صحت و تندرستیمنظر نامہ

بالوں کی ساخت اور عارضہ قلب

hairstyle

طبی محققین نے دل کے امراض کے حوالے جو جستجو کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اس میں تازہ یہ ہے کہ انسانی سر کے بال بھی دل کی بیماری کی اطلاع دے سکتے ہیں۔

کینیڈا کے طبی اور نفسیاتی تحقیق کے جریدے ’’سٹریس‘‘ میں معالجین ریسرچر کی تازہ تحقیق کی تفصیلات شائع ہوئی ہیں۔ اس کے مطابق انسانی جسم میں تناؤ یا سٹریس کی کیفیت سے انسانی بالوں میں سٹریس سے منسلک ہارمون کورٹیزول کی موجودگی بڑھ جاتی ہے اور یہی بڑھا ہوا لیول دل کے عارضے کی اطلاع مہینوں پہلے کلینکل ٹیسٹ کے ذریعے ڈاکٹر اور مریض کو دے سکتا ہے۔
ماہرین کا اس پر مکمل اتفاق ہے کہ انسانی ذہن میں تناؤ کی کیفیت نوکری یا بے روزگاری، ازدواجی مسائل اور مالیاتی مشکلات جیسے عوامل کی بنیاد پر ظاہر ہوتے ہیں اور یہ سٹریس انجام کار انسانی دل کے عارضوں کے سکڑنے یا کھچاؤ کا باعث بنتا ہے۔
اس تازہ تحقیق سے قبل کوئی تحقیقی اشارہ بھی دستیاب نہیں تھا کہ جو سٹریس کی صورت حال اور اس کے اثرات کا جائزہ سامنے لا سکے لیکن اب سٹریس سے ہارٹ اٹیک کی اطلاع انسانی بال مہینوں پہلے فراہم کردیا کریں گے۔ بالوں پر تحقیق کینیڈا کی ویسٹرن انٹاریو یونیورسٹی کے ماہرین سٹین فان اُوم اور گیڈی اون کارین نے کی ہے۔
انہی افراد نے ہارمون کورٹیزول کی بالوں میں موجودگی کو دریافت کیا ہے۔ ان محققین نے مختلف 56 بالوں پر ریسرچ ان میں زیادہ تر زیر علاج مریضوں کا تعلق وسطی اسرائیل کے شیرون علاقے کے شہر ’’کفار صوا‘‘ کے عالمی شہرت کے تحقیقی ہیلتھ مرکز ’’میئر میڈیکل سنٹر‘‘ میں قائم امراض قلب کے خصوصی انسٹیٹیوٹ سے تھا۔ ان بالوں کے ساتھ ساتھ 56 ہی دوسرے مریضوں کے بالوں کا لیبارٹری ٹیسٹس کے ذریعے بغور جائزہ لیا گیا، جو دل کی بیماری میں مبتلا نہیں تھے۔ وہ مریض جو عارضہ قلب میں مبتلا تھے، ان کے بالوں کے کلینیکل ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ ان میں ہارمون کورٹیزول کی زیادہ مقدار موجود تھی۔ انسانی سر کے بال ایک ماہ میں ایک سینٹی میٹر بڑھتے ہیں اور چھ سینٹی میٹر کا بال گزشتہ کئی ماہ میں ہارمون کورٹیزول کی موجودگی اور بلند سطح کا پتہ دے سکتا ہے۔
ہارمون کورٹیزول کی دستیابی اس سے قبل انسانی سیرم، پیشاب یا تھوک میں ملتی تھی۔ ان میں اس ہارمون کی موجودگی سٹریس یا کسی اور معاملے کا انکشاف نہیں کرتی ہے۔ بالوں میں ان کا دستیاب ہونا پہلی بار ظاہر ہوا ہے۔ تازہ تحقیق کے تحت بالوں کے ٹیسٹ ایک بڑے معلوماتی پیمانے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
بشکریہ ڈی ڈبلیو

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button