ادارتی کالم

نائن زیرو پر کون ہوا زیرو؟

شہزاد اقبال
[email protected]

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نائن زیرو پر حا ضری دے کر اپنی مدت وزارت عظمی میں قدرے ہی سہی، اضافہ کرلیا ہے اور اب وہ اور ان کے ہر کارے مولانا فضل الرحمن کو منانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں جبکہ انہیں تو متحدہ کو مکمل طور پر پہلے منا لینا چاہیے تھا آخر کا ر حکومتی بینچوں پر تو بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا لیکن وفاقی کابینہ میں بیٹھنے سے انکار بدستور قائم ہے گویا حکومت کی دستوری مدت5 سال پورے ہونے سے آخر کے 2 سال میں کچھ انہونی کی توقع ہے کہ50 اور90 کہ shahzad-iqbal-picدہائیوں سے تو یہی پتا چلتا ہے کہ ہماری سول حکومتوں کو اڑھائی ،تین سال سے زیادہ کی حکومت نصیب نہیں ہوئی اور انہیں یا تو سیاسی چال بازوں کے ذریعے الٹایا گیا یا پھر فوجی بوٹوں نے اسے روند ڈالا ۔لہذا قرائن یہی بتاتے ہیں کہ متحدہ پر جو یہ الزام ہے کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے ہر حکومت میں شامل رہی ہے تو ان کا موقف ہوتا ہے کہ وہ جن کا ساتھ دیتے ہیں وہ حکومت میں آ جاتے ہیں ،دل کے بھلانے اور عوام کو پھنسانے کے لئے یہ بیان اچھا ہے لیکن فرینڈلی اپوزیشن کی طرح فرینڈلی فرینڈ کی بھی کوئی حد ہو نی چاہیئے ۔آخر کیا وجہ ہے کہ ہفتہ دس دن حزب اختلاف کا کردار ادا کیا اور پھر حکومت سے گلے مل لئے اور وہ بھی اس خوبصورتی سے کہ قومی سطح پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل پر 3 روزہ سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ سندھ میں اس کا دورانیہ اور شدت بھی زیادہ ہے لیکن کیا کیا جائے کہ وزیراعظم صاحب ہنستے مسکراتے اور پھولوں کی پتیاں اپنے اوپر ڈلواتے مرکز نائن زیرو میں دا خل ہوئے اور اسی طرح ہنستے مسکراتے ہوئے باہر آ گئے اور پھر اگلے دن ہی الطاف حسین کو لند ن فون بھی کر دیا کہ آپ کا شکریہ،مہربانی اور نوازش۔
ایم کو ایم تک آدھا تیتر او رآدھا بٹیر بن کر حکومت میں واپس آ گئی اور اس نے مرکز نائن زیرو پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو زیر کرکے ثابت کر دیا کہ اگر خیبر پختونخواہ کے مولانافضل الرحمن بلیک میلنگ پالیٹکس میں ماہر ہیں تو سندھ میں اعتدال پسندی کی دعویدار ایم کیو ایم بھی کسی سے کم نہیں اور اگر کسی نے اس جماعت کو چیلنج کیا یا اس کے چھتے میں ہاتھ ڈالا تو اس کا حشر وہی ہو گا جیسا متحدہ کے رہنماﺅں نے شریف برادران کی شرافت، شادی اور بالوں کا پول کھو ل کر کیا تھا اور پھر بعد میںوسیم احمد نے معذرت بھی مانگ لی ،اب دیکھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کب حکومت میں واپس آتے ہیں کیا عذر لنگ پیش کرتے ہیں ویسے تو عظیم تر قومی مفا د اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے یہ سیاسی جماعتیں کچھ بھی کر سکتی ہیں لیکن اس میں مفاد ان کا اپنا ہی ہوتا ہے ،ادھر جے یو آئی ف بھی ابھی تک یہی کہہ رہی ہے کہ وہ حکومت میں شرکت کی خواہش مند نہیں، لیکن دبی خواہش آخر کب تک دبی رہے گی مولانا صاحب کو کبھی نہ کبھی تو سچ بولنا ہی پڑے گا ۔راقم نے اپنی گزشتہ تحریرں میں کہا تھا کہ مذکورہ دونوں جماعتیں اگر کلی طور پر نہیں تو کم از کم لمبی مدت تک حکومت سے اپنی علحیدگی برقرار رکھیں گے لیکن اندازوںکے برعکس اس میں سے ایک جماعت فوراً واپس آ گئی اور دوسری اچھی پیکش کی منتظر ہے ،پاکستان کی سیاست میں یہ پہلو انتہائی خطرناک ہے جس میں پل میںا قتدار سے علحیدگی اور پل میں واپسی عمل میں آتی ہے جبکہ عوام میں بھی یہ رجحان پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا ہے ۔
ادھر مسلم لیگ ن کی اب تک کی سیاست قدرے سنجیدہ اور اصولی نظر آ رہی ہے جس میں ایکطرف وہ جہاںاقتدار سے علحیدہ ہوئی تھی تو اس نے واپس پیپلز پارٹی کی اتحادی حکو مت کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تو دوسری جانب اس نے واضح طور پر یہ بھی کہہ دیا کہ وہ حکومت گرانے کے عمل میں شریک نہیں ہو گی اور نہ ہی اس کی حمائت کرے گی اور یہ عزم ن لیگ کی قیادت کا اب تک برقرار ہے ۔ ادھر ن لیگ کا11 نکات کے حوالے سے حکومت کو 3دن کا الٹی میٹم اور پھر 45دنوں تک عوامی بیداری کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ سے یقیناً اتحادی حکومت کو خطرہ محسوس ہو چکا تھا کہ وہ گزشتہ 3 سال سے جس شتر بے مہار کی طرح حکمرانی کر رہی تھی اس نے عوام کو شدید طور پر مایوس کیا ہے اور اس حالت میں کہ آصف علی زرداری نے جو پچھلے کئی دنوں سے کراچی میں مقیم ہیں گزشتہ روز انتہائی خفیہدورے پر لاہو رآئے اور بیوہ سلمان تاثیرسے تعزیت کرکے واپس کراچی چلے گئے اس طریقہ کا ر سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر زرداری کو شدید ترین سیکورٹی کا خطرہ ہے کہ وہ خفیہ دوروں پر مجبور ہو گئے ہیں آخر اوباما اور زرداری میں کچھ تو فرق ہونا چاہیئے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button