ہادی کامل و اکمل ،رسول معظم و محتشم ،فخر آدم و بنی آدم،خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اور خالق و مالک نے صراحت کے ساتھ اعلان فرما دیا کہ اب ہمارے مبعوث کئے ہوئے پیغمبر کی تصدیق نہ کسی قوم و آبادی تک محدود ہے ،نہ جغرافیائی حدود کی کوئی تقسیم ہے اور نہ ہی یہ آخری پیغام زمانہ کی قید و بند میں محصور ہے ۔بلکہ اب جب تک خدا کی خدائی قائم ہے ،یہی پیغام رشد و ہدایت ہی صراط مستقیم کا ضامن ہے ۔کیونکہ آنے والے ہادی کل حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے اعلان فرما دیا ہے ۔
اب اس اعلان کے بعد نسل انسانی صرف دو گروہوں میں منقسم ہو گی ۔مومن اور کافر ،چنانچہ نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت میں رنگ و نسل و زبان و وطن کے نام پر قائم کی گئی تمام تفریقات کی نفی اور نظریاتی قومیت کے اثبات کا اعلان ہے ۔اسلام کے نظریہ حیات پر یقین رکھنے والا خواہ کالا ہو یا گورا ،مشرق کا رہنے والا ہو یا مغرب کا، عربی ہو یا عجمی ،جو زبان بھی وہ بولتا ہے اور جو بھی رنگ اس کا ہے وہ ایک عالم گیر امت مسلمہ کافرد ہے ،اسلام کے نزدیک صرف دو قومیں اور دو طبقے ہیں ۔حزب اللہ اور حزب الشیطان ۔جس نے اقرار توحید و رسالت کیا وہ حزب اللہ میں شامل ہو گیا اور جس نے انکار کیا وہ حزب الشیطٰن کی فہرست میں داخل ہو گیا ۔تاریخ اسلام پر ایک نظر ڈالئے ،حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فارس کے رہنے والے ہیں مگر وحدت کے سبب عظیم اعزاز سے سرفراز کئے جاتے ہیں ۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ حبشہ کے رہنے والے ہیں مگر اسلام نے انہیں عزت واحترام کے اس مقام پر فائز کیا کہ امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور با ٓواز بلند فرماتے ہیں :” بلال رضی اللہ عنہ ہمارے آقا ﷺہیں اور ہمارے آقا کے غلام ہیں ۔“ پوری نوع انسانی کی یک جہتی ہو یا صرف ملت اسلامیہ کا اتفاق و اتحاد ،اگر بنظر غائر جائزہ لیں تو چند بنیادی عناصر ہیں جو اتحاد و اتفاق کی فضا کو منتشر کرنے کا سبب بنتے ہیں اور وہ معروف ہیں ۔یعنی نسلی تمیز و تفاخر ،علاقائی حد بندیاں ،لسانی کشمکش اور مذہبی منافرت ۔
جو لوگ دین اسلام کے پیرو کار ہیں ان کی یک جہتی اور اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کے لئے داعی اسلام ﷺ نے اپنے پاکیزہ اُسوہ سے ان عناصر کی بیخ کنی کر دی جو امت کا شیرازہ منتشر کرتے تھے ۔آپ نے ان ھٰذا اُمتکم امة واحدہفرما کرامت کے افراد کو ایک تسبیح کے دانوں کی طرح یکجا کر دیا اور
”عربی کو عجمی پر عجمی کو عربی پر سرخ کو کالے پر اور کالے کو سر خ پر کوئی فضیلت نہیں ۔سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہے ۔اور آدم علیہ السلام مٹی سے ہیں ۔“
کا انقلاب آفرین فرمان سناکر رنگ و نسل کے تمام تفاخر کو خاک میں ملا دیا ۔اسی طرح حبشہ کے رہنے والے سیاہ فام غلام حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور فارس سے تشریف لانے والے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو سینہ نبوت سے لگا کر علاقائی بنیادوں پر پیدا ہونے والے امتیازات کو فلسفہ اسلام سے یکسر خارج کر دیا ۔
