ادارتی کالم

تاریخ ابھی بھی آزاد نہیں ہے

تاریخ ابھی بھی آزاد نہیں ہے

لینٹھا  کی کہانی

تحریر: انوار ایوب راجہ – برطانیہ

 پنجاب کے دونوں جانب قتل و غارت کا بازار گرم تھا ، پاکستان بن چکا تھا اور پاکستان کے جانثار پاکستان کی محبت میں ایک طویل سفر کر کہ اپنی امنگوں کے جہان پاکستان کی جانب ایک ایسے سفر پہ نکلے جسکی منزل غیر یقینی تھی . انکی نظروں میں وہ ملک تھا جسے وہ اپنا دیکھنا چاہتے تھے . ہر طرف آگ اور خون کا منظر تھا اور کسی کو یہ پرواہ نہیں تھی کہ پاکستان کی جانب اس سفر میں انکا کیا نقصان ہو گا . دوسری جانب کشمیر کا محاذ  گرم تھا جہاں ہونے والی زیادتیوں کا نہ کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا دستاویز کہ جو یہ بتا سکے کہ کیا ہوا . ہر طرف ہی بے سکونی تھی ، جہاں جہاں عالمی سرحدیں تھیں وہاں کی خبریں لوگوں تک پہنچ رہیں تھیں اور جو قافلہ بھی پاکستان کی جانب آتا اس کی کسمپسری اور حالت زار کو لوگ دیکھ رہے تھے . یہ تعمیر پاکستان کا سفر تھا اس سفر میں کیا ہوا ایک معمہ ہے اور تاریخ دانوں نے وہی لکھا اور تاریخ کی کتابوں میں نقل کیا جو انکو اچھا اور تعمیری لگا مگر آج کی داستان کچھ ایسی ہے جو ١٩٤٧  کے ان چند واقعات میں سے ایک ہے جو بہت سے لوگ نہ جانتے ہیں اور نہ ہی یہ بیان کی گئی ہے .

 آگے کی کہانی کو بیان کرنے سے پہلے میں اہلیان پاکستان کو انکی آزادی کی مبارکباد دینا چاہوں گا اور اس نامکمل آزادی کے ایک اور سال کی سختیوں اور زیادتیوں کو برداشت کرنے کی دعا دینا چاہوں گا  جو آج  پھر سے  عیار اور پاکستان دشمن  حکمرانوں   کی مکاری اور اقربا پروری کی نظر ہو رہی ہے . نامکمل اس لیے کہ آج پاکستان  میں   پاکستانی  یہ سوال کرتا ہے کہ کیا میں آزاد ہوں اور کیا میرا وجود میرے اپنے وطن میں محفوظ ہے . فیک حکمرانوں اور فیک ہیروز کی کوششوں نے آج کے اصل ہیرو کو کانام کر دیا ہے .

اگر کسی کو بی بی سی کی چار / پانچ  سال پہلے آنے والی ایک ڈاکیومنٹری ” نا مکمل تقسیم ” ملے تو ضرور دیکھے .     بی بی سی ایک عالمی ادارہ ضرور ہے مگر دکھاتا وہی ہے جو اسکو دکھانا ہوتا ہے اور تقسیم برصغیر کی ادھوری داستان میں ذکر ان بوگیوں کا ہی آتا ہے جن میں لاشے  اور لٹی قوم کا ذکر ملتا ہے جبکہ  کچھ  اور حقائق کا ذکر  نہیں کیا جاتا  یہاں   ایک بڑا  باب جو سیاسی جلسوں میں بیان ہوتا ہے  اس قوم کا ہے جو آج تک کبھی  تو پاکستان کے عشق میں ماری جاتی ہے اور کبھی ہندوستان کے جبر کی داستان بنتی ہے . ” نا مکمل تقسیم” کی ریکارڈنگ کے دوران میری آواز کو بھی اس فلم میں استعمال کیا گیا اور میں نے بھی وہ مناظر دیکھے جو عوامی نظروں سے کم گذرتے ہیں . انہی دنوں میں  میرے ہاتھ لگنے والی ایک ڈائری  کی ترتیب پہ کام کر رہا تھا جو  پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کشمیر کے محاز پر لڑنے والے ایک کمانڈر کی  ڈائری اور  کشمیر کے کہساروں میں لڑی جانے والی  قیادت سے محروم جنگ کی داستان تھی  . اس ڈائری میں بہت سی دلخراش باتیں اور واقعات رقم ہیں . آج کے اخبارات پاکستان کی آزادی اور اسمیں چند نامی لوگوں کا ذکر کریں گے مگر میں محمد اسمٰعیل لینٹھا کا قصہ بیان کرنا چاہوں گا . یہ کرنل حق مرزا شیر جنگ کی  ڈائری کا ایک باب ہی  نہیں  بلکہ آج تک کے عشاق کی داستان  ہے کہ جنھیں قربانیوں کے بدلے  گمنامی  اور غلام تاریخ میں کوئی مقام نہ مل سکا. روایتی کہانیوں سے  ہٹ کہ کرنل مرزا  پاکستان کے غیر تنخواہ یافتہ  سپاہی کی داستان کچھ ایسے بیان کرتے ہیں

