ادارتی کالم

ہم کیوں ہارے؟

ممتاز امیر رانجھا

پورے پاکستانیوں کی دل کی دھڑکنیں 30مارچ2011کو زور زور سے دھڑک رہی تھیں۔تمام پاکستانی قوم جس میں کیا بوڑھے، کیا بچے ، کیاجوان اور کیا خواتین سب بڑے ہی جوش و خروش سے میچ شروع ہونے سے آدھا گھنٹا پہلے اپنے ٹی وی سیٹ کے سامنے ”سیٹ“ ہو کے بیٹھ گئے۔کئی جگہوں پر دوست ،کزن اور رشتہ دار اکٹھے ہو گئے۔سب کے دلوں میں حب الوطنی اور انڈیا سے جیت کی لگن چھُپائے نہیں چھُپ رہی تھی۔ہرآنکھ پاکستان کوہر حال میں جیتتا دیکھنا چاہتی تھی۔انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ۔جیسے ہی کو ئی انڈین پلیئر آﺅٹ ہوتا ہر پاکستانی خوشی میں جھوم اٹھتا۔یہ جذبہ دیدنی تھا۔
ہمارے فیلڈرز نے اس میچ کو ہرانے میں” مین“ کردار ادا کیا۔یقین کریںاگر ٹنڈولکر کو یکے بعد دیگرے چار چانس نہ ملتے ،اس کا ایک بھی کیچ ہو جاتا تھا توانڈین ٹیم نہ صرف 180کے سکور تک بمشکل جاتی بلکہ ہم بآسانی میچ جیت جاتے۔خیر یہ مکافات عمل ہے۔ایسا ہونا اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، یہ کھیل کا حصہ ہے کہ ایک ٹیم کھیل کر ہی ہارتی ہے اور دوسرے کھیل کر ہی جیتتی ہے۔
عمرگُل نے اپنے ہر اوور میں ”فُل ٹاس“ بالزکی بھرمار کی۔یہ شاید اس کے لئے اور پاکستانی ٹیم کے لئے بُرا دن تھا ورنہ اکثر عمر گُل تمام میچز میں اکنامیکل باﺅلنگ کراتا ہے۔مگر سیمی فائنل میں نہ صرف اس کی بہت ٹھکائی ہوئی بلکہ اس کی وجہ سے انڈیا کا سکور 260تک جا پہنچا۔باقی تمام باﺅلرز نے تقریباً بہت اچھی باﺅلنگ کی۔اگر ہمارے باﺅلرز انڈین ٹیم کی طرح ان کے تمام بیٹسمینوں پر مسلسل پریشر رکھتے تو شاید ان کا سکور200تک محدود ہو جاتا لیکن افسوس ہمارے باﺅلرز اپنا یہ گُر دکھا نہیں سکے۔سب سے اچھی باﺅلنگ وہاب ریاض کی رہی،اس نے شعیب اختر کی غیر موجودگی میں اپنی شمولیت کو درست ثابت کرتے ہوئے انڈیا کے پانچ اہم کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا۔اگر ہماری کرکٹ ٹیم سعید اجمل کو ڈراپ کر کے اس کی جگہ شعیب اختر کو کھلاتی تو بھی انڈین بیٹسمین جلد فارغ ہو جاتے۔علاوہ ازیں شعیب اختر کو بھی اپنے کیرئر کا آخری ون ڈے کھیلنے کا موقع مل جاتا۔شعیب اختر کا آخری میچ کھلائے بغیر ریٹائرڈ ہونا بھی کوئی اچھی روایت نہیں ہے۔ہمارے وکٹ کیپر کامران اکمل کی ایک بڑی نالائقی ہی سمجھیں کہ اس نے انڈیا کے وکٹ کیپر اور کپتان کا کیچ بھی اپنی فیلڈنگ میں ڈراپ کیا یہ بات یقینا کسی پاکستانی کو نہیں بھولے گی۔آفریدی سمیت تمام کھلاڑیوںنے اپنی زبان کا پاس رکھتے ہوئے ٹنڈولکر کو سینچری سے پہلے آﺅٹ کر کے میدان سے باہر بھیج دیا۔
