ادارتی کالم

ہار جیت

طارق حسین بٹ(چیر مین پاکستان پیپلز ادبی فورم)
کرکٹ ورلڈ کپ کا آغاز ۵۷۹۱ کو ہوا اور اس دن سے لے کر آج تک پاکستان اور بھارت جب بھی ور لڈ کپ میں ایک دوسرے کے مدِ مقا بل آئے اس میں بھارت ہمیشہ ہی فتح یاب ہو کر نکلا اور پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کی وجو ہات تو بے شمار ہیںکہ پاکستان ہر بار شکست سے دوچار کیوں ہو تا ہے اور بھارت کے حصے میں ہی کامیابی و کامرانی کیوں آتی ہے۔لیکن اس دفعہ آئی سی سی ورلڈ کپ ۱۱۰۲ میں پاکستانی ٹیم کی اعلی کارکردگی سے یہ امید بندھی تھی کہ اس دفعہ ہماری ٹیم بھارت کو اس کے اپنے میدانوں میں شکست سے دو چار کرے گی اور ورلڈ کپ میں ہر دفعہ ہارنے کی روائت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ موہالی کا میدان پاکستانی کھلاڑیوں کے لئے بڑی خوشگوار یادیں رکھتا ہے کیونکہ اسی میدان میں بھارت کے۱ ۲۳ رنز کے ایک بہت بڑے حدف کو پاکستانی ٹیم نے جیت کر اپنی برتری کا ثبوت دیا تھا۔ وہ کھلاڑی جنھوں نے اتنے مشکل ھدف کو حاصل کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا وہ سیمی فائنل میں بھی ٹیم کا حصہ تھے لہذا اس یادگار فتح کا ری پلے دیکھنے کے لئے پوری قوم بےتاب تھی۔ اس شاندار فتح کی خو بصورت یادیں مو ہالی کے میدان میں چاروں طرف بکھری پڑی تھیں جو پاکستانی کھلا ڑ یوں کے حوصلوں کو بلند کرنے اور انھیں ہمت دلانے میں بڑی ممدو معاون ثابت ہو رہی تھیں اور ان کی جیت میں بنیادی کردار ادا کر سکتی تھیں ۰۶۲ کے آسان ھدف سے بظاہر یہی لگتا تھا کہ پاکستان یہ میچ با آسانی جیت کر بھارت میں فتح و کامرانی کے جھنڈے گاڑ دے گا لیکن افسو س صد افسوس کہ ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا بلکہ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی میدان بھارت کے ہی ہاتھ لگا اور پاکستان کو ایک جیتی ہوئی بازی کو ہارنے کی خفت کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔
ورلڈ کپ ۱۱۰۲ کے آغاز سے قبل پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اتنی شاندار نہیں تھی بلکہ ٹیم میں گروب بندی اور میچ فکسنگ کے الزامات کی وجہ سے اس کی کارکردگی بر ی طرح متاثر ہو ئی تھی پاکستانی ٹیم کے تین مایہ ناز کھلاڑیں محمد عامر، محمد آصف اور سلیمان بٹ پر پابندی سے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر بڑا برا اثر پڑا تھا اور اسکا باﺅ لنگ کا شعبہ انتہائی کمزور ہو گیا تھا۔لیکن و رلڈ کپ کے گروپ میچز میں پاکستانی ٹیم کی اعلی کارکردگی نے امیدوں کے چراغ روشن کر دئے تھے ۔سری لنکا اور اسٹریلیا کو شکستِ فاش سے دوچار کرنے کے بعد ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے ورلڈ کپ پاکستان کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔پاکستانی کھلاڑیوں کا مو رال بہت بلند تھا اور ان کے حوصلے ہما لیہ کی بلندیوں کو چھو رہے تھے وہ یک جان ہو کر کھیل رہے تھے اور بڑی سے بڑی ٹیم کا سامنا کرنے اور اسے شکت دینے کےلئے بے تاب ہو رہے تھے۔ ان کی خوداعتمادی اور ٹیم سپرٹ نے ان کو ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم کا درجہ دے دیا تھا۔ورلڈ کپ ان سے ایک قدم کے فاصلے پر تھا اور وہ اس ورلڈ کپ کو اٹھانے کےلئے بڑے بے چین ہو رہے تھے سری لنکا کی ٹیم جو فائنل کے لئے کوا لیفائی کر چکی تھی ہے پہلے ہی پاکستان سے شکست کھا چکی تھی لہذا کپ اٹھانے میں بھارت ان کے راستے کی آخری دیوار تھا اور پاکستانی ٹیم اس دیوار کو گرانے کا مصمم ارادہ کئے ہو ئے تھی۔ جذبوں کاا یک طوفان تھا جو ان کے سینوں میں موجزن تھا اور اہلِ وطن کی دعا ئیں اور پشت پناہی ان کے جذبوں کو مزید مہمیز دے رہی تھی ایسے لگتا تھا کہ جذ بوں کی بے پناہ قوت کے سامنے ٹھہرنا بھارتی ٹیم کے بس کی بات نہیں ہو گی۔
۰۳ مارچ پاک بھارت سیمی فائنل کے ٹکراﺅ کا دن تھا ور موہالی کا میدان اس ٹکراﺅ کی آ ماجگاہ تھا۔ بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ بھارت کے دونوں سلامی بلے بازوں وریندر سنگھ سواگ اور سچن ٹنڈولکر نے صرف چھ اوورز میں ۸۴ رنز کی پاٹنرشپ سے بھارت کو اچھا آغاز فراہم کر دیا تھا۔ لگتا تھا کہ بھارت ایک بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہو جائے گا لیکن ریاض وہاب کی شاندار فاسٹ با ﺅ لنگ جس میں انھوں نے پانچ کھلاڑیوں کو پویلین کا راستہ دکھایا بھارت کے حوصلوں کو پست کرنے کا سبب بنی۔انھوں نے اپنی اعلی پرفارمنس سے بھارت کے بڑے سکور کرنے کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔کپتان شاہد آفریدی اور سعید اجمل نے ریاض وہاب کا بھر پور ساتھ دیا اور بھارتی ٹیم صرف ۰۶۲ رنز بنانے میں کامیاب ہو سکی۔ایک وقت تھا کہ بھارتی ٹیم تین سو سے زائد سکور کرنے کی پوزیشن میں تھی اور کہاں پاکستا ن کی اعلی باﺅ لنگ نے انھیں ۰۶۲ کے ھدف تک محدود کر دیا۔سچن ٹنڈولکر کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی جم کر پاکستانی باﺅلروں کا مقابلہ نہ کرسکا۔ سچن ٹنڈولکر کے ۵۸ رنز میں ان پانچ کیچز کا بڑا ہاتھ ہے جو ہمارے کھلاڑیوں نے بلا وجہ چھوڑے ۔وریندر سواگ کے ۸۳ رنز اور راعنا کے ۶۳ رنز کے علاوہ کوئی بھی بھارتی بلے باز پاکستان کی نپی تلی باﺅلنگ کا مقابلہ نہ کرسکا۔دنیا کی بہترین بیٹنگ سائڈ پاکستانی باﺅ لنگ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پاکستانی باﺅلروں کا جادو سر چڑھ کر بولا۔عمر گل نے سارے ٹورنا منٹ میں بہت اعلی گیند بازی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن سیمی فائنل کے پریشر میں اپنی روائتی باﺅلنگ کا مظاہرہ نہ کر سکے۔اگر سچن ٹنڈولکر کا کیچ ابتدا میں لے لیا جاتا تو شائد عمر گل کی باﺅلنگ میں بھی جان آجاتی لیکن ایسا نہ ہو سکا اور عمر گل سیمی فائنل کے سب سے مہنگے باﺅ لر ثا بت ہوئے۔
