ادارتی کالم

یقین نہیں آتا

مرکز میں وفاقی کابینہ تحلیل کئے جانے کے بعد ذرا کم حجم کی کابینہ بنائی جائے گی اور بعض وزارتیں اور اختیارات صوبوں کو تفویض کردیئے جائیں گے۔۔۔۔ کراچی میں کے ای ایس سی سے نکالے گئے ملازمین کے حوالے سے حکومتی فیصلہ تو درست تھا لیکن کراچی کے مخصوص سیاسی حالات میں اس فیصلے پر نظرثانی کی جارہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم حقائق کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ہم اپنے سیاسی مفادات پر ملکی مفادات کو قربان کرسکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس حال میں ہیں، ہمارا ملک اس حال میں ہے۔ بعض ادارے خود اپنے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں لیکن ہم اپنے سیاسی مفادات پر ادارے ڈبو رہے ہیں بلکہ ملک ڈبو رہے ہیں۔ مرکز کے مقابلے میں پنجاب ذرا مختلف کام کر رہا ہے اور بعض مفادات میں صوبے اور ملک کو اہمیت دے کر غیر مقبول فیصلے بھی کئے جارہے ہیں۔ مثلاً میاں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب نے ایم پی اے ہاسٹل کا دوسرا حصہ جس پر تقریباً 3ارب روپے خرچ ہونا تھے۔ ڈراپ کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔اس کے مقابلے میں مرکزی حکومت نے لگژری پارلیمانی لاجز بنانے کا اعلان کیا۔۔۔۔یہ پراجیکٹ بھی تقریباً 3ارب کا ہے۔۔۔۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں کی سوچ میں کتنا اور کیا فرق ہے۔ کل جناب ذوالفقار کھوسہ اور جناب پرویز رشید نے 550 افسران کو پنجاب کے سرپلس پول میں بھیجنے کے جس فیصلے کا اعلان کیا ہے۔۔۔۔یہ اسی طرح کا ایک فیصلہ ہے جو بہت ہی غیر مقبول فیصلہ ہے لیکن اس سے کئی بلین بچنے ہیں۔
قارئین! لاہور میں ہوں، جہاں بہار کی آمد آمد ہے، سردی آہستہ آہستہ رخصت ہو رہی ہے۔۔۔۔لیکن پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہبازشریف جانتے ہیں کہ لاہوریوں نے بسنت منانی ہی منانی ہے لہٰذا انہوں نے جناب ذوالفقار کھوسہ کی سربراہی میں خواجہ سعدرفیق، میاں مجتبیٰ شجاع اور یوسف صلاح الدین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔۔۔۔یہ تینوں پکے لاہوریئے ہیں بلکہ اندرون لاہور والے ہیں۔ یوسف صلاح الدین نے اگر جشن بہاراں اور بسنت کے فیصلے پر اثرانداز ہونا ہے تو وہ یقیناً خوبصورت فیصلے کرے گا۔۔۔۔میں نے یوسف صلاح الدین سے بسنت اور جشن بہاراں پر گھنٹوں گفتگو کی اور سنی ہے۔ یوسف چاہے گا کہ ایسا ماحول Create کرے کہ اس موقع پر دنیا بھر سے مہمان آئیں۔ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاﺅسز میں جگہ نہ رہے۔۔۔۔ لیکن دوسرے ملکوں کے علاوہ بھارت سے بھی لاکھوں مہمان لاہور آ سکیں اور لوگ اپنے گھروں میں پے انگ گیسٹ ٹھہرائیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس سال وہ اس حوالے سے اپنا Vision کہاں تک لوگوں کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے وہ جو کریں گے زبردست ہوگا۔۔۔۔ اور پھر خواجہ سعد رفیق اور مجتبیٰ شجاع بھی لاہوریئے ہیں اور لاہور کے کلچر کو خوب جانتے ہیں۔ سمجھتے ہیں۔۔۔۔ لہٰذا کوئی سیاسی ایشو نہ ہوا تو بہترین ریزلٹس سامنے آئیں گے۔
قارئین! لاہور کو داتا کی نگری بھی کہا جاتا ہے، جہاں ان دنوں حضرت داتا گنج بخشؒ کا عرس مبارک جاری ہے۔۔۔۔ دعا کریں کہ اس سال کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔
اور آخر میں دو اموات کا ذکر، لاہور ہی میں کل ہم سے رخصت ہونے والے مولانا عبدالرحمن اشرفی کی نماز جنازہ تھی۔۔۔۔ تا حدنگاہ لوگ ہی لوگ تھے۔۔۔۔ میں جب لاہور میں جنگ کا چیف رپورٹر تھا۔۔۔۔ تو خود میری Beats میں سے ایک بیٹ مذہبی رہنماﺅں اور مذہبی جماعتوں کی تھی۔۔۔۔ سالہاسال ایسا رہا کہ شاید ہی کوئی دن ہو کہ میری ان سے بات نہ ہوئی ہو۔۔۔۔اگر عبدالرحمن اشرفی صاحب سے بات نہیں ہوتی تھی تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ میری مولانا محمد مالک کاندھلوی سے بات ہوئی ہے۔ بہرحال زبردست انسان تھے۔ اُس سالہا سال کے Interaction میں میں نے انہیں بھلا انسان پایا جس کی مذہب سے کمٹمنٹ تھی اور وہ تبلیغ و اشاعت کے ساتھ طلباءکی جو تربیت اور تعلیم کر رہے تھے۔۔۔۔ اس کا اجر انہیں صرف رب العزت ہی دے سکتا ہے۔
میرے پڑھنے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ کرنل امام سے میں نے الیکٹرانک میڈیا پر کئی کئی گھنٹے کے انٹرویوز کئے۔۔۔۔ یقین نہیں آتا کہ وہ ہم میں نہیں رہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button