ادارتی کالم

کیا ہمیں عید منانی چاہئیے

تحریر: عدنان شاہد

کل مجھ سے میرے ایک دوست نے پوچھا کہ کیا تم نے عید کی شاپنگ کرلی ہے ؟ اور میرے جواب کا انتظار کئے بناء ہی اپنی کی ہوئی خریداری کی تفصیل بتانے لگا. اور کچھ دیر بعد جب اس کی گفتگو ختم ہوئی تو پھر مجھ سے پوچھنے لگاکہ تم نے بتایا نہیں ؟جس پر میں نے کہا کہ نہیں یار میں اس بار عید کی شاپنگ نہیں کروں گا .وہ بہت حیرانی سے پوچھنے لگا کہ تم شاپنگ کیوں نہیں کروگے.جس پر میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہمیں عید منانی چاہئیے ؟ وہ بڑا حیران ہوکر پوچھنے لگا کہ کیوں نہیں منانی چاہئیے؟
میں نے اس کو بتایا کہ

ہمارے ملک کے اہم شہر کراچی میں معصوم لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے.
ملک میں خود کش حملے ہورہے ہیں جن میں معصوم عوام اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہی ہے.
امریکہ بہادر ڈرون حملے کرکے معصوم لوگوں کا قتل عام کررہا ہے.
مہنگائی حد سے زیادہ ہوگئی ہے کہ غریب آدمی کےلئے ایک وقت کا چولہا جلانا مشکل ہورہا ہے.
کرپشن حد سے بڑھ چکی ہے.
حکومت ملک کو تقسیم کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی.
سیاسی پارٹیوں نے اپنی بندربانٹ لگارکھی ہے اور ملک کی اس ملک کی عوام کی کسی کو فکر نہیں ہے.
بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ عروج پہ ہے.

تو ایسے میں جب وطنِ عزیز کا رواں رواں لہو لہان ہے تو میں بھلا عید کیسے مناسکتا ہوں.جس پہ میرے دوست نے سر پکڑ لیا اور کہنے لگا کہ یار تو کیوں ایسے ہی ہلکان ہورہا ہے اور کیسے بہکی بہکی باتیں کررہا ہے . تم نے تو میرا بھی سارا مزا کِرکرا کردیا ہے.جس پر میں نے اس سے معذرت کرلی اور وہ چلا گیا.لیکن میرے ذہن میں اب بھی وہی بات گھوم رہی ہے کہ ہم عید کیونکر مناسکتے ہیں یا کیا ہمیں عید منانی چاہئیے؟

ہم لوگوں کا عمومی رویہ اس قسم کا ہوچکا ہے کہ جب تک ہماری اپنی ذات کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو یا کوئی سانحہ پیش نہ آئے تب تک ہمیں حالات کی سنگینی کا احساس نہیں ہوتا.اور ہماری سوچ یہی ہوتی ہے کہ کون سا ہمارے ساتھ یہ سب ہورہا ہے. ہمارا گھر یا ہمارا شہر تو محفوظ ہے. لیکن ایسا سب کب تک چلے گا. اگر ہمارا رویہ اسی طرح کا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری باری بھی آجائے گی.
میرے ذاتی خیال سے تو ہمیں عید نہیں منانی چاہئیے .
عید کے موقع پر کراچی کے حالات سے مطابقت رکھتا ایک شعر

بڑی انوکھی عید کی خریداری ہے میرے شہر میں
لوگ رو رو کر کفن خرید رہے ہیں اپنے پیاروں کے لیے

اللہ پاک ہم سب کو اس مقدس مہینے کے طفیل معاف فرمائے اور پاکستان کے ہرہر شہر کو امن و امان کا گہوارہ بنائے . آمین
اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا. اللہ پاک آپ کا، میرا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

Related Articles

جواب دیں

Back to top button