ادارتی کالم

سنبھل جاو ورنہ!


samiullahmalik

سنبھل جاو ورنہ!

ان دنوں سیلاب زدگان کی خیمہ بستیوں میں سیاسی لیڈروں کے ساتھ ملک کاسارامیڈیاساتھ ساتھ چل رہا ہے اورفوٹو سیشن میں ان کی سخاوت اوردریادلی اورسیاسی بیانات کے مناظرکیمرے کی آنکھ ساری دنیا کودکھارہی ہے۔ اس ملک کے منظر نا مے پر اتنی مصروفیات نظر آرہی ہیں کہ کسی میلے کا گمان ہو تا ہے۔اس ساری رنگا رنگی اور کیمروں کی چکا چوند میں ایک ہلا ل آسمان پر طلوع ہوا‘اور مسلمانوں نے رات سجدوں اور صبح روزوں میں گزار کر افطار کی نعمتوں سے لطف اٹھایا۔جس کے مقدر میں جس قدر شکر کی تو فیق آئی اس نے شکر ادا کیا ‘جس کے حصے میں گنا ہوں سے توبہ کر نے کا شعور آیا اس نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ اپنی ندامت اور شرمساری اللہ کے حضور پیش کر دی۔
لیکن اس ساری گہما گہمی ‘رنگا رنگی اور رمضان کی نعمتوں اور بر کتوں کو سمیٹنے کے مو سم کے درمیان پتہ نہیں کیوں دل ایک ایسے گھرا نے کی تبا ہی اور بر با دی کے قصوں میں الجھا رہاجس گھر میں آج سے چھ سال پہلے ایسا ہی ہلا ل رمضان آتا ہو گا اور وہ ماں جس کا تعلق اپنے ا للہ سے بہت پختہ تھا‘یقیناً کتنے اہتمام کر تی ہو گی۔سحری جا گنے کے لئے الارم لگانا‘صبح کی تہجد کا اہتمام‘سحری کی لذت ،فجر کی تلاوت‘پھر ا پنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو روزے کی ترغیب یہی سب کچھ تو ہے جو ہما رے گھر میں ہو تاہے۔مدتوں سے یہ مہینہ ہما رے گھروں میں اترتا ہے اور ہما رے معمولا ت ویسے ہی ہو جا تے ہیں ۔آج بھی بچے کم سنی میں روزہ رکھنے کی ضد کرتے ہیں‘آج بھی ہما رے بڑے کسی کمسن بچے کی ضد کے سا منے ہار جاتے ہیں اور پھر پورا دن اس کے روزے کا اہتمام ہو تا رہتا ہے۔
پہلے چارسال یہ گھرانہ لا پتہ تھا لیکن اب پچھلے دوسالوں سے پاکستانیوں کواپنی اس بہن یابیٹی کی خبرمیڈیا کے ذریعے ملی ‘پہلے توکسی کو خبر تک نہ تھی ان پر کتنے رمضان اور کتنی عیدیں بیت گئیں ۔ جن کو خبر ملتی اور بتا تے کہ بگرام کے جیل خا نے میں ایک عورت ہے جس کی چیخیں دل دہلا دیتی ہیں ۔جو اس قید خانے کا بھوت بن چکی ہے۔جس کو علم تک نہیں تھاکہ اس کے تین چھو ٹے بچے کس حال میں ہیں (اب دوبچے بازیاب ہوچکے ہیں)۔اگر علم ہے بھی تو اتنا کہ اسے اپنے سیل میں قید ان کے رونے کی آوازیں آتی ہیں اور بے بس ماں اس جکڑے ہو ئے ما حول میں نہ انہیں دلا سہ دے سکتی تھی اور نہ تسلی۔جن کو اس قید خا نے سے رہا ئی ملی وہ خبر دیتے ر ہے کہ وہ عورت جس کے سر پر حجاب اور جسم پر دے سے ڈھکا رہتا تھا ‘قید خا نے کے افسروں کی ہوسناکی کا شکار ہو تی رہی اور اس کی دلدوز چیخیں قید یوں کا دل دہلا تی رہیں ۔
ہم سب لا علم بنے رہے ‘ہم سب چپ سادھے رہے ۔ہما ری لا علمی ‘ہما ری چپ ضروری تھی۔کو ئی ا پنی بیٹی یا بہن غیروں کے ہا تھ فروخت کر کے عزت اور آبرو کے ساتھ گفتگو کر نے کے قا بل رہتا ہے ،سب کو معلوم تھا کہ وہ کہا ں ہے ۔وہ جن کے را بطے بین البر اعظمی تھے ان کو بھی اور جن کی تنظیمیں انسا نی حقوق کے عا لمی منظر نا مے میں ڈونز ز کی بھیک پر پلتی ہیں ان کو بھی۔صا حبان اقتدار بھی جا نتے تھے اور خفیہ ایجنسیوں میں کام کرکے رزق کما نے وا لے بھی۔لیکن سب کے ہو نٹوں پر تا لے تھے او ر ذہنوں پر مصلحت کی گرد جمی ہو ئی تھی۔
