وبائی امراض ، طوفانی بارشیں اور قہر الٰہی

1 6

تحریر: محمد الطاف گوہر
انسان جب اپنی اصل کو بھول کر کسی نئی خو د ساختہ روش پرچلتا ہے تو اس نئی راہ کے ثمرات اس کا مقدر بن جاتے ہیں ۔ جبکہ یہ معاملہ انفرادی نوعیت سے نکل کر اجتماعی صورت اختیار کر لے تو اس کے نتائج بھی وسعت اختیار کرجاتے ہیں اور پھر جب کبھی لاچاری سے پالا پڑ جائے ، ہونٹوں سے مسکان چھن جائے ،چہروں سے رونق اڑ جائے ، بے بسی کا دورودورہ ہو تو پھربھی آنکھوں سے ندامت جھلکتی نظر نہ آئے تو پھر بربادی کے سوا کوئی منزل نہیں۔
کس کی مجال ہے کہ اللہ کی زمین پراس کے حکم کے بغیرکوئی پتہ بھی سرک سکے ، مگر حیف ہے اے انسان تیری خود مختاری پہ کہ تو اپنی خواہشوں کی غلامی میں اپنی بربادی کا سامان خود پیدا کرتا ہے ۔ اور اگر بار بار کی ٹھوکروں کو بھی نہ خاطر میں لائے تو کون اسے کسی گہری کھائی میں گرنے سے روک سکتا ہے؟ آج جب ہم اپنا مطمع نظر بدل چکے ، اپنے اسلاف کے طریق بھول چکے ،بے شک ہمارے اعمال ہماری زندگی کی راہیں متعین کر رہے ہیں ، اور جیسا بوئیںگے ویسا ہی کاٹنا پڑے گا۔
اور پھر وہی پانی کا ناتواں قطرہ جسے کوئی خاطر میں بھی نہ لائے، بپھر تا ہے تو بربادی کا ساماں پیدا کرتا ہے ، مگر جب حکم ہو چکا ، اور وہ ایک ہی جیسا نوالہ جب دو مختلف لوگوں کے حلق سے اترتا ہے تو کسی کیلئے غذا بن جاتا ہے اور کسی کیلئے وباءبن جاتا ہے ، اور جب ایک ہی جیسا مینہ آسماں سے برستا ہے تو کہیں رحمت بن جاتا ہے اور کہیں زحمت ، مگر کیوں ؟ جب یہ مینہ کسی گندگی کے muslim_duaڈھیر پر برسے گا تو کیا غلاظت و زحمت نہیں بنے گا؟ اور کیا یہی مینہ کسی ہل چلا کر تیار کیئے گئے کھیت پر برسے گا تو رحمت نہیں بنے گا؟
کیا ہماری زندگیاں خود روہ جھاڑیوں کی طرح گندگی کے ڈھیر تو نہیں بن رہیں ؟ کیا کبھی ان کو سیراب کرنے کیلئے کچھ سامان کیا؟ آج ہم اپنے انجام کو بھول کر خلفشار اور پریشانی سے دوچار ہیں ، اپنی اصل سے دور ہوچکے ہیں اور اطاعت کے بغیر ہی عطا مانگتے ہیں ، اپنی خواہشات اور ہوس کے غلام ہوچکے ہیں ، اللہ کی دی ہوئی نعمت کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہیں (کہ کسی صاحب ثروت کے سامنے کوئی غربت سے مر رہا ہے تواللہ شکر تو پھر ہی ادا ہو گا کہ اس غریب کی مدد کی جائے؟ )۔
اللہ کی زمین پر جب ناانصافی ہو ، ظلم و ستم بڑھ جائے، اللہ کی نافرمانی ہو اور برائی کوآگے بڑھ کر روکنے والا نہ ہو، اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے دوسروں کو برا بھلا کہا جائے، تو پھر کس اچھے وقت کی امید رکھی جا سکتی ہے؟ اورپھر صر ف اک احساس و ندامت کا دروازہ کھلاہے کہ اپنی اصلاح کر لیں اور جھک جائیں اللہ کے حضور یہ جان کر کہ ہر شے کی باز گشت وہیں سے آتی ہے ، دوا ءبھی شفا ءاسی کے حکم سے بنتی ہے او ر وہی کریم ہے کہ اپنا کرم کردے ، وہی غفورالرحیم ہے کہ ہماری خطائیں بخش دے ، وہی سلام ہے کہ سلامتی عطافرمائے ! آمین

  1. خواجہ اکرام کہتے ہیں

    واقعی ان آزمائشوں کو دیکھ کر دل کانپتا ہے ، خدا کرے ملک خد داد کو امن وامان ملے اور ہر وبا اور بلا سے نجات

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.