کامران اکمل اور محمد حفیظ نے پاکستانی اننگز کا زبردست آغاز کیا اور ایک اچھی پا ر ٹنرشپ سے پاکستانی فتح کی ٹھو س بنیا دیں فراہم کیں ۔ پہلی وکٹ کی پارٹنرشپ میں ۷۴ رنز کا اضافہ کرنے کے بعد کامران اکمل ایک با ہر جاتی ہوئی گیند کو کھیلنے کے شوق میں پنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ اسد شفیق اور محمد حفیظ نے بڑی سمجھ بوجھ سے میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی اور سکور اپنی مطلوبہ اوسط سے آگے بڑھتا رہا۔ محمد حفیظ نے ایک انتہائی غلط شارٹ سے اپنی وکٹ کھو دی تو میچ بھی پاکستانی ٹیم کے ہاتھوں سے کھسکتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ اگر چہ اسد شفیق اب بھی میدان میں موجود تھے لیکن جب انھوں نے اندر آتی ہوئی ایک نیچی گیند کو کٹ کرنے کی کوشش کی تو میچ کا پانسہ بھارت کے حق میں پلٹ چکا تھا۔یونس خان اور مصبا ح الحق نے جس طرح سے بیٹنگ کی اور جس طرح سے پاکستانی قوم کے ساتھ مذاق کیا وہ ایک الگ داستان ہے ۔ساری عمر کرکٹ کے میدانوں میں اپنی زندگی بسر کرنے والے مصبا ح الحق میں کیا اتنا بھی ٹیلنٹ نہیں تھا کہ وہ کھیل کو اپنے ہاتھ میں لے کر ا پنی بیٹنگ کے جوہر دکھاتے۔پورا پورا اوور میڈن گزارنے والے مصبا ح الحق نے جس طرح سے بھارتی باﺅلروں کو اپنے اوپر حاوی کیا اسے کرکٹ کے پنڈت اور عوام سمجھنے سے قاصر ہیں۔وکٹیں گرتی رہیں اور مصبا ح الحق میڈن اووروں سے بھارتی باﺅ لروں کے حوصلوں کو ہوا دیتے رہے۔
سیمی فائنل کی اہمیت کے پیش نظر پورے پاکستان میںعام تعطیل تھی ساری قوم ٹیلیو یزنوں کے آگے بیٹھی ہو ئی تھی اور پاکستان کی فتح کےلئے دعائیں مانگ رہی تھی۔اس میچ میں ہر پاکستانی کا دل اٹکا ہوا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ پاکستان بھارت کو اسکی اپنی سرزمین پر شکستِ فاش سے دوچار کرے۔ انکی امنگیں جوان تھیں ان کی ہمتیں بلند تھیں ان کے خواب حسین تھے ان کے سارے سپنوں کی ایک ہی صدا تھی کہ بھارت کو بھارت میں شکست دی جائے۔ دھشت گردی کی خون آلود فضا میں امن کے پجاری امن کا چھکہ دیکھنے کے آرزو مند تھے ، وہ اس ورلڈ کپ سے دنیا کو امن و محبت کا پیغام دینا چاہتے تھے وہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ پاکستانی قوم دھشت گرد نہیں بلکہ امن پسند ہے۔ وہ ورلڈ کپ کی جیت سے ملک میں بے آباد میدانوں میں پھر سے کھیلوں کے جذبے اگا نا چاہتے تھے۔وہ نوجوان نسل کو کھیلوں کی جانب راغب کرنا چاہتے تھے ۔وہ دھشت گردی کا مقابلہ محبتوں کے بیج بو کر کرنا چاہتے تھے۔کھیل کے میدانوں میں روشن شمعوں سے وہ دھشت گردی کے اندھیروں کو دور کرنا چاہتے تھے۔کیا یہ ستم ظریفی نہیں ہے کہ وہ ٹیم جو ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں کوالیفائی کر تی ہے اسکے میدانوں میں اس کھیل پر عالمی پابندی لگی ہوئی ہے ۔