ادارتی کالم

لو میرج کی گرہیں

لو میرج کی گرہیں
تحریر نورالعین ساحرہ
کمرے میں ہر طرف دلہناپے کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ دلہن کی چوڑیوں کی کھنک، مہندی اور ابٹن کی مہک مل جل کر ایک عجیب سا خوابناک تاثر پیدا کر رہی تھی۔ بیڈ کے گرد موتیے اور گلاب کی لڑیاں شادی کے تیسرے دن تک مرجھائی نہیں تھیں بلکہ کمرے کو خوب معطر کرنے کے ساتھ ساتھ دل میں عجیب دبا دبا ہیجان پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہی تھیں۔ سیما کی جھنپی جھنپی شرمیلی سی مسکراہٹ اور فرقان کی خوبصورت سرگوشیاں ماحول کو سحر انگیز بنا رہی تھیں۔ اسی لمحے دروازے پر زوردار دستک کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر فوراً پہنچنے کا حکم سنتے ہی دونوں ہڑبڑا کر رہ گئے۔
فرقان اچھل کر کھڑے ہو گئے۔ ایک جھٹکے سے اسکا نازک حنائی ہاتھ یوں چھوڑا جیسے وہ ہاتھ نہ ہو بلکہ کوئی خطرناک سانپ ہو جو ایک لمحے کی تاخیر سے انکو ڈس لے گا۔ سیما کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا اور اچانک اپنی شدید بے عزتی کا احساس ہوا اور وہ گھبرا کر سراسیمگی سے انکو دیکھنے لگی ۔
“”میں باہر جا رہا ہوں تم بھی ایک سیکنڈ میں فوراً باہر آجا¶۔ ہمارے گھرمیں سورج نکلنے کے بعد کمرے کا دروازہ بند رکھنے کا رواج بالکل نہیں ہے۔ کل صبح چھ بجے سے روزانہ یہ دروازہ چوپٹ کھل جایا کرے گا۔ تم نے تو ویسے بھی وعدہ کیا ہے نا کہ تم ہماری اس ” لو میرج” کو کامیاب بنانے کے علاوہ کبھی میرا سر گھر والوں کے سامنے جھکنے نہیں دو گی۔اس لئے تمھیں سر سے پیر تک ہمارے گھر کے رنگ میں رنگنا پڑے گا اور ان تمام چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا پڑے گا”
یہ سب کہتے کہتے فرقان آ دھی چپل پیروں میں پھنسائے، اسے بھی جلدی آنے کی تاکید کے ساتھ ساتھ سہاگ رات کے تمام وعدے یاد دلا کر گویا مستقبل میں پیش آنے والی آزمائشوں کے لئے ذہنی طور پر تیار کرتے ہوئے باہر چلے گئے۔ و ہ ہکابکا انہیں اتنی ایمرجنسی میں باہر جاتا ہوا دیکھنے لگی۔ ذہنی طور پر الجھ سی گئی اور غائب دماغی سے اٹھ کر، باہر جانے سے پہلے اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اپنے دوپٹے کو دیکھتے وہ بری طرح ٹھٹکی اور بلاوجہ ہی ڈھیروں آنسو بن بادل برسات بنے برسنے کو تیار ہو گئے۔ دل میں ایک ہوک سی اٹھی اور اسکے پورے وجود کو کسی ٹائم مشین کی طرح چند دن پرانے “ماضی” میں گھسیٹ لے گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے روپہلے زرتار دوپٹے کے ایک ایک ٹانکے میں اسکی ماں کی محبت اور چاہت گندھی تھی۔ سارا دن کام کرنے کے بعد کتنی راتوں میں جاگ جاگ کر اس کی امی نے یہ دوپٹہ مکمل کیا تھا۔ کتنی بار انکے ہاتھ میں سوئی لگنے سے خون نکلا تھا۔ ساری انگلیاں چھلنی کرنے کے بعد بھی وہ پہلے سے ذیادہ پیار سے دوبارہ بنانے بیٹھ جاتی تھیں اور ہر ٹانکے میں اسکے لئے ڈھیروں دعا¶ں کے علاوہ ہر گرہ میں ایک نصیحت بھی ضرور باندھے جاتی تھیں اور اسکو بتانا بالکل نہیں بھولتی تھیں۔
“یاد رکھنا میں نے دوپٹے کے ہر کونے پر تمھاری یادداشت کے لئے ایک ایک گرہ لگائی ہے جو تمھیں زندگی بھر ہر مسئلے کے حل اور صحیح راستے کا تعین کرنے میں مدد کر تی رہے گی۔ جیسے جیسے تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتی جا¶ گی ویسے ویسے یہ ساری گرہیں ساتھ ساتھ کھولتی چلی جانا۔ سب کام اچھے طریقے سے ختم ہونے کے بعد ان گرہوں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
سب سے پہلی گرہ ہے بڑوں کا ادب جو ہر حال میں تم پر واجب ہے چاہے وہ کتنے ہی غلط کیوں نہ ہوں۔ انکو انکی غلطی کا احساس ضرور دلانا لیکن اپنی ذہانت اور فراست کے ساتھ ناکہ جاہلوں کی طرح اپنی زبان چلا کر ہماری تربیت اور انکی عزت خاک میں ملا دینا۔
دوسری گرہ ہے تمھارے شوہر کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اسکی جان ومال اور عزت وناموس کی حفاظت کرنا۔ جو شکایت ہو صرف شوہر سے کہنا۔ اسکے علاوہ سسرال یا میکے میں اسکا اظہار کر کے اپنے شوہر کا سر مت جھکانا۔
تیسری گرہ ہے خود اپنے نفس کے علاوہ تمھارے بچوں کی اچھی تربیت اور گھر کا ماحول جو تم نے اسلامی اور معاشرتی دونوں ضرورتوں کو انکے مقام کے حساب سے اہمیت دے کر مکمل کرنا ہے ۔
چوتھی اور آخری گرہ ہے ۔ خود اپنے آپ سے پیار کرنا۔ ان لوگوں کی زمانے میں کوئی قدر نہیں ہوتی جو خود اپنے نہیں ہوتے۔ اگر تم چاہو دوسرے تمھاری عزت کریں تو پہلے تم خود اپنی عزت کرو۔ اپنے آپ کو وقت دینا اور اپنا بہت سا خیال رکھنا ذہنی بھی اور جمسانی طور پر بھی۔ لہسن پیاز کی بو میں بسی بیوی صرف شوہر کے کچن کی باورچن تو بن سکتی ہے مگر دل کی رانی نہیں”
ابھی سیما کو صرف تین دن ہوئے تھے اپنی ماں سے بچھڑے مگر ایسا لگ رہا تھا تین صدیاں بیت چکی ہیں۔ وہ اس لمحے میں بالکل بھول ہی گئی کہ اسے فوراً باہر جا کر اپنے شوہر کی عزت بڑھانی ہے بلکہ وہ ابھی تک شیشے کے سامنے بے دھیانی سے کھڑی تھی اور یادوں کی تہیں تھیں کہ کپڑے کے تھان کی طرح کھلتی ہی چلی جا رہی تھیں۔
“دیکھو سیما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم میری بیٹی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل کی بہت اچھی ہونے کے باوجود مزاج کی کچھ تنک ہو۔ اسی بات کی مجھے بہت فکر رہتی ہے۔ ویسے بھی تمھاری پسند کی شادی ہے۔ ہمارے خاندان میں سات پشتوں سے کبھی “لو میرج” بھی نہیں ہوئی تھی اور “طلاق” بھی نہیں ہوئی۔ اس میں سے پہلی قسم تم نے توڑی ہے اب دوسری ہرگز مت توڑنا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا اور اپنی انا کو میکے کے دروازے پر چھوڑ جانا۔ شوہر کے ساتھ آ¶ گی تو سب دیدہ دل فرش راہ کریں گے اور جو کبھی اکیلی آئی تو سب دروازے بند ملیں گے”
“امی۔۔۔۔۔ میری امی”
اس نے بہت نرمی سے اپنا ہاتھ دوپٹے پر پھیرا گویا وہ دوپٹہ نہ ہو بلکہ مجسم ماں کا وجود ہو “ماں ” کا لفظ ایک سسکی بن کر اسکے ہونٹوں سے ادا ہوا۔۔۔۔
” حد کر دی لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی پہلے ہی دن ۔۔۔کہاں رہ گئی تھی تم؟ کہا بھی تھا دیر مت کرنا” ۔۔۔۔۔ فرقان لال انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھ کر چیخا۔ ہ دم سادم سادھے اسے دیکھنے لگی۔ کیا یہ وہی شخص ہے جو صرف پانچ منٹ پہلے اسے دیوانگی کی حد تک چاہنے کا یقین دلا رہا تھا۔ سخت بے یقینی کے ساتھ ڈبڈبائی آنکھوں سے اپنے محبوب شوہر کا یہ بالکل نیا اور عجیب وحشیانہ سا روپ دیکھ کر بھونچکی رہ گئی اور اپنی جگہ سے قدم بھی نہ ہلا سکی۔
“نہیں نہیں یہ میرا فرقان نہیں ہو سکتا” ۔۔ اسکا معصوم دل مچلنے لگا۔۔۔۔سارے ریشمی لمحے ایک ایک کر کے ریت کی طرح اسکی مٹھی سے پھسلنے لگے اور ایسا لگا جیسے وہ تن تنہا آزمائشوں کے تپتے صحرا میں ننگے پیر آبلہ پائی پر مجبور کر دی گئی ہے ۔۔ حیرت اور صدمے سے آنسو جہاں اٹکے تھے وہیں اٹکے رہ گئے۔
