ادارتی کالم

بجٹ اور اپوزیشن

 

تحریر: سید فرزند علی

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2011-12کا بجٹ پےش کردےا گےاجسے حکومتی ارکان نے عوام دوست جبکہ اپوزےشن ارکان نے عوام دشمن قراردےا وفاقی وزےر خزانہ عبدالحفےظ شےخ نے بجٹ پےش کےا ےہ عبدالحفےظ شےخ وہی شخص ہے جوپروےز مشرف دور حکومت (مسلم لےگ ق)مےں بھی وزےر خزانہ رہے اور اس وقت کی اپوزےشن پےپلزپارٹی پارلےمنٹرےن ان کے پےش کردہ بجٹ کو اعداد وشمار کا ہےرپھےر قراردےتی تھی جبکہ آج وہی پےپلزپارٹی والے ان کے پےش کردہ اعداد وشمار کو بہترےن بجٹ قراردے رہے ہےں۔ رواں مالی سال موجودہ حکومت کاچوتھا بجٹ تھا جسکا کل تخمےنہ 2767ارب روپے رکھا گےا جبکہ مجموعی مالےاتی خسارہ 850ارب روپے ہوگا جو جی ڈی پی کا 4فےصد ہے جی اےس ٹی 17فےصد سے کم کرکے 16فےصد کےاجارہاہے تنخواہوں مےں 15فےصد اور پنشن مےں 15سے 20فےصد اضافے کے ساتھ سرکاری ملازمےن کو اےڈہاک رےلےف دےاجارہاہے ترقےاتی کاموں کےلئے 730ارب روپے کا بجٹ ہے جس مےں وفاق کےلئے 300ارب اور صوبوں کےلئے 430ارب روپے مختص کئے گئے ٹےکسز کی وصولی کا ہدف 1952ارب رکھاگےا اس موقع پر وزےر خزانہ نے اےوان بالا کوبتاےا کہ ہمارے ملک کی آبادی 18کروڑ ہے اور صرف 28لاکھ افراد انکم ٹےکس کےلئے رجسٹرڈ ہےں انہوں نے دعویٰ کےاکہ حکومت نے اےسے افراد کے بارے مےں مستند معلومات جمع کرلی ہے جو پوش علاقوں مےں بڑے بڑے بنگلوں مےں رہتے ہےں لگژری گاڑےاں استعمال کرتے ،بنک بےلنس اور قےمتی اثاثوں کے مالک ہےں جب چاہتے ہےں بےرون ملک سفر کرتے ہےں لےکن اپنی آمدنی سے اےک پےشہ بھی ٹےکس ادا نہےں کرتے اےسے لوگوں کے گر گھےرا تنگ کےاجارہاہے لےکن اپنی تقرےر نے دورا ن وزےر خزانہ نے ا ن اہم افراد مےں سے کسی کا نام نہےں بتاےاکہ کہ کون لوگ ہےں جو پوش علاقوں مےں بڑے بڑے بنگلوں مےں رہنے، لگژری گاڑےاں استعمال کرنے ،بنک بےلنس اور قےمتی اثاثوں کے مالک ہونے کے باوجود ٹےکس ادا نہےں کرتے ےقےنا اس لسٹ مےں انکا نام نہےں ہوگا محض تےن سے پانچ ہزار روپے ٹےکس دےنے والے شخص کے پاس اتنی سہولےات کہاں ہونگی اسی طرح اس لسٹ مےں جناب صدر آصف علی زرداری ،جناب وزےر اعظم سےد ےوسف رضاگےلانی ،جناب وز ےر داخلہ رحمان ملک ،محترمہ حناربانی کھر ،جناب امےن فہےم ،جناب مےاں نوازشرےف ،جناب مولانا فضل الرحمن ،جناب اسفند ےار ولی سمےت دےگر حکومتی واہم اپوزےشن رہنما بھی شامل نہےں ہونگے کےونکہ انکا سالانہ ٹےکس بھی چند ہزار روپے سے زےادہ ادا نہےں کےاجاتا ےقےنا اس بجٹ مےں اےسے تنخواہ دار لوگ اور چھوٹی چھوٹی فےکٹرےاں لگاکر اپنے بچوں کا پےٹ پالنے والے افراد ضرور