ادارتی کالم

قیامت کی گھڑی


قیامت کی گھڑی

قیامت کا نام اورذکر ایک بار نہیں ہزار بار لوگوں سے سنا اورقرآن واحادیث نبوی میں پڑھا تو تھا مگر یہ منظر کبھی دیکھا نہ تھا اس منظر کے لےے ایک دن مقرر ہے اوراس دن یہ منظر تو ہر انسان اپنی آنکھوں سے ضرور دیکھے گا کیونکہ قیامت ضرور برپا ہوگی اور اس حقیقت سے کسی مسلمانوں کو انکار بھی نہیں قیامت برپا ہوگی اور تمام انسان یہ منظر دیکھیں گے بھی لیکن وقت آنے پر ہم نے تو سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث بھی ایک ایسا منظر دیکھا جو کسی قیامت سے ہر گز کم نہیں ایک لمحے میں دیہاتوں ۔۔۔۔گاﺅں ۔۔۔قصبوں اورشہروں کا ملیا میٹ ہونا اور ہزاروں و لاکھوں انسانوں کا پانی میں بہہ جانا قیامت نہیں تو اورکیا ہے۔۔۔۔؟ قیامت کے بارے میں بھی یہی ہے کہ اس دن بھائی کو بہن ۔۔۔بہن کو بھائی ۔۔۔بیٹے کو ماں باپ ۔۔۔والدین کو اپنے بچوں ۔۔۔بیوی کو شوہر اور شوہر کو بیوی مطلب کسی انسان کوکسی انسان کی کیا اپنے بہت ہی قریبی رشتہ دار کے بارے میں بھی کوئی خبر اور پروا نہیں ہوگی ۔نفسا نفسی کا یہ عالم ہوگا کہ بہن بھائی اورماں باپ ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہونگے اورایک دوسرے کے لےے کچھ بھی نہیں کرسکیں گے اور ایسا ہی کچھ سیلاب کے دوران ہوا اور ہم نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی ماﺅں کے سامنے معصوم بچے اور بچوں کے سامنے مائیں پانی کی تیز لہروں کی نذر ہوئیں مگر نہ تو بچے ماﺅں کو بچا سکے اور نہ ہی مائیں بچوں کو ۔۔دو کروڑ سے زائد افراد آج بھی بے سروسامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے زندگی کے شب وروز گزار ہے ہیں ان کے پاس سرچھپانے کے لےے نہ چھت ہے۔۔۔۔ نہ بدن ڈھانپنے کیلئے کپڑا۔۔۔۔ اورنہ پیٹ کا جہنم بھرنے کے لےے روٹی کا ایک نوالہ۔۔ ان لوگوں پر آج بھی قیامت نہیں تو اورکیا ہے۔۔۔؟ سیلاب نے گلگت سے کراچی اورپشاور سے کوئٹہ تک قیامت برپا کردی ہے سیلاب میں بہت کچھ تباہ ہوچکا ہے کل تک جہاں بلند وبالا عمارتیں ۔۔۔ ہنتے بستے گھر اور خوشیوں کابسیرا ہوتاتھا آج وہاں غم کی پریوں کا راج اورکھنڈرات کے سوا کچھ نہیں۔۔ سیلاب کی تیز لہروں تلے آنے والے دو کروڑ سے زائد افراد پراس وقت کیا گزررہی ہے اس کا اندازہ اور احساس غیروں کوتو ہے مگر افسوس کہ اپنوں کو نہیں۔۔ صدر زرداری سے لیکر میاں نواز شریف تک نام نہاد لیڈر ان اورحکمران جو عوام کے خیرخواہ ہونے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے انہوںنے ان دو کروڑ افراد کیلئے کیا کیا ۔۔۔۔؟ دو کروڑ سے زائد افراد بھوک ومختلف قسم کی بیماریوں سے مررہے ہیں مگر زرداری سے نواز شریف تک حکمرانوں ولیڈروں کو عیش وعشرت ۔۔۔۔سیاست ومنافقت سے فرصت نہیں۔۔ جو قوم آزمائش میں مبتلا اور بھوک وافلاس سے مررہی ہو اس کے حکمران شاہانہ زندگی نہیں گزارتے مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے۔ ایک مہینے سے زائد کا وقت گزر گیاہے کہ دو کروڑ افراد موت سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر قبر کے کنارے کھڑے کسی مسیحا کی راہ دیکھ رہے ہیں مگر دور دور تک کوئی مسیحا نظر نہیں آرہا مانا کہ سیلاب سے پیدا شدہ مسائل زیادہ اور وسائل کم ہے ۔ مگر اس قدر کم نہیں کہ سیلاب زدگان کے زخموں پر مرہم بھی نہ رکھا جا سکے ۔۔اگر وسائل زخموں پر مرہم لگانے کیلئے بھی نہیں ہے تو پھر وزراءکی یہ فوج ظفر موج کیوں ۔۔۔۔۔۔؟ اس ملک میں صدر اور وزیراعظم سے ہٹ کر وزیروں اورمشیروں کی عیاشیوں پر کیا کچھ خرچ ہورہا ہے اس کا تو اندازہ لگانا بھی مشکل ہے وزیروں اور مشیروں پر خرچ ہونے والا سرمایہ ہی اگر متاثرین پر لگایا جا تا تو متاثرین آج اس قدر کسمپرسی کی زندگی نہ گزارتے اورنہ ہی بھوک وافلاس سے نڈھال ہوتے حکمران اپنا بنک بیلنس بڑھانے اور تجوریاں بھرنے کیلئے غریب عوام پر ٹیکسوں پر ٹیکس تولگا رہے ہیں اس ملک میں ایسی کوئی چیز ہی نہیں کہ جس پر ٹیکس نہ لگا ہو عوام تو سر سے لیکر پاو¿ںتک ٹیکس کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں عوام تو روزانہ کروڑوں کے حساب سے ٹیکس دیتے ہیں مگر اس کے باوجود مشکل آنے پر حکمرانوں کے پاس انہی عوام کیلئے کچھ نہیں ہوتا ۔۔موجودہ حکمران تو عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں اب حکومت کا وجود بھی بے معنی سی لگنے لگی ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں حکومت نے خود متاثرین کو پانچ پانچ ہزار روپے عید سے پہلے دینے کا اعلان کیا پانچ ہزار روپے کیا ہے اور اس سے کیا ہوتا ہے موجودہ حالات میں تو پانچ ہزار روپے تو ایک دو دن کا خرچہ بھی نہیں ہوتا اول تو سب کچھ لٹ جانے والوں کیلئے عید کے موقع پر پانچ ہزار روپے کا اعلان کرتے ہوئے حکمرانوں کو شرم نہیں آئی اور پھر عید سے پہلے متاثرین کو وہ پانچ ہزار روپے دیئے بھی نہیں ۔۔جو حکمران سال بارہ مہینے جھوٹ پر ہی گزارا کرے ان سے خیر کی کیا توقع کی جا سکتی ہے ےہ تو وہ حکمران ہے کہ جنہوں نے پہلے سوات ۔۔۔دیر ۔۔ پاڑہ چنار ودیگر علاقوں میں آپریشن کرکے لوگوں کو ہجرت پر مجبور کیا اورجب لوگ ملک وقوم کی مفاد کی خاطر سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کر گئے تو پھر یہی حکمران تھے جو مہاجرین کو بے یار و مددگار چھوڑ کر آنکھیں چراتے پھرتے تھے میں آج بھی جب ایبٹ آباد کی گلیوں اور محلوں میں پاڑہ چنار سے تعلق رکھنے والے محمد الیاس اولباز اور شاہ ذالدین کو دیکھتا ہوں تو مہاجرین کے غمزدہ چہر ے میرے سامنے اور ان پر بیتی ایام کا دکھ درد پھر سے مجھے یا د آنے لگتا ہے ان دونوں نے اس وقت جب مہاجرین کیمپوں میں زندگی کے شب وروز کاٹ رہے تھے مجھے ایسے واقعات سنائے کہ جسے سنتے ہی کئی بار میری آنکھیں بھی پرنم ہوئیں ۔ ۔مہاجرین کیلئے بھی حکومت نے کیمپ قائم کئ

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button