ادارتی کالم

پٹرول بم کی تپش

شہزاد قبال
[email protected]
معلوم نہیں مجھے آج پنجابی کا وہ محاورہ کیوں یاد آ رہا ہے کہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ ڈنڈا سب بدمعاشوں اور برُوں کو راہ راست پر لے آتا ہے اور مجھے آج زیڈ ا ے بھٹو بھی یاد آ رہے ہیں کہ جب ان کے پاﺅں تلے سے زمین سرکنے لگی تھی تو انہوں نے نفاذ اسلام کے لئے مقبول فیصلے کرنے شروع کر دیئے، مجھے بھٹو کے داماد آصف علی زرداری بھی یاد آ رہے ہیں کہ جب 15 مارچ 2009کی صبح عوام کے جم ِغفیر پر ان کی نظر پڑی تو انہوں نے مجبوراً چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی میں اپنی عافیت سمجھی اور شاید مستقبل میں مجھے6جنوری 2011 بھی یاد آئے کہ کس طرح وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے عوام پر پٹرول بم گرانے کے بعد فیصلہ واپس لے لیا کیونکہ اس غیر مقبول فیصلے کی تپش نے ان کے اقتدار کی کرسی کو بھی سلگانا شروع کر دیا تھا مجبوراً انہوں نے قومی اسمبلی میں مہنگائی کے اس سونامی فیصلے کو واپس لینے میں ہی اپنی عافیت جانی اور حزب اختلاف کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے اسے وزیراعظم کا عوام اور ان کے نمائیندوں کے سامنے سر تسلیم خم سے تعبیر کیا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوام کی دعویدار اس حکومت نے یہ فیصلہ عوام کے مفاد میں کیا ؟کیا وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کہاں تک پہنچ گئی ہیں اور عوام ذلت کے باوجود اس کے حصول میں ناکام کیوں ہو رہے ہیں؟ یقیناً ہمارے حکمرانوں کو اس کا قطعی احساس نہیں، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ دالوں کی کتنی قسمیں ہوتی ہیں اور یہ کس بھاﺅ ملتی ہیں ،سبزیاں کون کون سی ہوتی ہیں اور آج اس کے کیا نرخ ہیں ؟ چینی،دودھ اور آٹاکتنے میں مل رہا ہے؟ بجلی،سوئی گیس،پانی اور ٹیلی فون کے بل جب مہینے بعد آتے ہیں تو اس کو کیسے ادا کرتے ہیں ؟حکمرانوں اور سیاست دانوں کے پاس آ جا کر چند ایک فارمولہ بیانات ہوتے ہیں جو وہ را طوطے کی طرح عوام کے سامنے بولتے رہتے ہیں اور اپنا حق نمائندگی اد اکر دیتے ہیں بس یہی ان کی عوامی نمائیندہ بننے کی ذمہ داریاں ہیں۔
اگر ہم مغرب کی فلاحی ریاستوں پر نظر ڈالیں تو عوام کی طرز زندگی میں دن بدن نکھار آ رہا ہے ایک سے بڑھ کر ایک ریاستی سہولت دستیاب ہے عوام بھی دیانت دار ہوتے ہیں اور حکمران بھی اپنے چادر سے باہر پاﺅں نہیں پھیلاتے جبکہ ہمارے ہاں تو سال2010 میں ایک ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے کسی کو اس کی پرواہ نہیں۔،500 ارب روپے کی بدعنوانی کی خبریں تو صرف ایف بی آر کی ہیں اور سب سے زیادہ بدعنوان  ”محکمہ ٹینڈرنگ“ کا ہے کہ انصاف کا خون جس بری طریقے سے یہاں ہوتا یے اس پر تو کچھ کہنا ہی فضول ہے کہ اس کے شریک جرم افراد کو تو شاید اپنا مرنا ہی بھول گیا ہے …. ان سارے نقائص کا ذمہ دار کون ہے ؟ عوام یا خواص؟یقینا بالائی طبقہ جو جاگیردار بھی ہے اورجنرل بھی ،صنعت کا ر بھی ہے سرمایہ دار بھی ،وڈیرا بھی ہے اور خان بھی ،سائیں بھی ہے اور چوہدری بھی،غرض ان افراد کی اکثریت نے دنیا کو ہی اپنی جنت بنا لی ہے اور ان کی جنت تب تک آباد رہتی ہے جب تک وہ عوام پر پٹرول بم،مہنگائی بم ،ذخیرہ اندوزی بم اور بدعنوانی بم نہ گرائیں اور جب ان بموں کو عوام اپنی طاقت سے’ ڈیفیوز‘ کرتے ہیں توان کو ’کرپٹ سسٹم‘ خطرے میں لگنے لگتا ہے اور پچھلے قدموں پر آن کھٹے ہوتے ہیں ۔
عوام شاید اب خوش ہو رہی ہو گی کہ ان کے دباﺅ پر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ واپس لے لیا ہے لیکن کیا انہیں اندازہ ہے کہ یکم جنوری کے اعلان کے بعد ضروریات زندگی کی مختلف اشیاءمیں جو ہوشربا اضافہ ہوا ہے آیا دکاندار اور تاجر حضرات نے بھی پرانے نرخوں پر اشیاءفروخت کرنی شروع کر دی ہیں کہ یہ سب احتجاج بے کار ثابت ہوا ہے اور ساتھ میں یہ بھی کی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت جو آر جی ایس ٹی جیسا ایک خوفناک بم بھی پھینکنے والی ہے وہ مذکورہ فیصلہ کی جوابی کارروائی کب اور کیسے کرتی ہے ؟۔یہ حقیقت ہے کہ وفاق کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتیں بھی قرضوں پر چل رہی ہیں ،آئی ایم ایف نے ہمارے اقتصادی مینجرز کو اتنا پریشان کر رکھا ہے کہ وفاقی حکومت اب تک 4 پانچ مرتبہ اپنی اقتصادی ٹیم تبدیل کر چکی ہے، موجودہ وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی قابلیت کا بہت ڈھونڈورا پیٹا گیا لیکن عوام تو آج بھی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے۔
ہم عوام کو یہ تسلیم کر لینا چاہیئے کہ صدر زرداری کی پیپلز پارٹی حکومت آئندہ کچھ عر صے تک پچھلے قدموں پر کھیلی گی انہیں اقتدار ہاتھ سے جاتا نظر آ رہا ہے ،جے یو آئی ف اور ایم کیو ایم وقتی طور پر سہی داغ مفارقت دے گئی ہیں وزیراعظم گیلانی کو ہٹانے کے بعد صدر زرداری کے مواخذے کی باتیں ہو رہی ہیں سابق اتحادی حکومت جے یو آئی ف کا وفاقی وزیر اعظم خان سواتی نے تو وزیراعظم گیلانی کو پا کستان کی 63 سالہ تاریخ کا بدعنون ترین شخص قرار دے دیا(جب ان کی جماعت شریک اقتدار تھی تب وہ ایساکیوں نہیں بولے؟)۔دوسری جانب متحدہ کی ناراضگی قدرے کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے لہذا امید کی جا سکتی ہے کہ نورا کشتی کا ’ڈراپ سین‘ جلد عوام دیکھیں گے کہ آج کی سیاست میں سب جائز ہو گیا ہے اور یہ تو ویسے بھی وزیر اعظم گیلانی کا امتحان ہے کہ انہوں نے 2013تک جن 4بڑوں کے محفوظ رہنے کی بات کی تھی آیا وہ اس بیان پر آج بھی قائم ہیں اور اگر گزشتہ تقریباً3 سال کی حکومتی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو اس میں خلق خدا جھولی پھیلا کر ایک ہی دعا مانگ رہی ہے کہ……(وہ آپ کو بھی معلوم ہے)۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button