ادارتی کالم

یو این او چپڑاسی سے سیکریٹری جنرل تک

یو این او چپڑاسی سے سیکریٹری جنرل تک

تحریرروف عامر پپا بریار
بھارتی کشمیر میں ایک دفعہ پھر مجبو ور ناتواں بچوں،عورتوں بزرگوں اور تحریک ازادی کشمیر کے متوالوں کی درد انگیز چیخیں صدائیں اور اہیں فضاوں میں سنائی دے رہی ہیں۔ اہل کشمیر اپنی ازادی کے لئے لرزاں اور ترساں ہیں۔ کشمیری ازادی کے بدلے کسی نعم البدل پر راضی نہیں۔ مختلف ادوار میں کشمیری جوان ماں دھرتی کی بازیابی کے لئے سر اور تن کی قربانی تک داو پر لگاچکے ہیں۔ بھارتی فورسز نے جموں اورکشمیر میں کئی مرتبہ اندھیر نگری کا بازار تعمیر و؛
کیا جسکی بنیادوں میں لاکھ سے زائد کشمیریوں کا خون شامل ہے۔ کشمیریوں کی ازادی پر قدغن لگانے اور حقوق انسانی کو سلب کرنے کے تین کردار ایسے ہیں جنہیں مجرم ملزم اور قاتل کا لقب ودیعت کرنا کسی گناہ کے زمرے میں نہیں اتا۔اول۔ وائسرائے ہند نے1947 میں تقسیم ہند کے دوران ہندووں سے گٹھ جوڑ کرکے شفاف تقسیم کو غیر منصفانہ بنادیا۔ کہا جاتا ہے کہ کشمیری مہاراجوں کو بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کے پیچھے وائسرائے ہند کا ہاتھ تھا اور یہ ہماری بھیانک تاریخ کا ایک تاریک پہلو ہے۔دوم جنرل گریسی جس نے پاکستان کے عارضی چیف اف ارمی سٹاف کی حثیت سے بانی قوم کی حکم عدولی کی تھی۔سوم۔uno جو اپنے فیصلے پر عمل درامد کروانے میں ناکام ہوئی۔ unoکے موجودہ سیکریٹری جنرل بانکی مون کا انٹرویو ہماری نظروں سے گزرا تو ہم ورطہ حیرت میں ڈوب گئے کہ چھ دہائیوں سے کشمیر میں خون کی کھیلی جانیوالی ہولی پر دل تڑپنے لگتا ہے مگر uno اورngosکو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ unoکے بانکی مون نے پچھلے دنوں نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر انڈیا ٹو ڈے کے خارجی امور کے ماہر سورابھ شکلا کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے نہ صرف کشمیر کی خونی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا بلکہ سلامتی کونسل کے توسیعی عمل پر بھی زور دارگفتگو کی ۔بانکی مون نے کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق unoکے سربراہ نے کشمیر کی خون ریز افراتفری پر نوحہ خانی کی۔ویسے بھی تنازعہ کشمیر uno کی نااہلی کمزوری اور بھارت نوازی کا شاخسانہ ہے۔unoنے پانچ اکتوبر1949 کو انڈین گورنمنٹ کی جانب سے پہلی پاک بھارت جنگ کے دوران جنگ بندی کے لئے جمع کروائی گئی قراداد میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو نہ صرف تسلیم کرلیا بلکہ بھارت کو کشمیر میں جلد از جلد استصواب رائے منعقد کروانے کا حکم دیا تاکہ کشمیری پاکستان یا بھارت کے ساتھ اپنی مرضی سے الحاق کر لیں مگر ظلم تو یہ ہے کہ انڈین گورنمنٹ نے unoکی قرارداد کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور بعد میں بھارتی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے لگے۔ امریت زدہ کشمیری پچھلے 60 سالوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔uno کی قرار داد اج بھی عالمی ضمیر کو جھنجوڑ رہی ہے کہ عالمی برادری بھارت پر دباو ڈالے کہ وہ اس قرارداد پر من و عن عمل کرے۔ بانکی مون کے کشمیر کے متعلق کہے گئے جملوں سے کشمیر کے مستقبل کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ بانکی مون نے دنیا بھر میں قیام امن کے متعلق اپنی فکر و سوچ اور دل کی بھڑاس کو نکالتے ہوئے کہا دنیا میں کثیرالقلبی بحران جاری ہے۔دنیا میں بے شمار عالمی تنازعات بکھرے ہوئے ہیں۔ اجتماعی عالمی استحکام سے ہر مسئلے کا حل ڈھونڈا جاسکتا ہے۔طاقتور ممالک یکسو ہوکر ہر گھمبیرتا کی سلجھن تلاش کرسکتے ہیں۔ بانکی مون کے اس تبصرے سے اتفاق کرنا مشکل ہے کیونکہ طاقتور ممالک دنیاوی امن اور مساوات کی بجائے زاتی مفادات کو فوقیت دیتے ہیں۔ انڈیا کے ساتھ بانکی مون کی عقیدت کا اظہار انکے اپنے جواب سے جھلک رہا ہے۔بانکی مون نے کہا تھاکہ بھارت اہم ترین ملک ہے۔بھارت نے امن مشن کے لئےunoکو10ہزار فوجی دئیے ہوئے ہیں،نیو دہلی نے چین کی طرح غربت کی لکیر کے نیچے سسکنے والے ہندوستانیوں کو غربت کی لکیر سے نکال لیا گیا ہے۔انڈیا ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے۔ سلامتی کونسل میں بھارتی شمولیت کے سوال پر کہا کہ بھارت سلامتی کونسل کا رکن و رکین بننے کا اہل ہے اور بھارت بہت جلد سلامتی کونسل میں براجمان ہوگا۔بانکی مون کی پیشین گوئی اس انٹرویو کے چند ہفتوں بعد حقیقت بن گئی کیونکہ unoنے ہندوستان کو سلامتی کونسل کا عارضی ممبر بنادیا ہے۔ بھارت کو سلامتی کونسل کی رکنیت کا سہرا پہنانے میں جہاں امریکہ نے زور بازو صرف کیا تو وہاں بانکی مون نے اپنی دوستی کا حق نبھایا۔ پاکستان میں انے والے خونخوار سیلاب اور فنڈز میں کرپشن کے سوال پر بتایا unoنے ڈھائی کروڑ ڈالر کی امداد موصول کرلی ہے۔پاکستان میں سیلاب نے جی بھر کر جوہری تباہ مچائی ہے۔unoنے فنڈز کے شفاف استعمال کے لئے نمائندہ مقرر کیا ہے جو پاکستان کی حکمران جماعت کے ساتھ بیٹھ کر فنڈز کی ہیر پھیر پر نظر رکھے گا تاکہ امداد حق داروں کی دہلیزوں تک پہنچ سکے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے ساتھ منسلک کئی تنظیموں کو پاکستان میں موبائل کردیا گیاہے۔ امداد اور دہشت گردوں کے تعلق پر بانکی نے ارشاد کیا کہ ہم امدادی رقم پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔پاکستان میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں حکومت اورئنہUNO کاکردار محدود ہے اور کچھ علاقے تو ایسے ہیں جہاں تک رسائی کے لئے ہفت خوان طے کرنا پڑتا ہے۔ پاک بھارت ڈائیلاگ اور دوستانہ روابط کے احیا پر بانکی مون کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کی راونڈ ٹیبل اپنا کام احسن انداز میں انجام د ے رہی ہے۔ میں سیکریٹری جنرل کی حثیت سے ایک بات درجنوں مرتبہ دہرا چکا ہوں کہ کشمیر میں ریاستی تشدد بند کیا جائے۔uno تنازعہ کشمیر کو کیسے حل کرے گی ؟ بانکی مون نے گل پاشی کی کہ دونوں جانب سے uno کو ثالثی کی درخواست دینی چاہیے۔ کیاپاکستان کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے ہر قسمی اپشن کو اپنانے پر راضی ہے پر ہمارا موقف حقیقت برمبنی ہے بانکی مون نے کہا کہ ہم صورتحال کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ بانکی مون کے انٹرویو کا خلاصہ نکالا جائے تو قو م کو نتیجہ اخذ کرنے میں کسی دشواری کا سامنانہیں کہ بانکی مون بھارت پر صدقے واری ہورہا ہے۔ uno میں197 ممبران ملک ہیں،بھارتی دورے کے دوران بانکی مون نے پر جوش انداز میں کہہ ڈالہ کہ انڈیا انکا دوسرا گھر ہے۔وہ انڈیا میں جنوبی کوریا کے سفیر رہ چکے ہیں۔انکے پہلے بیٹے کی ولادت انڈیا میں ہوئی تھی۔ بانکی مون کے بلند قامت عہدے کا تقاضہ تو یہ ہے کہ انصاف کا علم بلند کیا جائے اور انہیں کشمیری معاملے پر سچ کا ساتھ دینا چاہیے۔ عالمی ادارے کے سربراہ ہونے کے ناطے بانکی مون کو اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کرنا چاہیے ۔بانکی مون احترام انسانیت اور شرف انسانیت کے احیا کے لئے اپنا تن من دھن قربان کردیں اور وہ جنرل اسمبلی سلامتی کونسل اور سیکیورٹی کونسل کا مشترکہ اجلاس بلائیں جہاں وہ کشمیری قرارداد پر عمل درامد کا اعلان کردیں اگر ایسا ہوگیا تو بانکی مون کا نام اور کام تاریخ کے سنہری ابواب میں ہمیشہ کے لئے نقش پا بن جائیگا۔ بحرف آخر کیا بانکی مون لاکھو ں لوگوں کے زہن میں پروان چڑھنے والے سوال کا جواب دینا پسند فرمائیں گے کیا وہ اقوام متحدہ کے بگ باس ہونے کے ناطے ایک قرارداد پر عمل درامد نہیں کرواسکتے اگر ایسا ہے تو پھر انہیں یو این او ایسے اہم ترین ادارے میں چپڑاسی کی سیٹ دینا انصاف کے خون کے مترادف ہے

تحریرروف عامر پپا بریار    عنوان۔ یو این او چپڑاسی سے سیکریٹری جنرل تکبھارتی کشمیر میں ایک دفعہ پھر مجبو ور ناتواں بچوں،عورتوں بزرگوں اور تحریک ازادی کشمیر کے متوالوں کی درد انگیز چیخیں صدائیں اور اہیں فضاوں میں سنائی دے رہی ہیں۔ اہل کشمیر اپنی ازادی کے لئے لرزاں اور ترساں ہیں۔ کشمیری ازادی کے بدلے کسی نعم البدل پر راضی نہیں۔ مختلف ادوار میں کشمیری جوان ماں دھرتی کی بازیابی کے لئے سر اور تن کی قربانی تک داو پر لگاچکے ہیں۔ بھارتی فورسز نے جموں اورکشمیر میں کئی مرتبہ اندھیر نگری کا بازار تعمیر و؛ کیا جسکی بنیادوں میں لاکھ سے زائد کشمیریوں کا خون شامل ہے۔ کشمیریوں کی ازادی پر قدغن لگانے اور حقوق انسانی کو سلب کرنے کے تین کردار ایسے ہیں جنہیں مجرم ملزم اور قاتل کا لقب ودیعت کرنا کسی گناہ کے زمرے میں نہیں اتا۔اول۔ وائسرائے ہند نے1947 میں تقسیم ہند کے دوران ہندووں سے گٹھ جوڑ کرکے شفاف تقسیم کو غیر منصفانہ بنادیا۔ کہا جاتا ہے کہ کشمیری مہاراجوں کو بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کے پیچھے وائسرائے ہند کا ہاتھ تھا اور یہ ہماری بھیانک تاریخ کا ایک تاریک پہلو ہے۔دوم جنرل گریسی جس نے پاکستان کے عارضی چیف اف ارمی سٹاف کی حثیت سے بانی قوم کی حکم عدولی کی تھی۔سوم۔uno جو اپنے فیصلے پر عمل درامد کروانے میں ناکام ہوئی۔ unoکے موجودہ سیکریٹری جنرل بانکی مون کا انٹرویو ہماری نظروں سے گزرا تو ہم ورطہ حیرت میں ڈوب گئے کہ چھ دہائیوں سے کشمیر میں خون کی کھیلی جانیوالی ہولی پر دل تڑپنے لگتا ہے مگر uno اورngosکو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ unoکے بانکی مون نے پچھلے دنوں نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر انڈیا ٹو ڈے کے خارجی امور کے ماہر سورابھ شکلا کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے نہ صرف کشمیر کی خونی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا بلکہ سلامتی کونسل کے توسیعی عمل پر بھی زور دارگفتگو کی ۔بانکی مون نے کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق unoکے سربراہ نے کشمیر کی خون ریز افراتفری پر نوحہ خانی کی۔ویسے بھی تنازعہ کشمیر uno کی نااہلی کمزوری اور بھارت نوازی کا شاخسانہ ہے۔unoنے پانچ اکتوبر1949 کو انڈین گورنمنٹ کی جانب سے پہلی پاک بھارت جنگ کے دوران جنگ بندی کے لئے جمع کروائی گئی قراداد میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو نہ صرف تسلیم کرلیا بلکہ بھارت کو کشمیر میں جلد از جلد استصواب رائے منعقد کروانے کا حکم دیا تاکہ کشمیری پاکستان یا بھارت کے ساتھ اپنی مرضی سے الحاق کر لیں مگر ظلم تو یہ ہے کہ انڈین گورنمنٹ نے unoکی قرارداد کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور بعد میں بھارتی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے لگے۔ امریت زدہ کشمیری پچھلے 60 سالوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔uno کی قرار داد اج بھی عالمی ضمیر کو جھنجوڑ رہی ہے کہ عالمی برادری بھارت پر دباو ڈالے کہ وہ اس قرارداد پر من و عن عمل کرے۔ بانکی مون کے کشمیر کے متعلق کہے گئے جملوں سے کشمیر کے مستقبل کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ بانکی مون نے دنیا بھر میں قیام امن کے متعلق اپنی فکر و سوچ اور دل کی بھڑاس کو نکالتے ہوئے کہا دنیا میں کثیرالقلبی بحران جاری ہے۔دنیا میں بے شمار عالمی تنازعات بکھرے ہوئے ہیں۔ اجتماعی عالمی استحکام سے ہر مسئلے کا حل ڈھونڈا جاسکتا ہے۔طاقتور ممالک یکسو ہوکر ہر گھمبیرتا کی سلجھن تلاش کرسکتے ہیں۔ بانکی مون کے اس تبصرے سے اتفاق کرنا مشکل ہے کیونکہ طاقتور ممالک دنیاوی امن اور مساوات کی بجائے زاتی مفادات کو فوقیت دیتے ہیں۔ انڈیا کے ساتھ بانکی مون کی عقیدت کا اظہار انکے اپنے جواب سے جھلک رہا ہے۔بانکی مون نے کہا تھاکہ بھارت اہم ترین ملک ہے۔بھارت نے امن مشن کے لئےunoکو10ہزار فوجی دئیے ہوئے ہیں،نیو دہلی نے چین کی طرح غربت کی لکیر کے نیچے سسکنے والے ہندوستانیوں کو غربت کی لکیر سے نکال لیا گیا ہے۔انڈیا ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے۔ سلامتی کونسل میں بھارتی شمولیت کے سوال پر کہا کہ بھارت سلامتی کونسل کا رکن و رکین بننے کا اہل ہے اور بھارت بہت جلد سلامتی کونسل میں براجمان ہوگا۔بانکی مون کی پیشین گوئی اس انٹرویو کے چند ہفتوں بعد حقیقت بن گئی کیونکہ unoنے ہندوستان کو سلامتی کونسل کا عارضی ممبر بنادیا ہے۔ بھارت کو سلامتی کونسل کی رکنیت کا سہرا پہنانے میں جہاں امریکہ نے زور بازو صرف کیا تو وہاں بانکی مون نے اپنی دوستی کا حق نبھایا۔ پاکستان میں انے والے خونخوار سیلاب اور فنڈز میں کرپشن کے سوال پر بتایا unoنے ڈھائی کروڑ ڈالر کی امداد موصول کرلی ہے۔پاکستان میں سیلاب نے جی بھر کر جوہری تباہ مچائی ہے۔unoنے فنڈز کے شفاف استعمال کے لئے نمائندہ مقرر کیا ہے جو پاکستان کی حکمران جماعت کے ساتھ بیٹھ کر فنڈز کی ہیر پھیر پر نظر رکھے گا تاکہ امداد حق داروں کی دہلیزوں تک پہنچ سکے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے ساتھ منسلک کئی تنظیموں کو پاکستان میں موبائل کردیا گیاہے۔ امداد اور دہشت گردوں کے تعلق پر بانکی نے ارشاد کیا کہ ہم امدادی رقم پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔پاکستان میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں حکومت اورئنہUNO کاکردار محدود ہے اور کچھ علاقے تو ایسے ہیں جہاں تک رسائی کے لئے ہفت خوان طے کرنا پڑتا ہے۔ پاک بھارت ڈائیلاگ اور دوستانہ روابط کے احیا پر بانکی مون کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کی راونڈ ٹیبل اپنا کام احسن انداز میں انجام د ے رہی ہے۔ میں سیکریٹری جنرل کی حثیت سے ایک بات درجنوں مرتبہ دہرا چکا ہوں کہ کشمیر میں ریاستی تشدد بند کیا جائے۔uno تنازعہ کشمیر کو کیسے حل کرے گی ؟ بانکی مون نے گل پاشی کی کہ دونوں جانب سے uno کو ثالثی کی درخواست دینی چاہیے۔ کیاپاکستان کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے ہر قسمی اپشن کو اپنانے پر راضی ہے پر ہمارا موقف حقیقت برمبنی ہے بانکی مون نے کہا کہ ہم صورتحال کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ بانکی مون کے انٹرویو کا خلاصہ نکالا جائے تو قو م کو نتیجہ اخذ کرنے میں کسی دشواری کا سامنانہیں کہ بانکی مون بھارت پر صدقے واری ہورہا ہے۔ uno میں197 ممبران ملک ہیں،بھارتی دورے کے دوران بانکی مون نے پر جوش انداز میں کہہ ڈالہ کہ انڈیا انکا دوسرا گھر ہے۔وہ انڈیا میں جنوبی کوریا کے سفیر رہ چکے ہیں۔انکے پہلے بیٹے کی ولادت انڈیا میں ہوئی تھی۔ بانکی مون کے بلند قامت عہدے کا تقاضہ تو یہ ہے کہ انصاف کا علم بلند کیا جائے اور انہیں کشمیری معاملے پر سچ کا ساتھ دینا چاہیے۔ عالمی ادارے کے سربراہ ہونے کے ناطے بانکی مون کو اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کرنا چاہیے ۔بانکی مون احترام انسانیت اور شرف انسانیت کے احیا کے لئے اپنا تن من دھن قربان کردیں اور وہ جنرل اسمبلی سلامتی کونسل اور سیکیورٹی کونسل کا مشترکہ اجلاس بلائیں جہاں وہ کشمیری قرارداد پر عمل درامد کا اعلان کردیں اگر ایسا ہوگیا تو بانکی مون کا نام اور کام تاریخ کے سنہری ابواب میں ہمیشہ کے لئے نقش پا بن جائیگا۔ بحرف آخر کیا بانکی مون لاکھو ں لوگوں کے زہن میں پروان چڑھنے والے سوال کا جواب دینا پسند فرمائیں گے کیا وہ اقوام متحدہ کے بگ باس ہونے کے ناطے ایک قرارداد پر عمل درامد نہیں کرواسکتے اگر ایسا ہے تو پھر انہیں یو این او ایسے اہم ترین ادارے میں چپڑاسی کی سیٹ دینا انصاف کے خون کے مترادف ہے

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button