ادارتی کالم

نئی بساط

طارق حسین بٹ(چیر مین پاکستان پیپلز ادبی فورم)
انسانی زندگی میں محرومی اور حسد دو ایسی بیماریاں ہیں جو انسانی ذات کو تبا ہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہیں کیونکہ ان کی موجودگی میں سمجھنے سو چنے کی ساری صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں۔ ان دونوں بلاﺅں کا فوری اثر یہ ہوتا ہے کہ یا تو آدمی سراپا انتقام بن جاتا ہے یا پھر سازشوں میں مصروف ہو کر اپنے ہی پاﺅں پر کلہاڑی مار لیتا ہے اور یوں آگے بڑھنے کے سارے مواقع ضائع کر دیتا ہے ۔ پاکستان میں آج کل ان دو خصائص کی بھر مار ہے اور ہر ایک شخص دوسرے کو نیچے گرانے کی مشق میں جٹا ہوا ہے۔ سیاسی میدان میں سازشیں اپنے عروج پر ہیں اور آزاد میڈیا ان سازشوں کو ہوا دینے میں پیش پیش ہے کیونکہ اس کے کاروبار کی ترقی کا راز ہی یہی ہے کہ ہر سو بد امنی اور انتشار کا راج ہو تا کہ اسے حکومت کو بلیک میل کرنے کے بہتر مواقع میسر آسکیں ۔ آپ سارا دن ٹیلیو یژ ن دیکھتے رہیں میڈیا آپ کو سوائے ماردھاڑ، بد امنی ، انتشار اور احتجاج کے علاوہ کوئی دوسری خبر نہیں دے گا۔ ایک ہیجانی کیفیت کا دائرہ کھینچ کر سب کو اس میں گھسیٹنے کی کوشش کرتا ہوا نظر آئے گا تا کہ مثبت اندازِ فکر پنپنے نہ پائے۔ ہر حکومتی پالیسی میں کیڑے نکالنا اور الزاما ت کی بارش کرنا معمول کا حصہ بن چکا ہے او یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ صرف میڈیا کے چند افراد ہی فہم و ادراک کے مالک ہیں اور وہ پوری پاکستانی قوم کی نمائندگی کا حق بھی رکھتے ہیں اور ان کی جنگ بھی لڑ رہے ہیںاور اگر اس جنگ میں انھیں زندگی سے ہاتھ بھی دھونے پڑے تو وہ ایسا کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ان کی نظر میں نہ ہی پارلیمنٹ کی کو ئی اہمیت ہے اور نہ ممبرانِ پارلیمنٹ کا کو ئی وقار ہے وہ خود کو عقلِ کل کا مالک تصور کرتے ہیں اور بزعمِ خویش یہ تصور کر بیٹھے ہیں کہ وہ قوم کے حقیقی نمائندے ہیں اور ان کا کام قوم کی ترجمانی کرنا ہے۔ عجیب صورتِ حال ہے مال بھی بناﺅ، بلیک میلنگ بھی کرو، وطن پرستی کا ڈھونگ بھی رچاﺅ اورعوامی نمائندگی کا دعوی بھی کرو۔اسی کو تو کہتے ہیں کہ پا نچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں۔
یہ سچ ہے کہ آج کے دور میں میڈیا ایک انتہائی طاقتور عنصر ہے لیکن میڈیا کسی بھی حالت میں عوامی نمائندگی کا دعوی نہیں کر سکتا کیونکہ عوامی نمائندگی کا معیار صرف انتخابات ہوا کرتے ہیں اور یہ کام سیاستدانوں کا ہے کہ وہ انتخابی مراحل سے گزریں اور عوامی نمائندگی کا اعزاز حاصل کریں۔ عوام انتخابات کے ذریعے پارلیمنٹ کو اپنے حقوق تفویض کرتے ہیں اور ممبرانِ اسمبلی اسی مینڈیٹ کی بنیاد پر قوم کی تقدیر کے فیصلے صادر فرماتے ہیں لہذا میڈیا کا عوامی نمائندگی کا دعوی بالکل باطل ہے۔ عوامی نمائندگی کا حق صرف منتخب ممبرا ن کو حاصل ہو تا ہے اور میڈیا کو اسکا ادراک کر لینا چائیے کیونکہ اسی میں قوم کی بہتری کا راز ہے۔ جب تک میڈیا اس ادراک کا عملی مظاہرہ نہیں کرتا ملک میں اسی طرح کنفیوزن بر قرار رہے گا۔ میڈیا کو اس چیز کا بھی خبط ہے کہ جو وہ سوچتا ہے وہی سچ ہے اور حرفِ آخر ہے لہذا اینکرز کی رائے اور نکتہ نظر پر فی الفور عمل ہو نا چائیے۔ انھیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ وزیرِ اعظم کیا ہو تا ہے اور اسکے فرائض کیا ہیں۔ وہ اسے انتظامی امور سر انجام دینے کی ایک مشین تصور کرتے ہیں جسے سوچنے سمجھنے اور اپنی مرضی سے فیصلے کرنا کا اختیار حا صل نہیں ہے حالانکہ وزیرِ اعظم پوری قوم کا نمائندہ ہو تا ہے، عوامی امنگوں کا ترجمان ہوتا ہے اور قوم نے اسے فیصلے دینے کا مکمل اختیار دے رکھا ہوتا ہے لیکن وزیرِ اعظم کے ساتھ جو سلوک میڈیا نے روا رکھا ہوا ہے وہ تضحیک آمیز بھی ہے اور وزیرِ اعظم کے منصب کے خلاف بھی ہے۔ میڈیا کے اس نکتہ نظر کو اپوزیشن مزید ہو ا دے دیتی ہے جس سے میڈیا اپنی حدود سے باہر نکل جا تا ہے۔
وزیرِ اعظم کمیشن تشکیل د یتا ہے نیب کا چیرمین مقرر کرتا ہے یا انتظامیہ میں ردو بدل کرتا ہے تو میڈیا اسے ماننے سے انکار کر د یتا ہے اور اس پر جانب داری اور من پسند فیصلوں کا الزام تھوپ دیتا ہے ۔میڈیا کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جس نام پر انگلی رکھ دے اس نام کو بے چون و چرا تسلیم کر لیا جائے۔کمیشن بنا نا، افسران کا تبادلہ اور تقرر کرناوزیرِ اعظم کا استحقاق ہے لیکن میڈیا اس استحقاق کو بھی استعمال کرنے نہیں دیتا۔ابھی چند دن قبل وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد کے بعد ۲ مئی کے واقعہ کی انکوائری کےلئے ایک عدالتی کمیشن قائم کیا تھا لیکن اس کا جو حشر کیا گیا بیان سے باہر ہے۔ اس میں جو نام تھے ان پر تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں کیونکہ اس میں شامل سارے نام بہت معتبر تھے لیکن اگر اعتراض تھا تو اس بات پر کہ ہمارے پیش کردہ نام اس کمیشن میں شامل کیوں نہیں کئے گئے۔ارے بھئی آپ کون ہیں جن کے اچھالے گئے نام کمیشن میں آنے ضروری ہیں ۔عوام نے کمیشن کی تشکیل کا فریضہ وزیرِ اعظم کو سونپا ہوا ہے کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو نہیں۔ کمیشن تشکیل دیتے وقت وزیرِ اعظم کو اپوزیشن لیڈر سے مشورہ کرنا ضروری ہے لیکن مشورے کے معنی ڈکٹیشن نہیں ہو تے ۔ مشورہ ماننا یا اسے رد کرنے کا وزیرِ اعظم کو کلی اختیار حاصل ہوتا ہے لیکن میڈ یا ہے کہ اسی بات پر مصر ہے کہ ہمارے پیش کردہ نام اس کمیشن میں شامل ہو نے چائیں تھے کیونکہ جن افراد کا ہم ذکر کر رہے ہیں ان کی دیانت اور صداقت کا کو ئی بھی ہم پلہ نہیں ہے۔اپوزیشن لیڈر نے چند نام وزیرِ اعظم کو ارسال کئے تھے جس میں سے وزیرِ اعظم نے ایک دو ناموں کو کمیشن کاحصہ بنا لیا تھا۔اب اگر اپوزیشن لیڈر اسی بات پر بضد رہے کہ اس کے سارے نام اس قابل تھے کہ انھیں کمیشن میں شامل کیا جاتا تو پھر اپو زیشن لیڈر کی عقل پر ماتم کے سوا اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
