طنزومزاحمنظر نامہ

سسرال میں میچ اور شہیدِ کرکٹ

شوکت علی مظفر

چلو! اچھا ہوا کہ پاکستان کرکٹ میچ ہار گیاکیونکہ یہی وہ رَیت تھی جس میں ہم شتر مرغ کی طرح سر دبائے خوش تھے۔ ہار کا دکھ تو ہوتا ہے لیکن جہاں ہار محبت میں ہو تو وہاں کی ہار بھی جیت ہی شمار کی جاتی ہے کیونکہ عشق میں ہمیشہ گنگا الٹی بہتی ہے اور بہتی گنگا میں ہر شخص ہاتھ دھونا چاہتا ہے سو ہم بھی امن کی آشا تھامے ورلڈ کپ سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ میچ سے قبل جو کچھ ہوا وہ بھی ایک دلچسپ روداد ہے۔ بھارت میں ایک نجومی کا طوطا تھا جس نے سب سے پہلے پیش گوئی کہ پاکستان بھارت سے سیمی فائنل جیت جائے گا اور اس طرح بول کر و ہ بھارتی انتہا پسندوں کے ہاتھوں اپنی گردن تڑوا بیٹھا۔ بعد میں با خبر ذرائع سے معلوم ہوا، وہ طوطا نہیں طوطی تھی اور اس پر پیش گوئی کے بعد یہ الزام لگایا گیا کہ اس کے کسی پاکستانی طوطے سے ناجائز تعلقات ہیں، اسی بنا پر وہ اس طرح کی باتیں کررہی ہے۔ بھارت نے دو پیار کرنے والوں کو جدا کردیا اور وہ طوطی کاری قرار دیتے ہوئے مار ڈالی گئی جسے شہید کرکٹ کا نام دیا گیا۔ میچ ہارنے کے بعد یہی شہید، امریکا کے مجاہدین اور شہیدوں کی طرح مطلب نکل جانے کے بعد دہشت گرد بن گئی اور پاکستانیوں نے برملا اظہار کیا ” بھارتیوں نے طوطی کو ٹھیک ہی قتل کیا ہے ورنہ وہ آج ہمارے ہاتھوں سے جھوٹ بولنے کے جرم میں ماری جاتی۔ “
پیش گوئی بھارتی ہاتھی دادا نے بھی پاکستان کے حق میں کی، اب یہ ہاتھی بھی جھوٹا نکلا۔ شیو سینا کے ہاتھ اس کے گردن تک اس لیے نہ پہنچے کہ پھر انہیں اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی اور انتہا پسند تنظیم خود پیسے لے کر جی رہی ہے تو دیتی کہاں سے؟ ویسے بھی موٹی گردن والے ہمیشہ بچ جاتے ہیں چاہے دنیا کے کسی بھی ملک میں ہوں کسی بھی روپ میں ہوں ورنہ جب میچ کے دوران کشمیریوں نے پاکستانی ٹیم کے حق میں نعرے لگائے تو بھارتی پولیس کے انتہا پسندوں نے ان کا ٹی وی توڑ دیا تھا۔
اپنی گلی میں تو کتا بھی شیر ہوتا ہے۔ بھارتی جیت گئے تو کیا کارنامہ انجام دیا؟ ہمت اور حوصلہ تو ہمارے کھلاڑیوں کا ہے جنہوں نے دشمن کی سرزمین پر جم کر کھیلا، اتنے مسائل اور الزامات کے باوجوداتنا سخت مقابلہ کیا۔ مسلمان کبھی نہیں ہارتا جیت جائے تو غازی مر جائے تو شہید۔ ہم اپنے کرکٹ کے شہیدوں کو سلام جرات پیش کرتے ہیں باقی رہی پیمنٹ تو وہ نامعلوم ذرائع سے پہنچ ہی جائے گی۔ اب ہمیں کیا خبر کہ شہباز شریف ہر کھلاڑی کو جو پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان قابل تحسین کارکردگی پر کرچکے ہیں تو وہ کس ذرائع سے پہنچائیں گے؟ مَلک کہتا ہے، ممکن ہے وہ اپنے سستے تندور پر دعوت دے دیں۔ شاید مَلک ٹھیک ہی کہتا ہے، ہمارے کرکٹرز کو تندری تکے بہت پسند ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں بھارتی کھلاڑیوں سے ڈر نہیں لگ رہا تھا، ہمیں تو اپنے ہی کھلاڑیوں پر بھروسہ نہیں تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک عورت ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر اسے الگ کمرے میں لے گیا اور پردے برابر کیے تو وہ گھبرا کر بولی”پلیز ! میرے شوہر کو بھی یہاں بلا لیں۔“ ڈاکٹر نے کہا”ارے بی بی! کیا مجھ پر بھروسہ نہیں؟‘ ‘ عورت نے جواب دیا”آپ پر تو ہے اپنے شوہر پر نہیں ہے، باہر آپ کی نرس اکیلی ہے۔“ ہمارے کرکٹر بھی سالگرہ پر کیک نہیں دیتے کیچ دے دیتے ہیں۔ رہی بات، کیا ٹنڈولکر کی بھی سیمی فائنل میں سالگرہ تھی؟ تو ایسی بات نہیں ہے وہاں کچھ اور معاملات تھے۔ اب آپ سے کیا چھپانا۔ ٹنڈولکر کو اتنے چانس ایسے ہی نہیں دیئے یہ تو ثانیہ بھابی نے کہا تھا کہ ذرا ہلکا ہاتھ رکھنا، چھوٹا بھائی ہے اپنا۔ آفریدی نے بھی کہہ دیا، کوئی بات نہیں بھابھی بچہ ابھی کچا ہے لیکن آپ کی خاطر خوش کردیں گے۔
بھارت نے بہت زیادہ رنز کا ٹارگٹ دیا۔ ہمارے کھلاڑی بھی رَن کی فکر میں ہی کھیلتے رہے کیونکہ پاکستان میں گھر والی کو اکثر جگہوں پر ”رن“ ہی کہا جاتا ہے۔ شعیب مَلک ایک رن پہلے ہی لاچکا ہے۔ باقی کھلاڑی بھی اسی امید پر کھیلتے رہے کیونکہ اکثر بھارتی خواتین دروغ بر گردن میڈیائے پاکستانی کرکٹر زکی دیوانی ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے کھلاڑیوں کا دھیان اپنی اپنی” رنز“ پر رہا۔ مَلک نے تو میچ کے دوران ہی پوچھ لیا تھا”یہ عمر گل کا گھر کہاںہے؟“ میں نے جواب دینے کی بجائے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو مسکرا کر فرمایا” بس ایسے ہی جنرل نالج کے لیے پوچھ رہا ہوں۔ کہیں بچے نے سسرال میں ہی رہ کر گل کھلانے کا ارادہ تو نہیں کرلیا؟“
گل تو ہمارے سندھ کے کچھ وزراءکھلانے کے دَر پر تھے ۔ ایک لیٹسٹ میڈیا ذرائع کے مطابق طوطی ساختہ خبر ہے کہ سندھ کے کچھ وزیروں نے سیمی فائنل جیتنے پر کھلاڑیوں کو دس دس لیٹر بھنگ گفٹ کرنے کی شاہانہ آفر دے کر ایک اعلیٰ مثال ”قائم“ کرنے کی کوشش کی یعنی وہ موہالی مشن پر جانے والی ٹیم کو موالی بنانا چاہتے تھے جسے آسان الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ Boom, Boom ٹیم کو Jhoom ,Jhoomٹیم میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تھا جو ناکام ہوا۔ لیکن سنا ہے کہ میچ ہارنے کے بعد وزراءنے گفٹ دی جانے والی بھنگ خود ہی پی پی کر اپنا غم ہلکا کرلیا ہے۔
ہمارے آفریدی بھائی نے جو وعدہ کیا وہ پورا کیا۔ انہوں نے کہا تھا میں سیمی فائنل تک ٹیم کو ضرور لے کر جاﺅں گا اور ٹنڈولکر کو سنچریوں کی سینچری نہیں بنانے دوں گا اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا، انہیں دعاﺅں کی بھی ضرورت ہے۔ پوری قوم با وضو ہوکر میچ دیکھتی رہی اور مَلک صاحب نے تو میچ کے ہارنے کے فوراً بعد ہی ہاتھ اٹھا دیئے اور بلند آواز سے دعا فرمائی”یا اللہ! میچ کے لیے جو کچھ پڑھا گیا اس کا ثواب دادا جی کی روح کو پہنچاتا ہوں ، قبول فرما۔