جب بیٹنگ لائن کی باری آئی تو ہمارے تمام بیٹسمین حسبِ روایت پِچ پر ٹِکنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آئے۔دو چیزیں انسان کو بہت نقصان دیتی ہیں ایک خوش فہمی اور دوسری چیز کسی بھی بات کو دماغ پر خواہ مخواہ کا پریشر لے جانا ہے۔سیمی فائنل میں ہمارے کھلاڑی بیٹنگ کے وقت ذہنی پریشر لے گئے ورنہ موہالی کی وکٹ پر260سکور کوئی اتنا بڑا ہدف نہیں ہے کہ کوئی ٹیم اسے عبور نہ کر سکے۔
محمد حفیظ اور کامران اکمل نے بہت اچھا سٹارٹ لیا۔اسد شفیق نے ٹیم کو پریشر سے نکالا۔محمد یونس اور مصباح الحق نے ساری گیم کا بیٹر ا غرق کر کے رکھ دیا۔ان دونوں کو ون ڈے ٹیم میں شامل کرنا ٹیم اور قوم کے ساتھ سخت زیادتی ہے۔جتنا آہستہ یہ کھیلتے ہیں اتنی سستی میں تو کمزور سے کمزور ٹیم کے باﺅلرز بھی اچھی اچھی ٹیمز کو گراﺅنڈ سے باہر کر دیتے ہیں۔سکور بہت باقی تھا مگر یہ دونوں موصوف سست روی سے نہ جانے کون سے پوزیشن ”سیٹ“ کرتے رہے۔ون ڈے میچ اور باالخصوص سیمی فائنل میں میڈ ان اوورز کروا دینا ان دونوں بیٹسمینوں کی شدید غلطی ہے۔عمر اکمل نے اچھی بیٹنگ کی مگر اس کو تھوڑی دیر رک جانا قوم اور ٹیم کے لئے کافی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔وہ اپنی باڈی لنگوئج سے کنفیوز ڈ نظر آ رہا تھا۔شاہد آفرید ی نے اپنی اور مصباح الحق کی موجودگی میں پاور پلئےر نہ لے کر کوئی اچھا قدم نہیں اٹھایا۔عبد الرزاق کا بیٹ بھی کوئی پلاسٹک کا بیٹ دکھائی دے رہا تھا۔
اس ساری صورت حال سے ایک دن پہلے رحمٰن ملک صاحب کا ٹیم کے لئے جاری کردہ فتویٰ بھی ٹیم اور قوم کے لئے بہت افسوسنا ک ثابت ہوا۔جب بھی کوئی بڑا بندہ کوئی چھوٹی حرکت کر تا ہے تو وہ نہ صر ف اس بڑے بندے کوئی زیب نہیں دیتی بلکہ اس بات کا صدمہ متاثرہ فریق کو سخت مایوس کرتا ہے۔ٹیم کو انڈیا سے ہار پر اتنی ملامت کی ضرورت نہیں ہے جتنی کہ رحمٰن ملک کو اپنے اس بیان پر ملامت ہونی چاہیئے۔چلیں ہماری ٹیم انڈیا سے ہار گئی سب کو بہت افسوس ہے لیکن پھر بھی ہمیں ڈی مورال نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ ہماری ٹیم اتنی کمزور ہونے کے باوجود شاہد خان آفریدی کی باﺅلنگ کے سہارے یہاں تک پہنچی ،یہ بات بہت معنی رکھتی ہے۔ہماری ٹیم ہاری مگر ظالم ”سٹ باز“ جیت گئے اورجوئے بازوں نے اربوں روپیہ ٹرانسفر کروا لیا۔انڈیا سے تعلقات ٹھیک ہونا مثبت ہے لیکن پھر بھی ان سے ہوشیار رہنا ہماری قوم اور حکمرانوں کے لئے بہت ضروری ہے۔جس کا مذہب اصولوں پر مبنی نہ ہو اس سے کسی بھی قسم کے اصول کی توقع رکھنا سرا سر بیوقوفی ہے۔ہم ہندوستان سے میچ کیوںہارے ؟ یہ کوئی بڑا ایشو نہیں ہے۔یہ تو پارٹ آف گیم ہے لیکن ہم اگرہندوستان سے اپنا پیارا کشمیر اور اپنے دریاﺅں کا پانی ہار جائیں یہ ہمارے حکمرانوں کی حماقت ہو گی اور یہ ایک بہت بڑا ”کاز“ ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button