ادارتی کالم

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟


یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟

تحریر: عثمان حسن زئی
[email protected]
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے جمہوریت بھیک مانگ کر نہیں لڑ کر لی ہے اور اس کا بھرپور دفاع کریں گے۔ تمام غیر جمہوری مہم جو عبرت کا نشان بن گئے ہیں۔ پارلیمنٹ کسی کو آئین سبوتاژ کرنے نہیں دے گی۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ افواہیں تو افواہیں ہوتی ہیں، ان پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔ صدر نے کہا کہ انتہاپسند خطرہ ہیں جو اپنا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھائیں گے۔ جبکہ افغان صدر نے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کررہا ہے۔ شواہد دیں تو کارروائی کریں گے۔
سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ صدر صاحب کے مطابق جب ملک کے اندر جمہوریت موجود اور پارلیمنٹ بھی اپنا کام کررہی ہے، جیسا تیسا بھی سہی، تو صدر صاحب کو یہ وضاحتی بیان جاری کرنے کی آخر ایسی کیا ضرورت پیش آئی، جبکہ اس کے عین ساتھ ہی پاکستان کے غیرسرکاری چیف ایگزیکٹو ہالبروک کا بیان بھی آگےا ہے کہ امریکا پاکستان میں مارشل لاءکا حامی نہیں ۔معنی خیزبات یہ ہے کہ ہالبروک صاحب کو بھی امریکا کی جمہوریت پسندی کا یہ سرٹیفکیٹ عین ہمارے صدر کے بیان کے ساتھ جاری کرنے کا خیال کیونکر آگیا۔ جبکہ یہ صاحب اسی امریکا کے نمایندہ خصوصی ہیں، جس کو مشرف کی دس سالہ آمریت میں جمہوریت کی چھینک تک نہیں آئی تھی۔ اب یکا یک ہالبروک صاحب کو بھی ”کلیرنس“ دینا پڑی ہے کہ امریکا پاکستان میں مارشل لاءکا حامی نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ محاورہ ہے کہ جہاں دھواں اٹھتا ہے، وہاں آگ ضرور ہوتی ہے تو کیا کہیں آگ سلگ رہی ہے جس کے بھڑکنے سے پہلے قوم کو ذہنی طور پر اس قسم کے بیانات سے تیار کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں صدر مملکت اور ہالبروک دونوں کو قوم کے سامنے دو ٹوک وضاحت کرنا چاہیے۔ ورنہ شکوک وشبہات کے بادل مزید گہرے ہوجائے گے۔ جہاں تک صدر کے بیان کے اس حصے کا تعلق ہے کہ پارلیمنٹ کسی کو آئین سبوتاژ نہیں کرنے دے گی تو پہلے صدر صاحب وضاحت فرمائیں کہ ان کو اس کے متعلق کس کی طرف سے ایسا خدشہ ہے اور کیوں؟ اور یہ کہہ کر وہ قوم کو کس امر سے آگاہ کرنا چاہتے ہےں اور کون سا فرد یا ادارہ ہے جو آئین کو سبوتاژ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کیا صدر صاحب کا اشارہ کسی طالع آزما کی طرف ہے تو صدر صاحب کو علم ہونا چاہیے کہ موجودہ عسکری قیادت ہر صورت میں اور ہر قیمت پر جیسی تیسی پارلیمنٹ اور جمہوریت کے تحفظ کا حتمی، قطعی اور انتہائی ناقابل تسخیر عزم کرچکی ہے۔ اس وقت پہلی ضرورت ملک میں امن وامان کے قیام، مہنگائی پر قابو، بے روزگاری کے خاتمے، تعلیم وصحت کی سہولیات کی فراہمی اور سوشل سیکورٹی کے ساتھ سیلاب زدگان کی بحالی کے امور ہیں،تعجب تو اس بات پر ہے کہ اس پر صدر صاحب نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔
صدر نے جمہوریت کے ”فضائل وخواص“ کے حوالے سے جو کچھ کہا اصولاً وہ بالکل ٹھیک ہے۔ صدر صاحب فی الوقت قوم کو صرف اتنا بتا دیں کہ ان کی لائی ہوئی جمہوریت سے عوام کو اب تک روز افزوں مہنگائی، بدامنی اور ہر اعتبار سے مشکلات اور دشواریوں میں اضافے کے سوا اور کچھ ملا ہے تو وہ کیا ہے؟ امن وامان ہی کے حوالے سے سوال یہ ہے کہ کراچی جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اس میں آئے دن بے گناہ شہریوں کا خون بہایا جارہا ہے اور یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہتا ہے اس کے متعلق صدر صاحب نے ایک لفظ بھی کہنا ضروری نہیں سمجھا۔ گویا شہریوں کی جانوں کا بے رحمانہ ضیاع اس قابل بھی نہیں تھا کہ صدر صاحب نے اس پر صرف اظہار افسوس تک کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ صرف اس ایک مثال سے ”زرداری جمہوریت“ کی صحیح پوزیشن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
جہاں تک افغان صدر کرزئی اور ان کے گراں قدر خیالات کا تعلق ہے۔ کسی پیچیدہ اور طویل بحث سے بچتے ہوئے اتنا کہنا کافی ہوگا کہ ٹھیک ہے۔ کرزئی صاحب اپنی جگہ سچ ہی کہہ رہے ہوں گے لیکن کہنے اور کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ کرزئی صاحب پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون اور بہتر تعلقات کا فروغ بھی چاہتے ہیں اور اپنی سرزمین پر پاکستانی سرحد کے ساتھ 28 عدد بھارتی قونصل خانے بھی کھول رکھے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں بھارتی ”قونصل خانوں“ کا وجود وہ بھی پاکستان کی عن سرحد پر آخر کیا معنی رکھتا ہے؟ کرزئی صاحب صرف اس ایک بات کا بالکل درست جواب دیں تو ان کی باقی تمام باتوں کی حقیقت ازخود عیاں ہوجائے گی۔ فی الحال ان سے یہ بھی نہیں پوچھا جارہا ہے کہ کیا کسی دوسرے ملک میں کسی ملک کے اتنی بڑی تعداد میں قونصل خانے کھولے بھی جا سکتے ہیں؟ کیا چین یا روس اپنی سرحد پر بھارت کو اتنی بڑی تعداد میں اپنے قونصل خانے کھولنے کی اجازت دے دیں گے۔ یہ سوال بھی فی الحال چھوڑا جاتا ہے کہ جن کرزئی صاحب کی ساری کی ساری بادشاہت کابل کے صدارتی محل کی حدود تک ہے۔ وہ اتنے بڑے بڑے مشن کس طرح انجام دے سکتے ہیں؟کچھ اور نہیں تو اپنے ماسکو برانڈ پیش روؤں کا حشر ہی سامنے رکھ لیں۔
[email protected]

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button