فتح مکہ کے موقع پر اخوت اسلامی اور جغرافیائی حدود سے ماوراءاور اسلامی معاشرے کے قیام اور نظریہ پر یقین و پختگی کی بنیاد پر ایک نئی قوم کے قیام کا فقید المثال عملی مظاہرہ چشم فلک نے دیکھا ۔آج کا دن تاریخ اسلام کی عظمت و جلالت کا دن ہے ۔دشمنان اسلام کی ایذاءرسانیوں سے تنگ آکر اپنے آبائی شہر مکة المکرمہ کو خیر آباد کہنے والے ،چھپ چھپ کر ہجرت کرنے والے آج پوری شان کے ساتھ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہو رہے ہیں ۔آج ان فاتحین میں عرب کے مختلف علاقوں کے لوگ مختلف نسل اور نسب رکھنے والے شامل ہیں ۔کعبة اللہ کے سامنے عجیب منظر ہے ۔جلیل القدر صحابہ ،محبوب خدا ﷺ کے سامنے کھڑے ہیں ۔حضرت ابو بکر و عمر ،عثمان و علی رضی اللہ عنہم اجمعین سب ہی موجود ہیں ۔روساءقریش بھی موجود ہیں ۔موافق و مخالف ،دوست و دشمن کے مجمع میں جب زبان رسالتﷺ سے یہ ارشاد جاری ہوتا ہے کہ اے بلال ! کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اللہ رب العزت کی تکبیر و تقدیس کا غلغلہ بلند کرو ۔اذان دو تو فلسفہ اسلام کے اس عملی نمونہ کو دیکھ کر تھوڑی دیر پہلے گالیاں دینے والے عتاب ابن اسود پکار اٹھتے ہیں کہ اے محمدﷺ! تھوڑی دیر پہلے مجھے آپ سے زیادہ کسی اور سے نفرت نہ تھی اور اب آپ سے زیادہ کسی سے محبت نہیں ۔
الغرض اسلام ملت اسلامیہ میں یک جہتی کی وہ فضا دیکھنے کا خواہاں ہے جو ان تمام تفرقات سے پاک ہو ،جہاں اخوت ہو ،مروت ہو ،محبت اور پیار ہو ، مسلمان جذبہ ایثار سے سرشار ہو ،ایک کا دکھ ،سب کا دکھ اور ایک کی خوشی سب کی خوشی کا ساماں ہو۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان والوں کا تعلق دوسرے ایمان والوں کے ساتھ ایک مضبوط عمارت کا ہونا چاہےے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث بنتے ہیں پھر آپ نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال دیں ۔یہی وہ مضبوط تعلق تھا ۔یہ وہ نظریہ تھا اور اسی کی بنیاد پر یہ جذبہ ایثار کار فرما تھا کہ ہجرت مدینہ کے موقعہ پر مدینہ کے میزبانوں نے مکہ کے مہمانوں کو گلے لگالیا ۔اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں حاضر کر دیا ۔ایک مدنی صحابی نے اپنے مکی بھائی سے عرض کی کہ میری دو بیویاں ہیں ۔ایک کو طلا ق دے دیتا ہوں اس سے تم نکاح کر لو ۔یہ ہے مواخات مدینہ کا وہ منظر اور یہ ہے ملی یک جہتی کی وہ مثال کہ جس کی کوئی مثال نہیں ۔
ملی یک جہتی کا یہی وہ فلسفہ تھا کہ ایک خاتون کی پکار پر فاتح سند ھ محمد بن قاسم دیبل کے ساحل پر آپہنچا تھا ۔کو ئی شک نہیں کہ اسلام نے فرد کی حیثیت کو بہت ممتاز کیا ہے ۔فرد ہی اس کا ابتدائی اور حقیقی مخاطب ہے جس طرح وہ تنہا پیدا ہوا ہے اسی طرح اللہ کے احکام پر چل کر اپنی زندگی کو کامیاب بنانا بھی اس کی اپنی انفرادی ذمہ داری ہے اور کل بارگاہ رب العزت میں اپنے عمل کی جواب دہی کے لئے اسے اکیلے ہی حاضر ہونا ہے ۔لیکن روح اسلام کو ایک نظردیکھئے تو آپ یقین کی منزل پر پہنچ کر پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکیں گے کہ اسلام فرد کی اصلاح کے ساتھ ایک صالح اور اسلامی فلاحی معاشرے کا قیام بھی عمل میں لانا چاہتا ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داریوں کو ادا کرے اور منشائے الہٰی کی تعمیل کے لئے منظم اور مجتمع ہو کر باطل قوتوں سے بر سر پیکار ہو ۔