“چلو بھی اب ملکہ عالیہ۔۔ویسے تو تم نے تو میری انسلٹ کروا ہی دی ہے ۔ میں نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ میں پوری زندگی میں کبھی بڑے بھیا کی طرح زن مرید نہیں بنوں گا، تم بھی یہ بات جتنی جلدی سمجھ لو اتنا ہی اچھا ہو گا۔ اسے نخرے وخرے مجھے بالکل پسند نہیں ہیں ” وہ اسے بےدردی سے گھسیٹتا ہوا باہر کی طرف بڑھا۔۔
اف کیسا درد اٹھا تھا دل میں اور وہ کراہ بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ ایک تو ابھی بالکل نئی شادی تھی ، دوسرا اسے یہ “لو میرج” ہر حال میں کامیاب بنا کر دکھانی تھی ۔ ویسے بھی وہ ساری کشتیاں جلا کر اس سفر پر روانہ ہوئی تھی۔ آنکھوں میں آنسو، لبوں پر خاموشی کا پہرہ تھا۔ اس لئے چپ چاپ کسی معمول کی طرح اسکے پیچھے گھسٹتی ہی چلی گئی۔
ٹیبل پر فرقان کے امی، ابا، دو بڑے بھائی انکی بیویاں اور دو شادی شدہ نندیں اپنے اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ موجود تھیں۔ سب اسکی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساسو ماں کی آنکھوں میں فتح مندی کی واضح جھلک دیکھی جا سکتی تھی۔ وہ جیت گئیں تھیں۔ انکے چھوٹے بیٹے نے اپنی نئی نویلی دلہن کو جس طرح بدتمیزی سے گھسیٹ کر ٹیبل تک پہنچایا تھا اس سے ثابت ہو گیا تھا فرقان ہی ان کی اولاد میں ایک “اصلی” مرد ہے ورنہ باقی دونوں تو صرف جورو کے غلام تھے۔ انکے خیال میں مرد صرف وہی ہوتا تھا جو اپنی بیوی کو لگام ڈال سکے اور فرقان اس مردانگی کی آزمائش پر خوب پورا اترتا محسوس ہو رہا تھا اور دلچسپ بات تو یہ تھی کہ خاندان کی اتنی مخالفتوں کے بعد اپنی پسند کی بیوی لانے والے فرقان نے پہلے دن ثابت کر دیا تھا وہ اپنے بڑے بھائیوں کی طرح کبھی زن مرید نہیں بنے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شادی کو ابھی ایک ہفتہ ہوا تھا۔ وہ سب لوگ شام کی چائے پی رہے تھے جب کسی ٹی وی کی خبر پر تبصرہ کرتے کرتے اچانک فرقان کی امی نے کہا۔ ارے بھئی عورت تو ہوتی ہی فتنہ پرور ہے۔ پوری شر کی وجہ ۔ پورے سماج میں سارا فساد ان عورتوں کا ہی پھیلایا ہوا ہے” اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ثبوت کے طور پر وہ کسی نہ کسی کی بہو کا کوئی کارنامہ بھی بیان کرتی جا رہی تھیں۔ اسکے ساتھ ہی ساتھ اپنی اور اپنی بیٹیوں کی انکے سسرال میں لازوال قربانیوں کی مثال دینا بھی نہیں بھول رہیں تھیں۔ اپنی اور اپنی بیٹیوں کی محنت، ہمت، استقلال ثابت کرنے کو زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے تھے جبکہ تمام بہو¶ں کو مکر وفریب اور مجسم فتنہ قرار دیا جا رہا تھا۔
سیما یہ سب سن کر بھونچکی رہ گئی تھی۔ اسکو سخت حیرت ہوئی کوئی انکو ایسی گفتگو سے روک کیوں نہیں رہا۔ ایک بات اس نے خاص طور پر نوٹ کی تھی کہ بڑی بھابھی یہ گفتگو شروع ہوتے ہی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں جبکہ چھوٹی بھابھی ماتھے پر سخت ناگواری لئے خاموش بیٹھی تھیں۔ بیٹے اور بیٹیاں بھرپور طریقے سے اپنی امی کی ہاں میں ہاں ملا کر مختلف حوالوں سے عورت یعنی دنیا کی ہر “بہو” کو واقعی فتنہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے ماسوائے اپنی ماں اور بہنوں کے کیونکہ انکے نزدیک مجسم راحت وسکون کا پیکر تھیں۔
سیما کے لئے یہ سب بہت نیا اور غیر یقینی سا تھا۔ وہ حیرت سے منہ کھولے ایک ایک کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ غصے اور خفت سے اسکا اپنا چہرہ لال بھبھوکا ہو رہا تھا۔ اسکے لئے یہ بات ناقابل یقین تھی کہ ایک عورت بھلا خود ہی اپنی صنف کے بارے میں ایسی غیر اخلاقی گفتگو کیسے کر سکتی ہے، حد تو اس وقت ہوئی جب ساسو ماں نے خود اسے بھی معاملے میں گھسیٹ لیا اور تصدیق کراوانا چاہی کہ “تم ہی بولو چھوٹی دلہن کیا میں غلط کہ رہی ہوں” ؟ یہ سن کر اسکا خون ہی تو کھول گیا اور وہ لاکھ چاہنے پر بھی انکو کھری کھری نہیں سنا سکی ۔
اسے دکھ ہو رہا تھا کہ انکو یہاں کوئی بھی یہ بات بتانے والا کیوں نہیں ہے کہ ” ایک نیک عورت زمین پر کسی مرد کے لئے دنیا کا سب سے خوبصورت تحفہ ہوتی ہے” خیر اس نے بھی دل میں ٹھان لیا کہ کسی نہ کسی دن انکا یہ خیال بدل کر کم سے کم اپنی امی کی لگائی پہلی گرہ تو کھول ہی ڈالے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
انکی ” مریدکے” میں ایک چھوٹی سے لیدر کی فیکٹری تھی اور فرقان سمیت تینوں بھائی وہیں نوکری کرتے تھے۔ وہ بہت امیر نا سہی مگر غریب بھی ہرگز نہیں تھے۔ اچھی خاصی عیاشی کی زندگی گزر رہی تھی۔ سارے بھائی اور شوہر ساری کمائی لا کر ساسو ماں کے ہاتھ میں تھما دیتے تھے اور وہی سارے گھر کے اخراجات چلا تی تھیں۔ کسی اور کی جرآت ہی نہیں تھی اس بارے میں ان سے کوئی لفظ بھی پوچھ سکتا۔
اسکی دونوں بڑی نندوں صبا اور حنا کے گھر بھی انکے قریب اقبال ٹا¶ن میں ہی تھے وہ صبح صبح اپنے اپنے شوہرں اور بچوں کے جانے کے بعد سیدھی اپنے میکے کا رخ کرتی تھیں۔ نہ ہی گھر میں کوئی نوکر وغیرہ تھے۔ صرف ایک ماسی صفائی کے لئے آتی باقی سارا بار صرف بھابھیوں پر ہی تھا گویا وہ انسان نہ ہوں چلتی پھرتی مشینیں ہوں۔ سب لوگ ملکر زور زور سے چیختے۔ فلمی اداکاروں پر بحث سارا دن جاری رہتی ۔خوب ہلڑ بازی مچتی ،کھانا وغیرہ یہیں کھایا جاتا تھا اس لئے بار بار بھابیوں سے چائے کی فرمائش بھی کی جاتی۔ انکے بچے بھی سکول سے وآپسی پر سیدھے یہیں آجاتے اور خوب فرمائشیں کر کر کے کھانے پکواتے۔ شام کو گھر جاتے ہوئے دونوں نندیں یہیں سے اپنے شوہروں کے لئے کھانا بھی لے جاتی تھیں۔
یہ سارا ماحول سیما کے لئے نہ صرف بے حد عجیب اور نیا تھا بلکہ بہت اذیت ناک بھی تھا۔ اسکے اپنے گھر میں سب دھیما دھیما بولتے۔ کوئی کسی پر بوجھ بننا پسند نہیں کرتا تھا۔ اسکے بھائی اور ابو بھی اپنے سارے کام خود کرنے کے عادی تھے۔ مگر یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا تھا گھر سے باہر والوں کے کام بھی بہو کو کرنے پڑتے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک دن شام کو جب سب ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک سلمان کا سیل فون بجا تو وہ اٹھا کر دیکھنے لگی۔ اپنی ہی کزن کا ٹیکسٹ میسج دیکھ کر بے اختیار اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔ ابھی وہ جواب دینے بھی نہیں پائی تھی کہ سلمان نے جھپٹ کر اسکے ہاتھ سے سیل فون چھین لیا اور ڈانٹ کر بولا ۔
ارے یہ کیا؟ ٹیکسٹ میسج؟ پاگل تو نہیں ہو گئیں تم؟
