ادارتی کالممنظر نامہ

وکی لیکس سکینڈل اور پاکستان

وکی لیکس سکینڈل اور پاکستان

تحریر: شہزاد اقبال
کہتے ہیں کہ جنہیں ننگے پاوں چلنے کی عادت ہو انہیں جا بجا کانٹے نہیں پھینکنے چاہئے جبکہ امریکہ نا صرف مسلم دنیا میں ننگی جارحیت کرتا ہے بلکہ دروغ گوئی کے کانٹے پھینکتا نہیں بلکہ بوتا ہے۔ حال ہی میں امریکہ‘ برطانیہ اور جرمنی کے اخبارات میں شائع ہونے والی وکی لیکس کی ’لیک‘ کی گئی 92 ہزار خفیہ دستاویزات کا جس طرح چرچا ہوا اس سے تو گویا یہ معلوم ہونے لگا تھا کہ سپر پاور اب ڈوب گئی حالانکہ اگر ان دستاویزات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ نے افغانستان اور عراق پر شروع کی گئی اپنی بربریت سے قبل جس ڈھٹائی سے جھوٹ بولا تھا اسی طرح مغربی میڈیا میں ایک بار پھر کسی ملک خاص کر پاکستان کے حوالے سے ہوا کھڑا کرنے کا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے۔ آئی ایس آئی‘ پاکستانی فوج‘ وطن عزیز کے خفیہ ادارے، جماعت الدعوہ اور دفاعی و انٹیلی جنس امور کے ماہر حمید گل کو جس طرح سے ہدف بنایا گیا اس سے یہی لگتا ہے کہ یہ رپورٹ جو 2004ءسے 2009ءکے دوران افغانستان میں اتحادی فوجیوں کے مظالم کے حوالے سے تھی اس میں پاکستان کو ٹارگٹ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا گیا ۔
پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے بالکل درست کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان پر دبا بڑھانے کیلئے یہ خفیہ دستاویزات شائع کرا ئی ہیں کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ کی وہ خفیہ دستاویزات جسے 30 سال بعد عوام کیلئے کھول دیا جاتا ہے یعنی اسے ’ڈی کلاسفائیڈ ‘کر دیا جاتا ہے اسے اتنی جلدی منظر عام پر لاکر کہ جب ان کا ملک حالت جنگ میں ہے کیونکر اپنے لئے مشکلات میں مزید اضافہ کر ےگا ، حقیقت یہ ہے کہ پینٹاگان کے دفاعی ماہرین نے جنگی شکست سے بچنے اور اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے وکی لیکس ویب سائٹ سکینڈل لاکر اپنے لئے بچنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ ان رپورٹس کے منظرعام پر آنے سے ایک جانب جہاں امریکہ اپنی نئی افغان پالیسی کو درست ثابت کر سکے گا جیساکہ امریکی صدر باراک اوباما اس کا تذکرہ کر چکا ہے تو دوسری جانب وہ پاکستان پر دباؤ¶ بڑھا کر اپنے مفادات حاصل کرتا رہے گا اور یہ مفادات اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ امریکہ اپنی شکست سے قبل پاکستان کو اتنا کمزور کر لے کہ وہ خطے میں بھارت کی بالادستی کو قبول کرلے اس کیلئے امریکہ اور بھارت جو اقدامات کر ر ہے ہیں وہ سفارتی اور عالمی قوانین کے بھی صریحاً خلاف ہیں ۔ دوسری جانب افغان مجاہدین کے قریب رہنے والی شخصیت حمید گل کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ بھارتی’ ڈس انفارمیشن ‘پر مبنی ہے۔ امریکہ افغانستان میں شکست دیکھ کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے، اوباما انتظامیہ نے افغانستان میں ایک لاکھ 5 ہزار سکیورٹی کنٹریکٹر مقرر کئے ہوئے ہیں جو افغان انٹیلی جنس کے ماتحت ہیں جبکہ ان کی تربیت کیلئے بھارتی خفیہ اداروں کے اہلکار موجود ہیں جنہوں نے یہ رپورٹ افغانستان میں بیٹھ کر تیار کی ہے۔ جنرل صاحب کی بات کو یہ چیزیں تقویت دیتی ہیں کہ سوویت یونین اور افغانستان کے مابین لڑ ی جانے والی جنگ کے بعد آئی ایس آئی جس نے اس موقع پر کلیدی کردار ادا کیا تھا اس کے ان اعلیٰ اہلکاروں کو رفتہ رفتہ آئی ایس آئی سے نکال دیا گیا جنہوں نے اس جنگ کو قریب سے دیکھا اور اس میں حصہ لیا اہلکاروں کی بڑی تعداد کو 1994ءمیں فوج کے دوسرے شعبوں میں منتقل کر دیا گیا اس طرح 9\11 کے واقعہ کے بعد امریکی ایما پر آئی ایس آئی کو فاٹا سے بھی بلا لیا گیا اور یہ خفیہ محاذ امریکی ،افغان اور بھارتی خفیہ اداروں کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ تاہم جب نومبر 2007ءمیں جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فوج کی کمان سنبھالی تو پاکستان کے خفیہ اداروں کا ایک بار پھر یہاں عمل دخل بڑھ گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غیر ملکی ایجنسیاں اس علاقے میں جو کچھ کر رہی تھیں اب آئی ایس آئی اس کے سامنے ایک دیوار بن کر کھڑی ہو گئی ہے جس سے ان ممالک کے دارالحکومت تلملا اٹھے اور انہوں نے پاکستان کے خلاف سفارتی اور صحافتی دباؤ بڑھا دیا ہے ۔
2007 سے اب تک کی 3 سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو اس عرصے میں اسلام آباد پر امریکی دباؤ¶ میں خاصا اضافہ ہو ا ہے۔ ڈرون حملوں کی تعداد بڑھ چکی ہے ، خودکش حملے بھی آئے روز ہو رہے ہیں بلکہ اس کو فرقہ ورانہ رنگ دے دیا گیا ہے داتا دربار جیسے جگہوں پر حملہ کرکے یہ ثابت کر دیا گیا ہے کہ یہ دہشت گرد ہم میں سے نہیں لیکن یہ ہم میں ہی ہے۔ ایسی صورتحال میں جبکہ پاکستان مختلف النوع مسائل میں شکار ہے وہاں مسائل کے دلدل میں دھکیلنے والا ہمارا بدخواہ اولین امریکہ خیرخواہ کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ ہمیں ترقی اور خوشحالی دلانے والی ا شیاء اور ٹیکنالوجی کی بجائے وہ ہتھیار اور اسلحہ دے رہا ہے جس سے یہ خطہ بدامنی کا شکار ہو وہ’ وکی لیکس‘ کے ذریعے ہمارے خلاف ماحول مزید خراب کر رہا ہے ایک ایسی رپورٹ جس میں اسامہ اور ملا عمر کا ذکر تک نہیں گویا کہ وہ مر چکے ہیں لیکن امریکہ نے اپنے دشمن کا جو شوشا کھڑا کر رکھا ہے اس نے تباہی کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں،ابھی گذشتہ دنوں ایک امریکی سروے سے یہ بات میڈیا پر پھیلائی گئی کہ 59 فیصد پاکستانی امریکہ سے نفرت کرتے ہیں گویا 41 فیصلہ واشنگٹن کو پسند کرتے ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان، افغانستان اور عراق جو امریکی جارحیت کے براہ راست شکار ممالک ہیں ان کو چھوڑ کر دنیا کے کسی بھی ملک کی عوام کی آزادانہ رائے معلوم کرکے دیکھ لیں کہ وہ امریکی پالیسیوں کی کتنی حمایت کرتے ہیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، اور یہ جہاں مظالم ڈھا رہا ہے وہاں پر امریکی خیر خواہ کیسے پیدا ہو گئے ہیں یا انہیں سروے رپورٹس کے ذریعے پیدا کر دیا گیا ہے یہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔
اب جبکہ کانگریس بھی پاکستان میں موجود امریکی فوج جو خفیہ جنگ لڑ رہی ہے ،کے انخلا کے خلاف ووٹ دے چکی ہے ہمارے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیں ۔ امریکہ میدان جنگ میں اپنی شکست کو دل سے تسلیم کر چکا ہے مگر وہ اس کا اقرار ابھی زبان پر نہیں کر رہا، البتہ وہ میڈیا اور ڈپلومیسی کے محاذ پر ڈٹا ہوا ہے۔ ہلیری کلنٹن‘ رچرڈ ہالبروک‘ مائیک مولن‘ جنرل کیسی اور ڈیوڈ پیٹرس کے جہاز مارگلہ کے دامن میں اترتے رہیں گے اور ہمارے حکمران ان جہازوں میں بیٹھی ہوئی شخصیات کو خوش آمدید کرنے پر ”مجبور“ ہوں گے ۔ جب صورتحال ایسے ہو جائے کہ’ وکی لیکس‘ کے پینڈورا باکس سے امریکہ ڈرنے کی بجائے اسے اپنی کامیابی اور پاکستان کامیابی سمجھنے کے بجائے پچھلے قدموں پر چلا جائے تو یہ دنیا میں امن کے ناپید ہونے کی علامت ہے ہمیں اس سے غرض بالکل نہیں کہ 92 ہزار رپورٹس کا یوں یکدم سامنے آنا کیا معنیٰ رکھتا ہے لیکن ہمیں اس رویے کی مذمت کرنی چاہئے کہ جھوٹ بولنے والی امریکی قیادت کی باتوں کو ہم کتنی بزدلی سے سچ مان لیتے ہیں۔
بشکریہ نوائے وقت

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Back to top button