ادارتی کالم

بیت اللہ کے مہما نوں کا فغا ں و فر یا د

مولانا مو ددی ُ فر ما تے ہیں کہ ” غلطیا ں اگر سد ھا ری نہ جا ئیں تو تیز ی سے انڈے اور بچے دینے لگتی ہیں “ گز شتہ ۳ ۶ سا لوں میں پا کستا ن کی باگ دوڑ سنبھا لنے والو ں نے اپنی پہلی غلطی کو آخری سمجھ کر کبھی اسے سد ھا رنے کی کو شش نہیں کی لہذا وہ غلطیا ں آ کا س بیل کی ما نند بڑ ھتے بڑھتے معا شرے کو اپنی لپیٹ میں جکڑ تی چلی گئی آ ج اس آ کا س بیل کی گر فت میں جکڑے عوام النا س کو سا نس لینے تک کی آزادی نصیب نہیں ۔ اگر قیا م پا کستا ن کے بعد عد لیہ ، پو لیس ، تعلیم ، سیا AiniNiaziست اور بیورو کر یسی میں کر پشن ، اقر با ءپر وری اور لو ٹ کھسو ٹ کے بے لگام گھو ڑے کو لگام دے دی گئی ہو تی تو آج حالات اس نہج پر نہ ہو تے جس تبا ہی کے دہا نے پر ہم آج کھڑے ہیں نہا یت افسو س نا ک با ت تو یہ کہ ہم کر پشن کے دلدل میں اس حد تک دھنس چکے ہیںکہ ہم نے حج پر جا نے والے اللہ کے مہما نوں سے بھی لو ٹ ما ر اور بے ایما نی سے با ز نہیں آئے ہما رے حکمرا ں اور حج انتظا میہ کی نا اہلی ، بد انتظا می ، بد عنو انی کے با عث پا کستا ن سے جا نے والے عا زمین حج کو بے پنا ہ مصا ئب اور تکلیف کا سامنا کر نا پڑا ۔ سا ری دنیا میں ہما ری عزت کے تا بو ت میں آخری کیل سعو دی مذ ہبی امور کے وزیر کا خط ثا بت ہو اہے جو انھوں نے چیف جسٹس کے نا م لکھا ہے اس قدر ذ لت ، رسوا ئی یہ ایک دن کا ثمر تو نہیں اس ذلت کی آ بیا ری کوہما ری قوم کے کر تا دھرتا وں نے بر سوں کی محنت ،لگن اور عرق ریزی سے سنیچا ہے ۔شا ہ خالد مر حو م کے صا حبزادے پر نس بند ر خالد نے چیف جسٹس آف پاکستا ن افتخار محمد چو ہدری کو خط لکھا ہے جس میں شکا یت کی گئی ہے کہ عا زمین حج کے لیے رہا ئشیں حا صل کیے جا نے کے معاملہ میں بد عنوا نی کی گئی ہے پا کستا نی حجا ج کرا م کو دی جا نے والی ر ہا ئش گا ہیں ۰۰۵۳ سے ۰۰۶۳ ریا ل فی حا جی کے حساب سے مہیا کی گئی جب کہ حجا ج کرام کو جو رہا ئش مہیا کی گئی وہ حرم سے کئی کلو میٹر کے فا صلے پر تھیں جن کا کر ایہ ۰۰۵۱ سے زیا دہ نہ تھا ان سودوں میں ما لی بد عوا نی اور کر پشن کے شو اہد مو جود ہیں پر نس بند ر بن خالد نے چیف جسٹس سے اس کا از خو د نو ٹس لینے اورتحقیقا ت کی التجا کی ہے ۔
آپ میری اس با ت سے بھی متفق ہوں گے کہ حج انتظا ما ت میں جس قدر حکو متی کنٹرول بڑ ھتا ہے اسی قدر بد عنوانی ، بد انتظا می اور دوسری خرا بیا ں بر ھتی چلی جا تی ہیں اگر ہم حاجیوں کی آمد ورفت سے شروع کر یں تواس کر پشن کی کہا نی حا جیوں کے جہا ز میں سوار ہو نے سے شروع ہو جا تی ہے پا کستا ن کے زیر انتظا م چلنے والا پی آئی اے کا ادارہ جس کا عام دنوں میں کر ایہ ۵۳ ہزار ہے عمرے کے سیزن میں ۰۵ ہزا ر سے رمضان میں ۵۶ ہزار حج میں ۸۰ سے ۰۹ہزا ر تک اور آخر ی عشرے میں سوا لا کھ تک جا پہنچتا ہے مزیدجہا ز کی کئی کئی گھنٹو ں کی تا خیر سے مسا فروں کو جو کو فت کا سامنا کر نا پڑ تا ہے اس کی کہا نی ایک الگ کا لم کی متقا ضی ہے ۔