انسانی زندگی کا وہ شعبہ جسے عرف عام کے لحاظ سے عبادتی شعبہ کہنا چاہےے ایک ایسا شعبہ ہے جہاں اجتماعیت کی رسائی کا تصور بھی مشکل سے کیا جا سکتا ہے ۔عبادت الہٰی کا نام لیجئے ،آپ گوشوں اور تنہائیوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔انسان چاہتا ہے کہ تمام علائق دنیا سے آزاد ہو کر گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر وہ اپنے معبود کی عبادت بجا لائے لیکن اسلام نے عبادت کے اندر بھی اجتماعیت کا رنگ پیدا کیا ۔نماز جسے دین کے ستون کا نام دیا گیا اور جسے کفر اور اسلام کا مابہ الامتیاز قرار دیا گیا اس کے لئے اتنا ہی کافی نہیں کہ اکٹھے مل کر اور با جماعت ادا کر لی جائے بلکہ بخاری شریف کی حدیث کے مطابق ضروری ہے کہ لوگ صفیں باندھ کر اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں اور صفیں تیر کی طرح سیدھی ہو ں۔روزہ کو لیجئے !اس میں اجتماعی شان دیکھئے ! ایک ہی دن شروع کرنا اور ایک ہی دن عید منانا ۔ایک ہی وقت شروع کرنا اور ایک ہی وقت افطار کرنا ۔یہ مسلمان ملک میں اجتماع اور نظم و ضبط کی تعلیم نہیں تو اور کیا مقصود ہے اور حج تو اپنے اندر اجتماعیت کی وہ شان رکھتا ہے کہ کسی بھی مذہب کی تاریخ اس کی نظیر پیش نہ کر سکے گی ۔مختلف رنگوں ،نسلوں اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک ہی لباس میں ملبوس ،ایک ہی معبود حقیقی کی پرستش میں مصروف نظر آتے ہیں اور سب کی زبان پر ایک ہی کلمہ جاری ہوتا ہے ۔
لبیک اللّٰہم لبیک ۔۔۔۔الخ
یہ ان احکام کا مجمل خلاصہ ہے جو اجتماعی نظم اور ملی اتحاد کے بارے میں اسلام نے اپنے پیر و کاروں کو دے رکھے ہیں ،اگر ان ہی چند ارشادات کو غور سے دیکھ لیا جائے تو اجتماعیت کی وہ قدر و قیمت جو اسے اسلام میں حاصل ہے بڑی حد تک واضح نظر آئے گی ۔
ارشاد رسالت مآب ﷺ ہے ۔” جماعت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رہو اور انتشار سے پوری طرح الگ رہو ۔“
اگر تمام اہل ایمان کا ایک خاص شیرازے میں بندھا رہنا اور”تفرقہ“ سے دوررہنا ضروری ہے ،اگر جماعت سے بالشت بھر کی علیحدہ گی بھی مومن کی گردن کو اسلام کے حلقے سے محروم کر دیتی ہے ۔اگر ملت کے اتحاد میں رخنے ڈالنے والے کے خون کی کوئی قدر و قیمت نہیں ،اگر ملت کے اجتماعی نظام کی حفاظت سے بڑی کوئی عبادت نہیں تو سوچئے وہ کون سا مقام ہے جو اجتماعیت کو ملنا چاہیے تھا ۔
غور فرمائیے !کہ جس دین کی یہ تعلیم ہو اور جس دین کے داعی کا اُسوہ حسنہ ایسا مبارک ہو ۔اس دین کے پیرو کار آج کس خلفشار کا شکار ہیں ۔اس کا شیرازہ کس حد تک منتشر ہو چکا ہے ۔آج عرب و عجم کی تفریقات پھر پیدا ہو چکی ہیں ۔آج نسل و زبان کے فتنے کی آگ پوری طرح بھڑک چکی ہے ۔مسلمان کے ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگین ہیں ۔مسلمان کی آبرو مسلمان کے ہاتھوں محفوظ نہیں ۔ان ہی جغرافیائی ،نسل اور لسانی تنازعات کے سبب مسلمانوں کی واحد نظریاتی مملکت د ولخت ہو گئی اور آج پھر مسلمان قائدین کے خون کی سرخی یہاں کی عمارتوں پر گولیوں کے نشانات اس امر کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ ہم پھر زمانہ جاہلیت میں جا پہنچے ہیں ۔ وہی عصبیتیں ہم میں پھر عود کر آئی ہیں ۔ ایک اللہ ،ایک رسول اور ایک کتاب پر ایمان لانے والی امت نسل ،رنگ ،زبان اور علاقائی عصبیتوں کے مختلف خانوں میں بٹ چکی ہے ۔ہمارے مسلمان بھائی جو مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے ناپاک عزائم میں ملوث ہیں ان کی نظروں سے شاید یہ ارشاد رسالت مآب ﷺپوشیدہ ہے ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں:”جو شخص اس جماعت کو جب تک کہ وہ متحد ہو ،پر اگندہ کرنا چاہے اسے بدرجہ آخر تلوار پر رکھ لو خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔“
دوسری حدیث طیبہ میں ارشاد ہے:”نہیں ہے وہ ہم میں سے جس نے لوگوں کو کسی عصبیت کی طرف بلایا ۔“
یعنی اسلام کی خالص عقل اور اعتقادی بنائے اجتماع کو چھوڑ کر مسلمانوں کو ان نسلی یاو طنی ،لسانی یالَونی تعصبات میں سے کسی تعصب پر جمع کرنے کی کوشش کی جانی جن پر خدا فراموش اور مادیت کی غلام قومیں بالعموم جمع ہوا کرتی ہیں ۔نہایت ظلم ہے جس پر خدا و رسول ﷺ کی ناراضگی یقینی ہے ۔
درحقیقت ان مغرب والوں اور مادہ پرستوں کے پاس ایسا ٹھوس اور مستحکم نظریہ تھا ہی نہیں جو قومیت کی صحیح بنیاد قرار پاتا ،چنانچہ انہوں نے رنگ و نسل اور زبان و وطن کے معیار کو قومیت ٹھہرایا ،ہم نے بھی نقالی کرتے ہوئے ایک مسلم قوم میں کئی قومیں بنا لیں اور یہ نہ سمجھ پائے کہ جو فلسفہ حیات مغرب والوں کے لئے آب حیات ہے وہ ہمارے لئے زہر قاتل ہے ۔علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ اسی حقیقت کو بیان فرماتے ہیں ۔
قیاس اپنی ملت کو اقوام مغرب سے نہ کر        خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی(ﷺ)
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار        قوم مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیری
غور طلب امر یہ ہے کہ اب اتحاد و اتفاق کی فضا کیوں کر قائم کی جا سکتی ہے! اس کے لئے بنیادی طور پر اسلامی فلسفہ قومیت سے آگاہی حاصل کرنا ہے یعنی خود اور اپنے حلقہ میں دوسروں کو اس سلسلے میں تعلیمات اسلام سے متعارف کرانا ۔خاص طور پر نسل نو کو اسلامی تعلیمات کے زیور سے آراستہ کرنا بنیادی اہمیت کا حامل فریضہ ہے ۔تعلیم کے بعد اس نظریہ کی صداقت پر یقین دوسری بنیاد ہے ۔حق یہ ہے کہ ہمارے ایمان میں پختگی نہیں ۔ہم اسلامی تعلیمات کا چرچا کرتے ہیں مگر ان کی صداقت پر یقین و اعتماد نہیں ۔جب تک ہم ان نظریات کی سچائی کو حرزجاں نہیں بنائیں گے ۔ ہمارا ایمان قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی مثل غیر متزلزل نہیں ہو گا ۔اتحاد و اتفاق کی فضا قائم نہیں ہو سکتی ۔عظمت رفتہ کا پھر سے حصول مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے ۔ گویا مقصد سے آگاہی ا س کی صداقت پر یقین اور پھر عمل کے لئے عزم صمیم ہی وہ قوتیں ہیں جو امت مسلمہ کو پھر سے متفق و متحد اور کانھم بنیان مرصوص۔کا مصداق بنا سکتی ہیں ۔اسی میں ملتِ اسلامیہ کی بقا اور سر بلندی دینِ مصطفےٰ ﷺ ہے ۔پھر ڈنمارک و ناروے اور مغرب و یہود شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی نہ کر سکیں گے ۔مسلمان کا اجتماعی رعب و دبدبہ اغیار کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسوہ رسول ﷺ کے مطابق ملی یکجہتی سے سرشار کرے ۔آمین

Related Articles

جواب دیں

Back to top button