ادارتی کالم

حکمرانوں کی شاہ خرچیاں عروج پر

عثمان حسن زئی
[email protected]
قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی حلیف جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے کے اقدام نہ کیے گئے تو پاکستانی عوام بھی تیونسی عوام کی طرح سڑکوںپر نکل سکتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت مہنگائی میں اضافہ کی بجائے انتظامی اخراجات کم کرے۔ وزراءاور ارکان اسمبلی کی تعداد کم کرنے پر بھی غور کرے۔ 70 ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں جھونکنے اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے دھڑا دھڑ نوٹ چھاپنے سے مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ ہورہا ہے۔ جبکہ پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن ارکان نے بدترین منظر کشی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کاٹن پیدا کرنے والوں کو 2 ارب روپے آمدن ہوئی، زراعت کے شعبے میں ساڑھے 3 سو ارب کی پیداوار حاصل ہوئی، ٹیکسٹائل کا شعبہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی برآمدات کررہا ہے۔ حکومت کے کرنٹ اکاﺅنٹ میں 40 ارب روپے موجود ہیں۔
حکمران پارٹی کی ترجمان کے موقف سے محسوس ہوتا ہے کہ مہنگائی کوئی ایشو ہی نہیں اور اعداد و شمار سے ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، دوسری جانب وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ عالمی ڈونرز خدشات کے باعث پاکستان کی امداد نہ روکیں، انہوں نے امریکا سے درخواست کی کہ وہ آئی ایم ایف کی اگلی قسط کے اجراءکے لیے اثر و رسوخ استعمال کرے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ملکی حالت اتنے ہی اچھے ہیں تو پھر ماہرین ملک کے دیوالیہ ہونے کے خدشات کی دہائی کیوں دے رہے ہیں، اشیاءضروریہ کی فراہمی عوام کی دسترس سے مزید دور کرنے کے اقدام کیوں کیے جارہے ہیں اور سب سے بڑھ کر حکومت کا آئی ایم ایف کے سامنے جھولی پھیلانا آخر کیا معنی رکھتا ہے؟
وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ حکومت غربت کے خاتمے کے لیے اقدام کررہی ہے۔ وہ یوں کہ حکمرانوں نے ایک بار پھر قوم پر پیٹرول بم گرانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کے لیے ہوم ورک بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 13 فیصد تک اضافہ ناگزیر ہے، ورنہ مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ اگرچہ پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ نے یکم فروری سے تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ممکنہ اضافہ مسترد کردیا ہے، مگر محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس مرتبہ حکومت اپنے عزائم میں بالآخر کامیاب ہوجائے گی۔ اُدھر مشیر وزیراعظم غضنفر گل نے قوم کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہا ہے کہ گیس روٹی پکانے کے لیے نہیں، بجلی بنانے کے لیے ہوتی ہے۔
یہ آج کے جدید پاکستان کے منظر نامے کی ایک ہلکی سی جھلک ہے۔ حکمرانوں کے پاس ملک کو درپیش اقتصادی بحران پر قابو پانے کا واحد ذریعہ یہی رہ گیا ہے کہ بجلی سے لے کر گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دھڑا دھڑ اضافہ کیا جائے۔ ان نام نہاد عوامی نمایندوں کے پاس پارلیمنٹ ہاﺅس کی تعمیر کے لیے 3 ارب روپے تو ہیں لیکن بات جہاں عوام کو ریلیف دینے کی آئے تو پھر خزانہ خالی ہونے کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ آپ اندازہ لگائیں! ہمارے ملک کے ایوان صدر کا سالانہ خرچ ایک ارب 77 کروڑ روپے ہے، وزیراعظم ہاﺅس میں ملازمین کی تعداد 400 سے متجاوز ہے۔ 17 کروڑ آبادی والے ملک کی کابینہ میں 96 ارکان کی فوج ظفر موج ہے۔ گزشتہ سال تک وفاقی کابینہ کا سالانہ خرچ 400 کروڑ کے لگ بھگ تھا جو اب 500 کروڑ سے تجاوز کرچکا ہے۔ حکومت ایک وزیر پر سرکاری خزانے سے ماہانہ ایک کروڑ روپیہ خرچ کررہی ہے جس میں تنخواہ کی مد میں اسے 80 ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں۔ یوٹیلیٹی بلز کی مد میں 60ہزار روپے ماہانہ الاﺅنس الگ دیا جاتا ہے۔ وزراءکے لیے گیس اور ٹیلی فون کے استعمال کی کوئی حد مقرر نہیں۔ ایک وفاقی وزیر کو سرکاری طور پر ایک گاڑی دی جاتی ہے لیکن یہ محکمے کی 3 سے 4 گاڑیاں اپنے اور اہل خانہ کے زیر استعمال رکھتے ہیں۔ ان گاڑیوں کی مرمت کا ہرجانہ بھی سرکاری خزانہ ادا کرتا ہے۔ ایک گاڑی پیٹرول سمیت 50 ہزار روپے ماہانہ میں پڑتی ہے۔ حکمرانوں کے ٹھاٹ باٹ اور شاہ خرچیاں بدستور عروج پر ہیں، اس کے باوجود حکمران عالمی برادری سے امداد کی اپیلیں کرتے نہیں تھکتے۔
دوسرا رخ بھی دیکھئے! اس وقت ملک میں تقریباً 2 کروڑ سیلاب سے متاثرہ افراد موجود ہیں، 2 کروڑ پاکستانی بے روزگار ہیں اور صنعتی مراکز کی بندش سےurdusky ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صرف گزشتہ سال کے دوران 500 سے زائد پاکستانیوں نے حالات سے تنگ آکر خودکشی کی۔ ایک حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت مہنگائی کو دہشت گردی سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ خیال کرنے لگی ہے۔ ان حالات میں قوم کی بہتری اور معیشت کی بحالی کے لیے عوام پر مزید ٹیکس عائد کرنے اورپیٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی بجائے سرکاری اخراجات، غیر ضروری مصارف اور بھاری بھر کم کابینہ میں کمی جیسے اقدام پر توجہ دینا ہوگی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاکر برسراقتدار آنے والی جماعت نے گزشتہ تین سال کے عرصے میں ملک و قوم کے حق میں ترجیحات کا تعین ہی نہیں کیا ہے اس کی ساری جدوجہد اور تگ و دو اپنا اقتدار بچانے میں گزری ہے۔ تین سالہ ناقص کارکردگی کا ازالہ کرنے کے لیے بقیہ دو سالہ مدت بھی کچھ کم نہیں لیکن اس کے لیے عزم مصمم اور اخلاص کی ضرورت ہے، جس کی کمی حکومتی اور اتحادی جماعتوں میں شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سیاست دان اپنے طرز عمل میں حقیقی تبدیلی لائیں، انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ذاتی مفادات سے ہٹ کر بھی ملک و قوم سے حقیقی وابستگی رکھتے ہیں۔ اگر موجودہ حکمران اور سیاست دان جمہوری دور میں بھی عوام کے مسائل حل کرنے اور انہیں ریلیف پہنچانے میں ناکام رہیں تو کیا ملک میں تبدیلی کی دیگر نئی راہیں خود بخود ہموار نہیں ہوجائیں گی؟

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button