ادارتی کالم

چین کی دوستی

تحرے : منظور قادر کالرو       

عوامی جمہوریہ چین کے وزیرِ اعظم جین جیا باﺅ نے اتوار کو وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران خلوص بھرے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین دوستی ہمارے دلوں میں رچ بس کر ہمارے لہو میں شامل ہو کر ایک عظیم عقیدے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔چینی وزیرِ اعظم نے ہمسائیگی کے تعلقات کی اہمیت کو پاکستان اور چین میں زبان زدہ کہاوت اچھا ہمسایہ ایک نعمت ہے اور دور کے رشتہ داروں سے قریبی ہمسایہ بہتر ہے کے ذریعے اجاگر کیا۔پاک چین دوستی کو شاید ہی اس سے اچھے الفاظ میسر آ سکیں۔پاک چین دوستی صرف خوبصورت الفاظ اور تشبیہات و استعارات پر ہی مشتمل نہیں بلکہ پاک چین دوستی کا عملی اظہار شاہراہِ قراقرم،جے ایف17 تھنڈر لڑاکا ہوائی جہاز، الخالد ٹینک، بابر میزائل، ایف22 فریگیٹ اور چشمہ نیوکلیر پاور ری ایکٹر کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔اب چین نے پاکستان کے ساتھ آبی، ہوائی اور جوہری توانائی کے متعدد منصوبوں میں تعاون کے لئے مالی و فنی تعاون فراہم کرنے کے علاوہ اسلام آباد سے کرنسی کے تبادلے اور تعلیم و ثقافت کے میدان میں اشتراک عمل کی بھی پیشکش کی ہے اور اس مقصد کے لئے 500 پاکستانی طلباءکو وظائف
دینے اور 100 طلباءکو چینی زبان سیکھنے کے پروگرام میں شرکت کرنے کی بھی دعوت دی ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان جتنی بھی سیاسی تبدیلیاں آتی رہیں اس دوستی میں فرق نہیں آیا۔پچھلے کچھ ہفتوں میں امریکی صدر، اوبامہ فرنچ صدر سرکوزی اور برطانوی وزیرِ اعظم کیمرون نے بھارت کا دورہ کیا لیکن یہ تینوں پاکستان نہیں آئے۔چین کے وزیرِ اعظم نہ صرف بھارت کی بعد پاکستان آئے بلکہ پاکستان میں بھارت کی نسبت زیادہ معاہدوں پر دستخط کئے۔چین کے وزیرِ اعظم کی عزت افزائی کیلئے نواز شریف کے علاوہ مولانا فضل الرحمان جو کہ چند دن پہلے ہی حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہوئے ہیں نے بھی مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔یہ بھی بہت حوصلہ افزا بات ہے کہ پاکستانی قوم کسی مشترکہ مقصد کے لئے یکجا ہو جاتی ہے۔چین اس وقت دنیا کی ایک اتنی بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے جس کے سامنے امریکہ اور جاپان تک کی مضبوط ترین معیشتیں بھی ہیچ ہوکر رہ گئی ہیں۔ایسی مضبوط معاشی طاقت کے سربراہ کا پاکستان کے لئے اتنی اچھے جذبات رکھنا یقیناً حوصلہ افزا بات ہے۔پاکستان میں گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر و توسیع میں چین نے قابلِ قدر حصہ لیا ہے۔ اس بندرگاہ کے ٹھیکے کے اصل حقدار بھی چینی ہی تھے لیکن مشرف نے اس کا ٹھیکہ دوبئی کی فرم کو دے دیا اس کے بعد سنگا پر کی فرم کو دے دیا ۔چین کو اس لئے گوادر کی بندر گاہ سے دور رکھا جا رہا کہ یہ امریکہ کو پسند نہیں کہ انہیں ٹھیکہ دیا جائے۔گوادر کی بندر گاہ اپنی مفرد خصوصیات کے سبب ہماری معیشت میں انقلاب لاسکتی ہے۔اگر اس سے فائدہ اٹھایاجائے تو یہ چین کو وسط ایشیائی ریاستوں اور خلیجی ممالگ سے ملانے کے لئے گیٹ وے کا کام دے سکتی ہے۔اگر ہم گوادر کی بندر گاہ کو ٹرین کے ذریعہ شاہراہ قراقرم کے راستے چین سے ملادیں تو بلوچستان کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان بھی ترقی کریں گے۔یہ بات پوری قوم کے لئے تکلیف دہ امر ہے پاکستان دشمن طاقتیں ترقی کے ان منصوبوں میں جا بجا روڑے اٹکا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعمیر و افتتاح کے چار برس بعد بھی اس بندرگاہ سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ےہ چین کی اعلٰی ظرفی ہے کہ جس بندر گاہ کی تعمیر میں انہوں نے دن رات ایک کرکے حصہ لیا اس کا ثمردوسرے کو پیش کر دیا گیا،اس کے باوجود چینی گرم جوشی میں فرق نہیں آیا۔ چین بھارت سے اختلافات کے باوجود سالانہ ساٹھ ارب ڈالر کی تجارت کر رہا ہے اور حالیہ ملاقات میں اسے 100 ارب ڈالر تک لے جانے کی بات ہوئی ہے لیکن چین کے ساتھ اتنی گہری دوستی کے باوجود پاکستان کے ساتھ تجارت چھ ارب یا سات ارب ڈالر سے زیادہ نہیں ہو سکی۔اب اعلان ہوا ہے کہ اگلے پانچ برس میں اس تجارت کا حجم پندرہ ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا یہ بھی کم ہے اس تجارتی حجم کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔پاکستا ن میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں لیبر بہت سستی ہے اس لئے اگر یہاں چین کے تعاون سے توانائی کے بحران کو دور کر کے مشترکہ صنعتیں قائم کی جائیں تو اس سے دونوں ملکوں کے لئے ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔تھر کول کے ذخائر اور سینڈک میں تانبے اور کوئلے کے دفینوں کو بروئے کار لانے کے لئے چین کا مالی فنی و تکنیکی تعاون پاکستان کو نہ صرف توانائی کے بحران سے مستقل نجات دلا سکتا ہے بلکہ پورے ملک کو خوشحالی کی نئی منزلوں سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button