ا پنے بچے بیچ کر عا لمی برادری میں سر خرو ہو نے والی اس قوم کی غیرت کو ایسی خا تون نے جھنجھوڑا جو افغا نستان کے ا نہی طا لبان کی قید میں رہ کر آئی تو ان کے سلوک سے اس قدر متا ثر ہوئی کہ اسے راہ ہدائت میسر آ گئی۔اس نے اس قوم کو بتا یا کہ تمہا ری خوشحالی جس پر تم نا زاں ہو وہ تو غیروں کے ہا تھ اپنی بیٹیاں اور بیٹے بیچنے سے ملی ہے ۔اس کے اس پر زور احتجاج کے بعد ایک زخمی عا فیہ صدیقی امریکی عدالت میں پیش کر دی گئی۔زخموں سے نڈھال‘جس کا چہرہ اس پر گزرے دنوں اور ڈھائے گئے ظلم کی گو اہی دے رہا تھا۔
آج سحری اور افطاری کے لمحوں کے بعدہلال ِ عید کودیکھ کر صرف ایک خیال ذہن میں ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا کہ اب تو اس قوم کو علم ہے کہ وہ کہاں ہے؟اس پر یہ ہلالِ عید کا چاند کس عالم میں اترا ہو گا ۔شاید کسی نے اپنے رب کے حضور سر بسجود ہو تے ہوئے ‘افطاری کی دعا پڑھتے ہوئے ‘سحری کی نیت کر تے ہوئے سوچا ہو کہ اس کا ئنات کا مالک جب نعمتوں کے بارے میں ہم سے سوال کر ے گا تو ہماری مجرمانہ خا موشی اور مصلحت بھری چپ کا حساب بھی تو ما نگے گا۔
یہ رمضان کا مہینہ ان پر بھی تو اترا ہو گا جن کے پیارے اس ملک میں عدل و انصاف کی با لا دستی پر قربان ہو گئے‘جو با رہ مئی کے دن ایسے ذبح کئے گئے جیسے شہر میں ہلا کو یا چنگیز کی
فو جیں داخل ہو گئیں ہوں۔ایسا تو وہ بھی نہ کر تے تھے کہ زخمی جان بچانے کےلئے ایمبو لنس میں ہسپتال جا رہے ہوں اور روک کر ان کو گو لیاںمار دی جائیںکہ یقین ہو جائے کہ وہ مر گئے۔لیکن ان مر نے والوں کے گھروں سے تھوڑے ہی فا صلے پرموجودہ وزراءکے گھر تھے جن کےلئے یہ قر بان ہو ئے اور وہ آج ان کی قر با نیوں پر لعنت بھیج کر حلف اٹھا ئے سر کا ری جھنڈے والی کار وں میں گھوم رہے ہیں ۔پتہ نہیں کیوں عید کی نمازپڑھتے وقت یہ خیال آیا کہ اگر ان حلف اٹھا نے والے حکمرانوں میں سے کسی ا یک کا بیٹا‘بھائی یا باپ اس طرح
ما را گیا ہو تا تو وہ اس طرح حلف اٹھا نے جا تے‘ا تنے اطمینان سے سرکاری کا ر میں بیٹھ کر گھر واپس لو ٹتے اور اتنے ہی سکون سے اس عید کے کھانے کی میز پر بیٹھتے جس پر کبھی اس کا مر نے والا عزیز ساتھ بیٹھتا تھا۔
بہت سے د کھ ہیں۔بہت سے المیے‘کتنی سوچیں ہیں۔اس ہلا ل عید میں وہ گھر یا د آتے ہیں جو بموں کی یلغار میں تباہ ہو ئے اور جن کے مکین بے خا نماں اور بے دیار اس عیدالفطر کا استقبال کر رہے تھے ۔وہ جن کی بیٹیاں اور جوان بیٹے لا ل مسجد اور جا معہ حفضہ میں سفید فاسفورس سے جلا کر بھسم کر دیئے گئے ‘ان کے مغموم گھروں میں‘جن کے بچے لا پتہ ہیں ‘اآمنہ جنجوعہ اوراس جیسی سینکڑوں ماوں اوربہنوں کے گھر میں بھی یہ ہلالِ عید اترا ہے ‘لیکن ان سب سے الگ ہما ری ا پنی دنیا ہے‘اپنی د ھن میں مگن۔وہ جس نے نو سال اس ظلم و تشدد کا بیج بویا ‘ وہ جوہمیشہ قوم کواپنے دونوں مکوں سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتا رہابالآخرقدرت نے یہی مکے اس کے اپنے منہ پرا س بری طرح رسید کئے کہ وہ اپنے چک شہزادکے فارم ہاوس میں رہنے کاخواب دل میں لئے لندن اپنے آقاوں کے ہاں پناہ گزیں ہوگیا۔ کبھی اس کے نئے تعمیر ہو نے والے گھر کی ویڈیو بن رہی تھی‘آر کیٹکٹ سے