شامل ہونگے جو بجلی ،گےس کی لوڈشےڈنگ کے باعث اپنی صنعتےں بند کرچکے ہےں ان سے ٹےکس ضرور حاسل کےاجائے گا تاکہ حکمرانوں کی عےاشےوں مےں کوئی کمی نہ آسکے کےونکہ ہمارے وزےرداخلہ رحمان ملک کو چند دنوں بعد اپنے بزنس کو دےکھنے اور جناب الطاف حسےن کو منانے کےلئے سرکاری خرچ پر لندن جانا ہوتاہے جناب صدر مملکت کو بھی سرکاری دورے کرنے ہوتے ہےں کےونکہ ان کے بچے بھی پاکستان کے روشن مستقبل کےلئے بےرون ملک مقےم اور اعلیٰ تعلےم حاصل کررہے ہےں جناب وزےر اعظم کو بھی پارٹی ارکان کےلئے دورے کرنے پڑتے ہےں تاکہ جس کشکول کو ہمارے حکمران کئی بار توڑ چکے ہےں اس کشکول مےں مزےد ڈالرز ڈالے جائےں کےونکہ وزےر خزانہ نے بھی بتاےاہے کہ رواں مالی سال بجٹ کا مجموعی مالےاتی خسارہ 850ارب روپے ہوگااوراس خسارے کو بےرونی امداد اور بنکوں سے قرضہ حاصل کرکے پورا کےاجائےگااس لئے وزےر اعظم کے دورے بھی ضروری ہےں نام نہاد ہشت گردی کے خلاف بھی جنگ جاری ہے اور حکومت کا عزم ہے کہ اس جنگ کو جاری رکھا جائے گا کےونکہ اےک شہری کی شہادت کے بدلے بھی حکمرانوں کو ڈالرزملتے ہےں اگر ہمارے قبائلی بھائےوں نے اپنی جان کی قربانی نہ دی تو آئی اےم اےف اور ورلڈبنک وغےرہ ہمارے قرض روک لےں گے اس لئے ےہ ضروری ہے کہ چند افراد کی عےاشی کےلئے کسی نہ کسی تو قربانی کا بکرابناےاجائے ۔ بجٹ اعداد وشمار کے مطابق چےنی، سےمنٹ ،چندادوےات، شےمپواور مشروبات سستاکےاگےا جبکہ ےوٹےلٹی سٹورز پرسبسڈی آدھی کردی گئی اسی طرح پاسکو کی سبسڈی بھی ختم کردی گئی جس سے ےقےناگندم بھی مہنگی ہوگی جبکہ باقی ضرورےات زندگی کی اشےاءپر بھی سبسڈی ختم ہونے سے مہنگائی مےں مزےد اضافہ ہوگا ےہ مہنگائی تو اےسی ہے جسکا ہر سال پتہ چلتاہے جبکہ دےکھا جائے تو مہنگائی تو ہر ماہ بڑھ رہی ہے بجٹ مےں بجلی اور گےس کا ذکر نہےں لےکن ان کی کاسٹ پر گذشتہ دوماہ قبل اضافہ کردےاگےاپےٹرول بم ہر ماہ عوام پر گراےاجاتاہے کبھی فلڈ ٹےکس اورکبھی صدارتی آرڈی نےنس کے ذرےعے اشےاءخوردونوش پر 17فےصد ٹےکس لگادےاجاتاہے اگرپورے سال کا بغور تجزےہ کےاجائے تو پتہ چلتاہے کہ مہنگائی مےں اےک دوےاپندرہ سے بےس فےصد نہےں بلکہ 100سے 200فےصد اضافہ ہوتاہے جبکہ تنخواہوں مےں محض 15فےصد اضافہ کےاگےا جوکہ آٹے مےں نمک کے برابر بھی نہ ہے اس بار تو فےکٹری مزدوروں کے ساتھ نہاےت زےادتی سامنے آئی ان کی کم ازکم تنخواہ مےں بھی اضافے کا کوئی اعلان نہ کےاگےا جواعلان گذشتہ سال کم ازکم 7000روپے رکھا گےاتھا اس پرگورنمنٹ کے رےلوے ادارے سمےت مختلف پرائےوےٹ اداروں مےں تاحال عمل درآمد نہےں ہورہاہے اسلئے موجودہ بجٹ کےا اگر موجودہ حکومت کو بھی عوام دشمن کہاجائے تو ےہ غلط نہ ہوگا ۔ مسلم لےگ (ن) ،جمعےت علماءاسلام (ف) پےپلزپارٹی (شےرپاو¿)اور ق لےگ کے چند ارکان کی مخالفت کے باوجود حکومت باآسانی بجٹ منظور کروا لے گی کےونکہ اقتدار کے بھوکے لوگ پےپلزپارٹی کا ساتھ دے رہے ہےں جنہےں عوام نہےں صرف اپنی وزارتےں نظر آتی ہے جو کسی ناکسی طرح ان کے پاس رہنی چاہےے جہاں تک اپوزےشن جماعتوں کا تعلق ہے کہ تووہ بھی محض مخالفت برائے مخالفت کررہی ہے کسی اپوزےشن رہنما نے بجٹ کے عوام دشمن ہونے کی کوئی دلےل نہ دی بجٹ پےش کرنے سے قبل جب اپوزےشن جماعتوں کا اجلاس مےں ہوا تو اس مےں 2مئی کو اےبٹ آباد مےں امرےکی دہشت گردی کے بعد پارلےمنٹ مےں منظور کی گئی متفقہ قرارداد پر غور وخوض کے علاوہ صرف اس بات پر احتجاج کےاگےا کہ جو بجٹ اےوان مےں پےش کےاجانا ہے وہ پہلے مےڈےا مےں کےوں آےاہے جبکہ اےوان کے اندر بھی اپوزےشن ارکان کی طرف سے محض ڈرامہ بازی کی گئی مسلم لےگ (ن) کے احسن اقبال نے وزےراعظم اور وزےر خزانہ کو روٹی پےش کی لےکن وہ بھول گئے کہ روٹی کا سکےنڈل تو پنجاب حکومت کا ہے جہاں عوام کو سستی روٹی دےنے کے دوران اربوں رپوں کی کرپشن منظرعام پر آئی اور کسی کے خلاف کوئی مقدمہ نہ ہوسکا سےنکڑوں تندوروںکو تےار کرکے بند کردےاگےا اور آخر کار سستی روٹی کا منصوبہ بھی بند ہوگےا اےوان بالامےںاپوزےشن خواتےن تہمےنہ دولتانہ نے وزےر خزانہ پر چوڑےاں پھےنکےں جبکہ ان کے بچاو کےلئے وفاقی وزےر اطلاعات فردوس عاشق اعوان چوڑےوں کو کھےچ کرتی رہی اور منہ ہی منہ مےں کچھ بڑبڑاتی ہوئی چوڑےاں دور پھےنکتی رہی ق لےگ کی ماروی مےمن نے بجٹ کی کاپےاں پھاڑی دی جب اسے وفاقی وزےر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے روکنے کی کوشش کی تو ماروی مےمن نے بجٹ دستاوےزات وزےر اعظم پر پھےنک دی اپوزےشن کے شور شرابے کے تاثر سے بچنے کےلئے وزےر خزانہ عبدالحفےظ شےخ کانوں مےں ائےر فون لگائے تقرےر کرتے رہے اور حکومتی ارکان ڈےسک بجاتے رہے اپوزےشن ارکان نے ”نااہل حکومت نامنظور“”ڈرون حملے نامنظور“”لوڈشےڈنگ نامنظور“”امرےکی غلامی نامنظور“”جھوٹ بولنابند کرو“ڈاکوراج نامنظور“”شےم شےم “کے نعرے بھی لگائے حالانکہ نعرے لگانے والے تمام رہنما اپنے دور حکومت مےںہر وہ کام کرنے مےں مصروف عمل رہے جس عمل کے خؒاف وہ نعرہ بازی کرتے رہے ”امرےکی غلامی“”جھوٹ بولنا“ڈاکوراج “ہر دور حکومت مےں رہااس لئے ےہ کہنا ہے ےہ حکومت عوام دشمن ہے درست ہے تاہم ےہ کہناکہ اپوزےشن عوام دوست ہے ےہ کسی صورت درست ناہے کےونکہ حمام مےں سب ننگے ہےں ۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button