بیت اللہ کے دیدار شوق میں صعو بتیں بر داشت کر تے ہو ئے جب زا ئرین وہا ں پہنچتے ہیں اپنی زندگی کی پو نجی سے پا ئی پائی جوڑ کر بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ میں حا ضری کے خواب کو شر مندہ تعبیر بنا نے تمنا لیے جب بد انتظا م ، بد عنوانوںکے ہا تھوں لٹتے ہیں تو کیسے نہ جھو لی بھر بھر کر بد دعا ئیں دیں توکیو ں نہیںفغا ن وفر یا د کریں ان حجاج کرام کے لیے حرم اور منی ٰ سے کا فی دور رہا ئش کے انتظا ما ت کئے گئے جن میں ہزاروں لو گوں کو سرے سے خیمے ہی میسر نہیں آئے نہ بجلی ،نہ پا نی ،نہ ٹرانسپورٹ کی سہو لت میسر کی گئی ہزا روں حاجی بھوکے پیا سے  ننگی زمین پر لیٹتے رلتے رہے المنا ک خبر یہ کہ بہت سے عا زمین حج راستہ بھٹک گئے اور حج نہ کر سکے کما نے والے آٹھ ارب رو پئے کھا گئے ان سب کے ذمہ دار وفا قی وز یر حامدکاظمی کا سارا دھیا ن اپنے علا قے کے خصو صی عا زمین حج ، ر حما ن ملک اور دیگر وزراءکے عز یز و اقارب پر مبذ ول رہی ان لو گوں نے شاہی مہما ن نوا زی کا بھر پور لطف بھی اٹھا یا۔ وی آی پی حج کا مزہ لوٹ کر ایک ہی صف میں کھڑے محمود و ایاز، نہ کو ئی بند ہ ،نہ بند ہ نو ازِ جیسے علا مہ اقبا ل کے نظریے کو بلکل غلط ثا بت کر دیا۔
اس تما م مہما ن داری آو بھگت پرو ٹو کو ل کے بعد ہما رے وزیر مذہبی امور نے حاجیو ں کے جا نب بر تی جا نے والی بدنظمی ، بد عنوا نی اور لا پر وائی کاسا را ملبہ سعودی حکو مت پر ڈا ل دیا ہے حرجا نے کا دعویٰ بھی کر دیا ہے پا کستا ن کی تر یسٹھ سالہ تا ریخ میں کبھی کسی دور میںسعودی حکومت پر بر ہمی اور بے اعتبا ری کا اند یشہ ظا ہر نہیں کیاگیا کیو نکہ سعودی حکومت نے ہر مشکل وقت میںپا کستان کو تنہا نہیں ہو نے دیا دا مے درمے سخنے ہر طر ح پا کستان کی مد د کر تار ہا ہے آج بھی سیلا ب زدگا ن کی مد د میں پیش پیش ہے دوسری جا نب خا دمین حر مین شریفین شا ہ عبد للہ نے حا جیوں کو پیش آنے والی مشکلا ت کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنا دی ہے جو معا ملہ کی تہ تک پہنچنے میں مد دگا ر ثابت ہو گی ہما را مشورہ وفا قی وزیر حامد سعید کا ظمی صا حب کے لیے یہی ہو گا کہ وہ اس معا ملے میں جو کو تا ہی بر تی گئی ہے اسے سعودی حکو مت پر ڈال کر پا کستا ن اور سعو دی حکو مت کی مثا لی تعلقات کو خراب نہ کر یں ۔
سابق وزیر مذ ہبی امور اعجا ز لحق سے جب ان کی را ئے پو چھی گئی تو انھوں نے کہا کہ ” اس معاملہ میں بہت بڑا اسکینڈ ل پو شیدہ ہے یہ حکومت کے جا نے کے بعد یا پھر حج ڈا ئر یکٹر را ﺅ شکیل خود جو ڈیشل انکوا ئری میں بتا دیں کہ ان کا پا ٹنر کو ن کون ہے “ قوم کو تذ بذ ب میں رکنھا بھی گنا ہ عظیم ہے ۹۰۰۲ حج کر پشن میں بڑے پیما نے پر ہو نے والی کر پشن اور بد انتظامی کے با رے میں اس وقت وزیر اعظم یو سف رضا گیلا نی کو آگا ہ کیا تھا لیکن انھوں نے ان ار با ب ختیا ر کے خلا ف کوئی کا راوئی نہیں کی تھی آج پھر ۰۱ ۰۲ حج آپر یشن میں پہلے سے بھی زیا دہ بڑے پیما نے پر بد انتظامی اور کر پشن کے الز ما ت سا منے آ ئے ہیں ۔ایف آئی اے وزیر بر ائے مذ ہبی امو ر حامد سعید کا ظمی ، سکیر ٹر ی وزیر مذ ہبی امو ر آ غا قز لبا ش اور سا بق ڈی آئی جی را ﺅ شکیل سے تفشیش کررہی ہے یہا ں یہ با ت بھی دلچسپی کابا عث ہے کہ یہ تینوں ا فراد ۹۰۰۲ حج آپر یشن کے بھی ذمہ دار تھے اربوں روپئے کے اس کر پشن میں فن الحال تو وزیر موصوف سمیت تما م رفقاءکار ایک دوسرے کو نا قص انتطا ما ت کا ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں ۔ ہما ری دعا ہے کہ اس کر پشن کے کر تا دھرتا ضرور اپنے انجا م تک پہنچے ورنہ بقول مو لا نا مودودی گنا ہ اور غلطیا ں اسی طر ح انڈے اور بچے دیتی رہیں گیں ۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button