اگر ہم اپوزیشن جماعت (مسلم لیگ ن ) کا ماضی کھنگا لنے کی کوشش کریں گے تو سوائے شرمندگی اور ندامت کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا ۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دورِ اقتدار میں اپو زیشن سے جو سلوک روا رکھا تھا اس کے ذکر سے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سینیٹر سیف ا لرحمان نے جو اودھم مچایا تھا اس سے چنگیزی دور کی یاد تازہ ہو گئی تھی۔ اپوزیشن لیڈر پر مقدمات کی بھر مار تھی اور پی پی پی کی ساری قیادت جیلوں میں بند تھی۔ اپوزیشن لیڈر پر بے شمار مقدمات دائر کئے گئے اور حکومت نے ججز کو مجبور کیا کہ وہ اپوزیشن لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کو نا اہل قرار دیں تا کہ سیاست سے بھٹو خا ندان کا ہمیشہ ہمیشہ کےلئے صفایا ہو جائے اور پھر ہم سیاہ و سفید کے مالک بن جائیں اور کوئی ہمیں روکنے اور ٹوکنے والا نہ ہو۔ گلیاں ہو جان سونیاں وچ مرزا یار پھرے کا دلکش منظر نگاہوں کو لبھاتا رہے۔ قومی خزانے سے اربوں روپ کی دولت خرچ کی گئی تاکہ کسی نہ کسی طرح سے پی پی پی کی قیادت کو نا اہل قرار دیا جا سکے لیکن اتنی کوششوں کے باوجود بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کئے جا سکے اور امیرالمومنین بننے کا خواب حقیقت کا روپ اختیار نہ کر سکا۔ مسلم لیگ (ن) کی ظلم و جبر پر مبنی اسی پالیسی سے مجبور ہو کر اپوزیشن لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کو جلا وطنی پر مجبور ہونا پڑا لیکن اب اسی جماعت مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار کے تجویز کردہ نام کمیشن میں شامل نہ کرنے پر اتنا واویلا مچایا گیا جو سمجھ سے باہرتھا جب کہ ان کے اپنے دورِ حکومت میں اپو زیشن کو سانس لینے کی بھی آزادی نہیں تھی۔کیا مسلم لیگ(ن) یہ بتا نے کی زحمت گوارا کرےگی کہ اس نے اپنے دورِ حکومت میں کمیشن بناتے وقت ا پو زیشن لیڈر سے کون سا مشورہ طلب کیا تھا؟ اس وقت اپو زیشن کا مقدر جیلیں تھیں یا جلا وطنی تھی ۔اپو زیشن کو تو اس قابل بھی نہیں سمجھا گیا تھا کہ اسے تحریرو تقریر کی آزادی دی جاتی۔میڈیا بھی میاں نوز شریف کو یہ یاد کروانے کی کوشش نہیں کرتا کہ جناب آپ نے تو اپنے دور میں فسطا ئیت کی انتہا کی ہو ئی تھی لہذا آج جو آپ کو احترام اور اہمیت ملی ہوئی ہے اس پر حکومت کا شکریہ ادا کریں وگرنہ وہ بھی آپ سے بے رحمی کا سلوک کر کے آپ کو جیل میں بند کر سکتی ہے اور جیلوں کی سختیاں برداشت کرنا آپ کی بساط سے باہر ہے کیونکہ ہر شخص نیلسن میڈیلا اور ذولفقار علی بھٹو نہیںہوا کرتا۔
