ادارتی کالم

بین المذاہب ہم آہنگی ۔۔۔۔۔وقت کی ضرورت

    ردّا نذیر: اسلام آباد

  اوسلو اورلندن کے واقعات صاف بھیانک واقعات نہیں بلکہ اس کے پیچھے نفرت اور احساس کمتری چھپی ہوئی ہے لندن کے گھیراو جلاو ، اوسلو میں 93افراد کا قتل عام ۔یہ یورپ کی ذہنی ابتری کی طرف اقدامات ہےں اور شاید حالات اس سے بھی کہیں زیادہ ابتر اور خراب ہیں۔ مہذب ، ترقی یا فتہ اور پڑھے لکھے معاشرے کے افراد جب آگ لگائیں، لوٹ مار کریں، ہاتھ میں اسلحہ تھام کر قتل عام کریں تو دنیا کو چوکنا ہو جانا چاہئے مغربی دنیا اسلام دشمنی میں اس قدر آگے بڑھ چکی ہے نفر ت، حسد ، جلن کی ایسی دیوار کھڑی ہوچکی ہے جس کو اگراب بھی توڑانہ گیا تو اوسلو اور لندن جیسے واقعات یورپی یونین کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ یورپی معاشرہ بے حسی ،گمراہی ، بے راہ روی، مذہبی انتشار اور عدم تحفظ کا شکار نظر آ رہا ہے اور خاص طور پروہاں یہ برائی نوجوانوں میں بری طرح سرایت کر چکی ہے۔ جبکہ یہی وجہ ہے کہ لندن، برمنگھم، مانچسٹر کے گھیراو جلاﺅ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستانیوں کا ہوا ہے۔ لیکن اس صورتحال نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ مغربی اقوام کے اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے ناروے اوسلو میں جب یہ واقعہ ہوا تو لوگوں نے مسلمانوں کے سرالزام ڈال دیا تھا اور ایشیائی لوگوں کو ،خاص کر مسلمان لڑکیوں اور لڑکوں کو ہراساں کیا گیا لیکن جب یہ واضح ہوا کہ سفید فام مقامی باشندہ تھایہ تاثر عام کیا جا رہا ہے کہ مسلمان انتہاپسند نظریات کے حامل ہیں جس کا نقصان پوری یورپی اقوام اور امریکہ کو بھگتنا ہوگا۔ مسلمان انتہا پسند ہے تو پورے معاشرے اور مذہب کو انتہا پسندی کی گالی سننا پڑتی ہے جب اندرے پریویک جیسا وحشی اپنی ہی قوم اور اپنے ہی ہم مذہب لوگوں کو بے گناہ قتل کرتا ہے تو وہ پاگل کہلاتا ہے یہ جانبداری ہی تودنیا کو تباہی کی طرف لے کر جارہی ہے اندرے پریویک کے عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیںباربار اس کی بازگشت سنائی دی گئی لیکن اس پر غور نہیں کیاگیا خفیہ اسلامی غلبہ ،مسلمانوں کاقبضہ، مسلمان دہشت گرد ،اسلام انتہا پسند یہ سب باتیں تو پچھلے 12سالوں سے میڈیا میں مسلسل گردش کررہی ہیں جس کی وجہ سے یورپی یونین نوجوان عیسائیت کو محفوظ تر مذہب بنانے کے لئے عدم تحفظ کا شکار ہوچکا ہے اس میں زیادہ تر قصور ان دانشوروں کا بھی ہے جو اسلام کو موضوع بحث بنائے بیٹھے ہیںعوامی مباحثے کا رخ بدلنا ہوگا الفاظ کی تلخی کم کرنی ہو گی برتاو میں غیر جانبداری رکھنا ہوگی ورنہ کہیں یورپ اپنی موت خود ہی نہ مرجائے ۔مغربی اقوام ،عالمی طاقتوں ، امریکی میڈیا سب کو اس گمراہی سے نکلنا ہوگا جو وہ مسلمانیت اور عیسائیت کے درمیان روا رکھتے ہیں یہ تو سالوں کی سوچیں ہیں جو ایک نسل سے نکل کر دوسری نسل تک آپہنچیں ہے۔ عیسائیت اپنی ثقافت کے سامنے مسلمانوں کی ثقافت کو کم ترقی یافتہ سمجھتی ہے اسلام اور جنگ دونوں کو آپس میں جوڑ کر غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے وہ اپنی انسانیت کو ہماری انسانیت سے اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ اندرے بہت پر سکون دکھائی دیا بلکہ اس کو یہ افسوس ہوا کہ 93لوگوں کا قتل عام دراصل معمولی ہے کاش وہ یہ گھناﺅنا جرم اور زیادہ کر سکتا، یہ ذمہ داری مغربی اقوام پر عائد ہوتی ہے جو وہ کبھی قبول نہیں کرتے اقوام عالم کو اپنا انداز بدلنا ہوگا سب سے پہلا کام تو یہ کرنا ہوگا کہ انسان کو مذہب سے بالاتر ہوکر انسانیت کے کام آنا چاہئے ایک قوم ایک مذہب کو سوالیہ نشان بنانا ہر وقت ایک ہی قسم کا راگ الاپ کرنا، مسلمانوں کی کردارکشی کرنا ، ہر واقعے کے ساتھ مسلمانوں کو جوڑنا ،اسلام کو منفی انداز میں پیش کرنا حالانکہ دنیا میں تین ہی مذاہب ہیںجو الہامی ہیں عیسائیت ،یہودیت اور اسلام ۔تینوں کی بنیادیں ایک ہی جیسی ہیں ۔ اب اگر تینوںمذاہب ایک دوسرے کو خطرہ سمجھیں تو بہت بڑی بھول ہو گی اور دنیا کی تباہی ہو گی۔ مسلمان آج بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بزرگی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت عزیر علیہ السلام غرض جتنے بھی انبیاءہیں ان پر یقین کامل نہ ہونے تک تو ہمارا مذہب مکمل نہیں ہوتا لیکن جب مسلمانوں کے پیغمبر حضرت محمدﷺ کی باری آتی ہے تو ان کو ماننا تو علیحدہ بات، ان کی شان اقدس میں گستاخی تک کی جاتی ہے اور پھر اس گستاخی کو آزادی رائے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ ہے دہشت گردی اور یہ ہے مذاہب کی تذلیل۔ ہر مسلمان توریت، زبور اور انجیل کی دل سے قدر کرتا ہے اور ان کو الہامی کتابیں مانتا ہے لیکن امریکہ کا ایک پادری قرآن مجید کی آیات کا غلط مفہوم پیش کر کے قرآن پاک کو شہید کر دیتا ہے کیا یہ حرکت انتہاپسندانہ نہیں ہے؟ کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے؟ کیا ایک ارب سے زائد انسانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا انسانیت کی معراج ہے؟ دنیا میں کوئی بھی مذہب بڑا نہیں ہے بڑے ہیں اس کے ماننے والے دوسری طرف کچھ لوگ بنیاد پرستی کی بناءپر مذاہب کی آڑ میں نفرتوں کا پرچار کرتے ہیں چند مسلمانوں کی حرکتوں سے آپ ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی بے عزتی نہیں کرسکتے ،اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے آپ اس کی اس طرح توہین نہیں کر سکتے لیکن ایسا ہوا ہے کئی بار ہوا ہے بلکہ مسلسل ہو رہا ہے یہی نفرت اور انتہا پسندی پچھلی جنگوں کا باعث بھی بنی ہے اور آج پھر یہ نفرت دنیا کے تین الہامی مذاہب کے درمیان دوری کی وجہ بن رہی ہے۔ترقی یافتہ ملک، مذہب ،معاشرہ ،جدید دنیا اور پھر اوسلو اور لندن کے واقعات بڑی عجیب سی بات ہے اگر ایسا سب کچھ پاکستان یا کسی اسلامی ملک میں ہوا ہوتا تو اس کودنیا کیا رنگ دیتی؟ با ضمیر اور پڑھے لکھے یورپی اور امریکی اگر خود سے سوال کریں تو ان کو یقیناً خود سے گھن آئے گی ۔آندرے اقرار کر چکا ہے کہ اس نے یہ سب کچھ مسلم دشمنی میں کیا ہے۔
بلاشک وشبہ بین المذاہب ہم آہنگی کی جتنی ضرورت آج ہے شاید کبھی نہ تھی۔ رواداری، تحمل اور برداشت بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہم اور ضروری ہے۔ اس تناظر میں محض مسلمانوںکو ہی ٹارگٹ کرنا اور مورد الزام ٹھہرانا کسی طور بھی قرینِ قیاس نہیں ہے۔ دنیا میں بسنے والے کروڑوں لوگوں اور تمام ممالک کے حکمرانوں کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مذہبی، ثقافتی، سیاسی اور سماجی معاملات میںبلاضرورت مداخلت نہ کریں اور نہ ہی ایسا عمل کریں جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو۔ بلکہ دنیا کو ایک گلوبل ویلیج کے طور پر لیں اور غربت، بے روزگاری، ناخواندگی، ناانصافیوں اور دیگر مسائل میں ایک دوسرے کی مدد کر کے ماحول کو اس قدر سازگار بنائیں کہ موجودہ دور کے سب سے بڑے مسئلے ےعنی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔اگر دنیا میں امن وامان ہوگا، دہشت گردی نہیں ہو گی تو ہمارے دیگر مسائل بھی حل ہو جائیں گے اور یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائےگی۔ اس لئے یورپی ممالک، برطانیہ، امریکہ اور بڑی طاقتوں کی یہ اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کا احترام کریں اور دل آزاری کاباعث بننے والے اقدامات نہ کریں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ روزشب ضرور آئیں گے، وہ صبح نو ضرور طلوع ہوگی، وہ امید کی کرنیں ضرور نمودار ہوں گی جس سے یہ دنیا امن و آشتی کا مسکن بنے۔ اگر آج ہم نے آج سے سبق حاصل نہ کیا تو کل ہمارا بہت برا حشر ہو سکتا ہے جبکہ پوری دنیا میں بشمول ترقی یافتہ ممالک اقتصادی طور پر بہت برے حالات سے دوچار ہو چکے ہیں ۔ ہمیں اپنے کل سے سبق حاصل کر کے اپنے کل کو بہتر بنانا ہے۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا بہ قائم بہ امید یعنی دنیا امید پر ہی قائم ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button