عالمی کرکٹ کے کرتا دھرتوں کےلئے لمحہ ِ فکریہ ہے کہ انھوں جس ٹیم کو اپنے تعصب اور جانبداری سے دنیا ئے کرکٹ سے نکانے کی سازش کی تھی وہی ٹیم دنیا کی تیسری بڑی ٹیم ہے۔ سری لنکا میں دھشت گردی اور مسلح جدو جہد برس ہا برس رہی لیکن اسکے باوجود سری لنکا میں ورلڈ کپ کے میچز بھی ہوئے اور اسکے ہاں ٹیمیں بھی وزٹ کرتی رہیں ۔بھارت میں ۷۸۹۱ کے ورلڈ کپ کے دوران بھارتی پنجاب میں یورش اپنے عروج پر تھی لیکن اس وقت تو کسی نے بھار ت کو ورلڈ کپ کی میزبانی سے محروم کرنے کی سازش نہیں کی تھی لیکن پاکستان جو دنیا ئے کرکٹ کا تیسرا بڑا ملک ہے اسکے ساتھ امتیازی سلوک کیوں۔ پاکستانیوں کو علم ہے کہ اس ساری کاروائی کے پیچھے بھارت ہے تبھی تو وہ اسے اسکے گھر میں شکست دینے کا عزم کئے ہو ئے ہیں۔
ورلڈ کپ اپنے انجام کو پہنچا لیکن اپنے پیچھے بہت سے سوال چھوڑ گیا۔پاکستانی ٹیم میں ایک نہیں دو باﺅلنگ کوچ ہیں لیکن کیا وہ بتا نا پسند کر یںگے کہ باﺅ لنگ کے شعبے میں ان کی کارکردگی کیا ہے اور انھوںنے کونسا فا سٹ باﺅ لر پاکستان کے لئے تیار کیا ہے۔ایک باﺅ لنگ کوچ کی تو سمجھ آ سکتی ہے لیکن دو کوچز اور وہ بھی فاسٹ باﺅلنگ کے شعبے میں سمجھ سے بالا تر ہے۔ بیٹنگ کا شعبہ جو حقیقی توجہ کا مستحق ہے وہاں پر کوئی بھی کوچ نہیں ہے ۔سپن باﺅلنگ کا شعبہ بھی توجہ چاہتا ہے اور فیلڈنگ کا تو ابڑا برا حال ہے اور اسے بھی نظر انداز کیا ہوا ہے اور سارا زور فاسٹ باﺅلنگ کے کوچز پر مرکوز کیا ہوا ہے۔اقربا پروری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے لیکن پاکستانی کرکٹ میں اقربا پروری اپنی ساری حدوں سے تجاوز کئے ہوئے ہے۔ کرکٹ کا موجودہ ٹیم مینیجر ایک مخصوص لابی سے تعلق رکھتا ہے کرکٹ کے دونوں کوچز اسی مخصوص لابی سے ہیں اور یہ لابی پچھلی کئی دہائیوں سے کرکٹ پر اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے اور ان لوگوں کو جو کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں کرکٹ کے دائرے میں داخل نہیں ہو نے دے رہی ۔وقت آگیا ہے کہ اربابِ اختیار ایسے لوگوں سے کرکٹ کو پاک کر یں اور انتظامی امور میں ان افراد کا تقرر کریں جو کرکٹ کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں اور جن کی صلاحیتوں کی دنیا معترف ہے۔
یہ سچ ہے کہ فتح و شکست کھیل کا حصہ ہو تا ہے ۔ اس میں ایک ٹیم کو ہارنا ہوتا ہے اوردوسری ٹیم کو جیتنا ہوتا ہے۔ لہذا ہار اور جیت میں تحمل، برداشت اور صبر کا دامن تھامنا ہی جی داروں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔ پا کستا ن نے ہمیشہ ہی سپور ٹسمین سپرٹ کا مظاہرہ کیا ہے اور شکست کو وقار کے ساتھ گلے لگایا ہے اور فتح پر دل کھول کر جشن منایا ہے۔ لیکن کوئی ہے جو اس راز سے پردہ اٹھانے کی جسارت کرے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کا میچ اتنی جذباتیت کا حامل کیوں ہوتا ہے۔