ادارتی کالم

جنگ بدر اور مو جودہ حالات

 جنگ بدر اور موجودہ حالات
تحریر : عینی نیازی
بقو ل مولانا آزادکہ ” دنیا میںہرچیزمرجاتی ہے فا نی ہے مگر خو ن شہا دت کے ان قطروں کے لیے جو اپنے اندر حیات الہہیہ کی رو ح رکھتے ہیں کبھی فنانہیں “ پھر ایسے خون شہا دت کا کیا مر تبہ کہ جس میں لڑنے وا لوں نے صرف اللہ تعا لیٰ کی ر ضا و خو شنو دی کواپنا مر کز عمل سمجھا ۔دنیا کی تا ریخ میں لڑا ئیوں اور جنگوں سے بھری پڑی ہے لیکن وہ جنگ جس کامد عا نہ جہاںگیری ہو نہ اقتدار کا شوق نہ ما ل غنیمت جمع کر نےکالالچ ، بلکہ صرف اور صرف اللہ کی ر ضا کے لیے ہو یہ بڑے دل گر د ہ چا ہتی ہے ا ٓپ تما م غزوات ا ٹھاکر دیکھ لیں آپ کو ان میںدو ہی چیز یں قدر مشترک نظر آئیں گی اول جہاد فی سبیل للہ دوئم اپنی مد ا فعت اور حق وانصاف کا حصول۔اسلا م کی پہلی جنگ بدر بھی مسلما نوں نے اپنی مد افعت میں مشر کین مکہ سے لڑ ی تھی ۔
۷۱ ر مضان المبا رک سن ۲ھجر ی جمعہ کے دن کفا رمکہ اور اہل ایما ن کے در میا ن بدر کے مقام پر معرکہ ہو ا یہ ایک گا ﺅں کا نام تھا جہا ں ہر سال میلہ لگتا تھا یہ مقا م شام سے مد ینہ جا نے کے دشوار راستے سے ہو کر گذ رتا ہے مکہ کے تجا رتی قا فلے یہاں سے ہو کر گز را کر تے تھے قر یش کے تجا رتی قا فلہ سے حضرت عبد اللہ ؓ کی جھڑپ ہو گئی جس میں قریش کے ایک ر ئیس اعظم کا بیٹا قتل ہو ااور دو گر فتار ہوئے اس واقعہ نے قر یش کو مشتعل کر دیا نیز انھیں اطلاع ملی کہ ان کے تجا رتی قافلے پر مسلمان حملہ کر نے والے ہیں ۔ ادھر جب آنحضر ت ﷺ کو ان سب با تو ں کا پتہ چلا تو انھیں بہت افسوس ہو انھوں ا س کا خون بہا ادا کر دیا اور قید یوں کو رہا کر دیا مگر قر یش جو کہ مسلما نوں کی ہجرت اور انکی بڑ ھتی ہو ئی تعداد سے سخت خا ئف تھے ا ور مو قع کی تلا ش میں تھے کہ کسی طر ح ان کو شد ید نقصا ن پہنچا یا جا سکے وہ اس سنہری مو قع کو ہا تھ سے کیسے جا نے د یتے کفا ر قر یش کو بدر کے مقام پر پہنچ کر معلو م ہو اکہ تجا رتی قا فلہ بحفظا ت مکہ پہنچ چکا ہے تو کئی سرداروںنے مشورہ دیا کہ اب لڑ نا ضروری نہیں لیکن ابو جہل نہ ما نا اور فوج آگے بڑھی قر یش چو نکہ پہلے پہنچ گئے تھے اس لیے انھوں نے منا سب جگہوں پر قبضہ کر لیا بخلا ف مسلما نوں کی طرف کو ئی چشمہ اور کنواں نہ تھا زمین ایسی ریتیلی تھی کہ او نٹوں کے پا وں ان میں دھنس دھنس جا تے تھے تا ئید ایزدی سے با رش ہو ئی جس سے گر دجم گئی مسلما نوں نے جا بجا پا نی روک کرچھو ٹے چھوٹے تا لا ب بنا لیے تاکہ وضواور غسل کے کام آسکے اس جنگ میں مسلما نو ں کی تعداد مشرکین کے مقابلے میں انتہا ی قلیل تھی مشر کین مکہ کی تعداد جو کہ ۰۰۰۱ ہزار تھی۰۰۳ گھو ڑے اور ۰۰۷ اونٹ تھے ،جب کہ مسلما نوں کی تعداد ۰۰۳ ، ۰۷ اونٹ اورصرف تین گھو ڑوںپر مشتمل تھی مگر ان صحا بہ کرام کے دل جذبہ ایما نی کی طا قت سے ما لامال تھے انھیں اپنے اللہ اور اس کے نبیﷺ پر پو را بھروسہ تھا ۔
