ادارتی کالم

پاکستان کامیاب ریاست، سربراہ سابقہ بس کنڈکٹر

ممتاز امیر رانجھا

اپنے پیارے ملک پاکستان کی اگر بات کی جائے تو قائداعظم محمد علی جناح کی طرف سے عطا کردہ یہ سلطنت نہ صرف کامیاب ریاست ہے بلکہ ہم سب کے لئے اور ہماری قوم کے لئے ایک قیمتی مگر انمول تحفہ ہے۔آج کے کالم برطانوی جرید ”اکنامکسٹ“ کی پاکستان پر چھپنے والی دو کتابوں کو فوکس کرنے کی ایک کوشش ہے۔دونوں کتابوں میں پاکستان کے بارے میں جو اہم اہم ریمارکس دیئے گئے ہیں،ان میں سے چند ایک یہ ہیں کہ:
”پاکستان ایک اسلامی ملک ہے مگر پاکستان کو اسلام کے نام پر نام نہاد طالبان کی انتہا پسندی سے کئی خطرات لاحق ہیں۔پاکستان ایک ایسی گیند ہے جو کبھی سویلین حکومت کے پاس رہی ہے اور کبھی فوجی حکومتوں کے پاس رہی ہے۔پاکستان ایک کامیاب ریاست ہے،یہاں کا معاشرہ بہت مضبوط ہے اور یہ معاشرہ انتہاپسندوںیعنی طالبان کے لئے بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو نہ تو کبھی ناکام ہوا اور نہ ہی کبھی کامیاب ہوا۔انتہاپسند نہ تو اس ملک کو ختم کر سکے اور نہ ہی ملک انتہا پسندوں کو مٹا سکا۔پاکستان کی آبادی پوری دنیا کے عرب ممالک کی نصف آبادی سے زیادہ ہے۔پاکستان گزشتہ تین دہائیوںسے عالمی سپر پاور امریکہ کے اتحاد میں ہے انتہاپسندوں کیخلاف عالمی جنگ سے نبرد آزما ہے۔اس قوم نے تین آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جمہوریت کو ناکام بنانے کی ان کی کوششوں کو قطعی ناکام کیا ہے۔انتہا پسندی کی جنگ میں تقریباً تیس ہزار پاکستانیوں کی جانیں قربان ہوئی ہیں۔سیاسی نظام پر بڑے بڑے زمین داروں اور قبائلی سرداروں کا قبضہ ہے۔2008میں ایک خاندان کی تین لڑکیوں کوگولیاں مار کے زندہ دفن کیا گیا اور اس غلط روایت کی حمایت اسوقت پیپلز پارٹی کے ایک سینیٹر نے کی بعد میں اسے وفاقی وزیر بنا دیا گیا۔پاکستانی نوجوان بآواز بلند کہتے نظر آتے ہیں کہ کون ہے ایسا جو کسی سابقہ بس کنڈکٹر کورہنما بنائے“
قارئین!ہمارے ملک کے بارے میں اکنامکسٹ کی طرح دنیا کے بہت سے لوگوں اور ممالک نے کئی کتابیں لکھیں ،کالم اور مضامین لکھے۔ہمارے ملک کے بارے میں ہم خود پاکستانی جتنا جانتے اور سمجھتے ہیں اتنا شایدہی کوئی پردیسی اور بالخصوص انگریز رائٹر نہ تو جان سکتا ہے اور نہ ہی سمجھ سکتا ہے۔جہاں تک ہمارے ملکمیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بات ہے اس کی داستان بہت طویل ہے لیکن اس کا چیدہ چیدہ تذکرہ کچھ اس طرح ہے۔ اس دہشت گردی کا آغاز سب سے پہلے پڑوسی ملک ہندوستان کی طرف سے پاکستان میں کیا گیا جو کہ کبھی کبھی اب بھی ہو جاتی ہے۔اس کے بعد روس نے افغانستان کے راستے پاکستان کو اپنی تخریب کاری کا نشانہ بنانے کی چند کوششیں کیں۔