یہ سچ ہے کہ پاکستان اور بھارت کا میچ ظاہراّ کرکٹ کا میچ ہوتا ہے لیکن اصل میں کوئی دوسری جنگ ہوتی ہے جو کھیل کے میدان میں لڑی جا رہی ہوتی ہے اور میچ کے روپ میں بہت سے دوسرے حساب چکائے جا رہے ہوتے ہی۔پاکستان اور بھارت کی اتنی تلخ یادیں ہیں کہ انھیں بھلانا ممکن نہیں ہے۔ بھارت سے دوستی محبت اور بھائی چارے کے سارے نعروں کے نیچے سے دفعتاَتحریکِ آزادی کے دوران بہے ہوئے خون کی ہلکی سی چھینٹ نمودار ہو کر سارے ماحول کو خون آلود کر دیتی ہے اور ہم میں پھر وہی غیرت اور حمیت جاگ جا تی ہے۔ پوری قوم پاکستان کے جھنڈے اٹھا کر پوری طاقت سے نعرہ زن ہو جاتی ہے اور خم ٹھو نک کر بھارت کی جارحیت کو شکست دینے کےلئے یک جان ہو جاتی ہے۔ہمارے میچز دوسری ٹیموں کے ساتھ بھی ہوتے یںاور ا ن میچز میں ہم فتح و شکست سے بے نیازا ن میچز سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن بھارت کا میچ ہمارے لئے غیرت و حمیت کا مسئلہ ہوتا ہے اور ہم اس میچ کوا نہی جذبوں سے کھیلتے اور دیکھتے ہیں۔
وہ قوم جو انتشار کا شکار ہے دھشت گردی کی لپیٹ میں ہے علاقائی سوچ میں تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہی ہے بھارت کے ساتھ اس کا ایک ہی میچ اسے یکجہتی اور اتحاد عطا کرجاتا ہے اور پاکستانیت پورے جذبوں کے ساتھ نمو دار ہو کر ایک قوم کی صورت میں متشکل ہو جاتی ہے۔ میرے لئے یہ بڑے فخراور ا طمنان کی بات ہے کہ بھارت کے خلاف میچ ہمیں قومی جذبوں سے سرشار کر دیتا ہے لہذا میں ان لوگوں سے متفق نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ بھارت کے میچ کو بھی عام میچوں کی طرح لیا جانا چائیے۔مسلمانوں کے خلاف عناد اور کشمیریوں پر ظلم و ستم میں ہمیں بھارت کے خلاف ہر میچ کو اسی تناظر میں دیکھنا ہو گا جس میں پوری قوم اسے دیکھتی اور اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہے۔ بھارت پر صدیوں پر محیط مسلمانوں کے اقتدار ا،برتری اور تفاخر کا تصور چند سالوں میں کہاں نکل سکتا ہے جب تک یہ تفاخر لہو بن کر ہماری رگوں میں دوڑتا رہے گا ہمارا ردِ عمل یہی ہوگا ۔ وہ لوگ جو پاکستا نی قوم میں پاکستانیت سے مایوس ہو چکے ہیں انکی اطلاع کےلئے عرض ہے کہ وہ پاک بھارت میچ کے دوران اپنے گھرو ں سے باہر نکلیں اور قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ دیکھیں تو انھیں ادراک ہو جائےگا کہ پاکستانی قوم اپنی شناخت کے معاملے میں بڑی جذباتی ہے۔ بے شمار کمزوریوں کے باوجود ہم سچے پاکستانی ہیں ہمیں بس ایک قائد کی ضرورت ہے جو ہمارے ان جذ بوں کو پا کستانیت کے پیکر میں ڈھال کر ہمیں دنیا کی بہترین قوم بنا دے۔ مجھے یقینِ کامل ہے کہ ایسا ضرور ہو گا کیونکہ دیدہ ور نے کئی عشرے قبل بڑے واشگاف اور پراعتماد الفاظ میں اسکا اظہار کر دیا تھا۔
نہیں ہی نا امیداقبال اپنی کشتِ ویراں سے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
(ڈاکٹر علامہ محمد اقبال)
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button