اپنی کزن کو منع کرو فوراً ابھی اسی وقت ۔۔۔۔۔۔۔ خبردار جو کبھی اس نے دوبارہ ٹیسکٹ میسج کیا ہو۔ تمھیں نہیں معلوم اسکا ایکسٹرا بل آتا ہے اور میں نے وہ سروس نہیں لی ہوئی۔ عجیب جاہل لوگ ہیں یعنی جب گھر میں فون موجود ہے تو سیل پر ٹیکسٹ کرنے کا مطلب کیا بنتا ہے؟”
سیما حیرت اور غم سے بجھ کر رہ گئی ۔ سب کے سامنے کچھ بولنے کا مطلب اپنی ہی شامت بلوانا تھا۔اتنا تو وہ اپنے شوہر کو سمجھ ہی گئی تھی۔ اس لئے خون کے گھونٹ پی کی خاموش ہو رہی اور سچائی بتا نہیں سکی کہ کس طرح فرقان کی بہنیں سارا سارا دن فون پر قابض رہتی ہیں۔ وہ تو اپنے میکے بھی بات نہیں کر سکتی۔ اسکی کزن نے بھی کئی بار اسکے گھر فون کرنے کی کوشش کی تھی اور کبھی بھی فون نہ مل سکنے پر اسکی امی کے ہاتھ شکایت بھیجوائی تھی۔ اسکے دوست ،احباب اسے فون کرنے کی بار بار کوشش کرتے مگر یا تو فون مسلسل انگیج ملتا یا پھر اگر کبھی کوئی اٹھا بھی لیتا تو یہ کہ کر بند کر دیتا کہ ابھی ہم بیرون ملک کال پر ہیں آپ ایک گھنٹے بعد دوبارہ کرنا۔اور وہ گھنٹہ کبھی نہ آ پاتا کیونکہ بعد میں کوئی دوسرا انسان یہی جملہ دوبارہ سے بول کر آنے والا فون بند کروا دیتا تھا۔
سیما اکثر دل ہی دل میں اپنی ” بے بس ” زبان کی لمبائی ناپتی جس کے لمبا ہونے کا خوف اسکی ماں کو کبھی چین نہیں لینے دیتا تھا اور کبھی اپنی ڈگریوں کا انبار کھول کر بیٹھ جاتی ۔ وہ ان سب سے زیادہ پڑھی لکھی تھی ۔ ان سب کو ہر بات کا منہ توڑ جواب دے سکتی تھی۔ اسکے پاس ڈھیروں دلیلیں ہوتی تھیں اور وہ تمام دھاروں کا رخ موڑ دینے کی ہمت بھی رکھتی تھی مگر حقیقی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے اسکو یہ علم ہی نہیں تھا کہ باہر سے آنے والے طوفانوں کو تو روکا جا سکتا ہے، ہزاروں بند باندھے جا سکتے ہیں مگر جو طوفان اپنے ہی قدموں سے اٹھتے ہیں تو انکی غیر معمولی طاقت اور تباہی انسان کو کسی بھی پیش بندی سے پہلے ہی اوندھے منہ گرا کر ختم کر دیتی ہے اور اس وقت سیما کے لئے خود اسکے اپنے شوہر کا رویہ ہی سب سے زیادہ خطرناک طوفان بن چکا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک دن فرقان کے بڑے بھائی عرفان کا لیپ ٹاپ خراب ہو گیا تو وہ بوکھلائے بوکھلائے ادھر ادھر پھر رہے تھے۔ سیما نے کہا ” لائیں میں دیکھ لوں بھیا۔ شاید گھر پر ہی ٹھیک ہو جائے کیونکہ میں نے تو کمپیوٹر ہی پڑھا ہوا ہے ۔ میں ابھی چیک کر لیتی ہوں” یہ سنتے ہی عرفان بھائی طنزیہ انداز سے ہنسنے لگے اور بولے” نہیں بھئی چھوٹی دلہن۔ تم رہنے ہی دو۔ ہم نے ٹھیک کروانا ہے برباد نہیں کروانا”
اسے سن کر بہت برا لگا مگر پھر بھی بہت نرمی سے بولی ” نہیں نہیں۔۔ خراب نہیں ہو گا کم سے کم خرابی کی وجہ تو بتا دوں باقی آپ بےشک کسی اور سے ٹھیک کروا لیجیئے گا۔ یہ کہ کر زبردستی لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر دیکھتے ابھی دو منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ فرقان نے وہاں آتے ہی اسکے ہاتھ سے لیپ ٹاپ چھین لیا اور غصے سے بولے۔ “ارے ارے یہ کیا غضب کر رہی ہو ، چھوڑو اسے، پاگل ہوئی ہو کیا؟ تباہ کر دو گی تم تو لیپ ٹاپ کو۔ لڑکیوں کا کام صرف ہانڈی چولہا جھونکنا ہے۔ یہ کمپیوٹر وغیرہ لڑکوں کے کام ہیں۔ تم براہ مہربانی دوبارہ کبھی اسے ہاتھ مت لگانا۔ “
ایسے موقعے پر ساس بھلا کیوں پیچھے رہتیں فورا بولیں۔۔۔ “معاف کرو بھئی ۔۔۔پہلے اگر ہمارے پانچ سو روپے لگنے ہیں تو تمھارے ہاتھ لگانے کے بعد کہیں پانچ ہزار نہ لگ جائیں”۔ ساسو ماں کے ایسا کہتے ہی سب بدتمیزی سے ہنسنے لگے اور سیما خفت سے بری طرح لال ہو گئی۔ “مگر میں نے بچلرز کیا ہے کمپیوٹر میں” وہ خفگی سے دبا دبا احتجاج کرتے ہوئے بولی۔ “تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ پڑھنے میں اور پریکٹیکل کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ رٹا لگا کر پاس ہونا اور بات ہے مامی جان اور اصلی کمپیوٹر کو ٹھیک کرنا بالکل اور بات” اسکی نند کا اٹھارہ سالہ بیٹا بھی مذاق اڑانے میں اپنے خاندان سے ہرگز کم نہیں تھا۔ “یہ تو مردوں کے کام ہیں، جسکا کام اسی کو ساجھے آپ کچن میں جا کر ہمارے لئے چکن تکہ اور ریشمی کباب بنایئے پلیز ” وہ پلٹ کر بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر پھر کچھ سوچ کر وہ خاموشی سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس نے بہت بار فرقان کے سیل پر کوئی کام کرنا چاہا یا گھر کے کمپیوٹر کو ٹھیک کرنا چاہا مگر ہر بار اسے مذاق کا نشانہ بنا کر سختی سے روک دیا گیا۔ بلکہ صحیح لفظوں میں دونوں چیزیں اسکے ہاتھوں سے چھین لی گئیں۔ ٹھیک کرنا تو بہت دور کی بات اسے تو چھونے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ رفتہ رفتہ وہ کمپیوٹر اور سیل فون کو مکمل طور پر بھولنے لگی۔اب تو اسے خود بھی یاد نہیں رہا تھا کہ اس نے بچلرز کر رکھا ہے۔ اگر کبھی ہاتھ لگاتی بھی تو صرف اپنی کوئی میل پڑھکر فورا بند کرنے کا آرڈر تھا۔ اسکے علاوہ وہ کسی سائٹ پر نہیں جا سکتی تھی یا کمپیوٹر پر کوئی کام نہیں کر سکتی تھی۔
وہ جتنا خاموش رہ کر صبر کر کے اپنا آپ مار کر اچھی بہو بننے کی کوشش کرتی اتنا ہی دوسری طرف سے اسکو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا۔ اگر انسان کسی کی بات مانتا چلا جائے تو سب اسے مفت کا مال سمجھ کر دباتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اسکے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا۔ فرقان بند دروازے کے پیچھے اسکے لئے ریشم بن جاتا تھا اور دروازے کے باہر کھدر جیسا سخت اور کھردرا۔ ہر بات میں احساس دلاتا کہ جیسے لو میرج کو کامیاب بنانا صرف سیما کی ہی ذمہ داری ہو۔
اسی طرح دن پر دن گزرنے لگے۔ زمین نے جتنی دیر میں سورج کے گرد اپنے چار چکر مکمل کئے تھے اتنی دیر میں تین سالہ حرا اور دو سالہ عدنان بھی سیما کو اپنا مرکز منتخب کر کے اسکے گرد چکرانے لگے تھے۔ وہ بھی اپنی کہکشاں میں شامل ہونے والے ان دو خوبصورت سیاروں میں کھو سی گئی۔ اب وہ کسی بات پر حیران نہیں ہوتی تھی مگر ہاں پریشان بالکل پہلے دن جتنی ہی ہوتی تھی۔ گھر گھرہستی کا حال اب بھی بالکل وہی تھا جو پہلے دن سے چل رہا تھا۔
ایک دن ہمسائے سے ایک لڑکی عالیہ اپنا ایک کمپیوٹر اسائنمنٹ سیما کے پاس اٹھا لائی ۔اسکا صبح پیپر تھا اور اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ سیما نے کمپیوٹر میں میل چیک کرنے کے علاوہ چار سال سے کبھی کچھ نہیں کیا تھا۔ وہ سب کچھ بھول چکی تھی۔ اسے خود بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ عالیہ کو کیا بتائے۔ اس نے کافی یاد کرنے کی کوشش کی مگر دماغ کے ہر خانے سے ماں کی نصیحتوں اور ساس کی فضیحتوں کے علاوہ کچھ نہ نکلا۔ کافی سر کھپانے کے بعد اسے کچھ کچھ یاد آنے لگا۔ سارے گھر والے بہت طنز سے اس کا منہ دیکھ رہے تھے اور دل سے چاہتے تھے کہ واقعی وہ عالیہ کی مدد نہ کر سکے تاکہ زندگی بھر طعنے دے دے کر اسے دبانے میں مزید آسانی رہے۔ مگر کافی کوشش کے بعد اسکو سمجھ میں آ ہی گیا اور اس نے عالیہ کا مسئلہ حل کر کے اسکو بھیج دیا۔
