صحت و تندرستینوجوان

دل کے دورے کا ٹھنڈک سے علاج

دل کے دورے کا ٹھنڈک سے علاج

جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ دل کی بیماریوں اور اس سے ملتی جلتی علامات رکھنے والے وہ افراد جنہیں وٹامن ڈی کی مناسب مقدار نہیں ملتی، ان میں ایسے افرادکی نسبت جنہیں ان کی ضرورت کے مطابق مل جاتا ہے، ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

سویڈن کے ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے اگر دل کے حملوں کا نشانہ بننے والے مریضوں کو فوری طوری پر سرد درجہ حرارت میں منتقل کردیا جائے تو نہ صرف ان کے زندہ بچ جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے بلکہ وہ دماغ کو پہنچے والے کسی ممکنہ خطرے سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ماہرین نے اس تحقیق کے دوران دل کے حملے کا نشانہ بننے والے مریضوں کے دماغوں کو فوری طبی امداد کے دوران ٹھنڈک پہنچانے والے ایک ’رہینو چل‘ نامی آلے کو استعمال کیا۔
اس تحقیق میں 128 مریض شامل تھے جن میں سے83 کو اس آلے کی مدد سے ٹھنڈک پہنچائی گئی جب کہ 99 مریضوں کو دوسرے مروجہ طریقوں سے فوری طبی امداد مہیا کی گئی۔ مریضوں کو اس آلے کے ذریعے یہ ٹھنڈک دل کے دورے کے شروع ہونے کے 23 منٹ کے اندراندر پہنچائی گئی۔ جب مریض اسپتال میں لائے گئے تو ان کے جسم کا اوسط درجہ حرارت 34.2 ڈگری سینٹی گریڈ یا 93.56 ڈگری فارن ہائیٹ تھا۔ جب کہ ان مریضوں کے جسم کا درجہ حرارت اوسطاً 35.5 ڈگری سینٹی گریڈ یا 95.9 ڈگری فارن ہائیٹ تھا جن کا ٹھنڈک فراہم کرنے کی بجائے دوسرے طریقوں سے علاج کیاگیاتھا۔ اس تحقیق سے یہ نتائج سامنے آئے۔
جن مریضوں کو اس آلے کے ذریعے ٹھنڈک پہنچائی گئی ان میں سے 46.7 فی صد زندہ بچے اور بخیرو عافیت اسپتال سے اپنے گھر گئے، جب کہ جن مریضوں کا علاج دوسرے مروجہ طریقوں سے کیا گیا، ان میں سے 31 فی صد مریض زندہ بچے۔
ٹھنڈک پہنچائے جانے والے گروپ میں سے36.7 فی صد جب کہ دوسرے طریقوں سے علاج کیے جانے والے گروپ میں سے 21.4 فی صد مریض اسپتال سے ڈسچارج ہوتے وقت اعصابی لحاظ سے صحت مند تھے۔
جن 137 مریضوں کا دل کے دورے کے شروع ہونے کے 10 منٹ کے اندر علاج شروع ہوگیا تھا، ان میں سے ٹھنڈک پہنچائے جانے والے مریضوں میں سے 59.1 فی صد جب کہ مروجہ طریقوں سے طبی امداد حاصل کرنے والے 29.4 فی زندہ بچے۔ ٹھنڈک کے ذریعے علاج کیے جانے جانے والے 45.5 فی صد جب کہ جن مریضوں کا علاج مروجہ طریقوں سے کیا گیاتھا ان میں سے 17.6 فی صد اسپتال سے رخصت ہوتے وقت اعصابی طوپر صحت مندتھے۔
جن مریضوں کو دل کا دورہ پڑنے کے چھ منٹ کے اندراندر مروجہ طریقوں کے ساتھ ساتھ ٹھنڈک بھی پہنچائی گئی تھی، ان کی صحت یابی کی شرح سب سے زیادہ تھی۔
ٹھنڈک پہنچانے والے آلے کے استعمال سے 18 مریضوں پر منفی اثرات ظاہر ہوئے جن میں ناک سے خون کا بہنا اور ناک کا رنگ تبدیل ہونا شامل تھا۔ زندہ بچ جانے والے تمام مریضوں کے ناک کی رنگت بعد میں صحیح ہوگئی۔ جن مریضوں کو دل دورہ دوبار پڑا، ان میں سے سات مریض ایسے تھے جن کا ٹھنڈک سے علاج کیا گیا تھا جب کہ 14 مریض ایسے تھے جن کا علاج مروجہ طریقوں سے کیا گیا تھا۔
سٹاک ہوم میں قائم کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر اور اس مطالعاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ماریٹ کیسٹرن نے ایک نیوز ریلز میں کہا ہے کہ اب ہمارے پاس ایک ایسا محفوظ طریقہ موجود ہے جسے دل کا دورہ پڑنے کے چند منٹ کے اندراندر اس انتہائی نازک وقت کے دوران دماغ کو پہنچنے والے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے شروع کیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارے مطالعاتی جائزے سے یہ ظاہرہوا ہے کہ مریض کو جتنی جلدی ٹھنڈک پہنچائی جائے، اتنے ہی بہتر نتائج سامنےآئیں گے۔
بشکریہ VOA
(یاہو ہیلتھ سے ماخوذ)

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button