ادارتی کالم

عدلیہ سے محاذ آرائی کیوں؟

عثمان حسن زئی

سپریم کورٹ کی جانب سے چیئرمین نیب کی تقرری کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو پی پی رہنماﺅں کی طرف سے شرمناک قرار دینے پر سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا، جب عدالت نے چیئرمین نیب کی تقرری کے فیصلے کے خلاف احتجاج اور نامناسب الفاظ استعمال کرنے پر پیپلزپارٹی سندھ کے سیکرٹری اور صوبائی حکومت کے میڈیا کوآرڈینیٹر تاج حیدر اور رکن سندھ اسمبلی شرجیل انعام میمن کو طلب کیا تو دونوں پی پی رہنماﺅں کے ساتھ سندھ کے 3 اہم وزراءسمیت سندھ کے 70 کے قریب مرد اور خواتین ارکان اسمبلی کو صدر زرداری کے خصوصی طیارے میں اسلام آباد پہنچایا گیا۔ ذرائع کے مطابق سندھ کے وزراءاور ارکان اسمبلی کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ عدالت میں اجرک اور ٹوپیاں پہن کر پیش ہوں۔ بعض قانونی ماہرین اسے عدالت عظمیٰ میں سندھ کارڈ استعمال کرنے کی کوشش سے تعبیر کررہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں تاج حیدر اور شرجیل میمن کو توہین عدالت کے مقدمے میں جواب داخل کرنے کے لیے 3 ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ہڑتال کے دوران جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کو معاوضہ ادا کرکے لوگوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت اپنے فیصلوں کا تحفظ کرے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ارکان اسمبلی کا احترام کرتی ہے مگر یہ اداروں کے وقار اور احترام کی بات ہے، آپ لوگ سینئر رہنما اور سیاست دان ہیں، اگر آپ لوگ اداروں کا احترام نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں پر ہمیں حدود میں رہتے ہوئے تنقید پر کوئی اعتراض نہیں لیکن کیا عدالت کے فیصلے کو شرمناک قرار دینا درست ہوسکتا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ آزادی اظہار رائے الگ معاملہ ہے لیکن عدالتی فیصلوں کے خلاف ہڑتالیں کرنا اور لوگوں کو مارنا کہاں کا انصاف ہے؟urdu-columinst
سپریم کورٹ کے توہین عدالت کے مقدمے میں نوٹس لیے جانے پر ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ پی پی رہنماﺅں کے تندوتیز اور عدلیہ مخالف بیانات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ میں بھٹو کا پیرو کار ہوں کوئی معافی نہیں مانگوں گا۔
سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزانے عدلیہ کو دھمکی دی ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں شرجیل میمن اور تاج حیدر کو سزا سنائی تو پوری سندھ اسمبلی رضا کارانہ طور پر جیل چلی جائے گی۔ بابر اعوان کہہ رہے ہیں کہ عدالتوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور پی پی رہنما فیصل کریم کنڈی نے بھی بیان داغا کہ ادارے حدود میں رہیں، کارکنوں کو جیلوں سے نہیں ڈرایا جاسکتا۔
شاید یہی وجہ ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ”جنرل تو بند کمروں میں لیکن عوامی نمایندے سڑکوں پر عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہمیں کسی جنرل کی پروا نہیں، ہمیں آئین اور قانون کے مطابق فیصلے دینے ہیں۔“
آپ غور کریں! حکومت نے 32 سال بعد ذوالفقار بھٹو کیس ری اوپن کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کا مقصد کیا ہے؟حالانکہ یہ کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں بھٹو کیس سے زیادہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی گرفتاری اہم ہے۔ اس سے تو حکمران نظریں چرارہے ہیں اور پھر دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم نے بے نظیر کے قاتلوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ اگر قاتلوں کو پکڑ لیا ہے تو بے نظیر قتل کیس میں مشرف کو کیوں نامزد کیا ہوا ہے؟ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ بھٹو کیس ری اوپن کرنے کا سب سے بڑا مقصد عدالت کو دباﺅ میں لانا ہے۔ جبکہ این آر او نظر ثانی کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ نے فل کورٹ تشکیل دے دیا ہے جس کی سماعت 11 اپریل سے شروع ہوگی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اس سے قبل ہی عدلیہ کو دباﺅ میں لانے کی تیاری کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی پی رہنماﺅں نے ایوان عدل کے خلاف پروپیگنڈے کا بازار گرم کررکھا ہے، حکمران پارٹی کے لیڈر بے سروپا بیانات دے کر ریاستی اداروں میں محاذ آرائی کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے سیاسی فضا میں کشیدگی کی شدت بجا طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔
آپ اندازہ لگائیں! وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا یہ بیان اخبارات کی زینت بن چکا ہے کہ ہڑتال کی کال کسی پارٹی یا حکومت نے نہیں دی بلکہ وہ عوامی رد عمل تھا۔ اس سے قبل سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے بھی چیف جسٹس کی کراچی آمد کے موقع پر 12 مئی کو 48 لاشوں کے گرنے پر کہا تھا کہ یہ عوامی طاقت کا مظاہرہ تھا۔ حکومتی عہدیداروں کی بیان بازی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکمران پارٹی کس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے موجودہ حکومت کے متعلق یہ تاثر زور پکڑتا جارہا ہے کہ حکومت عدلیہ سے محاذ آرائی بڑھانا چاہتی ہے۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہورہا بلکہ آپ غور کریں جو بھی مقدمہ سپریم کورٹ آرہا ہے۔ وہ کرپشن کیس ہو یا چیئرمین نیب کی تقرری، کنٹریکٹ افسران کا معاملہ ہو یا ایف آئی اے کا، این آر او کیس سمیت حکومت عدالت عظمیٰ کے ہر فیصلے پر عمل درآمد سے کتراکر اور راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ عدالتی فیصلے کے خلاف ہڑتال کی کال سے یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ صرف وفاق میں ہی نہیں بلکہ حکومتی ایوانوں میں نچلی سطح تک بغاوت کی سوچ پائی جاتی ہے۔
عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن یہ بات بعید از قیاس معلوم ہوتی ہے کہ ہماری سرکار خود اپنے ہی اجزائے ترکیبی کے خلاف اور انہیں کٹہرے میں کھڑے کرنے پر آمادہ ہوجائے۔ اگر حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہ کرے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو درخور اعتنا نہ سمجھے تو ایسی صورتحال میں عدالت آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت فورسز کی مدد طلب کرسکتی ہے اور عدلیہ کے احکامات کی بجا آوری کرنا فورسز کی آئینی ذمہ داری ہوگی۔
صدر زرداری عدلیہ کی بحالی کے سلسلے میں وعدے کرتے رہے اور پھر بیان داغا کہ ”وعدے تو قرآن و حدیث نہیں ہوتے“ اگر ایوان صدر معاہدہ بھوربن کے تحت مارچ 2008ءمیں ججوں کو بحال کردیتا تو شاید آج منظر نامہ قدرے مختلف ہوتا۔ یہ ہمارے لیے بدقسمتی کی بات ہے کہ حکومتی ذمہ داران عدالتی فیصلوں کے الفاظ اور روح کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے مضحکہ خیز اور مایوس کن اقدامات کے لیے عدالتی فیصلوں کی من مانی تشریح کررہے ہیں۔ عدلیہ کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ انتہائی خطرناک بات یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان اپنی محاذ آرائی میں عدلیہ کو گھسیٹنے کو کوشش کررہے ہیں یوں لگتا ہے برسر اقتدر طبقے کو اس ملک، اس کے عوام اور اس کے مستقبل کا احساس ہی نہیں ہے۔ سب اپنی اپنی ہانک رہے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ تما پتے کھیل چکنے کے بعد ایک مرتبہ پھر عاقبت نااندیش سندھ کارڈ کھیل کر اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بلاشبہ پیپلزپارٹی کی پالیسیاں اداروں کو تصادم کی طرف لے جارہی ہیں۔ حالات اتنے دگرگوں ہیں لیکن ہمارے حکمران اب بھی آنکھیں بند کرکے بیٹھے سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں۔ اگر ہماری قیادت ہی ایوان عدل کے فیصلوں کی دھجیاں اڑاتی رہی تو پھر اس ملک کا کیا بنے گا؟ حکمرانوں سمیت ملک کے تمام طبقات کوعدالتی فیصلوں کو خوش دلی سے قبول کرنا ہوگا۔ اگر ریاستی اداروں میں ٹکراﺅ کی فضا برقرار رہی اور راہنمایان قوم اسی طرح غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے رہے تو کیا یہ حکومت ہی نہیں، پورے نظام کی بساط لپیٹنے والوں کو دعوت دینے کے مترادف نہیں؟ اور ایسی صورتحال میں کیا پی پی حکومت کے لیے آئینی مدت پوری کرنا آسان ہوگا؟

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button