جنرل ضیاءالحق شہیداگرچہ پاکستانی تاریخ کے ڈکٹیڑوں میں سے تھے لیکن ان کے دور میںپاکستان نے امریکہ کے اشتراک سے اور امریکہ کی خواہش پر بذریعہ افغانستان روس کو تاریخی شکست دی۔روس کے ایسے دانت کھٹے ہوئے کہ ابھی تک اسکے اقتصادی حالات بہتر نہیں ہوئے۔پاکستان کا افغانستان کی حمایت میں امریکہ کی ”سپورٹ“ لے کر لڑائی کرنا اگرچہ اس وقت کے حالات کا تقاضا تھا لیکن پاکستان کی اس حمایت کا منفی اثر یہ ہوا کہ پاکستان اور افغانستان کی جنگ میں پوری دنیا سے آکر ”جہاد“ کرنے والے طالبان پاکستان کے قبائلی اور سرحدی پٹی پر نہ صرف مستقل آباد ہو گئے بلکہ انہوں نے یہیں شادیاں کر لیں اور مقامی لوگوں نے ان کو بڑی ہی خوشی سے اپنے گھروں سے پاکستان اور اسلام کی محبت میں بے لوث ”رشتے“ دے دیئے۔
طالبان کی شروع شروع کی ”اپروچ“ پاکستان اور پاکستان دشمن ممالک کے لئے بہت ہی پازیٹو تھی لیکن رفتہ رفتہ ان طالبان میں ”ہندوستان“ اور ”پاکستان دشمن عناصر“ کا ملاپ شروع ہو گیا۔امریکہ نے اسامہ کے بہانے ”افغانستان کے وسائل“ اور مسائل پر قابو پانے کے لئے افغانستان کو اپنی اتحادی فوجوں کے ساتھ ایک بہت بڑی جنگ میں دھکیل دیا۔سابقہ ڈکٹیٹر صدر مشرف نے بغیر سوچے سمجھے امریکہ کی حمایت میں گھٹنے ٹیک دیئے۔اس حمایت کا خمیازہ ہماری قوم کے پاکستان میں دہشت گردی کی صورت میں مل رہا ہے۔امریکہ نے افغانستا ن کو تباہ و برباد کرنے کے بعد ”اسامہ“ تو پکڑکرآج تک کسی کو نہ دکھایا ہے اور نہ ہی کسی کو اس کے ملنے کی امید باقی ہے مگر افغانستان سے بھاگے ہوئے جہادی اور مقامی گروپ ہماری سرحدی اور قبائلی پٹی کے افراد کے ساتھ جا ملے۔
ان لوگوں کی ”برین واشنگ “ ہوئی اورپاکستان دشمن ملک عناصرنے انہیں پاکستان اور پاکستانی عوام کو اسلام کی آڑ میں لیکر دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانے کا ”ٹھیکہ“ دے دیا۔اب کیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی تو اپنے جنگی عزائم کو انجوائے کر رہے ہیں اور ہماری عوام اور ہمارا پیار ا ملک امریکہ کی حمایت کی وجہ سے مسلسل ”نقصان“ میں ہے۔ حقیقتاً امریکہ جیسے ملک کو اپنے جنگی عزائم کی وجہ سے عراق کا ”تیل“ اورافغانستان کی ”سرزمین“ مل گئی اور اب ان کا نشانہ لیبیا کے ”تیل والے کنوﺅں“ پرہے۔پاکستان کو ڈالرز ملتے ہیں وہ بھی ”امداد“ کی مد میں بطور ”قرض“۔علاوہ ازیں امریکہ ہمارے ہر آنے جانے والی حکومت اور حکمرانوں کو اپنی مرضی کے ساتھ ”منتخب“ کرتا ہے۔