“میں نے اپنا ہیڈکوارٹر جمعدار عطا اللہ کی پلاٹون کے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ ایک دن چوہدری محمد علی (بدھل) کے قبیلہ سے ایک باریش ادھیڑ عمر کا معزز سا آدمی میرے ہیڈکوارٹر میں آیا۔ اور اُس نے ایک شخص بنام لینٹھو کے بارے میں بڑے وثوق سے شکایت کی کہ وہ بڑا مُنہ زور نوجوان ہے جو ہندوستان کا جاسوس ہے۔ وہ محاز سے چوری چھپے ہندوستان کے زیر قبضہ علاقہ میں نکل جاتا ہے اور ادھر سے غریب مسلمانوں کے مویشی ہانک کر ادھر لے آتا ہے اور کوڑیوں کے دام بیچ دیتا ہے۔ اسی طرح ہمارے علاقے کے مویشی ادھر پار لے جاتا ہے اور وہاں بیچ آتا ہے۔ انڈین آرمی کے ساتھ اُس کا رابطہ ہے۔ اور انہیں ادھر کی خبریں پہنچاتا ہے۔ اور ادھر اپنے مجاہدوں کو کبھی کبھار ایک آدھ بکرا یا دنبہ کھانے کو دے کر خوش کر دیتا ہے۔ بہت خطرناک آدمی ہے وغیرہ وغیرہ۔ وقتی طور پر میں اس شخص کی حرکات کی رپورٹ سے فکر مند ہو گیا۔ میں نے اپنی پوسٹوں پر اطلاع کر دی کہ یہ شخص جس کسی کے ہاتھ لگے میرے پاس پہنچایا جائے۔ اس بات کو دو دن گزرے ہونگے کہ میں جمعدار عطا اللہ کے ہمراہ اپنے ہیڈکوارٹر سے باہر دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ہم نے ایک گھوڑ سوار جوان کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ جب وہ قریب پہنچا تو میں نے نوٹ کیا کہ وہ بہت خوبصورت، طاقتور اور خوش پوش نوجوان ہے اور اُس کا گھوڑا بھی خوب جی دار ہے جو مرغزار پر اٹھکیلیاں کرتا آرہا ہے۔ ہم سے چند قدم دور رہ کر وہ احتراماً گھوڑے سے نیچے اُترا گھوڑا ایک درخت کے ساتھ باندھا اور پھر ملاقات کے لئے آگے بڑھا۔ اُس نے سنہری کھسہ، سفید شلوار، کالی شیروانی اور زری کے کلے پر شملہ دار پگڑی باندھی ہوئی تھی گویا کہ کشمیرکے مرغزاروں میں کوئی نواب اُترا ہے۔ اُس نے مصافحہ کرنے کے بعد اپنا تعارف کرایا کہ اُس کا نام لینٹھو ہے۔ اور اُس کی ڈھوک جڈی میں اُتری ہوئی ہے۔ حق صاحب کو ملنے آیا ہوں۔ لینٹھو کا نام سنتے ہی میرا جسم غُصے سے کانپنے لگا۔ میں جو کچھ اُس کے بارے میں سُن چکا تھا۔ اُس کے بعد مزید پوچھنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ میں نے سخت برہمی کے عالم میں اُسے بُرا بھلا کہنا اور مارنا شروع کیا۔ میری صحت اور جان بھی کافی مضبوط تھی میں نے اُسے اس قدر مارا کہ میرے ہاتھ اور ٹانگیں جواب دے گئیں۔ پھر میں نے حکم دیا کہ اس غدار جاسوس کو رسے سے جکڑ کر چھت کے ساتھ اُلٹا باندھ دو ۔ وہ مار کھا کھا کر نیم مردہ ہو چکا تھا لیکن غدار جاسوس کا طعنہ سُن کر اُٹھ بیٹھا۔اور بڑے غضبناک لہجے میں مجھے کہا کہ مجھے گولی ماردو لیکن یہ لفظ دوبارہ نہ کہنا۔ اُس نے زور سے کلمہ پڑھا اور کہا جو مجھے کہتا ہے وہ خود غدار ہو گا۔ میں سب کچھ ہوں لیکن غدار جاسوس نہیں ہوںَ اُس کی اس بے باقی نے میرے دل پر اثر تو کیا لیکن میں جو حکم دے چکا تھا اُس کی تعمیل لازمی تھی۔ لینٹھو کو رسے سے جکڑ کر چھت کے ساتھ اُلٹا لٹکا دیا گیا۔ جب میرا غصہ ذرا ٹھنڈا ہوا تو میں نے جمعدار عطا اللہ کو کہا کہ اس شخص کے خلاف شکایت کرنے والے کو بلایا جائے۔ جمعدار عطا اللہ نے تعمیل کی اور پھر ہمت کر کے لینٹھو  کے بارے میں کہا جناب یہ جاسوس معلوم نہیں ہوتا۔ مُنہ زور بہت ہے ایک دوسرے کے مویشیوں کی چوری چکاری بکروالوں میں ہوتی ہی رہتی ہے۔ سب ہی پار سے آوارہ ہو کر آنے والے مویشی کی تاک میں رہتے ہیں۔ اس نوجوان نے کئی مرتبہ ہمیں کھانے پینے کی اشیاء مہیا کی ہیں ہمارے ساتھ پیٹرولیں کی ہیں اور دشمن کی چوکیوں کے قریب تر لے گیا ہے۔ مگر جاسوس والی بات اس میں نظر نہیں آئی۔ میں اُس پر غصے ہوا کہ اُس نے اپنا تاثر پہلے کیوں نہیں بتایا۔ تاکہ میں اس پر کم سختی کرتا۔ لیکن وہ یہ کہہ کر خاموش ہو گیا کہ اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ میں نے لینٹھے کو نیچے اتارنے اور میرے پاس لانے کو کہا۔ جب وہ میرے پاس آیا تو اُس سے چلا نہیں جاتا تھا۔ اُس پر بہت سختی ہو چکی تھی۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ آیا اُسے پتہ ہے کہ اُس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہوا ہے۔ اُس نے کہا ہاں یہ سب کچھ میرے سسر کی وجہ سے ہے جس نے آپ کے کان میرے خلاف اتنا سنگین الزام لگا کر بھرے ہیں۔جب میں نے پوچھا کہ ایک سسر اپنی بیٹی کے خاوند کے خلاف کیسے الزام تراشی کر سکتا ہے تو اُس نے چوہدری علی محمد صاحب بدھل والے کے کیمپ کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ لوگ مجھے اچھا نہیں جانتے ہیں۔ میں نے ان کی لڑکی سے ان کی رضامندی کے بغیر شادی کر رکھی ہے۔جسے میں اپنی مرضی سے ان کے کیمپ سے اٹھا کر اپنی گھوڑی پر رکھ کر لے گیا تھا اور جا کر ملاں سے کہہ کر نکاح کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ پار سے آوارہ ہو کر آیا ہوا مال میں انہیں ہضم نہیں کرنے دیتا۔ وہ ،میں ان سے چھین کر مجاہدین کی خدمت کرتا ہوں یا کوئی مسلمان مالک پار سے آجائے تو اُسے لوٹا دیتا ہوں۔ میں اپنے قبیلے کا نمبردار ہوں میرا ڈیرہ جڈی ڈھوک میں ہے آپ جس طرح چاہیں دریافت کر لیں۔ میں چورڈاکو بھی ہو سکتا ہوں لیکن مسلمان نوجوان کبھی اپنی قوم کے خلاف غداری کیسے کر سکتا ہے۔ میں نے اُسے ایک طرف بٹھا دیا اور اُس بوڑھے بکروال کا انتظار کرنے لگا جس نے یہ الزام لگایا تھا ۔ کافی دیر کے بعد ہمارے جوان واپس آئے اور بتایا کہ وہ شخص نہیں ملا۔ وہ اپنا ڈیرا چوہدری علی محمد صاحب کی ڈھوک سے الگ کر کے واپس بدھل چلا گیا ہے۔ مزید تحقیق کے بعد میں مطمئن ہو گیا کہ لینٹھو  جاسوس نہیں۔ یہ الزام اُس کے سسر نے ذاتی انتقام لینے کے لئے لگایا تھا اور اب وہ خود زیرتعزیر آنے سے گھبرا کر بھاگ گیا تھا۔ میں نے لینٹھو کو اس یقین دہانی پر چھوڑ دیا کہ وہ اُس پار کے لوگوں کے مویشی واپس دھکیل دیا کرے گا۔ یا ہمیں مطلع کرے گا۔ کیونکہ دشمن کے پیچھے بسنے والے بھی مسلمان بھائی ہیں اور اُن کا نقصان نہیں ہونا چاہئے۔ وہ نوجوان بکروال واقعی بڑا دلیر اور غیرت مند مسلمان تھا۔ اُس نے اپنے عہد کا بڑے احسن طریقے سے پاس کیا۔ اور ہمیں پیٹرولیں دشمن کی خبر حاصل کرنے، راستے وغیرہ معلوم کرنے میں کافی مدد کی۔ایک موقعہ پر اس نے شیخ محمد عبداللہ کا سر اڑاڈالنے اور اُسے میرے پاس لانے کی پیشکش کی جسے میں نہ مانا ۔ وہ جنگی علاقہ سے پار نکل کر شوپیاں سرینگر کا چکر لگا کر ہمیں مفید خبریں مہیا کرتا رہا اور موسم سرما شروع ہو جانے پر جب سب ڈھوکیں واپس ہو گئیں۔ وہ ہماری خواہش کے مطابق ہمارے ساتھ ہی رہا۔ حتیٰ کہ ہمیں بھی وہ علاقے خالی کرنے پڑ گئے۔
