ادارتی کالم

کنٹریکٹ افسران ایوان صدر اور عدلیہ آمنے سامنے

عثمان حسن زئی
[email protected]
خبر ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سپریم کورٹ کے احکام کی روشنی میں کنٹریکٹ پر تعینات ایک درجن کے قریب افسران کو فارغ کرنے کے احکام جاری کردیے۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق فارغ ہونے والوں میں آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک، آئی جی لاڑکانہ دین محمد، ڈی آئی جی گلگت فرمان علی، ایڈیشنل آئی جی ریلوے میاں اختر حیات، ایم ڈی پی ایچ اے محمد علی آفریدی، ڈی آئی جی ناصر حسین کھوسہ، ڈی آئی جی میجر (ر) خرم گلزار، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی بی اصغر محمود، ڈائریکٹر آئی بی طارق جمیل، ممبر کسٹم ودود خان اور ڈی جی ای گورنمنٹ خرم شہزاد شامل ہیں۔ فارغ ہونے والے مذکورہ افسران اپنی سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کنٹریکٹ پر اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ اس سے قبل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کنٹریکٹ افسران کی تقرریاں منسوخ نہ کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”حکومت عدلیہ سے ٹکراﺅ پر اتر آئی ہے۔ عدالت کی معاونت کی بجائے روڑے اٹکائے جارہے ہیں، ہر حکم ہوا میں اڑایا جارہا ہے۔“ یاد رہے کہ سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی حکومتوں نے کنٹریکٹ پر بھرتی تمام افسران کو پہلے ہی نکال دیا تھا۔
کنٹریکٹ افسران کا معاملہ حج کرپشن کی تحقیقات کے دوران زیادہ واضح طور پر عدالت کے سامنے آیا۔ خاص طور پر کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈی جی ایف آئی اے وسیم احمد کی جانب سے حج اسکینڈل کی تحقیقات میں روڑے اٹکانے پر عدالت عظمیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے کنٹریکٹ افسران کی فہرست طلب کی تھی جو اگلی سماعت پر پیش کردی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ منگل کے روز چیف جسٹس نے کنٹریکٹ ملازمین کے معاملے کو حج کرپشن کیس سے علیحدہ کرنے کی حکومتی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کیس اور معاملے کو علیحدہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایک کنٹریکٹ ملازم کی وجہ سے ہی یہ کیس خراب ہوا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اپنی مدت ملازمت پوری کرنے والے سرکاری ملازمین کی دوبارہ بھرتی کے رحجان سے قابل لوگوںکی حق تلفی ہورہی ہے، ان افسران کو کنٹریکٹ پر رکھنا غیر قانونی ہے، لہٰذا حکومت ان افسران کو فی الفور ان کے عہدوں سے فارغ کرے۔urdusky-writer-22
فارغ کیے جانے والے کنٹریکٹ افسران میں سے کئی ایک تو ایسے بھی ہیں جنہیں اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد کئی کئی بار توسیع دے کر نوازا گیا ہے جبکہ کئی سینئر، اہل، قابل، محنتی، دیانتدار اور ایماندار افسران کو نظر انداز کردیا گیا۔ جس کے باعث بیورو کریسی میں بھی خاصی بے چینی اور برہمی پائی جاتی تھی، کیونکہ مدتوں سے ترقی کے منتظر افسران کی امیدوں پر اس وقت اُوس پڑجاتی ہے جب انہیں ترقی دینے کی بجائے سابقہ افسر کو ہی توسیع دے دی جاتی ہے یا کسی اور کو بالا ہی بالا اعلیٰ اسامیوں پر لاکر مسلط کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے محروم رہ جانے والے اہلکاروں میں احساس کمتری مزید بڑھ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت اعلیٰ عہدوں پر نئی بھرتیوں کی بجائے منظور نظر افراد کی کنٹریکٹ پر تعیناتی کو ترجیح کیوں دیتی ہے تو اس کا جواب بہت سیدھا اور آسان ہے، حکومت کنٹریکٹ افسران کی تقرری کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔ اس طرح کی تقرریوں سے ایک تو اپنے وفادار افسران کو اہم عہدوں پر بٹھاکر کام نکالا جاتا ہے تو دوسری طرف کنٹریکٹ پر تعینات ہونے والے افسر بھی حکمرانوں اور پارٹی رہنماﺅں کا احسان مند ہونے کی وجہ سے ہر طرح کی ”خدمت“ کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ حکمران انہیں جیسے چاہیں استعمال کرتے ہیں اور وہ بھی