ادارتی کالم

سیلاب میں گھری قوم کوچارہ سازانِ سیاست سے گلہ

سیلاب میں گھری قوم کوچارہ سازانِ سیاست سے گلہ….. ؟؟؟؟

تحریر: محمداعظم عظیم اعظم
آج پاکستانی قوم سیلاب کی تباہ کاریوں سے جس آزمائش اور امتحان سے دوچار ہے اِسے ایسی آزمائش اور امتحان سے واسطہ کبھی نہیں پڑامگر اِس کے باوجود بھی یہ امرقابلِ ستائش ہے کہ یہ قوم اپنے بلند حوصلے اور ہمت سے جس طرح اِس آزمائش اور امتحان سے گزررہی ہے اِس کی مثال بھی صدیوں تک دی جاتی رہے گی تو اُدھر ہی اِس پریشان کن صورت حال میں جب یہ ہی پاکستانی قوم اپنے حکمرانوں، سیاستدانوں اور رہنماؤں کی طرف دیکھتی ہے تو بقول شاعر بشیر فاروقی قوم چلااٹھتی ہے کہ:-
چارہ سازانِ سیاست سے گلہ ہے تو یہی وقت کے ساتھ یہ ظالم بھی بدل جاتے ہیں
ذکرہودرد کے ماروں کاتو رہتے ہیں خموشی تذکرہ گر ہووزارت کا مچل جاتے ہیں
اور جب ایسے میں اہلِ دانش حکمرانوں اور سیاستدانوں کی رہنمانی کرتے ہیں تو اِنہیں اہلِ دانش کا وجود زہر لگنے لگتاہے اور وہ اِنہیں سیاسی اداکار اور نوٹنکی بازکہہ کر اِن کی کھلم کھلا تضحیک کرکے اپنی تسکین کرتے نہیں تھکتے تو ایسے میں سیلاب میں پھنسی عوام کے زحموں کا مداواکرنے کے بجائے میڈیا پر اپنے بڑے بڑے دعوے اور وعدے کر کے چلے جانے والے اِن ہی بے حس اور عیار ومکارحکمرانوں، سیاستدانوں اور رہنماو ¿ں کو سمجھاتے ہوئے شاعر کہتاہے :-
دھواںجواُٹھ رہاہے آج مظلوموں کے سینے سے وہ طوفان بلاگربن گیاتو کون روکے گا
اگر دانشورانِ ملک و ملت ہی نہ ٹوکیں گے بتاو ¿ حاکمانِ وقت کو پھر کون ٹو کے گا
میراخیال یہ ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب ساراپاکستان ہی سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے تاریخ کے انتہائی بدترین نقصانات سے دوچار ہے تو ایسے میں پریشان حال عوام سے کہیں زیادہ قومی خزانے سے عیاشیاں کرنے والے حکمرانو، سیاستدانو، وزرائے مملکت اور مذہبی و سیاسی رہنماو ¿ں کو بھی اپنے اندر برداشت اور صبر وتحمل کا مادہ پیداکرناہوگا اور سیلاب سے پریشان حال عوام کی جانب سے اپنے اُوپر ہونے والی تنقیدوں اور دیگر ناگوار الفاظ اور جملوں کو سُن کر بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا ہوگا ورنہ وہی ہوگا جو عوام چاہتے ہیں اور عوام یہ چاہتے ہیں کہ اگر عوامی تنقیدوں کے الٹ حکمرانو اورسیاستدانونے طاقت کا استعمال کیا تو وہی کچھ ہوگا جس کا خدشہ ظاہر کیاجارہاہے کہ ملک کے طول ارض میں خانہ جنگی کی کیفیت پیداکردی جائے اور حکمرانواور سیاستدانوکا بوریابستر گول کردیاجائے۔
اگرچہ یہ وہ کھلی حقیقت ہے کہ جِسے دنیا تسلیم کرچکی ہے کہ28 جولائی سے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آنے والے پاکستان کی تاریخ کے انتہائی بدترین سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اِس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی جس سے اقوام متحدہ کی رپورٹ اور اَب تک ایک اندازے کے مطابق دوکروڑ افرادمتاثر ہوئے ہیں تو اُدھر ہی حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ اِس ہولناک سیلاب میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت آتی جارہی ہے اور جیسے جیسے اِس کا رخ بحرہ عرب کی جانب ہوتاجارہاہے اِس سے مزید ہونے والی تباہ کاریوں کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں اگرچہ صدی کا یہ خطرناک ترین سیلاب اِن دنوں سندھ میں اپنی تباہی پھیلارہا ہے اور جب تک یہ مکمل طور پر بحرہ عرب میں گر نہیں جاتااِس سے مزید ہونے والی تباہ کاریو ں کے خدشات کو کسی بھی صُورت میں رد نہیں کیاجاسکتااَب تک کی اطلاعات کے مطابق سندھ کو سیلاب سے40ارب کا نقصان ہواہے جبکہ گھڑی فصلوں کی تباہی اور انسانی جانوں کی ہلاکیتں اِس کے علاوہ ہیں۔
اُدھر یہ امر یقینا پریشان حال سیلاب زدگان کے لئے اُمید افزاہے کہ بین الاقوامی تعان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور کرائسز رسپانس کے لئے یورپین کیمشن کی کمشنر کرسنالیناجارجیوانے پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے ہنگامی ریلیف امداد میں مزید30ملین یوروکا اعلان کردیاہے جس سے خبر کے مطابق کمیشن کی طرف سے سیلاب متاثرین کے لئے مختص کئے گئے کل فنڈز70ملین یوروتک پہنچ گئے ہیں۔تواِس کے ساتھ ہی گزشتہ دنوں ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کی صدارت میں ہونے والے اپنی نوعیت کے ایک انتہائی اہم ترین اجلاس میںملک میں صدی کے آنے والے تباہ کن سیلاب سے پیداہونے والی صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیاگیا اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیاگیاکہ ہنگامی بنیادوں پر سیلاب سے متاثرہ خاندانوںکی فہرست تیار کی جائے اورسیلاب سے متاثرہ فی خاندان کو 20 ہزار روپے دیئے جائیں اِس سلسلے میں فوری طور پر سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو 5ہزار روپے کی پہلی قسط دینے کافوری فیصلہ بھی کیاگیاہے۔
جبکہ حکومت کی جانب سے ملک میں آنے والے اپنی نوعیت کے انتہائی تباہ کن سیلاب سے پیداہونے والی صُورت حال کے حوالے سے ملکی اخبارات اور سرکاری ونجی ٹی وی چینلز پر آنے والی اطلاعات سے ہرسیکنڈ بعد عوام پر یہ تاثر دینے کی کوششیں کی جارہی ہے کہ حکومت متاثرین سیلاب کی مدد کے لئے ہرممکن اقدامات کررہی ہے مگر اِس قسم کی حکومتی زبانی کلامی کا پول تو اُس وقت کھلا جب خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اپنے جذباتی انداز سے اِس بات کا والہانہ انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ سیلاب زدگان کی ریلیف کی مد میں نقدی کی شکل میں اب تک ایک ڈالر بھی موصول نہیں ہوا ہے اِس منظر اور پس منظر میں کیا ایک عام آدمی یہ نہیں سمجھے گاکہ حکومت کے قول اور فعل میں کتناتضاد ہے یہ میڈیا پر کچھ کہتی ہے حقائق اِس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں کہیں حکومت کا یہ دوغلہ پن اِسے لے نہ ڈوبے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button