ایک مرتبہ میرے گلگتی کو لاگا لگ گیا وہ میرے لئے ناقابل استعمال ہو گیا۔ لینٹھ نے اپنا گھوڑا مجھے دینے کی پیشکش کی جو میں نے قبول نہ کی۔ پھر کہا کہ اجازت ہو تو شوپیاں کے ہندو ذیلدار کی دونوں گھوڑیاں (جن کا کشمیر وادی میں بہت چرچا تھا) اٹھا کر لے آؤں۔ چنانچہ ہماری پیٹرول کی مدد سے جنہوں نے چاندی ندی کے گیپ کو coverکر رکھا وہ اُس پار نکل گیا اور دوسری رات وہ دونوں گھوڑیاں لے کر واپس آگیا۔ اُن میں سے ایک سفید رنگ کی تھی جو میں نے لینٹھو کو دے دی اور دوسری ا پنے استعمال کرنے کیلئے منتخب کر لی۔ لیکن مجھے اُس کی سواری نصیب نہ ہوئی کیونکہ اُس کے پاؤں رات کی تاریکی میں پتھروں پر چلنے کی وجہ سے زخمی ہو چکے تھے۔ وہ بھی میں نے لینٹھو  کے حوالے کی تاکہ علاج ہو جائے۔ لیکن وہ کچھ عرصہ کے بعد پاؤں کے زخم خراب ہو جانے سے مر گئی۔ ایک مرتبہ مجھے لینٹھو  نے اپنے اس نام کی وجہ تسمیہ بڑے فخر سے بتائی۔ اُس نے بتایا کہ اُس کا اصل نام محمد  اسماعیل حسین ہے۔ اُس کی جرأت ، بہادری اور مردانہ حُسن کی وجہ سے لوگوں نے اس کا نام لینٹھو  رکھ دیا۔ لینٹھا  سب پرندوں کا سردار پرندہ ہے جو خطہ پیرپنجال میں پایا جاتا ہے۔ وہ سب سے اونچی چوٹی پر بیٹھتا ہے اور کوئی پرندہ اُس سے اوپر اُڑان کر کے نہیں گزرتا اُس کا قد کاٹھ ایک درمیانے عقاب جتنا ہوتا ہے۔ سر پر سبزی اور قرمزی رنگ کی قلغی گردن میں سرخ پٹہ اور کندھوں پر سُرخ فیتے ہوتے ہیں۔ بقیہ رنگت قرمزی ہوتی ہے۔ چونچ بھی سرُخ ہوتی ہے۔ میں نے بذات خود اس جانور کو دیکھا ہے۔ واقعی ایسا ہی جیسا کہ بیان کیا گیا۔ یہ مرغ زریں سے الگ قسم ہے جو بہت نایاب ہے۔
ایک مرتبہ خوشگوار موڈ میں میں نے لینٹھو  سے کہا یار شادی کرنا چاہتا ہوں۔ کہنے لگا میرے ساتھ ڈھوک جڈی چلو جو لڑکی بھی پسند آئے اس سے آج شادی کر لو۔ مجاہد کی زندگی کا کچھ پتہ نہیں ہوتا دیر نہ کرو۔ میں نے مرغزار کی حور کا ذکر کیا کہنے لگا وہ چوہدری علی محمد کی بیٹی ہے اجازت دو یا ساتھ چلو ابھی اٹھا کر لے آئیں گے۔ مجھے یقین تھا کہ وہ ایسا کر گزرے گا۔ میں نے کہا نہیں اس طرح نہیں کشمیر فتح ہو جائے تو پھر اُس کا ہاتھ مانگیں گے۔ یہ بات اُسے پسند نہ آئی کہنے لگا آپ مذاق کرتے ہیں۔ یہ بہادر نوجوان 1949 ؁ء میں ہجرت کر کے آزاد کشمیر (علاقہ کوٹلی) آیا کچھ عرصہ یہاں رہا۔ اکثر فائر بندی لائن عبور کر کے پار اپنے علاقہ میں نکل جاتا اور بھارتی فوجوں کو تنگ کرتا رہتا۔ لینٹھو نے ہار نہ مانی اور اپنے طور پر جہادِ آزادیِ کشمیر جاری رکھا- لینٹھو   ہار کیسے مان سکتا تھا اس کے تو لقب کی وجہ تسمیہ ہی ایسی تھی کہ کوئی اُس جیسی نہ پرواز کر سکتا اور نہ اُس کے اوپر سے اُڑنے کی جرأت کرتا۔ وہ پیرپنجال کے لنٹھاؤں کا سردار تھا۔ شکست و ندامت اس کے خمیر کا حصہ نہ تھی وہ اپنی عادت کے مطابق سیز فائر لائن کے پار جاتا رہا اور دشمن کو سبق سکھاتا رہتا ۔اسی ایک کوشش کے دوران ایک مرتبہ وہ انڈین آرمی کے ہتھے چڑھ کر شہید ہو گیا۔اس کے بعض دوستوں نے بتایا کہ اس کے دشمن گوجروں نے اس کی آمد کے بارے میں بھارتی فوج کو پہلے سے آگاہ کیا ہوا تھا ………”