۲ مئی (ایبٹ آباد کیس) اور پھر ۱۲ مئی(نیول بیس پر حملہ) کے حوالے سے وطنِ عزیز میں ایک نئی بحث کا آغاز کیا گیا۔ فوج پر ہر قسم کے الزامات کی بارش کر دی گئی۔اسے نا اہل قرار دیا گیا اور اس کے احتساب کا ڈھول پیٹا گیا۔ استعفوں کا مطالبہ کیا گیا اورفوج کو عوامی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی خواہشوں کا اظہار کیا گیا۔ ایک سپر پاور کی خوشنودی کی خاطر آئی ایس آئی کی سرگرمیوں کو بین الاقوامی امن کے لئے خطرہ قرار دیا گیا ۔ آئی ایس آئی کے خلاف وہ کچھ کہا گیا جس کے کہنے سے قبل سو دفعہ سوچنا چائیے تھا کہ ہم آئی ایس آئی اور اپنی فوج پر جس طرح کے الزامات لگا ر ہے ہیں کیا یہ جائز ہیں اور کیا فوجی قیادت پر اس طرح کی الزام تراشی ملکی مفاد میں ہے۔ اس مطالبے کو بار بار دہرا گیا کہ کہ پاک فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کو خیر باد کہہ کر اپنے پیشہ وارانہ فرائض پر توجہ مرکوز کرنی چائیے اور اقتدار عوام کے حقیقی نمائندوں کے سپر د کر د ینا چائیے ۔خوش قسمتی سے اس کارِ خیر کا بیڑہ اٹھا نے والے وہ سیاست دان ہیں جن کی ساری زندگی آمریتوں کی حاشیہ برداری اور ان کے بوٹ صاف کرتے ہو ئے گزری ہے۔ یہ فوج کی سر پرستی ہی تھی جس کی مدد سے ان سیاست دانوں نے سیاست کے میدانوں کو فتح کیا تھا اور اپنا تشخص اجاگر کیا تھا۔وگرنہ ان کی حالت تو یہ تھی کہ پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں ۔۔
جنرل اسلم بیگ جنرل حمید گل اور دوسرے جنرلوں نے جس طرح سے جمہوری قوتوں کے خلاف آئی جے آئی کو منظم کیا تھا وہ تو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے لیکن باعثِ حیرت ہے کہ فوجی مداخلت کی مخالفت بھی اب اسی گروپ سے آرہی ہے۔مہران بینک کیس ابھی بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے جس میں پی پی پی کے خلاف سیاست دانوں کو فنڈز دئے گئے تھے جس میں اپوزیشن کے سارے راہنما شامل ہیں ۔ میاں برادران اور جماعت اسلامی اس بندر بانٹ میں سرِ فہرست تھے کیونکہ پی پی پی کے خلاف غیر اخلاقی مہم کا سارا بوجھ انہی دو جماعتوں کے کندھوں پر رکھا گیا تھا لہذا انھیں فنڈز بھی زیادہ چائیں تھے تا کہ وہ جی بھر کر پی پی پی کی قیادت کے خلاف اپنا سارا زور لگا لیں۔وہ غیر اخلاقی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور ساری حدود کو پھلانگتے چلے گئے جب کہ دوسر ی جانب عوام ان کی اس مہم کے جواب میں پی پی پی کے اور زیادہ قریب ہوتے گئے اور ان کی فتح کےلئے دن رات ایک کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جماعت اسلامی کو منہ کی کھانی پڑی لیکن اتنی ذلت امیز شکستوں کے باوجود بھی اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ یہ اسی طرح اپنی ریشہ دوا نیوں میں مگن ہے اور اس کی سازشوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو ئی۔اسلام کے نام پر ہر جائز اور ناجائز کام کا بیڑہ اٹھا ئے ہو ئے ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا فرض بڑے احسن طریقے سے ادا کر رہی ہے لیکن عوامی عدالت سے رسوائی ہی اس جماعت کا مقدر بنتی ہے کیونکہ اس کی سیاست منافقت اور جھوٹ پر مبنی ہے اور جھو ٹ ایک ایسا کھوٹا سکہ ہے جوزیادہ دن تک نہیں چلتا۔