لشکر اسلا م کا یہ قا فلہ ۶ ۱ رمضا ن المبارک کو بدر کے مقام پر پہنچا حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ زمین پر ایک خا ص جگہ ہا تھ ر کھتے اور فر ما تے کہ فلا ں کا فر کے مر نے کی جگہ ہے حضرت عمر ؓ اور دیگر صحا بہ کر ام ؓ فر ما تے ہیں دوسرے روزجنگ ختم ہو ئی تو ہم نے ان نشانات کی جگہ کو دیکھا ہر کا فر اسی جگہ مرا پڑا تھا جس جگہ آپ ؑ نے نشا نات لگا ئے تھے اس جنگ میں حضور ﷺکے لیے جنگی ہیڈ کو اٹر کے طور پر ایک جھونپڑی بنا ئی گئی تما م صحابہ کرامؓ نے رات بھر آرام کیا صرف ایک ذات تھی جورات بھر نما زاور اللہ تعا لیٰ کی با ر گا ہ میں دعا ئیں کرتی رہی آپ ﷺ نے نہا یت رقت آمیز لہجے میں دعا فرمائی ” یا اللہ تو نے مجھ سے جو وعدہ فر مایا ہے اسے پورا کر ! اے اللہ اگر آج اہل اسلا م کی یہ جما عت ہلا ک ہو گئی تو زمین پر تیری عبا دت نہیں ہوگی “ آپ ﷺ کی رقت آمیزی دیکھ کر حضرت ابو بکر ؓ نے عر ض کیا ” اے نبی ﷺ اللہ سے آپ کی یہ دعا ہی کا فی ہے آپ ﷺ کا رب ٓاپ کی دعا اور وعدہ کبھی رد نہیں کرے گا “۔ دوسرے دن جنگ شروع ہو ئی اس جنگ میں زیا دہ تر صحابہ کرام اور کفا ر قریش آپس میں قریبی رشتہ دار تھے مسلما ن ہونے کے بعد ان کے لیے یہ خو نی رشتے اللہ کی محبت میں بے معنی ہو گئے وہ اپنے بیٹوں بھا ئیوں اور با پ کے خلا ف صف آرا ہو ئے صر ف ایک رشتہ با قی رہا جو اللہ کی ذا ت سے تھا اس جنگ میں کا فروں کو سخت نقصا ن اٹھا نا پڑا ‘ ابو جل اور عتبہ جیسے بڑے سردار وںکے قتل کے بعد قریش نے سپرڈا ل دی مسلما نوںنے انکو گر فتار کرنا شروع کر دیا قریش کے بڑے معتبر لوگ گر فتا رہو ئے آنحضرت ﷺ نے فرما یا کو ئی جا کر خبر لا ئے کہ ابو سفیان کا کیا حال ہے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ابو سفیا ن کی گر دن کا ٹ کر آپ ﷺ کے قد موں رکھ دی اس جنگ میں مسلما نوں کے ۴۱ صحابہ کرام ؓ نے شہا دت پا ئی جب کہ قریش کے بڑے سرداروں سمیت ۰۷ لو گ ما رے گئے اور اسی قدر گر فتار ہو ئے ۔