آج  ١٩٤٧ کے شہدا اور آزادی کا ذکر بڑے سنہرے حروف میں کیا جا رہا ہے مگر  کشمیر کا یہ لینٹھا مجھ سے ایک سوال کرتا ہے جو میں کروڑوں پاکستانیوں سے جو پاکستان میں اور پاکستان سے باہر ہیں  سے کرنہ  چاہوں گا کہ کیا آج بھی  پاکستان  کی  ٹاپ براس میں وہ لوگ نہیں بیٹھے ہیں  جن  کی مخبریوں  اور سازشوں نے ہزاروں لینٹھے قربان کر دیے ہیں ، تبصرے اور  مباحثے  مجھے تو اب بے  معنی لگتے ہیں . آج کی یہ خصوصی تحریر  میں محمد حسین لینٹھا کی نظر کرتا ہوں جو آج بھی  پیر بنجال کی چوٹیوں کا محافظ ہے  اور جسکی کہانی آج بھی  جعلی ہیروز کی  کہانیوں   کی مضبوطی اور  تشہیر کے باوجود مثالی اور  سچی ہے . وہ سب کچھ تھا مگر ایک غدار نہیں تھا ، پاکستان کے محافظوں کا کشمیری دوست جو خود میں تحریک تھا اور جو  گمنام مگر  دلیر تھا . کیا  آج ایسا کردار کسی   حکمران میں ہے . اس کا جواب ضروور تلاشیے گا اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button