آج اسکی بڑی بھابھی نے اسے اپنا سیل دے کر کہا ذرا انٹرنٹ سے “میں تیرے پیار میں پاگل” والا گانا تو اپ لوڈ کر دو مجھے بڑا پسند ہے ۔ میں چاہتی ہوں اسی گانے کی گھنٹی بنا لوں” وہ سیل فون اپنے ہاتھ میں دیکھ کر گھبرا گئی اور حیران ہو کر بولی مگر میں کیسے کروں؟ مجھے تو سیل میں سینڈ والے بٹن کے علاوہ کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔میں نے تو کئی سالوں سے سیل فون کو چھوا تک بھی نہیں ہے”۔
“کیا” حیرت سے بڑی بھابھی کی چیخ بلند ہو گئی۔ کیا کہ رہی ہو؟ مگر تم تو ہر وقت کمپیوٹر کی تعلیم کے جھنڈے گاڑتی رہتی ہو ۔ کیا “چھولے” دے کر پاس ہوئی تھی جب کہ تمھیں تو سیل فون پر ایک گانا تک “اپ لوڈ ” کرنا نہیں آتا انٹرنٹ سے؟ وہ بری طرح شرمندہ ہو گئی وہ۔۔ میں۔۔ اصل میں کبھی فرقان مجھے اپنے سیل فون کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے نا۔۔۔ اس لئے مجھے اسکے فنگشنشز کا بالکل علم نہیں ہے”۔
“ارے چھوڑو بھئی یہ تو سب بہانے ہیں۔ کیا پتا تمھیں کمپیوٹر بھی آتا ہے کہ نہیں ورنہ ڈگریاں تو فٹ پاتھ پر دو دو ہزار میں عام مل جاتی ہیں۔ ایسے ہی تو فرقان تمھیں کھبی کمپیوٹر کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا نا ۔ ظاہر ہے تمھاری اصلیت جانتا ہی ہو گا ۔ اپنی اسٹوڈینٹ لائف میں وہ دو سال تک تمھارے چھوٹے بھائی کو مڈل کلاس کی ٹیوشن پڑھانے تمھارے گھر جو جاتا رہا ہے۔۔”۔
یہ سن کر وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔ اسکے دونوں بچے بھی بہت شرمندگی سے اپنی ماں کو بے عزت ہوتا دیکھ رہے تھے۔ لاکھوں ان بہے آنسو اسکے دل پر بھی جمنے لگے کہ غم کی دیمک تو پہلے سے ہی اسے کافی کھوکھلا کر چکی تھی۔
“نہیں نہیں ” اب نہیں۔۔۔ اسکے اندر بغاوت کا ایک طوفان اٹھا۔ “نہیں میری ماں ” مجھے اب یہ گرہیں کھولنی ہوں گی جو آپ نے میری اچھی زندگی کے لئے لگائی تھیں۔ اب انکے کھول دینے کا وقت آ چکا ہے کیونکہ میں خود اپنی اولاد کے سامنے بے عزت نہیں ہو سکتی۔ وہ کافی دیر تک جاگتی رہی اور نئی زندگی کے نئے منصوبے بناتے بناتے جانے کب آنکھ لگ گئی ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آدھی رات کا وقت تھا جب خوفناک چیخوں سے اسکی آنکھ کھلی۔ گھر میں ڈاکو گھس آئے تھے۔ سارا زیور اور گھر میں موجود کیش کے علاوہ جاتے جاتے فرقان کو بھی اس شرط پر ساتھ لے گئے تھے کہ جلدی ساٹھ لاکھ کا انتظام کر کے اسکو چھڑوا لیں ورنہ تین دن بعد لاش کے ٹکڑے گھر کے قریبی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے اٹھا لینا۔
سارے گھر والے حیران پریشان کھڑے بے بسی سے یہ سب ہوتا دیکھ رہے تھے اور سیما کے تو جیسے پیروں سے زمین نکل گئی۔ اسکی تو دنیا ہی اندھیر ہو گئی تھی ۔
جیسے تیسے کر کے دو دن میں فیکٹری اور گھر کو نیلام کر کے، کچھ دوستوں کی مدد لے کر پچپن لاکھ کا انتظام کیا گیا۔ وہ لوگ خود کچھ دن کے لئے بڑی نند کے گھر میں منتقل ہو گئے۔ پھر بھی پانچ لاکھ کسی صورت نہیں بن رہے تھے۔ سیما کے گھر والوں نے بڑی مشکل سے اپنی زمین گروی رکھ کر باقی پانچ لاکھ کا انتظام کر دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تیسرے دن فرقان گھر تو آگیا مگر اسے زندہ سلامت وآپس لانے تک وہ لوگ خود فقیروں سے بھی برے حالوں میں آ گئے تھے۔ ایک ہفتے تک تو بڑی نند صبر کرتی رہی مگر پھر صبح شام مہنگائی کا رونا اور جگہ کی تنگی کی شکایت بڑھتی ہی چلی گئی ۔ وہ لوگ اسکی بدتمیزی سے بھری تقریریں سن سن کر بے حد شرمندہ ہوتے رہتے مگر انسان بھی عجیب معاشرتی جانور ہے۔ مجبوری کی انتہا اسے بھی اکثر بے غیرت بن جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ تینوں بھائیوں نے صرف” گریجوئیشن ” کیا ہوا تھا۔ انکو بھی فلحال کہیں نوکری نہیں مل رہی تھی۔ سارا سارا دن نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرتے اور شام کو ناکام وآپس جوتیاں چٹخاتے بہن کے گھر دوبارہ بےعزت ہونے کو لوٹ آتے۔
سارے لوگ فرقان اور سیما سے کٹے کٹے رہتے کہ جیسے سارا انکا قصور ہو اور یہی دونوں جان بوجھ کر انکی بربادی کی وجہ بنے ہوں۔ صرف تین ہفتے میں وہ لوگ زندگی کے ایک ناقابل یقین موڑ پر آ گئے تھے جہاں اندھیرا تھا، ذلت تھی، بےبسی تھی اور امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ سکتی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سیما نے اخبار میں کمپیوٹر کی ویکینسی والا اشتہار دیکھتے ہوئے ڈرتے ڈرتے فرقان سے نوکری کی اجازت مانگی۔ جسے سنتے ہی پہلے تو وہ غصے سے لال ہو گیا مگر پھر موجودہ صورت حال اور بہن کے طعنے اور بھائیوں کی بے روزگاری نے ہونٹوں پر مجبوری کی مہر لگا دی اور نہ چاہتے ہوئے بھی اسکا سر انکار کی بجائے اقرار میں ہل گیا ۔
انٹرویو میں کامیابی ہوتے ہی اگلے ہفتے جاب کا لیٹر مل گیا اور وہ سب لوگ اپنی بچی کھچی عزت سمیٹے پرانی انارکلی کے ٹوٹے پھوٹے گھر میں دو ہزار کرایہ کے مکان میں اٹھ آئے۔ اسکی دونوں بڑی نندیں اب اس گھر میں کبھی جھانکتی بھی نہیں تھیں۔ اسکی ساس اکثر بڑبڑاتی رہتی تھیں ” جانے کیوں یہ کمبخت دولت جاتے جاتے ساری محبتوں کو بھی اپنے ساتھ ہی بہا لے جاتی ہے۔ خونی رشتے بھی غیر ہو جاتے ہیں” سب یہ سن کر خاموش رہتے ۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ وہ محنت کش لوگ تھے ۔ پھر سے ایک دن انکو خوشحال ہونا ہی تھا مگر فلحال تو خوشیوں بھرے گھر میں اب بھوک، مفسلی تنہائی اور مایوسی نے ڈیرے ڈالے تھے۔ بھائیوں کو بھی بعد میں کچھ چھوٹی موٹی نوکریاں مل گئی تھیں ۔ جیسے تیسے کر کے وہ جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئے تھے او ر ر دوبارہ سے اپنا بزنس شروع کرنے کے طریقوں پر غور کر رہے تھے۔
ایسے میں جب سیما کو جاب سے پہلا چیک ملا تو اس نے گھر کی پرانی روایت برقرار رکھتے ہوئے بالکل باقی تینوں بیٹوں کی طرح ، گھر میں داخل ہوتے ہی بہو¶ں کو فتنہ قرار دینے والی ساس کے ہاتھ میں تھما دیا تو جانے کیوں وہ تڑپ اٹھی تھیں اور کچھ بھی کہے بغیر اتنے سالوں میں بالکل پہلی بار سیما کو گلے لگا کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو نے لگیں کیونکہ سیما نے کوئی بھی بدتمیزی کئے بغیر صرف اپنی ذہانت اور فراسٹ سے ایک بزرگ کو اس کی غلطی کا احساس دلا کر اپنی ماں کی لگائی ہوئی پہلی گرہ تو کھول ہی دی تھی اور اسے یقین تھا کہ بہت جلد ایسے ہی باقی گرہیں بھی کھول دے گی ، جن کے پار ایک روشن زندگی اس کی منتظر تھی۔ ۔
ختم شد

لو میرج ©©کی گرہیں