جہاں تک پاکستان کو گیند قرار دینے کی بات ہے تو یہ بات بالکل ٹھیک ہے ہمارے ملک کو ڈکٹییٹرز اور سیاستدان باری باری گیند کی طرح اپنے قبضے میں لیکر اس سے کھیلتے جا رہے ہیں۔ملٹری ڈکٹیٹرز شپ میں سب سے پہلے ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان ٹھہرے جس نے اقتدار یحیٰ خان کو منتقل کیا،اس کے بعد1977 جنرل ضیا ءالحق شہید نے ذولفقار علی بھٹو کی حکومت پر شپ خون مارااورپاکستانی حکومت اور سیاست پر جو آخری ڈاکہ ڈالا گیا اس میں پیش پیش کردار ڈکٹیٹر صدر مشرف کا ہے جس نے میاں نواز شریف کی جمہوری حکومت کو تہس نہس کر کے اپنا سکہ چلانے کی ناکام کوشش کی۔
پاکستانی عواموں کا دل جگرہ بہت بڑا ہے۔یہ عوام بہت ٹیلنٹڈ ہے اور اس میں بہت کچھ کر گزرنے کی صلاحیت ہے۔اس کی مثال ملک میں آنیوالے کئی جان لیوا زلزلے اور سیلاب ہیں۔ایسے حالات میں سارے یکجا ہو کر متاثرین کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔ہماری عوام سیاسی لوگوں کے انتخاب میں کچھ نادانیاںضرور دکھاتی ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد عوام کی اکثریت نے پیپلز پارٹی کی طرف جھکاﺅ رکھتے ہوئے جذبہ ہمدردی دکھایا اور موجودہ حکومت کو سلیکٹ کرو ا دیا۔اس کے بعد عوام او ر پاکستان کے ساتھ جو گزر رہی ہے وہ کسی سے بھولی بسری بات نہیں۔اب حالات اس نہج پر ہیں کہ ہمارے ہاں ہر شعبے میں ابتری نمایاں ہے۔بجلی،پانی،گیس اور مہنگائی ہر پاکستانی کی کمر توڑی رہی ہے۔
انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لئے امریکہ سے عدم تعاون اور دہشت گردوں کو کڑی آگ میں دھکیلنا ہوگا۔اپنی سرحدوں کی نگرانی سخت اور ملک دشمن ممالک کی سرحدوں کو مکمل سیل کرنا ہوگا۔جو لوگ نوجوانوں کا اور انتہا پسندوں کو برین واش کر رہے ہیں ان کی تلفی کے لئے مکمل اور ٹھوس اقدام کرنا ہونگے۔بے گناہ لوگوں کو دھماکوں سے مارنا کون سا جہاد اور کونسی جنت کی تلاش ہے؟
ہماری ریاست بہت کامیاب ہے۔اگر ہم چاہیں تو امریکہ جیسے ملک کو آنکھیں دکھا سکتے ہیں۔ہمیں یا ہمارے سیاستدانوں کو ان کے آگے ”گھٹنے“ ٹیکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔پاکستان ایک کامیاب اسلامی ریاست ہے۔یہاں کی عوام ملک کے لئے بے حد محبت اور لگن رکھتی ہے۔پاکستان کے لئے ہمارے جوان ہرکٹھن سفر سے گزر کر ملک کی خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ہمارے ملک کو محض محنتی،ایماندار اور بے لوث حکمرانوں کی تلاش رہی ہے۔ہمارے حکمران بس کنڈکٹر اس لئے ٹھہرے کہ یہ عوام کو ووٹوں میں سواریوں کی طرح بٹھاتے ہیں اور کنڈکٹرز کی طرح ان سے کرائے کی طرح اپنے مفادات کے لئے ووٹ لیکر بعدمیں انہیں کنڈکٹرز کی طرح چلتی بس سے دھکا دے دیتے ہیں۔عوام کو جس منزل کی تلاش ہے وہ اس کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں۔نہ جانے کب ملے نہ ملے؟

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button