ادارتی کالم

یوم القدس

عینی نیا زی

مسجد اقصیٰ کاتصور بچپن سے میرے لیے ایک خو بصورت سنہرے گنبد اور اسلا می فن تعمیر کا اعلیٰ شاہکار والی مسجد کا تھا ہر مسلما ن کی طرح میں نے بھی اس آرزو کو دل میں جگہ دی کہ کبھی نہ کبھی اسکی زیا رت ضرور ہو گی وہ اسلا می مرکز کے روشن ستاروں میں سے ایک ستارہ ہو گا ا س میںپنج وقتہ اذانیں اور نماز کا رو ح پرور نظارہ بھی ہو گا لیکن آج جب انٹر نیٹ پر اس مسجد کی شکستہ دیو اریں اور جگہ جگہ کھدائی کی ہو ئی حالت دیکھتی ہو ں تو بے حد دکھ ہو تا ہے خا ص کر اس با ت پر کہ دنیا میں اتنی بڑی تعداد میں مسلما نوں کے ہو تے ہو ئے اس مسجد کی یہ حالت ہم سب کے لیے با عث شر مندگی و ندامت اور لمحہ فکریہ ہے ۔ مسجد اقصیٰ میں ایک اور تازہ ظالما نہ و شرمناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب اتوراور پیر کی درمیا نی شب اسرائیلی افواج مسجد اقصیٰ میں دا خل ہوئی اور وہا ں پر مو جود اعتکا ف میںبیٹھے ہو ئے ۰۰۵۱ افراد کوتشدد کا نشانہ بنایا اور مسجد سے بے دخل کر دیا مسجد کا تاریخی دروازہ با ب العا مود مستقل طور پر بند کر دیا گیا یہ انتہا ئی گھٹیا اور ظالما نہ فعل ہے جس کی جتنی مذ مت کی جا ئے کم ہے اقوام متحدہ کے چارٹر آف انسانی حقو ق میں بھی تما م انسانوں کو اپنی عبا دت گا ہو ں میں عبادت کی کھلی آزادی ہے یہ وہ حق ہے جسے کسی طور پر بھی ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن فلسطین کی سر زمین پر مسلمانوں کے حقوق کی پا مالی کی جنگ شروع ہو ئے ایک صدی سے زیا دہ عرصہ ہو گیا ہے۔ فلسطین کا شہر جو تا ریخی اعتبا ر سے یہو دیوں ، عیسا ئیوں اور مسلما نوں تینوں کے لیے مقدس سر زمین کی حیثیت رکھتا ہے جس میں حضرت سلیما ن ُ کی تعمیر کر دہ معبد ہیںجو بنی اسرا ئیل کے نبیوں کا قبلہ سمجھا جا تا ہے یہی شہر حضرت عیسیٰ علیہٰ سلا م کی جا ئے ولا دت ہے اور انھوں نے اپنی تبلیغ کا مر کز بھی اسی شہر کو بنا ئے رکھا جب کہ مسلما نوں نے قبلہ کی تبد یلی سے پہلے تک اسی طرف رخ کر کے نما ز یں ادا کی ۲ ھجری ۴۲۶ ھجری تک یہ مسلمانوں کا قبلہ اول رہا ۔ بیت المقدس جسے القدس بھی کہتے ہیں جہاں مسلما نوں کا قبلہ اول اور قبتہ الصخرہ واقع ہے سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ سلام اور ان کے بھتیجے حضرت لو ط علیہ سلا م نے عراق سے ہجرت کر نے کے بعد یہاں بیت المقدس کی تعمیر کی حضرت یعقوب علیہ سلا م نے وحی الہیٰ کے حکم سے مسجد بیت المقدس ( مسجد اقصیٰ ) کی بنیاد ڈالی جب نبی کر یم ﷺ معراج کو جا تے ہو ئے بیت الصخرہ پر پہنچے تو وہا ں نہ کو ئی مسجد تھی نہ کو ئی ہیکل تھا اس لیے قرآن مجید میں اس جگہ کو مسجد اقصیٰ کہا گیا ۷۱ ھجری ۹۳۶ءمیں عہد فا روقی ؓمیں بیت المقدس پرمسلما نوں کا قبضہ ہوا خلیفہ عبدالما ک کے عہد میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر ہو ئی جو اس وقت کے فن تعمیر کا اعلیٰ نمو نہ تھی اور صخرہ معراج پر قبلہ الصخرہ تعمیر کیا گیا ۔ ۹۹۰۱ ءپہلی صلیبی جنگوں کے مو قع پر یو رپی صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے ایک لاکھ کے قریب مسلما نوں کو شہید کیا ۷۸۱۱ءمیں سلطا ن صلا ح الدین ایو بی نے بیت المقدس کو دوبا رہ عیسا ئیوں کے قبضے سے چھڑا لیا ۔