نورالعین ساحرہکمرے میں ہر طرف دلہناپے کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ دلہن کی چوڑیوں کی کھنک، مہندی اور ابٹن کی مہک مل جل کر ایک عجیب سا خوابناک تاثر پیدا کر رہی تھی۔ بیڈ کے گرد موتیے اور گلاب کی لڑیاں شادی کے تیسرے دن تک مرجھائی نہیں تھیں بلکہ کمرے کو خوب معطر کرنے کے ساتھ ساتھ دل میں عجیب دبا دبا ہیجان پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہی تھیں۔ سیما کی جھنپی جھنپی شرمیلی سی مسکراہٹ اور فرقان کی خوبصورت سرگوشیاں ماحول کو سحر انگیز بنا رہی تھیں۔ اسی لمحے دروازے پر زوردار دستک کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر فوراً پہنچنے کا حکم سنتے ہی دونوں ہڑبڑا کر رہ گئے۔فرقان اچھل کر کھڑے ہو گئے۔ ایک جھٹکے سے اسکا نازک حنائی ہاتھ یوں چھوڑا جیسے وہ ہاتھ نہ ہو بلکہ کوئی خطرناک سانپ ہو جو ایک لمحے کی تاخیر سے انکو ڈس لے گا۔ سیما کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا اور اچانک اپنی شدید بے عزتی کا احساس ہوا اور وہ گھبرا کر سراسیمگی سے انکو دیکھنے لگی ۔””میں باہر جا رہا ہوں تم بھی ایک سیکنڈ میں فوراً باہر آجا¶۔ ہمارے گھرمیں سورج نکلنے کے بعد کمرے کا دروازہ بند رکھنے کا رواج بالکل نہیں ہے۔ کل صبح چھ بجے سے روزانہ یہ دروازہ چوپٹ کھل جایا کرے گا۔ تم نے تو ویسے بھی وعدہ کیا ہے نا کہ تم ہماری اس ” لو میرج” کو کامیاب بنانے کے علاوہ کبھی میرا سر گھر والوں کے سامنے جھکنے نہیں دو گی۔اس لئے تمھیں سر سے پیر تک ہمارے گھر کے رنگ میں رنگنا پڑے گا اور ان تمام چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا پڑے گا”یہ سب کہتے کہتے فرقان آ دھی چپل پیروں میں پھنسائے، اسے بھی جلدی آنے کی تاکید کے ساتھ ساتھ سہاگ رات کے تمام وعدے یاد دلا کر گویا مستقبل میں پیش آنے والی آزمائشوں کے لئے ذہنی طور پر تیار کرتے ہوئے باہر چلے گئے۔ و ہ ہکابکا انہیں اتنی ایمرجنسی میں باہر جاتا ہوا دیکھنے لگی۔ ذہنی طور پر الجھ سی گئی اور غائب دماغی سے اٹھ کر، باہر جانے سے پہلے اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭اپنے دوپٹے کو دیکھتے وہ بری طرح ٹھٹکی اور بلاوجہ ہی ڈھیروں آنسو بن بادل برسات بنے برسنے کو تیار ہو گئے۔ دل میں ایک ہوک سی اٹھی اور اسکے پورے وجود کو کسی ٹائم مشین کی طرح چند دن پرانے “ماضی” میں گھسیٹ لے گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے روپہلے زرتار دوپٹے کے ایک ایک ٹانکے میں اسکی ماں کی محبت اور چاہت گندھی تھی۔ سارا دن کام کرنے کے بعد کتنی راتوں میں جاگ جاگ کر اس کی امی نے یہ دوپٹہ مکمل کیا تھا۔ کتنی بار انکے ہاتھ میں سوئی لگنے سے خون نکلا تھا۔ ساری انگلیاں چھلنی کرنے کے بعد بھی وہ پہلے سے ذیادہ پیار سے دوبارہ بنانے بیٹھ جاتی تھیں اور ہر ٹانکے میں اسکے لئے ڈھیروں دعا¶ں کے علاوہ ہر گرہ میں ایک نصیحت بھی ضرور باندھے جاتی تھیں اور اسکو بتانا بالکل نہیں بھولتی تھیں۔”یاد رکھنا میں نے دوپٹے کے ہر کونے پر تمھاری یادداشت کے لئے ایک ایک گرہ لگائی ہے جو تمھیں زندگی بھر ہر مسئلے کے حل اور صحیح راستے کا تعین کرنے میں مدد کر تی رہے گی۔ جیسے جیسے تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتی جا¶ گی ویسے ویسے یہ ساری گرہیں ساتھ ساتھ کھولتی چلی جانا۔ سب کام اچھے طریقے سے ختم ہونے کے بعد ان گرہوں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔سب سے پہلی گرہ ہے بڑوں کا ادب جو ہر حال میں تم پر واجب ہے چاہے وہ کتنے ہی غلط کیوں نہ ہوں۔ انکو انکی غلطی کا احساس ضرور دلانا لیکن اپنی ذہانت اور فراست کے ساتھ ناکہ جاہلوں کی طرح اپنی زبان چلا کر ہماری تربیت اور انکی عزت خاک میں ملا دینا۔
دوسری گرہ ہے تمھارے شوہر کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اسکی جان ومال اور عزت وناموس کی حفاظت کرنا۔ جو شکایت ہو صرف شوہر سے کہنا۔ اسکے علاوہ سسرال یا میکے میں اسکا اظہار کر کے اپنے شوہر کا سر مت جھکانا۔
تیسری گرہ ہے خود اپنے نفس کے علاوہ تمھارے بچوں کی اچھی تربیت اور گھر کا ماحول جو تم نے اسلامی اور معاشرتی دونوں ضرورتوں کو انکے مقام کے حساب سے اہمیت دے کر مکمل کرنا ہے ۔
چوتھی اور آخری گرہ ہے ۔ خود اپنے آپ سے پیار کرنا۔ ان لوگوں کی زمانے میں کوئی قدر نہیں ہوتی جو خود اپنے نہیں ہوتے۔ اگر تم چاہو دوسرے تمھاری عزت کریں تو پہلے تم خود اپنی عزت کرو۔ اپنے آپ کو وقت دینا اور اپنا بہت سا خیال رکھنا ذہنی بھی اور جمسانی طور پر بھی۔ لہسن پیاز کی بو میں بسی بیوی صرف شوہر کے کچن کی باورچن تو بن سکتی ہے مگر دل کی رانی نہیں”
ابھی سیما کو صرف تین دن ہوئے تھے اپنی ماں سے بچھڑے مگر ایسا لگ رہا تھا تین صدیاں بیت چکی ہیں۔ وہ اس لمحے میں بالکل بھول ہی گئی کہ اسے فوراً باہر جا کر اپنے شوہر کی عزت بڑھانی ہے بلکہ وہ ابھی تک شیشے کے سامنے بے دھیانی سے کھڑی تھی اور یادوں کی تہیں تھیں کہ کپڑے کے تھان کی طرح کھلتی ہی چلی جا رہی تھیں۔
“دیکھو سیما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم میری بیٹی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل کی بہت اچھی ہونے کے باوجود مزاج کی کچھ تنک ہو۔ اسی بات کی مجھے بہت فکر رہتی ہے۔ ویسے بھی تمھاری پسند کی شادی ہے۔ ہمارے خاندان میں سات پشتوں سے کبھی “لو میرج” بھی نہیں ہوئی تھی اور “طلاق” بھی نہیں ہوئی۔ اس میں سے پہلی قسم تم نے توڑی ہے اب دوسری ہرگز مت توڑنا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا اور اپنی انا کو میکے کے دروازے پر چھوڑ جانا۔ شوہر کے ساتھ آ¶ گی تو سب دیدہ دل فرش راہ کریں گے اور جو کبھی اکیلی آئی تو سب دروازے بند ملیں گے””امی۔۔۔۔۔ میری امی”اس نے بہت نرمی سے اپنا ہاتھ دوپٹے پر پھیرا گویا وہ دوپٹہ نہ ہو بلکہ مجسم ماں کا وجود ہو “ماں ” کا لفظ ایک سسکی بن کر اسکے ہونٹوں سے ادا ہوا۔۔۔۔
” حد کر دی لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی پہلے ہی دن ۔۔۔کہاں رہ گئی تھی تم؟ کہا بھی تھا دیر مت کرنا” ۔۔۔۔۔ فرقان لال انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھ کر چیخا۔ ہ دم سادم سادھے اسے دیکھنے لگی۔ کیا یہ وہی شخص ہے جو صرف پانچ منٹ پہلے اسے دیوانگی کی حد تک چاہنے کا یقین دلا رہا تھا۔ سخت بے یقینی کے ساتھ ڈبڈبائی آنکھوں سے اپنے محبوب شوہر کا یہ بالکل نیا اور عجیب وحشیانہ سا روپ دیکھ کر بھونچکی رہ گئی اور اپنی جگہ سے قدم بھی نہ ہلا سکی۔
“نہیں نہیں یہ میرا فرقان نہیں ہو سکتا” ۔۔ اسکا معصوم دل مچلنے لگا۔۔۔۔سارے ریشمی لمحے ایک ایک کر کے ریت کی طرح اسکی مٹھی سے پھسلنے لگے اور ایسا لگا جیسے وہ تن تنہا آزمائشوں کے تپتے صحرا میں ننگے پیر آبلہ پائی پر مجبور کر دی گئی ہے ۔۔ حیرت اور صدمے سے آنسو جہاں اٹکے تھے وہیں اٹکے رہ گئے۔
