ادارتی کالم

حکومت پا کستان کا ایک اور ”عظیم کارنامہ"

بھُولا حکومت پا کستان کا ایک اور ”عظیم کارنامہ”

شروع دن سے ہی ہمارا ملک امریکی ”لٹیروں“ کی انکھوں میں سوئی کی طرح چبتا رہا ہے اور اس کو ختم کر نے کے پے درپے منصوبے بھی امریکہ ،اسرائیل اور انڈیا مل کر بنا تے رہے ہیں ۔ان کی اس ”کامیابی“ کی وجہ ہم اپنا آدہا جسم بنگلہ دیش الگ کروا چکے ہیں ۔ اور ابھی بھی ان تینوں کی پیاس نہیں بھجی کہ وہ اس ”ایٹمی طاقت“ پر اپنے پنجے نئے طریقے کس چکے ہیں ۔کہ اس ملک خداداد کو کس طرح ختم کیا جائے اس مشن میں ہمارے حکمران بھی شامل ہیں ۔کیونکہ ہمارے ملک عظیم پر جو بھی ”حکومت “کر نے آ تا ہے اس کے فیصلوں کے چرچے دور دور تک سنے سنائے جا تے ہیں اور پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسا ئی کا با عث بنتے ہیں۔ چا ہے ا س میں پا کستان کو نقصان ہو یا عوام کو” موت “کی آ غوش میں بھیجنے کا ”عظیم کا رنا مہ“ ہو۔یا پھر آ ئی ایم ایف کے”حکم نامہ“ کی وجہ سے عوام پر بے جا ٹیکسز کا بو جھ ڈالناہو۔ یا پھر انہی کے حکم پر اپنی عوام کو ”مہنگی تر ین“ بجلی دینی ہو ۔یاپھر امریکی غلامی کے گھڑے میں گر تے ہو ئے اپنے ہی عوام کوآلو مولی کی طرح کاٹنا ہو ۔ ان سب کی وجہ سے ہماری حکومتوں کی بیرون ملک کافی ”جان پہچان “ بن جا تی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوام کو اپنے ملک میں ذلیل و خوار کر نا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کی ”عزت نفس “کو مجروح کر نے کے لئے جو اقدامات کیئے جا تے ہیں وہ بھی”تعریف“ کے قا بل ہیں ۔جس کی عالی ترین مثال چینی کے حصول کے لئے لوگوں کی لانئیں اور آٹے کے لئے ”لڑا ئیاں“ ہیں۔ یہ حکمرانوں کے ہی فیصلے تھے
ہماری حکومت نے اپنے عظیم کارناموں کو آگے بڑھا تے ہو ئے ایک اور قدم اٹھا یا ہے کہ ہماری عوام کا تمام کا تمام ڈیٹا امریکہ اور برطا نیہ کو دےنے کا فیصلہکیا ہے ۔ تا کہ وہ پاکستانی عوام تک براہ راست پہنچ سکیں ۔ خبر کے مطا بق نادرا، موبا ئیل کمپنیوں کا ڈیٹا بر طا نیہ اور امریکہ کے سفارت خا نوں کو دیے دیا جا ئے گ۔ا جس کا وا ضع مطلب یہی نکلتا ہے کہ حکومت کی” ڈالڑوں“ کی بھو ک کسی صورت ختم نہیں ہو ئی اس لئے اب اس طرح کے ”عظیم کا ر نامے“ انجام دیئے جا رہے ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری حا لیہ حکومت پچھلی حکومت سے بھی ”امریکی خوشنودی“ میں دو قدم آ گے ہے ۔ اس لیئے یہ فیصلہ کیا گیا ۔ کہ پا کستانی عوام کو امریکہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جا ئے۔ اور جیسے پہلے 10سال سے ڈران حملوں پر خاموشی اختیار کی جا تی ہے تو اسی طر ح کی خاموشی اپنے بندے بھی امریکہ اٹھا کر لے جا ئے گا تواپنانی پڑے گی۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پچھلی حکومت تو ”ڈالروں “ کے عوض اپنے بندے بیچتی رہی ہے مگر اب ان کو ”لنڈے“ کے مال کی طرح بیچاا جا ئے گا؟؟؟ ۔ اب عوام کی قسمت اور مستقبل کا فیصلہ ”بدست امریکہ “ ہو ا کر ے گا ۔ ؟؟؟؟
عوام جو کہ حکومتی ”کاروائیوں“ سے پہلے ہی نالاں ہے حکومت کے فیصلے پر سخت الفا ظ میں اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے کم تھی جو خود مار رہی تھی اب غیروں سے بھی مروائے گی ۔ اور ہم اپنی عزت تو امریکی ہاتھوں میں دے چکے ہیں اور کیا رہ گیا ہے دینے کے لئے اور امریکی خوشنودی میں اب اوت کتنا آ گے جا نا ہے؟؟؟؟
مگر حکومت کے نظریے سے دیکھا جا ئے تو اس فیصلے کے بے شمار فائدے ہو نگے ہمارے ملک کی ایجنسیوں کا کردار ختم ہو جا ئے گا۔ امریکہ جیسے چا ہے گاخود ہی اٹھا کر لے جا ئے گا۔ اس فیصلے کی رو سے ہمارے ملک کی تمام ایجنسیاں ختم ہو جا ئیں گی ۔ پو لیس برائے نام رہ جا ئے گی جس کی وجہ سے ہمارے ملک پر تنخواہوں کا بوجھ ہلکا ہو جا ئے گا ۔ اس رو سے یہ فیصلہ”عوامی حکومت“ کا دلیرانہ فیصلہ لگتا ہے کیو نکہ ہمارے مک کے وزیراعظم صا حب چند دن پہلے کہہ چکے ہیں کہ اب عوام ”خوشخبریاں“ سنے گی ۔ اس طرح کے زیادہ سے زیادہ” فیصلے “ہو نے چا ہیئے ۔ جن کے دور رس نتایج ظاہر ہو ں ۔اور پاکستان پر تنخواہوں کا بوجھ کم سے کم تر ہو تا جا ئے
اس کے ساتھ ساتھ ہماری اپوزیشس جنہیں صرف اپنے نعرے مروانے کا شوق ہے وہ بھی اس پر ایسے خاموش تماشائی بنی ہو ئی ہے۔ جیسے ان کوجیسے سانپ سونگ گیاہو۔ اور نا ہی یہ اپو زیشن مہنگا ئی ۔ بے روزگاری۔ لاقانونیت پر آواز اٹھارہی ہے۔ اور عوام ہیں کہ ان کو اپنے اگلے سانس کا ڈر لگا ہوا ہے کہ اگلا سا نس ”امریکی غلامی“ میں نا آ جا ئے۔۔ اب عوام کس کو اپنا دکھ سنا ئیں؟؟؟؟ ۔ حکومت کو اپنے اس فیصلے پر غور کر نا چا ہیئے کیو نکہ اس سے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ زیا دہ ہو گا ۔ اور کہیں حکومت کو اپنی حکومت سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور حکومت کو عوامی خواہشات کا احترام کر نا چاہیئے اور عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے کر نے چاہیئے اور اس فیصلے کو واپس لے لینا چاہیئے ۔ اپوزیشن جو کہ سیاست کر نے تک خود کو سمجھتی ہے اسے عوامی جذبات کو حکومت تک پہنچا نا چاہیئے۔ اور ایسے فیصلے نہیں کر نے چا ہیئے جن کی وجہ سے حکومت عوام میں اپنا معیار گرا بیٹھے

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button