ادارتی کالم

جل رہا ہے آشیانہ بے بس کی آنکھوں کے سامنے

جل رہا ہے آشیانہ بے بس کی آنکھوں کے سامنے

تحری:محمد سکندر حید ر
پاکستان تاریخ کے جس دھارے سے گزر رہا ہے۔ جو تاریخ آج رقم کی جارہی ہے ۔ کل کا مورخ اِس کے متعلق کیا لکھے گا؟ یہ وہ سوال ہے جسے سنجیدگی سے سوچوں تو میرے بولتے لفظ بھی گُنگ ہو جاتے ہیں۔ حالات کی ستم ظریفی نے فقط ۳۶سالوں میں پاکستا ن کو جس بھنور میں پھنسا دیا ہے اُس کا تصور کرنا بھی محال ہو گیا ہے۔ اضطر ابی گردش ِایام نے سوچوں کی صلاحیت پر قدغن لگاد ی ہے۔ عصر حاضر کے پاکستانی حالات وواقعات نے روشن مستقبل کے خوابوں کو چکنا چور کردیاہے۔ امسال یوم آزادی سیلابی آفت میں گھری تھی ۔ چاروں صوبوں میں سیلاب زدگان کی آہ و پکار نے زندہ دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جن لوگوں کے سروں پر کل تک چھت تھی آج وہ کھلے آسمان تلے ننگے سر حسرت کی تصویر بنے سڑکوں کے فرش پر پڑے ہیں۔ جو ہاتھ کل تک خیرات اور صدقات تقسیم کرتے تھے آج بے سروسامانی اور بے بسی کی بناپر امدای سامان کے تھیلے اُٹھانے پر مجبورہو گئے ہیں۔ چاروں طرف سے پانی میں گھرے سیلاب زدگان کی آنکھوں کا پانی خشک ہونے میں نہیں آرہاہے۔ صوبہ خیبر سے شروع ہونے والا سیلاب پنجاب اور سند ھ کو تباہ و برباد کرنے کے بعد اب بلوچستان کے شہروں کو اُجاڑ رہا ہے۔ چاروں صوبوں میں سیلابی آفت نے صف ِماتم بچھا کر رکھ دی ہے۔ پوری مسلم و غیر مسلم دنیا اِس آفت کو دیکھ کر اللہ سے امان مانگ رہی ہے اورسیلاب زدگان کو اُن کی زندگی کی رعنائیاں واپس کرنے کی تگ و دو میں لگی ہے۔قیامت کی اِس گھڑی کو اِس قدر قریب سے دیکھنے کے باوجود نجاے وہ سنگ دل کون تھے جنہوں نے سیلاب سے گھری قوم کے یوم آزادی کے موقعہ پر اپنے ناپاک مقاصد کی تکمیل کی خاطر بلوچستان میں ملک کی سا لمیت کو نقصان پہچانے کے لیے پانچ سکیورٹی اہلکاروں سمیت پنجاب سے تعلق رکھنے والے پندرہ افراد کو ہلاک اور سات افراد کو زخمی کردیا۔ سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی کے مطابق چودہ اگست کی صبح لاہور سے آنے والی بس جب ضلع بولان کے آب گم شہر پہنچی تو تیس تا چالیس مسلح افراد نے بس کو اسلحہ کے زور پر روکا ۔مسافروں سے شناختی کارڈ طلب کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافروںکو ایک کھائی میں لے جاکر گولی مار دی۔ جبکہ ایک دوسرے اِسی قسم کے واقعہ میں کوئٹہ شہر کے تھانہ سیٹلائیٹ ٹاﺅن کے علاقے خلجی کالونی میں چھ پنجابی مزدوروں کو مسلح افراد نے اندھا دُھند فائرنگ کرکے ہلاک اور چار کو شدید زخمی کردیا۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ترجمان جی این بلوچ نے اِن واقعات کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ بلوچ آزای پسند تنظیموں کی جانب سے یوم آزای پاکستان کویوم سیاہ منانے کے باعث امسال بلوچستان مین نہ ہی جشن آزای کی کوئی بڑی تقریب منعقد ہوئی ہے اور نہ ہی سرکاری عمارتوں، دکانوں اور گھرو ں پر قومی پرچم لہرانے دیا گیا ہے۔ فقط پولیس اور فرنٹیئر کور کی سرکاری گاڑیوں پر قومی پرچم لہراتا ہوا نظر آیا ہے۔ ۰۹۱۷۴۳مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا سرمئی شاموںاور خوشگوار ٹھنڈی ہواﺅں کا حامل بلوچستان دیگر تینوں صوبوںکی طرح پاکستان کا جگر گوشہ ہے۔ اِس دھرتی کے غیور راہنما نواب آف قلات میر احمد یار خان، جام صاحب لسبیلہ جام غلام قادر، قاضی عیسیٰ، میر جعفر خان جمالی ، عثمان جوگیزئی، یحییٰ بختیار اور دیگر بہت سے محب وطن بلوچ راہنماوں نے قائد اعظم کی آواز پر لبیک کی صدا بلند کرکے خوابِ پاکستان کی تعیبر کو عملی شکل دی۔ قائد اعظم کو بلوچستان سے اِس قدر محبت تھی کہ اُنہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام اِس دھرتی پر گزارنا پسند کیے۔ اِسی پس منظر کی بناپر چند عشروں قبل تک یہ سوچنا بھی محال تھاکہ بلوچستان میں صوبائی عصبیت اور نسلی فرقہ وارانہ تعصب کی آگ کسی دن یوں سب کچھ جلا کر رکھ دے گی کہ روزی روٹی کے غربت زدہ مزدوروں کو بھی صوبائیت کے نام پر قتل کر دیا جائے گا۔ بلوچستان میں دہکنے والی نفر ت کی یہ آگ ہمارے اندرونی و بیرونی دشمنوں کی سازش کا شاخسانہ ہے۔ بیرونی دشمنوں میں سرفہرست بھارت ہے جو تمام تر ثبوتوںکے باوجود اقوام عالم میں اپنی بے غیرتی اور ڈھٹائی کی بناپر خود کو بے قصور کہتے ہوئے شرماتا نہیں۔ جبکہ اندرونی دشمنوںمیں ہمارے اپنے خود غرض، بداعمال ،ذہنی اور فکری پستی کے حامل وہ حکمران ہیں جنہوں نے اپنی ناعاقبت اندیشی کی بنا پر فوجی آپریشن کرکے اُس آگ کو روشن کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں بلوچستان کے محب وطن افراد کے سنگ دیگر تینوںصوبے بھی جھلس رہے ہیں۔ جرنیلی آمروں کی جانب سے ہر مسئلہ کو طاقت کے زور پر حل کرنے کی پالیسی نے بلوچستان سمیت پورے پاکستان کو لہولہان کر دیا ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی کا فقدان بے شک بلوچستان میں زیادہ ہے لیکن باقی تینوں صوبوںمیں بھی عام آدمی کی زندگی اِن ضروریات کو ترس رہی ہے۔ حکمرانوں کی نا اہلیوں نے ہر شخص سے زیست کی رونق چھین لی ہے۔ اِس لیے بلوچوں کا گلہ شکوہ اگرچہ بجا ہے لیکن اُس کی اِس قدر شدت بے جا ہے۔ محرومیوں کے ازالہ کا جو راستہ اِن قوم پرست تنظیموں نے چُنا ہے وہ ملکی سا لمیت کے لیے بے حد خطر ناک ہے۔ یہ ملک کسی فرد واحد کے باپ کی جاگیر نہیں بلکہ سترہ کروڑ عوام کی مشترکہ ملکیت ہے۔ اِس لیے اِس کی سلامتی کو قائم رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ فوجی حکمرانوں کے ماروائے آئین اقدامات کی سزا عام پاکستانی شہریوںکو دینا کہاں کا انصاف ہے؟بی ایل اے سمیت تمام قوم پرست جماعتوںکو اِس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کے وجود سے ہم سب کا وجود قائم ہے۔ خدانانخواستہ اگر اِس کا وجود قائم نہ رہاتو پھر مکار بنیے نے اِن کوبھی کہیں پناہ نہیں دینی۔ براہمداغ بگٹی جوش جوانی میں ہے۔ بھارتی شہریت ، فنڈز اور ح
سینوں نے اُسے اسیر کر رکھا ہے۔ جوانی کا فشار خون جب سرد پڑ ے گا تو اُسے ہوش آئے گا ۔ نواب اکبر بگٹی کا قتل بے شک پاکستان کا ایک سیاہ ترین داغ ہے جس کی مذمت بلوچوں کے ہمراہ پوری پاکستانی قوم کر رہی ہے ۔اِس لیے براہمداغ اور میر عالی بگٹی کو مشورہ ہے کہ اُنہوں نے اگر نواب اکبر بگٹی کے قتل کا بدلہ لینا ہے تو وہ اپنے قاتل پرویز مشرف کو پکڑیں۔اپنا بلوچی غصہ اور بھارتی اثرورسوخ پرویز مشرف کے خلاف استعمال کریں۔ معصوم اور شریف پنجابی غریب مزدوروں ،تنخواہ دار سکیورٹی اہلکاروں، پنجابی افسران اور معلمین کی جان لینا کونسی بلوچگی ہے؟حکومت ِوقت کوبھی چاہیے کہ بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے سیاسی تدبر اور حکمت عملی اختیار کرئے اور اِن ناراض اور نادان بیٹوںکو منانے کے لیے مذاکرات سب سے بہترین پالیسی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button