ادارتی کالم

تمہارے لئے مر کے دیکھا

محترمہ کی پیدائش21 June 1953،کو کراچی میں ہوئی۔ان کی شہادت 54سال کی عمر میں راولپنڈی میں ہوئی۔ان کی شادی 1987میں موجودہ صدر آصف علی زرداری سے ہوئی۔ان کے بطن سے تین بچے جن میں بلاول بیٹا ،بختاور اور آصفہ بیٹیاں پیدا ہوئے۔ انہوں نے زیادہ تعلیم لندن میں مکمل کی۔
قارئین میں آج اپنے کالم کے آغاز سے پہلے احقر محترمہ بے نظیر بھٹو کی عقیدت میں لکھی گئی ایک نظم پیش کرنا چاہے گا۔ جس کا عنوان ہے:۔
تمہارے لئے مر کے دیکھا
روٹی کپڑے اور مکان
تمہارے لئے کر کے دیکھا

mumtaz-ameer-ranjhaزمیں پہ جینے نہیں دیتے
کتنے ظالم ہیں ڈکٹیٹر
جمہوریت چلنے نہیں دیتے
ہر گھر میں اتنی وحشت ہے
کوئی نہ پہچانے انتہا پسند
ہر سو اتنی دہشت ہے

جیتے جی گھیر لیا
بڑی ظالم ہے موت
لیاقت علی بھی ڈھیر کیا
کون دھوئے گا داغ
حیران رہے گا
اپنا لیاقت باغ

تمہارے لئے مر کے دیکھا
روٹی کپڑے اور مکان
تمہارے لئے کر کے دیکھا

آج جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی تیسری برسی ہے بہت افسوس ہوتا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث اصل ملزمان کیفرِ کردار نہیں پہنچے۔محترمہ عین اس وقت27دسمبر2007کو حادثاتی موت کا شکار ہوئیں جب وہ لیاقت باغ میں ایک کامیاب جلسہ کے بعد واپس لوٹ رہی تھیں۔ان کی گاڑی کو باقاعدہ پلاننگ کے ذریعے رکوایا گیا اور خود کش حملہ ہونے اس گاڑی پر پستول سے فائرنگ کی گئی۔انہیں فوراً قریبی جنرل ہسپتا ل جو کہ ابھی بے نظیر بھٹو کے نام سے ہے میں پہنچایا گیا۔شام 6بج کر18منٹ پر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ان کو ان کے آبائی علاقہ لاڑکانہ میں اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ان کی وفات پر دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے پاکستان کے ساتھ اظہار تعزیت کیا۔
ان کی شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں فوراً پھیل گئی۔ان کے حلیف و حریف سیاستدان اور عوام سوگوا ر ہوگئے۔میاں نواز شریف پہلے وہ سیاستدان ہیں جو ان سب سے پہلے جذبہ ہمدردی اور اظہار افسوس کے لئے ہسپتال پہنچ گئے۔انہوں نے محترمہ کی شہادت کو پاکستانی تاریخ کا بدترین واقعہ قرار دیا۔
محترمہ کی وفات کے بعد پاکستانی سیاست میں غیر معمولی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی وجہ سے اظہار ہمدردی میں عوام نے کثیر تعداد میں ووٹ دیئے۔سابقہ صدر مشرف کیخلاف عوام کے دلوں میں جو نفرت تھی ،ان کی شہادت کے بعد نفرت عوام کی زبان سے بھی سنائی دینے لگی۔محترمہ کی وفات کے بعد ان کی قتل پر عوام کی انگلیاں سب سے پہلے صدر مشرف اور پھر امریکہ، انڈیا کی طرف اٹھیں۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق پاکستانی سرحدی پٹی کے دہشت گرد تنظیموں کو ملوث پایا گیا۔ لیکن بعد میں تحقیقاتی رپورٹس کا ہر بار تبدیل ہونا سب کے لمحہ فکریہ ٹھہرا۔پھر الیکشن ہوئے تو الیکشن میں کثیر کامیابی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے دوسری پارٹیوں کے اتحاد کیساتھ آمریت کے بعد ایک بار پھر جمہوری دور کا آغاز کیا۔
محترمی جناب صدر زرداری کیخلا ف سابقہ دور میں بھی کرپشن کے کافی کیسز تھے لیکن آین آر او کی آڑ میں وہ کرسی صدارت پر پہنچ ہی گئے۔اس کے بعد لیکر تاحال عوام کو مہنگائی،بے روزگاری،لوڈ شیڈنگ،چینی،پٹرول اور گیس کی عدم دستیابی جیسے مسائل مسلسل بے حا ل کئے ہوئے ہیں۔محترمہ کی شہادت سے لیکر اب تک ان کی شہادت کا معمہ حل ہوتا نظر نہیں آتا۔
پاکستانی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو آج تک پاکستان میں شہید کئے جانے کئی نامی گرامی سیاستدانوں کی شہادت کے اصل مجرمان پردہ سکرین سے سامنے نہیں آئے۔لیاقت علی خان،جنرل ضیاءالحق،ایم کیو ایم کے عمران فاروق اور محترمہ بے نظیر بھٹو جیسے بڑے لوگ دہشت گردی کا شکار ہوئے لیکن آج تک کوئی بھی اصل مجرم افراد یا ممالک سامنے نہیں آئے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو تو گویا آج بھی اس عوام کو پکار پکار کے کہ رہی ہیں کہ میرے قاتلوں کو بے نقاب کرو۔تم کسی قوم ہو ۔تمہارے لئے میری جان لے لی گئی۔مگر قاتل دندناتے پھر رہے ہیں۔سچ پوچھیں ہم بھی کیسی قوم ہیں کہ مخلص سیاستدانوں کی قدر نہیں کرتے مگر لوٹ مار،جعلی ڈگری ہولڈرز اور حج میں کرپشن کرنیوالوں کے سکے جاری کر دیتے ہیں۔ہو سکے تو مخلص عوام بنو اور مخلص سیاستدان ڈھونڈو ۔ورنہ محترم کے سوال کا جواب کون دیگا اور سوا ل ہے؟
تمہارے لئے مر کے دیکھا؟

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button