اس جنگ کے بعد قریش کا نشہ ہرن ہو گیا بدر کی فتح سے مسلما نوں کی قسمت کا پا نسہ پلٹ گیا اب وہ محض دین اسلا م کے مبلغ ہی نہ تھے بلکہ ایک سیاسی طا قت کی حثیت بھی اختیار کر چکے تھے انھو ں نے ظالما نہ قوت کو مٹا کر عدل ونصاف کی سلطنت قائم کر نے کی بنیا د رکھ دی ۔اس جنگ سے مسلما نوںکے لیے کئی پہلو سے سبق اور نئی را ہیں مو جود ہیں ایک طرف آپﷺ نے قیدیوں سے اچھا سلو ک کرنے کا حکم فرما یا تو دوسری طرف آپ ﷺ نے فدیہ دے کر انھیں چھوڑنے کا حکم بھی دیا جو نا دار تھے اور پڑھے لکھے تھے ان کو فدیہ کے طور پر دس دس بچوں کو پڑ ھانے کی ذمہ داری دی اس سے اندازہ ہو تا ہے آپ ﷺ تعلیم کو کتنی اہمیت دیتے تھے اس معرکہ میں دو صحابہ کرام ؓجنگ کےلیے آرہے تھے تو قریش نے ان کو اس وعدہ پر جا نے دیاکہ وہ مسلما نوںکے ساتھ مل کر جنگ نہیں کر یں گیں انھو ں نے یہ با ت آنحضرت ﷺ کو یہ با ت بتا ئی تو آپ نے افرادی قوت کی کمی ہو نے کے با وجود انھیں جنگ میں حصہ لینے سے روک دیا اس سے آپ ﷺ کے وعدہ اورا پنی با ت پر قائم رہنے کی اہمیت کا ندازہ ہوتا ہے ۔
آج اگر ہم تھو ڑی دیر کو یہ سو چیں کہ اس زمانے میں۷ ۱ ر مضا ن کو مسلما ن کس قدر مشکلا ت کا شکار تھے نہ کھانے کو کچھ تھا نہ پہنے کو ڈھنگ کا کپڑا نہ رہنے کو مکا ن ، نہ زندگی گز ارنے کے لیے تحفظ کا کوئی سا ئبا ن تھا ہر طرف دشمن ان کی طاق میں تھے کی کس طر ح ان کو نیست ونا بود کر دیا جا ئے ان حالات میں انھو ں نے محض اپنے جذ بہ ایما نی کی بنیا د پراتنی بڑی فوج سے یہ جنگ لڑی ااور فتح حا صل کی آخر ہم بھی تو اسی دین کے پیرو کا ر ہیں اسی اللہ کو ما ننے والے ہیں پھر کیو ں ہم اس قدر بڑی تعداد میں ہو نے کے با وجود اتنے بے بس اور ذلیل و خوار ہیں ہم کیوں آپس میں مسلما ن ہو نے کے باوجود ایک دوسرے کے خون کے پیا سے ہو ئے ہیں آج اپنے ہی مسلما ن بھا ئی کو گلا کا ٹنے پر فخر محسوس کر تے ہیں کیوں ہم لسانی بنیا دوں پر ایک دوسرے کے خلا ف صف آرا ہیں اس سے نقصان تو ہما رے اور ہما ر ی نئی نسلوں کا ہے جو عدم تحفظ کا شکار ہو کر رہ گئی ہے جو نہ اسکول وکالج جا سکتی ہے نہ روزگار کے مواقع تلاش کر سکتی ہے ہم سب کو رہنا اسی ملک میں ہے تو کیوں ان لو گوں کی حما یت میں اپنے ہم مذہب بھا ئیوں کو قربا ن کر ہے ہیں جن کے اثاثے بیرون ملک ہیں جو کسی بھی مشکل وقت میں ملک چھو ڑ کر فرار ہو جائیں گے بھگتنے کے لیے غر یب عوام رہ جا ئیں گے اس با ر ے میں ہم سب کو سو چنے کی ضرورت ہے اپنی اصلا ح کی ضرورت ہے کہ یہ محض ایک تاریخی واقعہ ہی نہیں کہ جس میں مسلما نوں نے اپنے خو ن بہا کر فتح حا صل کی بلکہ ہم سب کے لیے ایک پیغام بھی ہے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button