ادارتی کالم

”نئے صوبوں کا مطالبہ۔۔۔ جمہوریت کے نام پر جمہورسے دشمنی“

ہارون عدیم

پنجاب آبادی کے تناسب سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے،چونکہ انتخابی حلقہ بندیاں آبادی کے تناسب سے ہی معرض وجود میں آتی ہیں اس لئے پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں ہمیشہ قومی اسمبلی میں پنجاب کی نشستیں زیادہ ہوتی ہیں۔لہٰذا قومی معاملات میں پنجاب کو ایک بالا دستی حاصل ہو جاتی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پنجاب بڑا صوبہ ہونے کے ناطے خود کو دوسرے صوبوں کے بڑے بھائی کے کردار میں ڈھال کر اس قدر آگے بڑھ گیا تھا کہ بقول جناب محمد حنیف رامے ”پاکستان کا ماما“ بننے کے بخار میں مبتلا ہو گیا تھا،یوں اس لئے بھی ہوا کہ یہ پنجاب ہی تھا جو تقسیم ہند کے وقت دو لخت ہوا،جس نے اپنی عزتوں اور جان و مال کی قربانی دی۔اس لئے وہ اس ملک کی بقاءاور اس کے استحکام کو اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔یہ پنجاب ہی تھا جس نے سندھی،سرائیکی اور بلوچی لیڈروں کو ملک کا وزیر اعظم بنایا۔مگر چھوٹے صوبوں کو ون یونٹ کے خاتمے کے بعد سے یہ بات کھٹکتی رہی ہے،اور وہ پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں تک دیتے آ رہے ہیں۔قطع نظر حقائق کہ کہ وہ چاہے پانی ہو یا دیگر وسائل ،پنجاب نے ہمیشہ اپنے حصے کی قربانی دی ہے،دوسرے لفظوں میں پنجاب اپنے حصے کا کھلا کر بھی گالیاں کھاتا ہے۔اصولاً تو باقی صوبوں کو اگر وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو پنجاب کی اس بالا دستی کو مان لینا چاہئے،مگر اسے پنجاب دشمنی ہی کہا جا سکتا ہے کہ قومی سیاست اور امور میں سے پنجاب کی بالا دستی کو ختم کرنے کے لئے جو کہ پنجاب کا ایک جمہوری حق ہے،اسے اب تقسیم کرنے کے مجرمانہ عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔بلوچستان کے وزیر اعلی جناب رئیسانی نے تو نئے صوبوں کے قیام کو کلی طور پر مسترد کر دیا ہے اور اسے پاکستان کے وجود کے لئے خطر ناک قراردے دیا ہے،دوسری جانب سندھی قوم پرست سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کو سندھ کو تقسیم کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں ،اور برملا کہہ رہے ہیں کہ ان کی لاشوں پر ہی سندھ کو تقسیم کیا جا سکتا ہے۔صوبہ پختون خواہ والے بھی ہزارہ ڈویژن کو علیحدہ صوبہ بنانے پر تیار نہیں۔ لے دے کے ریاست بہاولپور اور سرائیکی پٹی یا جنوبی پنجاب کو دو نئے صوبوں کے قیام کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔ہاں! اب ایک نئی تبدیلی آئی ہے کہ کان کو سیدھا پکڑنے کی بجائے الٹا پکڑا جانے لگا ہے۔اب یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ صوبے لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر قائم کئے جائیں۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر سرائیکی لیڈر شپ جو کہ پنجاب کی گورنری اور وزارت اعلی پر ہمیشہ ہی قابض رہی ہے وہ گزشتہ چونسٹھ سال میں سرائیکی بیلٹ کے لئے کیوں کچھ نہیں کر سکی۔کس نے انہیں روکا تھا،اب تو ملک کا وزیر اعظم سرائیکی ہے، اس کو سرائیکی بیلٹ میںترقی اور خوشحالی لانے سے کون روک سکتا ہے۔۔۔؟
1989 میں جب ہم نے ”پنجابی ایکا “قائم کیا تھا،جس کے سربراہ جناب محمد حنیف رامے تھے،اور راقم جنرل سیکرٹری تھا تو سرائیکی صوبے کے سب سے متحرک اور فعال سیاستدان جناب تاج محمد لنگا سے ہم نے عرض کی تھی،کہ اگر تو سرائیکی صوبہ بنا کر اس خطے کے غریب عوام کی قسمت بدلتی ہے، تو ہم سب سے پہلے اس کے لئے گولی کھانے کے لئے تیار ہیں،اور اگر آپ نے نیا صوبہ بنا کر جاگیر داروں،وڈیروں،مخدموں کو طاقتور کرنا ہے اور غریب آدمی کو غریب سے غریب تر کرنا ہے تو ہم آپ کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔ہم نے شہیدمحترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کی رخصتی کے بعد ہونے والے انتخابات کے موقع پر جناب لنگا صاحب سے عرض کی تھی کہ سرائیکی صوبے کی ڈیمانڈ صرف اور صرف جاگیر داروں،وڈیروں،مخدوموں کی بلیک میلنگ قوت کو مزید بڑھانے اور ان کو طاقتور کرنے کی تحریک کے سوا کچھ نہیں۔کیونکہ یہ عوامی مطالبہ نہیں۔اور اگر عوامی مطالبہ ہے تو آپ سرائیکی صوبہ کے نعرہ پر انتخابات لڑ رہے ہیں،یقینا آپ کو عوامی تائید حاصل ہو گی۔مگر دنیا نے دیکھا کہ سرائیکی صوبے کا نعرہ لگانے والے ایک نشست بھی نہ حاصل کر سکے بلکہ ان کی ضمانتیں تک ضبط ہوئیں۔2008 کے انتخابات کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں۔