پہلی جنگ عظیم د سمبر ۷۱۹۱ءمیں جنرل اسمبلی نے دھا ندلی سے کا م لے کر فلسطین عربوں اور یہو دیوں میں تقسیم کر دیا اس کے نتیجے میں ۸۷ فی صد علا قے پر اسرائیل قابض ہو گیا تیسری عرب اسرا ئیل جنگ جون ۷۶۹ امیں اسر ئیلیوں نے بقیہ فلسطین پر بھی قبضہ کر لیا یہ امریکہ اور بر طا نیہ ہی تھے جنھوں نے پہلی جنگ عظیم سے پہلے اسرا ئیلیوں کو فلسطین میں بسا نے کی کوشش میں پیش پیش رہے اور فلسطینی عوا م کو ان کی زمین سے بے دخل کر نے میں ہر طر یقہ کی تعا ون اور مد د اسر ائیل کو دیتے رہے ، آج بر طا نیہ کی اسی شہ کی بنا ءپر فلسطینی مسلما ن اپنے ہی وطن میں مہا جرین کی زند گی گز ارنے پر مجبو رہیں ۔ ۸۴۹۱ءمیں فلسطینی سر زمین پر اسرا ئیل نے اپنی ریا ست بنا نے کا اعلا ن کیاتو امر یکہ اور بر طا نیہ نے بھر پو رتعا ون کیا بر طا نیہ کے اسی تعا ون کی وجہ سے اسے ” اسر ئیل کا خنجر “ کے خطا ب سے بھی نو ازا گیا بر طا نیہ میں قا ئم ہونے وا لی ہر حکو مت نے فلسطین ،اسرا ئیل مسئلہ کو حل کر نے کا دعو یٰ بڑے زورشورسے کیے، مگر عملی ا قدما ت پر عمل کبھی نہیں کیا گیا ۔اسرا ئیل کی ہرظا لما نہ کا روا ئی کو نظر اندا زکر نے کی پا لیسی نے اسے اس قدر دلیر بنا دیاہے کہ اسکا جب جی چا ہتا ہے نہتے فلسطینیوںپر گولیوں کی بو چھا ڑ کر دیتا ہیں ہم آئے دن ان کی بر بریت کامنہ بو لتا ثبو ت فلسطینی شہید بچوں کی صو رت میں میڈیا پر دیکھتے ہیں مگرانسا نی حقو ق کی بین الا قوامی تنظیمو ں کے کا نوں میں جو ں تک نہیں رینگتی ،مسلما نوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں مسلما نوں کو نمازپڑھنے کی اجا زت نہیں اسر ائیلی ان مغر بی قو مو ں سے اپنی ہر جا ئز نا جا ئز با ت منو انے پر قادر ہیں ۔ جب تک پوری امت مسلمہ اسرا ئیل کے خلاف متحد ہو کر فلسطینی مسلما نوں کا ساتھ نہیں دیتی اس وقت تک اسر ائیل کے ظلم کم ہو نے والے نہیں جب تک ہم خود متحد نہ ہوں گے انسانی حقوق کے علم بر دار مغربی ممالک کواسرا ئیلی سر پرستی کے خلا ف آواز بلند کرنے کے لیے کیسے اقدامات پر اکسا سکتے ہیں ترکی جو اسلا می ممالک میں وا حد ملک ہے جس نے اسرا ئیل کو تسلیم کیا لیکن کچھ عر صے قبل ترکی کے امدادی ساما ن پر ہو نے والے حملہ کے بعد اس کی طرف سے فلسطینی مسلما نوں پر ہو نے والے مظالم کے خلاف شدت آئی ہے اسرائیل نے معا ہدہ کیمپ ڈیوڈ اور معا ہدہ اوسلو کے تحت مذاکرات میں آزاد فلسطینی ریا ست کے حق کو تسلیم کیا تھا وہ اس سے اب منکر ہے دیگرممالک کے شرکا ءمیں بر طا نیہ اور امریکہ شامل تھے جنھوں نے اس معاہدے کی رضا مندی دی تھی لیکن یہ ممالک بھی آج خاموشی اختیار کئے ہو ئے ہیں اس وقت عالم اسلا م دو اہم سنگین مسئلوں سے دوچار ہے جن میں پہلا القدس کی آزادی دوئم مسئلہ کشمیر قبلہ اول کی آزادی صلب ہو ئے مدت ہو ئی فلسطین نے آزدی کے لیے ایک طویل جنگ لڑی آج ان کا اپنا وجود لہو لہو ہے نقل مکا نی کیے کئی عشرے گذر گئے وہ کیمپوںمیں زندگی گز ارنے پر مجبور ہیں آج پوری امت مسلمہ کو اپنی ذمہ داری کا احساس کر تے ہو ئے قبلہ اول کو ان کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے متحد ہو کر نتیجہ خیز اقداما ت کرنے ہوں گے تما م عالم اسلام کے مسلما نوں کو کشمیر انڈیا کے غاصبا نہ قبضے سے اور افلسطین کو اسرائیل سے رہا ئی دلا نے کے لیے سو چنا ہوگا۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button