صحت و تندرستیمنظر نامہ

اسپرين کا مستقل استعمال بينائی کے ليے خطرہ

ابھی تک يہ بالکل قًطعی طور پرتو ثابت نہيں ہو سکا ہے کہ اسپرين بينائی کو کمزور کر ديتی ہے ليکن جو معلومات حاصل ہوئی ہيں وہ اگر واقعی بالکل صحيح ہيں تو يہ بہت پريشانی کی بات ہو گی کيونکہ بہت سے معمر لوگ دل کی Asprineبيماريوں کی وجہ سے اکثر يا روزانہ اسپرين استعمال کرتے ہيں۔

بوسٹن کے برگہيم اينڈ وومينز ہاسپٹل کے وليم کرسٹن نے، جن کے ہسپتال نے اس ريسرچ اسٹڈی ميں حصہ نہيں ليا، کہا: ’’جن لوگوں کو زيادہ عمر کی وجہ سے بينائی ميں کمزوری کی شکايت ہے انہيں شايد اسپرين نہيں لينا چاہيے۔‘‘

بينائی اور اسپرين کے تعلق پر يہ ريسرچ اسٹڈی ہالينڈ انسٹيٹيوٹ آف نيورو سائنسز اينڈ اکيڈمک ميڈيکل سينٹر کے پاؤلس ڈے يونگ کی سرکردگی ميں انجام دی گئی۔ اس ميں ناروے، ايسٹونيا، برطانيہ، فرانس، اٹلی، يونان اور اسپين کے تقريباً 4700 ايسے افراد کو تحقيق ميں شامل کيا گيا، جن کی عمريں 65 سال سے زيادہ تھيں۔ روزانہ اسپرين کھانے والے ہر 100 ميں سے چار افراد کو بينائی ميں کمی کا وہ عارضہ لاحق ہے جسے wet macular degeneration  کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے ميں ہر 100 ميں سے صرف دو افراد ايسے تھے، جو کم اسپرين لينے کے باوجود آنکھ کے اس عارضے ميں مبتلا تھے۔

اس بيماری ميں آنکھ کے اندر کی رگوں سے خون نکلنے کی وجہ سے بينائی کے مرکز ميں نظر ميں خرابی اور کمزوری پيدا ہو جاتی ہے۔ wet کے مقابلے ميںmacular degeneration dry زيادہ عام ہے اور يہ اتنا زيادہ خطرناک بھی نہيں ہے۔ ليکن آنکھوں کی ان دونوں خرابيوں کی وجہ سے 60 سال سے زيادہ عمر کے لاکھوں امريکيوں کی بينائی متاثر ہو چکی ہے۔

وليم کرسٹن نے کہا کہ عمر کی مناسبت سے آنکھ کے بينائی کے مرکز ميں جو کمزوری پيدا ہوتی ہے وہ شروع کے بجائے بعد کے مرحلوں ميں اسپرين کے اثر سے زيادہ متاثر ہوتی ہے۔ ڈی يونگ نے کہا کہ امراض قلب اور بينائی ميں کمی کے باہمی تعلق کے بارے ميں اختلاف رائے پايا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قلب کی حالت سے قطع نظر اسپرين استعمال کرنے والوں کی بينائی ميں خطرناک نقصان کا بہت زيادہ انديشہ ہوتا ہے۔ ليکن انہوں نے يہ بھی کہا کہ قلب کی بيماريوں کے علاج کے ليے اسپرين کے استعمال سے بينائی کو پہنچنے والے نقصان کے خطرات اُسے استعمال نہ کرنے کے خطرات کے مقابلے ميں کہيں زيادہ ہيں کيونکہ ايک مردہ جسم ميں صحت مند آنکھ کا کيا فائدہ ہو سکتا ہے

Thanks. dw-world.de

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button