انکار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے قومی اداروں کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے، کرپشن کو فروغ ملتا ہے، قومی کی بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ملک کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے، یہ افسران ”اوپر والوں“ کے دباﺅ تلے رہنے کی وجہ سے آزادانہ کام نہیں کرسکتے جس کا نقصان بھی براہ راست قومی اداروں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان افسران کی تعیناتیوں کی بدولت ہی عدالتی احکام پر عملدرآمد میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ایوان عدل میں بیٹھے منصفوں کے احکام کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ان ہی افسران کے ذریعے کرپٹ افراد کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے کیونکہ ایسے افسران چند شخصیات کی خواہشات کو پورا کرنا ہی اپنا اصل اور حقیقی فرض سمجھتے ہیں۔ اداروں کا انتظامی ڈھانچہ سفارش اور چاپلوسی کی وجہ سے ہل کر رہ جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کنٹریکٹ افسران کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ ان کے پاس محدود وقت ہے اس لیے وہ اداروں کی بہتری کے لیے ٹھوس اور موثر منصوبہ بندی کرنے کی بجائے فوری اور ہنگامی نوعیت کے معاملات پر ہی توجہ مرکوز رکھتے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ان کی اصل توجہ تھوڑے وقت میں اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مفاد سمیٹنے پرہے جس کا نقصان بالآخر اس غریب قوم کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اعلیٰ اسامیوں پر فائز سیاسی وابستگی رکھنے والے کنٹریکٹ افسران پر ہاتھ ڈال کر قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی ہے، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے اس جرات مندانہ اقدام کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے لیکن بات تو تب ہے جب حکومت بھی اعلیٰ عدلیہ کے اس فیصلے پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنائے۔ وزیراعظم گیلانی نے عدالتی حکم پر ایک درجن کے قریب کنٹریکٹ افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا ضرور دیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ کئی بااثر ملازمین پر ہاتھ نہیں ڈال سکے یا انہیں برطرف کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایوان صدر میں تعینات دو افسران کا معاملہ خاصا قابل غور معلوم ہوتا ہے۔ سابق چیئرمین اسٹیل ملز سلمان فاروقی جو اس وقت صدر زرداری کے جنرل سیکرٹری کے طور پر کام کررہے ہیں انہیں اپنے عہدے پر تاحال برقرار رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سلمان فاروقی کو وفاقی وزیر کا درجہ بھی حاصل ہے۔ اس اقدام سے محسوس ہوتا ہے کہ ایوان صدر ان کی پشت پر ہے، اسی لیے وزیراعظم گیلانی نے اس طرف سے آنکھیں موندلی ہیں۔ اسی طرح ایوان صدر ہی میں تعینات گریڈ 22 کے افسر ملک حیات اور ڈی جی ایف آئی اے وسیم احمدکو بھی اپنے عہدے پر برقرر رکھا گیا ہے جس سے عدالتی احکام پر عملدرآمد کے حوالے سے حکمرانوں کی نیت میں فتور ظاہر ہوگیا ہے اور ان اسامیوں پر کنٹریکٹ افسران کو برقرر رکھنے کی وجہ سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس ساری صورتحال سے عوامی طور پر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تو عدالتی فیصلے پر دل و جان سے عملدرآمد کرتے ہیں لیکن ایوان صدر درمیان میں دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس اقدام نے ایوان صدر کو مزید کمزور پوزیشن پر لاکھڑا کردیا ہے جس سے یوں لگتا ہے صدر مملکت اپنے وفاداروں کو بچانے کے لیے مزاحمت پر اتر آئے ہیں اور انہیں اپنے عہدوں پر برقرار رکھنے کے لیے ہاتھ پاﺅںماررہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایک بار پھر سپریم کورٹ اور ایوان صدر آمنے سامنے آنے والے ہیں؟ اور کیا عدلیہ سے ٹکراﺅ کا یہ تاثر ایوان صدر کی گرتی ہوئی ساکھ کے لیے مزید زور آور دھکا ثابت نہیں ہوگا….؟؟

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button