“چلو بھی اب ملکہ عالیہ۔۔ویسے تو تم نے تو میری انسلٹ کروا ہی دی ہے ۔ میں نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ میں پوری زندگی میں کبھی بڑے بھیا کی طرح زن مرید نہیں بنوں گا، تم بھی یہ بات جتنی جلدی سمجھ لو اتنا ہی اچھا ہو گا۔ اسے نخرے وخرے مجھے بالکل پسند نہیں ہیں ” وہ اسے بےدردی سے گھسیٹتا ہوا باہر کی طرف بڑھا۔۔اف کیسا درد اٹھا تھا دل میں اور وہ کراہ بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ ایک تو ابھی بالکل نئی شادی تھی ، دوسرا اسے یہ “لو میرج” ہر حال میں کامیاب بنا کر دکھانی تھی ۔ ویسے بھی وہ ساری کشتیاں جلا کر اس سفر پر روانہ ہوئی تھی۔ آنکھوں میں آنسو، لبوں پر خاموشی کا پہرہ تھا۔ اس لئے چپ چاپ کسی معمول کی طرح اسکے پیچھے گھسٹتی ہی چلی گئی۔
ٹیبل پر فرقان کے امی، ابا، دو بڑے بھائی انکی بیویاں اور دو شادی شدہ نندیں اپنے اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ موجود تھیں۔ سب اسکی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساسو ماں کی آنکھوں میں فتح مندی کی واضح جھلک دیکھی جا سکتی تھی۔ وہ جیت گئیں تھیں۔ انکے چھوٹے بیٹے نے اپنی نئی نویلی دلہن کو جس طرح بدتمیزی سے گھسیٹ کر ٹیبل تک پہنچایا تھا اس سے ثابت ہو گیا تھا فرقان ہی ان کی اولاد میں ایک “اصلی” مرد ہے ورنہ باقی دونوں تو صرف جورو کے غلام تھے۔ انکے خیال میں مرد صرف وہی ہوتا تھا جو اپنی بیوی کو لگام ڈال سکے اور فرقان اس مردانگی کی آزمائش پر خوب پورا اترتا محسوس ہو رہا تھا اور دلچسپ بات تو یہ تھی کہ خاندان کی اتنی مخالفتوں کے بعد اپنی پسند کی بیوی لانے والے فرقان نے پہلے دن ثابت کر دیا تھا وہ اپنے بڑے بھائیوں کی طرح کبھی زن مرید نہیں بنے گا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭شادی کو ابھی ایک ہفتہ ہوا تھا۔ وہ سب لوگ شام کی چائے پی رہے تھے جب کسی ٹی وی کی خبر پر تبصرہ کرتے کرتے اچانک فرقان کی امی نے کہا۔ ارے بھئی عورت تو ہوتی ہی فتنہ پرور ہے۔ پوری شر کی وجہ ۔ پورے سماج میں سارا فساد ان عورتوں کا ہی پھیلایا ہوا ہے” اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ثبوت کے طور پر وہ کسی نہ کسی کی بہو کا کوئی کارنامہ بھی بیان کرتی جا رہی تھیں۔ اسکے ساتھ ہی ساتھ اپنی اور اپنی بیٹیوں کی انکے سسرال میں لازوال قربانیوں کی مثال دینا بھی نہیں بھول رہیں تھیں۔ اپنی اور اپنی بیٹیوں کی محنت، ہمت، استقلال ثابت کرنے کو زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے تھے جبکہ تمام بہو¶ں کو مکر وفریب اور مجسم فتنہ قرار دیا جا رہا تھا۔
سیما یہ سب سن کر بھونچکی رہ گئی تھی۔ اسکو سخت حیرت ہوئی کوئی انکو ایسی گفتگو سے روک کیوں نہیں رہا۔ ایک بات اس نے خاص طور پر نوٹ کی تھی کہ بڑی بھابھی یہ گفتگو شروع ہوتے ہی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں جبکہ چھوٹی بھابھی ماتھے پر سخت ناگواری لئے خاموش بیٹھی تھیں۔ بیٹے اور بیٹیاں بھرپور طریقے سے اپنی امی کی ہاں میں ہاں ملا کر مختلف حوالوں سے عورت یعنی دنیا کی ہر “بہو” کو واقعی فتنہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے ماسوائے اپنی ماں اور بہنوں کے کیونکہ انکے نزدیک مجسم راحت وسکون کا پیکر تھیں۔
سیما کے لئے یہ سب بہت نیا اور غیر یقینی سا تھا۔ وہ حیرت سے منہ کھولے ایک ایک کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ غصے اور خفت سے اسکا اپنا چہرہ لال بھبھوکا ہو رہا تھا۔ اسکے لئے یہ بات ناقابل یقین تھی کہ ایک عورت بھلا خود ہی اپنی صنف کے بارے میں ایسی غیر اخلاقی گفتگو کیسے کر سکتی ہے، حد تو اس وقت ہوئی جب ساسو ماں نے خود اسے بھی معاملے میں گھسیٹ لیا اور تصدیق کراوانا چاہی کہ “تم ہی بولو چھوٹی دلہن کیا میں غلط کہ رہی ہوں” ؟ یہ سن کر اسکا خون ہی تو کھول گیا اور وہ لاکھ چاہنے پر بھی انکو کھری کھری نہیں سنا سکی ۔
اسے دکھ ہو رہا تھا کہ انکو یہاں کوئی بھی یہ بات بتانے والا کیوں نہیں ہے کہ ” ایک نیک عورت زمین پر کسی مرد کے لئے دنیا کا سب سے خوبصورت تحفہ ہوتی ہے” خیر اس نے بھی دل میں ٹھان لیا کہ کسی نہ کسی دن انکا یہ خیال بدل کر کم سے کم اپنی امی کی لگائی پہلی گرہ تو کھول ہی ڈالے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انکی ” مریدکے” میں ایک چھوٹی سے لیدر کی فیکٹری تھی اور فرقان سمیت تینوں بھائی وہیں نوکری کرتے تھے۔ وہ بہت امیر نا سہی مگر غریب بھی ہرگز نہیں تھے۔ اچھی خاصی عیاشی کی زندگی گزر رہی تھی۔ سارے بھائی اور شوہر ساری کمائی لا کر ساسو ماں کے ہاتھ میں تھما دیتے تھے اور وہی سارے گھر کے اخراجات چلا تی تھیں۔ کسی اور کی جرآت ہی نہیں تھی اس بارے میں ان سے کوئی لفظ بھی پوچھ سکتا۔
اسکی دونوں بڑی نندوں صبا اور حنا کے گھر بھی انکے قریب اقبال ٹا¶ن میں ہی تھے وہ صبح صبح اپنے اپنے شوہرں اور بچوں کے جانے کے بعد سیدھی اپنے میکے کا رخ کرتی تھیں۔ نہ ہی گھر میں کوئی نوکر وغیرہ تھے۔ صرف ایک ماسی صفائی کے لئے آتی باقی سارا بار صرف بھابھیوں پر ہی تھا گویا وہ انسان نہ ہوں چلتی پھرتی مشینیں ہوں۔ سب لوگ ملکر زور زور سے چیختے۔ فلمی اداکاروں پر بحث سارا دن جاری رہتی ۔خوب ہلڑ بازی مچتی ،کھانا وغیرہ یہیں کھایا جاتا تھا اس لئے بار بار بھابیوں سے چائے کی فرمائش بھی کی جاتی۔ انکے بچے بھی سکول سے وآپسی پر سیدھے یہیں آجاتے اور خوب فرمائشیں کر کر کے کھانے پکواتے۔ شام کو گھر جاتے ہوئے دونوں نندیں یہیں سے اپنے شوہروں کے لئے کھانا بھی لے جاتی تھیں۔یہ سارا ماحول سیما کے لئے نہ صرف بے حد عجیب اور نیا تھا بلکہ بہت اذیت ناک بھی تھا۔ اسکے اپنے گھر میں سب دھیما دھیما بولتے۔ کوئی کسی پر بوجھ بننا پسند نہیں کرتا تھا۔ اسکے بھائی اور ابو بھی اپنے سارے کام خود کرنے کے عادی تھے۔ مگر یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا تھا گھر سے باہر والوں کے کام بھی بہو کو کرنے پڑتے تھے۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ایک دن شام کو جب سب ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک سلمان کا سیل فون بجا تو وہ اٹھا کر دیکھنے لگی۔ اپنی ہی کزن کا ٹیکسٹ میسج دیکھ کر بے اختیار اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔ ابھی وہ جواب دینے بھی نہیں پائی تھی کہ سلمان نے جھپٹ کر اسکے ہاتھ سے سیل فون چھین لیا اور ڈانٹ کر بولا ۔ارے یہ کیا؟ ٹیکسٹ میسج؟ پاگل تو نہیں ہو گئیں تم؟ اپنی کزن کو منع کرو فوراً ابھی اسی وقت ۔۔۔۔۔۔۔ خبردار جو کبھی اس نے دوبارہ ٹیسکٹ میسج کیا ہو۔ تمھیں نہیں معلوم اسکا ایکسٹرا بل آتا ہے اور میں نے وہ سروس نہیں لی ہوئی۔ عجیب جاہل لوگ ہیں یعنی جب گھر میں فون موجود ہے تو سیل پر ٹیکسٹ کرنے کا مطلب کیا بنتا ہے؟”سیما حیرت اور غم سے بجھ کر رہ گئی ۔ سب کے سامنے کچھ بولنے کا مطلب اپنی ہی شامت بلوانا تھا۔اتنا تو وہ اپنے شوہر کو سمجھ ہی گئی تھی۔ اس لئے خون کے گھونٹ پی کی خاموش ہو رہی اور سچائی بتا نہیں سکی کہ کس طرح فرقان کی بہنیں سارا سارا دن فون پر قابض رہتی ہیں۔ وہ تو اپنے میکے بھی بات نہیں کر سکتی۔ اسکی کزن نے بھی کئی بار اسکے گھر فون کرنے کی کوشش کی تھی اور کبھی بھی فون نہ مل سکنے پر اسکی امی کے ہاتھ شکایت بھیجوائی تھی۔ اسکے دوست ،احباب اسے فون کرنے کی بار بار کوشش کرتے مگر یا تو فون مسلسل انگیج ملتا یا پھر اگر کبھی کوئی اٹھا بھی لیتا تو یہ کہ کر بند کر دیتا کہ ابھی ہم بیرون ملک کال پر ہیں آپ ایک گھنٹے بعد دوبارہ کرنا۔اور وہ گھنٹہ کبھی نہ آ پاتا کیونکہ بعد میں کوئی دوسرا انسان یہی جملہ دوبارہ سے بول کر آنے والا فون بند کروا دیتا تھا۔سیما اکثر دل ہی دل میں اپنی ” بے بس ” زبان کی لمبائی ناپتی جس کے لمبا ہونے کا خوف اسکی ماں کو کبھی چین نہیں لینے دیتا تھا اور کبھی اپنی ڈگریوں کا انبار کھول کر بیٹھ جاتی ۔ وہ ان سب سے زیادہ پڑھی لکھی تھی ۔ ان سب کو ہر بات کا منہ توڑ جواب دے سکتی تھی۔ اسکے پاس ڈھیروں دلیلیں ہوتی تھیں اور وہ تمام دھاروں کا رخ موڑ دینے کی ہمت بھی رکھتی تھی مگر حقیقی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے اسکو یہ علم ہی نہیں تھا کہ باہر سے آنے والے طوفانوں کو تو روکا جا سکتا ہے، ہزاروں بند باندھے جا سکتے ہیں مگر جو طوفان اپنے ہی قدموں سے اٹھتے ہیں تو انکی غیر معمولی طاقت اور تباہی انسان کو کسی بھی پیش بندی سے پہلے ہی اوندھے منہ گرا کر ختم کر دیتی ہے اور اس وقت سیما کے لئے خود اسکے اپنے شوہر کا رویہ ہی سب سے زیادہ خطرناک طوفان بن چکا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ایک دن فرقان کے بڑے بھائی عرفان کا لیپ ٹاپ خراب ہو گیا تو وہ بوکھلائے بوکھلائے ادھر ادھر پھر رہے تھے۔ سیما نے کہا ” لائیں میں دیکھ لوں بھیا۔ شاید گھر پر ہی ٹھیک ہو جائے کیونکہ میں نے تو کمپیوٹر ہی پڑھا ہوا ہے ۔ میں ابھی چیک کر لیتی ہوں” یہ سنتے ہی عرفان بھائی طنزیہ انداز سے ہنسنے لگے اور بولے” نہیں بھئی چھوٹی دلہن۔ تم رہنے ہی دو۔ ہم نے ٹھیک کروانا ہے برباد نہیں کروانا”اسے سن کر بہت برا لگا مگر پھر بھی بہت نرمی سے بولی ” نہیں نہیں۔۔ خراب نہیں ہو گا کم سے کم خرابی کی وجہ تو بتا دوں باقی آپ بےشک کسی اور سے ٹھیک کروا لیجیئے گا۔ یہ کہ کر زبردستی لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر دیکھتے ابھی دو منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ فرقان نے وہاں آتے ہی اسکے ہاتھ سے لیپ ٹاپ چھین لیا اور غصے سے بولے۔ “ارے ارے یہ کیا غضب کر رہی ہو ، چھوڑو اسے، پاگل ہوئی ہو کیا؟ تباہ کر دو گی تم تو لیپ ٹاپ کو۔ لڑکیوں کا کام صرف ہانڈی چولہا جھونکنا ہے۔ یہ کمپیوٹر وغیرہ لڑکوں کے کام ہیں۔ تم براہ مہربانی دوبارہ کبھی اسے ہاتھ مت لگانا۔ “ایسے موقعے پر ساس بھلا کیوں پیچھے رہتیں فورا بولیں۔۔۔ “معاف کرو بھئی ۔۔۔پہلے اگر ہمارے پانچ سو روپے لگنے ہیں تو تمھارے ہاتھ لگانے کے بعد کہیں پانچ ہزار نہ لگ جائیں”۔ ساسو ماں کے ایسا کہتے ہی سب بدتمیزی سے ہنسنے لگے اور سیما خفت سے بری طرح لال ہو گئی۔ “مگر میں نے بچلرز کیا ہے کمپیوٹر میں” وہ خفگی سے دبا دبا احتجاج کرتے ہوئے بولی۔ “تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ پڑھنے میں اور پریکٹیکل کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ رٹا لگا کر پاس ہونا اور بات ہے مامی جان اور اصلی کمپیوٹر کو ٹھیک کرنا بالکل اور بات” اسکی نند کا اٹھارہ سالہ بیٹا بھی مذاق اڑانے میں اپنے خاندان سے ہرگز کم نہیں تھا۔ “یہ تو مردوں کے کام ہیں، جسکا کام اسی کو ساجھے آپ کچن میں جا کر ہمارے لئے چکن تکہ اور ریشمی کباب بنایئے پلیز ” وہ پلٹ کر بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر پھر کچھ سوچ کر وہ خاموشی سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭اس نے بہت بار فرقان کے سیل پر کوئی کام کرنا چاہا یا گھر کے کمپیوٹر کو ٹھیک کرنا چاہا مگر ہر بار اسے مذاق کا نشانہ بنا کر سختی سے روک دیا گیا۔ بلکہ صحیح لفظوں میں دونوں چیزیں اسکے ہاتھوں سے چھین لی گئیں۔ ٹھیک کرنا تو بہت دور کی بات اسے تو چھونے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ رفتہ رفتہ وہ کمپیوٹر اور سیل فون کو مکمل طور پر بھولنے لگی۔اب تو اسے خود بھی یاد نہیں رہا تھا کہ اس نے بچلرز کر رکھا ہے۔ اگر کبھی ہاتھ لگاتی بھی تو صرف اپنی کوئی میل پڑھکر فورا بند کرنے کا آرڈر تھا۔ اسکے علاوہ وہ کسی سائٹ پر نہیں جا سکتی تھی یا کمپیوٹر پر کوئی کام نہیں کر سکتی تھی۔
وہ جتنا خاموش رہ کر صبر کر کے اپنا آپ مار کر اچھی بہو بننے کی کوشش کرتی اتنا ہی دوسری طرف سے اسکو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا۔ اگر انسان کسی کی بات مانتا چلا جائے تو سب اسے مفت کا مال سمجھ کر دباتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اسکے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا۔ فرقان بند دروازے کے پیچھے اسکے لئے ریشم بن جاتا تھا اور دروازے کے باہر کھدر جیسا سخت اور کھردرا۔ ہر بات میں احساس دلاتا کہ جیسے لو میرج کو کامیاب بنانا صرف سیما کی ہی ذمہ داری ہو۔
اسی طرح دن پر دن گزرنے لگے۔ زمین نے جتنی دیر میں سورج کے گرد اپنے چار چکر مکمل کئے تھے اتنی دیر میں تین سالہ حرا اور دو سالہ عدنان بھی سیما کو اپنا مرکز منتخب کر کے اسکے گرد چکرانے لگے تھے۔ وہ بھی اپنی کہکشاں میں شامل ہونے والے ان دو خوبصورت سیاروں میں کھو سی گئی۔ اب وہ کسی بات پر حیران نہیں ہوتی تھی مگر ہاں پریشان بالکل پہلے دن جتنی ہی ہوتی تھی۔ گھر گھرہستی کا حال اب بھی بالکل وہی تھا جو پہلے دن سے چل رہا تھا۔ایک دن ہمسائے سے ایک لڑکی عالیہ اپنا ایک کمپیوٹر اسائنمنٹ سیما کے پاس اٹھا لائی ۔اسکا صبح پیپر تھا اور اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ سیما نے کمپیوٹر میں میل چیک کرنے کے علاوہ چار سال سے کبھی کچھ نہیں کیا تھا۔ وہ سب کچھ بھول چکی تھی۔ اسے خود بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ عالیہ کو کیا بتائے۔ اس نے کافی یاد کرنے کی کوشش کی مگر دماغ کے ہر خانے سے ماں کی نصیحتوں اور ساس کی فضیحتوں کے علاوہ کچھ نہ نکلا۔ کافی سر کھپانے کے بعد اسے کچھ کچھ یاد آنے لگا۔ سارے گھر والے بہت طنز سے اس کا منہ دیکھ رہے تھے اور دل سے چاہتے تھے کہ واقعی وہ عالیہ کی مدد نہ کر سکے تاکہ زندگی بھر طعنے دے دے کر اسے دبانے میں مزید آسانی رہے۔ مگر کافی کوشش کے بعد اسکو سمجھ میں آ ہی گیا اور اس نے عالیہ کا مسئلہ حل کر کے اسکو بھیج دیا۔آج اسکی بڑی بھابھی نے اسے اپنا سیل دے کر کہا ذرا انٹرنٹ سے “میں تیرے پیار میں پاگل” والا گانا تو اپ لوڈ کر دو مجھے بڑا پسند ہے ۔ میں چاہتی ہوں اسی گانے کی گھنٹی بنا لوں” وہ سیل فون اپنے ہاتھ میں دیکھ کر گھبرا گئی اور حیران ہو کر بولی مگر میں کیسے کروں؟ مجھے تو سیل میں سینڈ والے بٹن کے علاوہ کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔میں نے تو کئی سالوں سے سیل فون کو چھوا تک بھی نہیں ہے”۔