انٹر ویو ہو رہے تھے‘وہ جو اس فارم ہاوس کی آرائش وزیبائش میں دنیابھر کی قیمتی اشیاءکوسجانے کے خواب دیکھ رہاتھاآج ایک مرتبہ پھربڑی ہی بے شرمی کے ساتھ ان سیلاب زدگان کی مددکےلئے برطانیہ کے ایک پاکستانی چینل پرمکے لہرارہاتھا۔
موجودہ حکمراں طبقہ بھی اسی طرف رواں دواں ہے ‘ان کے چہروں کی مسکراہٹوں اور کا میا بیوں کی دھن عجیب ہے‘لیکن کو ئی نہیں جا نتا یا پھر سب جا نتے ہیں کہ جب اس قدر ظلم سے آنکھیں پھیر لی جا ئیں ‘ظالم ا پنے انجام سے خود کو آزاد کر لے‘مصلحتیں‘ضرورتیں‘صدارتیں ‘ جمہو ریت اور گروہ بندیاں انسا نوں کے دکھوں اور اشکوں ‘ آہنوں سے بے پروا ہو
جا ئیں ‘گروہ کے گروہ خا موش ‘قوم کی قوم وقتی مصلحت کا لبادہ اوڑھ لے تو تبدیلی کےلئے زیادہ دن انتظار نہیں کر نا پڑتا۔وہ جو اہل نظر کل تک دعائیں ما نگتے تھے کہ آنے والا عذاب ٹل جائے‘جو کہا کر تے تھے کہ وقت ہے سنبھل جاوورنہاور پھر ان کی زبانیں خوف سے گنگ ہو جا تی تھیں ۔اب جس کے پا س جاوکہتا ہے کہ‘ایسا لگتا ہے کہ دعائیں بند ہو گئیں ہیں ۔آندھیا ں ہی آندھیاں،سیلاب ہی سیلاب‘پھر رو پڑتے ہیں اور کہتے ہیں یہ لو گ کیسے اپنی دھن میں مست ہیں اور طو فان ان کے سروں تک آ پہنچا ہے اوریہ پھر بھی اپنی سستی شہرت کےلئے میڈیاکوساتھ ساتھ لئے گھوم رہے ہیں۔
صاھبِ نظرتواب بھی لو گوں سے تحریری طور پر پا کستان کیلئے دعاوں کی درخواست لئے در بدر پھر رہے ہیں‘مملکت خدادا دکےلئے قوم سے درد بھری اپیلیں کر رہے ہیں کہ اپنے رب کی طرف لوٹ آو‘اپنے رب کو تلاش کرو‘وہ رب کریم تمہارے شہہ رگ کے قریب ہے‘تمہارے پڑوس اور ہر گلی محلے میں تمہیں مل جائے گا۔کسی غریب و بے کس کے گھر کا کھلا کواڑ تمہا را انتظار کر رہا ہے۔میر ا رب تو انہیں بے خانماں اور متوکل لو گوں کے دلوں میں بستا ہے۔کیاہم نے چپکے سے ان کے گھر وں میں ماہ رمضان کی سحری اور افطاری کا اس طرح بندوبست کیاتھاکہ ان کی عزت نفس پر بھی گراں نہ گزرے۔ ان کے بچے بھی عید کی خوشیوں کے متلا شی تھے‘ان کے ننگے تن تو معمولی سی توجہ چا ہتے تھے‘ان کے چہروں کی یا سیت اور آنکھوں کے آنسووں کا مداوا بننے کی کوئی کوشش کی؟
اب بھی وقت ہے اپنے اردگرد اورسیلاب کی خیمہ بستیوں میں پھیل جائیںان کی عزتِ نفس کاخیال رکھتے ہوئے ان کی آبادکاری میں ان کی مدد کریں، اگر وہ یہ خوشدلی سے قبول کر لیں تو ان کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے سر بسجود پا کستان کی سلا متی کےلئے دعائیں مانگیں۔مجھے میرے کریم رب سے قوی امید ہے کہ ہمارا یہ عمل اس کی بارگاہ میں مقبول بھی ہو گا اورپا کستان کی طرف مزیدیہ بڑھتے مہیب خطرات بھی ٹل جا ئیں گے۔
بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا
اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button