گزارش یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم حکومتوں سے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کا مطالبہ کرتے ہیں،اور دوسری جانب ہم افسروں،وزیروں،سرکاری املاک، محکموں کی مد میں جو اخراجات بڑھانے جا رہے ہیں،اس کی جانب کیوں نہیں دیکھا جاتا،نئے صوبے کا مطالبہ کرنے والے یقینا ان اخراجات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہونگے۔اگر یہیاخراجات جو نئے صوبے کے بننے سے معرض وجود میں آنا ہےںاسے اس علاقے کے عوام پر ہر سال خرچ کرنا شروع کر دیا جائے تو عوامی فلاح اور ترقی میں جو گرانقدر اضافہ ہو گا ،اس کا کیوں نہیں سوچا جاتا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر سرائیکی بیلٹ کو ایک صوبہ بنا دیا جاتا ہے تو ان کے ذرائع آمدن کیا ہونگے۔۔۔؟ کیا صرف کپاس اور آم کے بل بوتے پر صوبے کی اکانومی چلائی جا سکے گی۔۔۔؟نئے صوبے کے قیام کے پیچھے مسئلہ در اصل وزارتیں اور قومی وسائل پر قبضے کا ہے،لوٹ کے مال میں حصوں کا ہے۔ ورنہ نئے صوبوں کی بات کرنے والوں کو نہ تو پاکستان سے ہی کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی اس کے عوام سے۔
خود پنجاب جن محرومیوں کا شکار ہے ،ان کا تذکرہ کرتے دل خون کے آنسو روتا ہے ۔آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہزاروں ایسے گاوں ہیں جہاں پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔علاج معالجے کی سہولتیں نہیں۔روزگار نہیں۔غربت کے ہاتھوں تنگ آئے بے کس و مجبور انسانوں کی خود کشی کرنے کی تعداد پنجاب میں سب سے زیادہ ہے۔اس صوبے کی اصل طاقت زراعت تھی۔مگر اسی کو ختم کیا جا رہا ہے۔چونکہ پنجاب ایک نہری علاقہ ہے لہٰذا کوشش کی جا رہی ہے کہ نئے ڈیم نہ بن پائیں۔آج تک بارش کے پانی کے ضیاءکو روکنے کی طرف پیش قدمی نہیں کی گئی۔ہزاروں ایکڑ زرعی زمین بنجر پڑی ہے اسے زیر کاشت نہیں لایا گیا۔جبکہ انڈین پنجاب میں آپ کو ایک انچ زمین غیر کاشت شدہ نظر نہیں آتی۔انڈین پنجاب میں ہی رات کے اوقات میں بجلی فری ہے تاکہ کاشت کار ٹیوب ویل کا استعمال کر سکیں۔موجودہ پنجاب کے حکمرانوں کو اگر ترقیاتی کام کرنے کی سوجھتی ہے تو کلمہ چوک لاہور کے ارد گرد اور جاتی عمرہ کے گردو نواح میں۔پنجاب کے اصل مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔
یہ مسائل تبھی حل ہونگے جب پورا پنجاب ہم آواز اور یک زبان ہو کر ان کے خلاف آواز اٹھائے گا۔ورنہ تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پنجاب کو سرائیکی،پوٹھوار،بہاولپور ریاست میں بانٹ دیا جائے،اور پھر ہم بٹے ہوئے پنجابی سرائیکی ،پوٹھواری اور ریاستی بننے کے بعد اتنے کمزور ہو جائیں کہ نہ تو اپنے حقوق کی جنگ لڑ سکیں اور نہ ہی دوسرے پاکستانیوں کی مدد کرنے کے قابل رہیں۔گزارش ہمیں یہ کرنی ہے کہ اس وقت پاکستان جس مالی بحران کا شکار ہے،قومی یکجہتی کو مسائل درپیش ہیں ،ان حالات میں ملک نئے صوبوں کے قیام کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا۔ما سوائے ان دو گروپوں کے ایک تو وہ جو نئے صوبے بنا کر اپنی سیاست چمکانے اور مستقل اقتدار کے مزے لوٹنا چاہتے ہیں ،یا پھر وہ غیر جمہوری لوگ جو پنجاب دشمنی میں مرے جا رہے ہیں ،کوئی ذی شعور نئے صوبوں کے قیام کی بات کر ہی نہیں سکتا۔یہ ایک ایسا پنڈورا بکس ہے جو کھلا تو پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button