ادارتی کالم

ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری عالم اسلام کا ایک عظیم اسکالر

میری آواز دامن ِ رحمت میں جاکر سو گئے……!

تحریر :۔محمد احمد ترازی

14اگست 1914ءمیں محمد خلیل انصاری کے گھر پیدا ہونے والے علامہ مولانا ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری کا سلسلہ نسب میزبان رسول سیّدنا ابوایوب انصاری ؓ سے ملتا ہے،مولانا فضل الرحمٰن انصاری دنیائے اسلام کے مایہ ناز مبلغ اور بین الاقوامی شخصیت تھے،انھوں نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی کا بیشتر حصہ تبلیغ دین میں صرف کیااور پاکستان کے علاوہ افریقہ،امریکہ،ایشیاءاور یورپ کے مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلے میں نمایاں خدمات انجام دیں،جسے دنیائے اسلام میں قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،مولانا نے نوعمری میں قرآن پاک حفظ اور درس نظامی پر عبور حاصل کیا،آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے امیتازات ساتھ مختلف ڈگریاں حاصل کیں،جن میں علوم دینیہ میں بی،ٹی،ایچ (فاضل)،بی ،ایس، سی اور فلسفہ  جدید میں ایم اے کی ڈگری شامل ہے، فلسفے کے مضمون میں98فیصد نمبر حاصل کرکے آپ نے برصغیر پاک وہند میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا،دوران تعلیم اپنی قلبی واردات کے حوالے آپ خود تحریر فرماتے ہیں کہ”جامعہ علی گڑھ سے سائنس فیکلٹی سے انٹر پاس کرنے کے بعد اسلامی عقائد کے بارے میں عجیب و غریب شکوک و شبہات دل میں پیدا ہونے لگے تھے بلکہ ایک وقت تو دماغ انکار پر مائل ہوگیا تھا،لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، عالم اسلام کے عظیم ترین مبلغ مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی ؒسے ملاقات ہوئی اوراُن کی نگاہ کیمیا اثر نے دل و دماغ کی کایا پلٹ دی اور فکر ونظر کا دھارا صحیح سمت میں موڑا،جو دل انکار پر مائل تھا دین فطرت کی محبت اور عظمت ِمصطفیﷺ کا گہوارہ بن گیا۔“
پروفیسر محمود حسین صدیقی لکھتے ہیں کہ ”مولانا (شاہ عبدالعلیم صدیقی ؒ)کی ذات وہ مرکز تھی جہاں عشق و عقل آکر ملتے ہیں،سیاح عالم مولانا حافظ شاہ عبدالعلیم صدیقی ؒ کی چشم کرم نے فضل الرحمٰن صاحب کے قلب و دماغ کو حضور ﷺ کی محبت کے نور سے منور کیا۔“جس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن انصاری صاحب کے خیالات بدل گئے،وضع قطع میں بھی تبدیلی آگئی،مولانا نے فیکلٹی آف تھیوری میں داخلہ لے لیا،فلسفے میں مولانا ظفر الحسن اور دینیات میں خلیفہ اعلیٰحضرت مولانا سیّدسلیمان اشرف کے ایسے شاگرد بنے کہ اساتذہ بھی آپ کر فخر کرنے لگے،آپ نے کراچی یونیورسٹی سے فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی،اپنے پیرومرشد مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ کے ساتھ دنیا بھر کے تبلیغی دورے کئے اور 22سال آپ کی رفاقت میں گزارے ،علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی ؒ نے آپ کو اپنی فرزندی کا شرف بھی بخشا،آپ مولانا کی سب سے بڑی صاحبزادی اَمة السبوح کے شوہر اور قائد ملت ِاسلامیہ حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی ؒ کے بہنوئی تھے،مولانا فضل الرحمٰن انصاری نے تحریک پاکستان میں بھی فعال کردارادا کیا، آپ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی قائم کردہ کل ہند مسلم لیگ ایجوکیشن کمیٹی کے رکن بھی رہے۔
ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری کا شمار عصرحاضر کے عظیم اسلامی مفکروں اور فلسفیوں میں ہوتا ہے،آپ قدیم وجدید علوم و فنون کے ماہر اور کئی بین الاقوامی زبانوں پر عبور رکھتے تھے، آپ بلند پایہ انشاءپرداز اور شعلہ بیاں مقرر بھی تھے، آپ نے اپنی ساری زندگی خدمت اسلام میں بسر کی، آپ کو تحریر و تقریر دونوں میں یکساں کمال حاصل تھا،آپ نے اپنی سب سے پہلی کتاب The Beacon Lightاٹھارہ سال کی عمر میں لکھی،جو ہانگ کانگ کے ایک پادری کے اسلام پر جھوٹے اعتراضات کا جواب تھی ،آپ 25 کے قریب معرکة الآراء ا نگریزی کتابوں کے مصنف بھی ہیں،آپ کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب The Quranic Foundation and Structureکے بارے میں ممتاز قانون دان اے، کے بروہی کہتے ہیں کہ ”علامہ اقبال کے انگریزی خطبات ”تشکیل جدید الٰہیات“کے بعد اگر کوئی دوسری کتاب میری نظر میں آتی ہے تو وہ یہ ہے،ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کہتے ہیں،”مذہب اسلام کو سمجھنے کیلئے اب تک جو بہترین کوششیں کی گئی ہیں، یہ اُن میں سے ایک ہے۔“مولانا کئی رسالوں کے مدیر بھی رہے،آپ نے تقسیم ہند سے قبل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور قیام پاکستان کے بعد سینٹ پیٹرک کالج ،سینٹ جوزف کالج،کالج آف ہوم اکنامکس اور کراچی یونیورسٹی میں لیکچرار کی خدمات بھی انجام دیں،آپ کاسب سے بڑا کارنامہ1958ءمیں شمالی ناظم آباد میں المرکزالعالم الاسلامی (ورلڈ فیڈریشن آف اسلامک مشن) کا قیام ہے،جہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباءدنیا بھر میں دین اسلام کی خدمت کررہے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ عصر حاضر میں اُمت مسلمہ کیلئے مولانا نے فقیدالمثال خدمات انجام دیں،یکم اپریل 1944ءکی اشاعت میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اخبار”مسلم یونیورسٹی گزٹ“ آپ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے”وہ ایک بے لوث ہمہ تن مصروف کاررہے اور اسلام کی سربلندی کیلئے ولولہ اور استقامت کے ساتھ علمی جہاد کرتے رہے جو اُن کے مومن صادق اور بلند پایہ مجاہد ہونے پر دلیل ہے،وہ عمل پیہم پر یقین رکھتے ہیں اور اسلام کی عملی خدمت میں انہوں نے کبھی دریغ نہیں کیا،لیکن اُن کا امتیاز اسی پر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ وہ ایسے امتیازات کے حامل ہیں، جس میں اُن کی ہستی یکتا ہے اور ہمارے نوجوانوں کیلئے مشعل ہدایت ہے۔“3جون 1974ءکو عالم اسلام اِس عظیم مبلغ، متبحر عالم دین،محقق ،مفکر اور فلسفی سے محروم ہوگیا،آپ کی آخری آرام گاہ آپ کی قائم کردہ درسگاہ المرکز اسلامی کراچی کے احاطے میں موجود ہے، جناب آرزو اکبر آبادی آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
دامن ِ رحمت میں جاکر سو گئے
عبد ِ حق فضل ِ رحمان آرزو
٭٭٭٭٭

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button