آج کل پھر میدان لگا ہوا ہے اور یہی مفاد پرست ٹولہ جو فوج کو اپنی تنقیدی توپوں کی زد میں رکھے ہوئے تھا ایک دفعہ پھر فوج کی منتیں کر رہا ہے۔خدا را ہماری فریاد سن لیجئے ہم پر رحم کیجئے۔ ہم مر جائیں گے رسوا ہو جائیں گئے مٹ جائیں گئے خدا را کچھ کیجئے کہ ہماری ساری عزت و ناموس اور وقار آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔ خدا را پی پی پی کی موجودہ حکومت کی چھٹی کروائیں اور ٹیکنو کریٹ کی حکومت کا قیام عمل میں لائیں اور ہمیں بھی شریکِ اقتدار کریں۔ جنرل اسلم بیگ کے فوج کے نام لکھے گئے خطوط اسی سازش کو بے نقاب کرنے کےلئے کافی ہیں۔ سازشی عناصر کا کوئی مائی باپ نہیں ہو تا یہ صرف مفادات کا کھیل کھیلتے ہیں ۔سپر پاور سے مفادات تھے تو فوج پر بے جا تنقید روا رکھی ہو ئی تھی اور اب فوج سے مفادات ہیں تو فوج کے پاﺅں پکڑ کر موجودہ حکومت کو چلتا کرنے کی منتیں کر رہے ہیں کیونکہ اگر اس حکومت نے مارچ ۲۱۰۲ میں سینیٹ الیکشن میں سینیٹ میں اکثریت حا صل کر لی تو پھران کےلئے سیاست میں کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ اپنے انہی مکروہ عزائم کی تکمیل خاطرسپر یم کورٹ کو استعمال کرنے کا نیا کھیل کھیلا گیا ہے، شطرنج کی نئی بساط بچھائی گئی ہے اور سپریم کورٹ کے ججز کو ہوا دی جا رہی ہے کہ وہ اس حکومت ک خلاف توہینِ عدالت کا فیصلہ صادر کرکے اس کا صفایا کر دیں۔ ظفر قریشی اور حسین اصغر کی تعیناتی کے مسئلے کو بے تحاشہ اچھا لا جا رہا ہے اور ان دو افسران کی تعیناتی سے پاکستان کے انصاف اور جمہوریت کو نتھی کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی قوم کے اذہان میں یہ ٹھونسا جا رہا ہے کہ اگران دو افسران کو اپنی ذمہ داریوں سے روکا گیا تو پاکستان سے انصاف اور قانون کا جنازہ نکل جائےگا اور چند کرپٹ عناصر اپنی لوٹ مار سے ملکی خزانہ خالی کر د ینگے حالا نکہ موجودہ حکومت میں زرِ مبادلہ کے ذ خا ئر سب سے بلند سطح پر ہیں۔سازشی عناصر کا اسی بات پر زور ہے کہ پاکستان کی پوری اسٹیبلشمنٹ میں صرف یہی دو افسران ہیں جو حکومت کی کرپشن کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہیں اور انصاف کا بول بالا کرنے کا عزم کئے ہو ئے ہیں لہذا وزیرِ اعظم پاکستان کا ان دو افسران کو کھڈے لائن لگانے کا مطلب پاکستان کے سارے نظام کو مفلوج کرنا ہے۔کیا یہ دونوں افسران کہیں سے یکا یک پیدا ہو گئے ہیں یا یہ پہلے بھی ہمارے سسٹم کا حصہ تھے اگر وہ پہلے بھی اسی نظام کا حصہ تھے تو بتائیے انھوں نے کو ن سے معرکے سر کئے تھے۔ذاتی مفادات کے حصول کےلئے کیسے کیسے راستے، افسانے اور کہانیاں تخلیق کی جاتی ہیں ۔ میڈیا، اپو زیشن اور چند سیاسی اداکار اپنے مفادات کےلئے ان دو افران کی تعیناتی کے مسئلے کو غیر معمولی ہوا دے رہے ہیں اور اسے سپریم کورٹ اور حکومت کے درمیان جنگ کی بنیاد رکھ کر اپنا راستہ بنا رہے ہیں کیونکہ یہی ایک راہ بچی ہے جو ان کے اقتدار کا دروازہ کھول سکتی ہے۔۔
ِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button