“کیا” حیرت سے بڑی بھابھی کی چیخ بلند ہو گئی۔ کیا کہ رہی ہو؟ مگر تم تو ہر وقت کمپیوٹر کی تعلیم کے جھنڈے گاڑتی رہتی ہو ۔ کیا “چھولے” دے کر پاس ہوئی تھی جب کہ تمھیں تو سیل فون پر ایک گانا تک “اپ لوڈ ” کرنا نہیں آتا انٹرنٹ سے؟ وہ بری طرح شرمندہ ہو گئی وہ۔۔ میں۔۔ اصل میں کبھی فرقان مجھے اپنے سیل فون کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے نا۔۔۔ اس لئے مجھے اسکے فنگشنشز کا بالکل علم نہیں ہے”۔”ارے چھوڑو بھئی یہ تو سب بہانے ہیں۔ کیا پتا تمھیں کمپیوٹر بھی آتا ہے کہ نہیں ورنہ ڈگریاں تو فٹ پاتھ پر دو دو ہزار میں عام مل جاتی ہیں۔ ایسے ہی تو فرقان تمھیں کھبی کمپیوٹر کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا نا ۔ ظاہر ہے تمھاری اصلیت جانتا ہی ہو گا ۔ اپنی اسٹوڈینٹ لائف میں وہ دو سال تک تمھارے چھوٹے بھائی کو مڈل کلاس کی ٹیوشن پڑھانے تمھارے گھر جو جاتا رہا ہے۔۔”۔یہ سن کر وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔ اسکے دونوں بچے بھی بہت شرمندگی سے اپنی ماں کو بے عزت ہوتا دیکھ رہے تھے۔ لاکھوں ان بہے آنسو اسکے دل پر بھی جمنے لگے کہ غم کی دیمک تو پہلے سے ہی اسے کافی کھوکھلا کر چکی تھی۔

“نہیں نہیں ” اب نہیں۔۔۔ اسکے اندر بغاوت کا ایک طوفان اٹھا۔ “نہیں میری ماں ” مجھے اب یہ گرہیں کھولنی ہوں گی جو آپ نے میری اچھی زندگی کے لئے لگائی تھیں۔ اب انکے کھول دینے کا وقت آ چکا ہے کیونکہ میں خود اپنی اولاد کے سامنے بے عزت نہیں ہو سکتی۔ وہ کافی دیر تک جاگتی رہی اور نئی زندگی کے نئے منصوبے بناتے بناتے جانے کب آنکھ لگ گئی ۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭آدھی رات کا وقت تھا جب خوفناک چیخوں سے اسکی آنکھ کھلی۔ گھر میں ڈاکو گھس آئے تھے۔ سارا زیور اور گھر میں موجود کیش کے علاوہ جاتے جاتے فرقان کو بھی اس شرط پر ساتھ لے گئے تھے کہ جلدی ساٹھ لاکھ کا انتظام کر کے اسکو چھڑوا لیں ورنہ تین دن بعد لاش کے ٹکڑے گھر کے قریبی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے اٹھا لینا۔سارے گھر والے حیران پریشان کھڑے بے بسی سے یہ سب ہوتا دیکھ رہے تھے اور سیما کے تو جیسے پیروں سے زمین نکل گئی۔ اسکی تو دنیا ہی اندھیر ہو گئی تھی ۔جیسے تیسے کر کے دو دن میں فیکٹری اور گھر کو نیلام کر کے، کچھ دوستوں کی مدد لے کر پچپن لاکھ کا انتظام کیا گیا۔ وہ لوگ خود کچھ دن کے لئے بڑی نند کے گھر میں منتقل ہو گئے۔ پھر بھی پانچ لاکھ کسی صورت نہیں بن رہے تھے۔ سیما کے گھر والوں نے بڑی مشکل سے اپنی زمین گروی رکھ کر باقی پانچ لاکھ کا انتظام کر دیا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تیسرے دن فرقان گھر تو آگیا مگر اسے زندہ سلامت وآپس لانے تک وہ لوگ خود فقیروں سے بھی برے حالوں میں آ گئے تھے۔ ایک ہفتے تک تو بڑی نند صبر کرتی رہی مگر پھر صبح شام مہنگائی کا رونا اور جگہ کی تنگی کی شکایت بڑھتی ہی چلی گئی ۔ وہ لوگ اسکی بدتمیزی سے بھری تقریریں سن سن کر بے حد شرمندہ ہوتے رہتے مگر انسان بھی عجیب معاشرتی جانور ہے۔ مجبوری کی انتہا اسے بھی اکثر بے غیرت بن جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ تینوں بھائیوں نے صرف” گریجوئیشن ” کیا ہوا تھا۔ انکو بھی فلحال کہیں نوکری نہیں مل رہی تھی۔ سارا سارا دن نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرتے اور شام کو ناکام وآپس جوتیاں چٹخاتے بہن کے گھر دوبارہ بےعزت ہونے کو لوٹ آتے۔
سارے لوگ فرقان اور سیما سے کٹے کٹے رہتے کہ جیسے سارا انکا قصور ہو اور یہی دونوں جان بوجھ کر انکی بربادی کی وجہ بنے ہوں۔ صرف تین ہفتے میں وہ لوگ زندگی کے ایک ناقابل یقین موڑ پر آ گئے تھے جہاں اندھیرا تھا، ذلت تھی، بےبسی تھی اور امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ سکتی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سیما نے اخبار میں کمپیوٹر کی ویکینسی والا اشتہار دیکھتے ہوئے ڈرتے ڈرتے فرقان سے نوکری کی اجازت مانگی۔ جسے سنتے ہی پہلے تو وہ غصے سے لال ہو گیا مگر پھر موجودہ صورت حال اور بہن کے طعنے اور بھائیوں کی بے روزگاری نے ہونٹوں پر مجبوری کی مہر لگا دی اور نہ چاہتے ہوئے بھی اسکا سر انکار کی بجائے اقرار میں ہل گیا ۔
انٹرویو میں کامیابی ہوتے ہی اگلے ہفتے جاب کا لیٹر مل گیا اور وہ سب لوگ اپنی بچی کھچی عزت سمیٹے پرانی انارکلی کے ٹوٹے پھوٹے گھر میں دو ہزار کرایہ کے مکان میں اٹھ آئے۔ اسکی دونوں بڑی نندیں اب اس گھر میں کبھی جھانکتی بھی نہیں تھیں۔ اسکی ساس اکثر بڑبڑاتی رہتی تھیں ” جانے کیوں یہ کمبخت دولت جاتے جاتے ساری محبتوں کو بھی اپنے ساتھ ہی بہا لے جاتی ہے۔ خونی رشتے بھی غیر ہو جاتے ہیں” سب یہ سن کر خاموش رہتے ۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ وہ محنت کش لوگ تھے ۔ پھر سے ایک دن انکو خوشحال ہونا ہی تھا مگر فلحال تو خوشیوں بھرے گھر میں اب بھوک، مفسلی تنہائی اور مایوسی نے ڈیرے ڈالے تھے۔ بھائیوں کو بھی بعد میں کچھ چھوٹی موٹی نوکریاں مل گئی تھیں ۔ جیسے تیسے کر کے وہ جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئے تھے او ر ر دوبارہ سے اپنا بزنس شروع کرنے کے طریقوں پر غور کر رہے تھے۔
ایسے میں جب سیما کو جاب سے پہلا چیک ملا تو اس نے گھر کی پرانی روایت برقرار رکھتے ہوئے بالکل باقی تینوں بیٹوں کی طرح ، گھر میں داخل ہوتے ہی بہو¶ں کو فتنہ قرار دینے والی ساس کے ہاتھ میں تھما دیا تو جانے کیوں وہ تڑپ اٹھی تھیں اور کچھ بھی کہے بغیر اتنے سالوں میں بالکل پہلی بار سیما کو گلے لگا کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو نے لگیں کیونکہ سیما نے کوئی بھی بدتمیزی کئے بغیر صرف اپنی ذہانت اور فراسٹ سے ایک بزرگ کو اس کی غلطی کا احساس دلا کر اپنی ماں کی لگائی ہوئی پہلی گرہ تو کھول ہی دی تھی اور اسے یقین تھا کہ بہت جلد ایسے ہی باقی گرہیں بھی کھول دے گی ، جن کے پار ایک روشن زندگی اس کی منتظر تھی۔ ۔ختم شد

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button