“ ایک کنوارے کے بقول اتنی دعائیں اور وِرد اپنے رشتے کے لیے کیے ہوتے تو آج اپنے سسرال میں بیٹھے ہوتے۔ جیت کا یقین کس کو نہیں ہوتا، ہمیں بھی تھا اس لیے فتح کا جشن منانے کے لیے ٹھیک ٹھاک انتظام تھا۔ اسی انتظام کو دیکھ کر تو ہمارے حکمران کہتے رہے ہیں ”غربت اتنی نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے، عوام کے پاس بہت پیسہ ہے۔“ بھارت کے ہر ہر کھلاڑی کے آﺅٹ ہونے اور ہمارے کھلاڑیوں کے چھکے لگانے پر سینکڑوں گولیوں کی آوازیں تو خود اپنے کانوں سے سنی ہیں اور اگر ہم جیت جاتے تو پھر کیا ہوتا؟ پوری رات فائرنگ کا شغل اور غل غپاڑہ۔ جشن نہ سہی جنگ ہی سہی، اسی لیے صرف کراچی میں میچ کے دوران ہوائی فائرنگ سے 65 افراد زخمی ہوئے باقی ملک کا اندازہ خود لگایا جاسکتا ہے۔ فائرنگ سے یاد آیا، دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کے پیش نظر ہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(ICC) سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئندہ ورلڈ کپ چار سال بعد کروانے کی بجائے 2012ءمیں رکھ لے کیونکہ انگریزوں کے مایا کلینڈر کے مطابق یہ دنیا کا آخری سال بھی ہے اس لیے تمام کے تمام میچ کراچی کے ”محفوظ ترین“ علاقوں میں کروائیں جن کا شیڈول کچھ اس طرح ہو منگھو پیر، بنارس، سرجانی میں کوارٹر فائنل ، سیمی فائنل گولیمار اور لیاری میں جبکہ فائنل تک کوئی ٹیم بچی تو وہ فائنل میچ اورنگی ٹاﺅن ”کٹی پہاڑی“ میں کھیلے گی۔
وزیر اعظم گیلانی کا فرمان عالی شان ہے”ہار جیت کی زیادہ اہمیت نہیں میچ نے پاکستان اور بھار ت کو اکٹھا کیا۔ “ اکٹھے تو ہم کئی مواقع پر ہوچکے ہیں لیکن نتائج صفر کے صفر رہتے ہیں۔ اگر اُن کا بیان اس طرح ہوتا تو زیادہ مناسب تھا” کرکٹ کی ہار کی اتنی اہمیت نہیں کیونکہ ہمارا کیا واسطہ کرکٹ سے ہمارا تو قومی کھیل ہی ہاکی ہے۔ “دیکھا جائے تو ہماری کرکٹ ٹیم صرف میچ ہاری ہے باقی بہت کچھ ہمیں جتوایا۔ جی ہاں میچ کے دوران ہم نے آدھی چھٹی جیتی۔ بجلی والوں سے لوڈ شیڈنگ جیتی، میڈیا نے اشتہارات کی مد میں اور موبائل کمپنیز نے کرکٹ پیکج کے نام پر سرمایہ جیتا اور سب سے بڑھ کر بڑے حضرات نے اربوں کھربوں کا سٹہ جیتا۔
پاک بھارت میچ کو کفر اور اسلام کی جنگ بھی قرار دیا گیا تھا۔ ہم اسلام کے لیے لڑتے ہیں ، اسلام کے نام پر مرتے ہیں لیکن اسلام پر عمل نہیں کرتے۔ نہ پاک ٹیم میں حوصلے کی کمی تھی نہ ہماری دعاﺅں میں خلوص کی۔ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دےتا ہے جسے چاہے ذلت ۔ ہم ایمان کو ہاربیٹھے ہیں تو کرکٹ کی ہار اتنی اہمیت نہیں رکھتی جب قرآن جلنے پر ہم ٹھنڈے پیٹوں بیٹھے ہیں تو کرکٹ کی ہار پر دل جلانے سے فائدہ؟؟ ویسے بھی ہمارے کرکٹرز کا یہ میچ سسرال میں تھا اور دِل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کوئی سسرا ل میں بھی کبھی جیت سکا ہے!!

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button